0
Sunday 11 Dec 2016 17:12

پیغمبر اکرم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مدنی دور

پیغمبر اکرم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مدنی دور
از قلم، علامہ محمد رمضان توقیر
مرکزی نائب شیعہ علماء کونسل، پاکستان

رحمت عالم، نور مجسم، ہادی دوراں،  واقف امکاں، سید و رہبر، اعلی و اکمل، ملجی و ماوی، منجی بشریت اور مربی انسانیت حضرت احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارواحنا الہ الفداء کی حیات مبارکہ پر بات۔۔؟؟ اور بھی ایک کوتاہ فکر، کم علم، ناواقف ادب، ناشناس لفظ و عروض، ناآگاہ مراسم نیاز اور بے مایہ و روسیاہ کے دہن و قلم سے؟؟ این ممکن نیست بجز تائید ایزدی۔ یہ ہم جیسوں کی خوش بختی و خوش قسمتی ہے کہ رب العالمین نے ہمیں رحمت اللعالمین (ص) کی سیرت اطہر، اسوہ حسنہ اور حیات مبارکہ کے مختلف و معطر گوشوں کی خوشبو لینے کی توفیق و ہمت و سعادت بخشی ہے۔ ورنہ
میں کہ بے وقعت و بے مایہ ہوں
تیری محفل میں چلا آیا ہوں

دنیا کے درد بانٹنے والے بلکہ انسانیت کے درد ختم کرنے والے پرامن اور اعتدال پسند نبی (ص) کی مکی زندگی درد و آلام اور مصائب و امتحان سے مزین ہے۔ یتیمی کا دائمی درد لے کر دنیا میں تشریف لانے والا پیغمبر (ص) ایک دائی کی پرورش کے مراحل سے گذر کر جوانی کی دہلیز پر قدم رنجہ ہوتے ہیں تو اسے درد اور دکھ کے نئے مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صادق اور امین سمجھنے نہیں بلکہ ماننے کے باوجود لوگ اذیتیں دینے پر ہر دم تیار اور یہ پیغمبر (ص) صادق اور امین ہونے کے باوجود اذیتیں سہنے پر نہ صرف آمادہ بلکہ کمر بستہ، لیکن نہ رکنے والے درد کا سلسلہ تو اب شروع ہونے والا ہے، جب اعلان نبوت کا کلیدی مرحلہ آئے گا۔ جب خود ساختہ اور اپنے تخلیق کردہ خداوں کی نفی اور ایک خدا کی تائید کا مرحلہ آیا، تو ظلم کے پہاڑ تھے اور پیغمبر اکرم (ص) کا وجود ذی جود۔ کون سا ظلم تھا جو روا نہیں رکھا گیا۔؟ کون سے حربے تھے جو آزمائے نہیں گئے۔؟ کون سے ہتھکنڈے تھے جو اختیار نہیں کیے گئے۔؟ کون سے منفی طریقے تھے جو اپنائے نہیں گئے۔؟ کون سا تشدد ہے جو کیا نہیں گیا۔؟ کون سی رکاوٹ ہے، جو ڈالی نہیں گئی۔؟ کون سی پابندی ہے جو لگائی نہیں گئی۔

٦١ ہجری سے قبل کربلا کا منظر شعب ابی طالب میں سامنے آیا۔ جب حسین (ع) کے اجداد نے شجر دین کی آبیاری اور تحفظ اسلام کے لیے سماجی بائیکاٹ سے لے کر بے دخلی تک اور بے دخلی سے قتل کی سازشوں تک ہر ظلم برداشت کیا لیکن دین کے ساتھ بانی دین کو بھی صحیح و سالم اور محفوظ رکھ کر دین بھجوانے والے اور دین کی چھتری میں آنے والے ہر انسان پر احسان کر دیا۔ یہ تاریخی حقیقت کسی بھی لحاظ سے قابل انکار نہیں کہ اگر نگہبان رسالت کا فریضہ انجام دینے والے محسن رسالت و شریعت حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجة الکبری کی رحلت کے نتیجے میں سانحات جانکاہ رونما نہ ہوتے تو بانی اسلام کو سرزمین کعبة اللہ کو چھوڑ کر سرزمین مدائن کی طرف ہجرت نہ کرنا پڑتی۔ جب درد انتہاوں کو پہنچ گئے اور ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے گئے تو تحفظ دین اور حفاظت اسلام کے لیے مرکز ترسیل وحی کی طرف سے حکم کے تحت مکی زندگی کا باب بند کرکے مدنی زندگی کے باب کا آغاز ہوا۔ اب مصائب و آلام اگرچہ کم ہوئے لیکن ختم نہیں ہوئے بلکہ ان کی نوعیت بدلی۔ لیکن ہم مصائب سے صرف نظر کرتے ہوئے مکے والے نبی کی مدنی زندگی کا مختصر جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

حضرت رسالت ماب (ص) کے نبوی دور کا سب سے پہلا مفاد یہ حاصل ہوا کہ اسلام کو ایک مرکز میسر آگیا جہاں سے بیٹھ کر اسلام کی ترویج، توسیع اور نشر و اشاعت شروع کی گئی۔ اسی مرکز کی عملی شکل مسجد نبوی کی شکل میں سامنے آئی جو ایک مسجد نہیں بلکہ اسلامی حکومت اور اسلامی ریاست کے دارالخلافہ کا قلب تھا، جہاں سے عالم امکان کے تمام فیصلے صادر ہوتے رہے۔
دوسرا مفاد یہ ہوا کہ مہاجر و انصار کے درمیان صیغہ اخوت جاری ہوا جس نے صحابہ کرام کی باہمی محبت و اخوت میں اضافہ کیا اور باہمی قربت کا ماحول پیدا ہوا۔
تیسرا مفاد یہ ہوا کہ اسلام کے دفاع کے لیے کفار و مشرکین کے مقابلے کے لیے ذہنی تیاری، فکری تیاری اور عسکری تیاری کے لیے محفوظ اور پرامن مقام حاصل ہوا۔ اسی محفوظ مقام سے غزوات سے نبرد آزمائی ہوئی۔ بدر و احد و احزاب و حنین اسی مرکز کے طفیل فتح یابی سے ہمکنار ہوئے۔ اور ان غزوات نے اسلام میں جہاد اور دفاع کے اصول مرتب کردئیے۔

چوتھا مفاد یہ ہوا کہ اسلام کے اقتصادی میدان کی راہیں ہموار کی گئیں۔ غزوات اور زکواة و شرعی وجوہات سے حاصل ہونے والے اموال کی تقسیم اور ان کے اقتصادی استعمال کے حوالے سے نظام وضع کیے گئے۔
پانچواں مفاد یہ ہوا کہ مسلمانوں کو طاقت و ہیبت حاصل ہوئی جس کے سبب اسلام کو غلبہ مل گیا اور اسلام ایک غالب دین بن کر نمودار ہوا۔
چھٹا مفاد یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ اسی دور کا تحفہ تھی جس کی برکت سے اسلام کو نہ صرف تحفظ حاصل ہوا بلکہ صلح حدیبیہ کی شکل میں دنیا کو ایک جامع اور پہلی ایسی دستاویز حاصل ہوئی، جس کو رہتی دنیا تک امن اور برداشت کے نفاذ کے لیے رہنماء دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ساتواں مفاد یہ ہوا کہ قرآن مجید کا نزول بھی اسی دور کا عطیہ ہے اور قرآن کریم کی ترتیب و تفسیر اور جمع آوری کے کافی مراحل بھی اسی دور میں طے کیے گئے، جنہیں بنیاد بنا کر بعد میں آنے والے مفسرین و شارحین نے علوم قرآنی میں لازوال کام کیا۔ آٹھواں مفاد یہ ہوا کہ مختلف ممالک، ریاستوں، قبائل اور کفار و مشرکین کے گروہوں کے ساتھ مذاکرات اور خط و کتابت کے ذریعے جو رابطے کیے گئے اور حجت تمام کی گئی اس میں آنے والی نسلوں، حکمرانوں اور بادشاہوں کو امور خارجہ کا اسلوب اور انداز بتایا گیا ہے جسے اختیار کرکے وہ سنت نبوی کے مطابق نظام خارجہ چلا سکتے ہیں اور مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقوام کے ساتھ رابطے اور برتائو کے اصول وضع کرسکتے ہیں۔

نواں مفاد یہ ہوا کہ مدنی دور میں اسلام کے اصول ہائے دعوت و تبلیغ مرتب و رائج کیے گئے اور قرآنی احکام کے تحت بتایا گیا کہ لوگوں کو اسلام کی طرف بلانے اور راغب کرنے کے لیے کون کون سے اور کیا کیا طریقے اختیار کیے جائیں تاکہ مستقبل میں کوئی منفی یا مضر طریقہ اختیار کرنے سے اجتناب کیا جا سکے۔
دسواں مفاد یہ ہوا کہ نبی اکرم نے اپنی خاص تربیت سے اہل بیت اور صحابہ کرام کے اندر کئی مبلغ، مفسر، محدث، معلم، ماہر، حفاظ، ادیب و دانشور اور مجاہد ین کی ایک ایسی کھیپ تیار ہوئی جس نے اسلام کی اشاعت و حفاظت و ترویج میں لازوال کارہائے نمایاں انجام دئیے اور دیگر صحابہ اور تابعین و تبع تابعین کے لیے اساتذہ قرار پائے۔
گیارواں مفاد یہ ہوا کہ احکامات شریعت کا نہ صرف بیان ہوا بلکہ ان کے نفاذ کو بھی ممکن بنایا گیا اور قیامت تک حلال محمد (ص) کو حلال اور حرام محمد (ص) کو حرام قرار دے کر اکثر معاملات میں نصوص جاری کر دی گئی۔ جس کے بعد کسی کو شریعت محمدی میں تبدیلی یا تحریف کی جرات یا راستہ نہ مل سکا۔
بارہواں مفاد یہ ہوا کہ دیگر جنگوں کے علاوہ فتح مکہ نصیب ہوئی، جس نے کفر کے تابوت میں آخری کیل کا کام کیا اور کفار مکہ بغیر کسی جنگ و جدال اور قتل و قتال کے مفتوح ہوگئے اور اللہ کے گھر پر اللہ کا پرچم اللہ کے نبی اور اللہ کے ولی کے ہاتھوں نصب ہوا۔

تیرہواں مفاد یہ حاصل ہوا کہ فتح مکہ کے موقع پر خطبہ حجتہ الوداع خاتم النبین (ص) کی زبان رسالت (ص) سے جاری ہوا جسے تاریخ انسانیت میں منفرد مقام حاصل ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے ایسا جامع فارمولہ تاریخ میں نہیں ملتا اسی خطبے کو بنیاد بنا کر اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا عالمی چارٹر تشکیل دیا ہے۔
چودھواں مفاد یہ ہوا کہ دیگر عبادات و فرائض کے ساتھ ساتھ حج جیسے عظیم فریضے کی ادائیگی خود رسول اکرم (ص) کی موجودگی میں ہوئی۔ جس کے بعد عبادات و فرائض کے ضابطے بھی مکمل ہوئے اور صحابہ کو واجب، سنت، مستحب، مباح، حرام اور مکروہ جیسے احکام کی عملی مثالیں میسر آئیں۔
پندرہواں مفاد یہ ہوا کہ اسلامی حکومت قائم کرکے دکھا دی گئی اسلامی سیاست اور اسلامی ریاست کے دائرہ کار کا تعین کردیا گیا۔ اقلیتوں اور دیگر مذاہب کے حقوق سے لے کر اپنے مسلم غرباء و یتامی و مساکین و مظلوم و محکوم ومتاثر و مستحقین کے حقوق کا دائرہ مشخص کردیا گیا تاکہ قیامت تک اسلام کے ذریعے یا اسلام کے نام پہ بننے والے نظاموں، حکومتوں، ریاستوں اور معاشروں کو اسلام کے نظام کی حدود و قیود کا ادراک ہو جائے۔
سولہواں مفاد یہ ہوا کہ تکمیل دین اور تکمیل وحی یعنی قرآن کا مرحلہ بھی رسالت ماب (ص) کی رحلت سے کچھ ماہ قبل انجام پذیر ہوا اور براہ راست اللہ تعالی کے حکم کے تحت غدیر خم کے مقام پر ایک خاص اور منفرد اہتمام کے ساتھ اکمال دین کا اعلان نبی اکرم (ص) نے تاریخی خطبے کے ذریعے فرمایا اور اپنے بعد آنے والے زمانے کی نزاکتوں اور حالات سے بہت واضح انداز میں آگاہ کیا تاکہ اس آخری اعلان کے بعد دین اور اسلام کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔

مدنی دور کی برکات و فیوض کی انتہا یہ ہے کہ خاتم المرسلین نے فتح مکہ کے باوجود، مکہ پر اسلامی فوج کے قبضہ کے باوجود، اپنے آباء و اجداد سے گہری محبت کے باوجود اور مکہ میں کعبتہ اللہ کی موجودگی کے باوجود مدینہ میں رہنا پسند فرمایا اور مدینہ ہی کو اپنا مدفن قرار دینے کو ترجیح دی۔ یہ مدینے کی خوش بختی ہے کہ اب وہ تاقیامت میرے پیارے اور اللہ کے سب سے محبوب پیغمبر (ص) کے نام نامی اسم گرامی سے منسوب، منسلک اور مشہور و متعارف ہے۔
خبر کا کوڈ : 590732
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش