0
Monday 19 Dec 2016 15:59

مقبوضہ کشمیر میں منعقدہ سالانہ عظیم الشان سیرت النبی (ص) کانفرنس کا احوال

مقبوضہ کشمیر میں منعقدہ سالانہ عظیم الشان سیرت النبی (ص) کانفرنس کا احوال
رپورٹ: جے اے رضوی

مقبوضہ کشمیر کے جموں شہر میں شیعہ فیڈریشن کشمیر کے زیر اہتمام کربلا کمپلیکس میں ایک روزہ سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں بھارت کیلئے اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر غلام رضا انصاری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت کے مقتدر شیعہ و سنی علماء کرام، دانشوروں، صحافیوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران اتحاد بین المسلمین پر زور دیتے ہوئے بھارت میں ایران کے سفیر غلام رضا انصاری نے کہا کہ اگرچہ تعمیری اختلافات ترقی کے لئے باعثِ رحمت ہیں، لیکن موجودہ قتل و غارتگری انتہائی افسوسناک اور عالم اسلام کے لئے تشویش کا باعث ہے اور اس کے لئے شدت پسند عناصر کی پشت پناہی کرنے والی طاقتیں ذمہ دار ہیں۔ ایک روزہ عظیم الشان سیرت النبیؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ جو لوگ ایک دوسرے کے قتل کے فتوے دیتے ہیں اور شدت پسندوں کی حمایت کرتے ہیں، اس خون ناحق کی ساری ذمہ داری انہی پر  عائد ہوتی ہے۔ اختلافات کو افہام و تفہیم سے حل کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دینِ اسلام صرف عبادت کرنے والا دین نہیں بلکہ یہ ایک مکمل دین ہے جو بشریت کی ماضی، حال اور مستقبل کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جموں جیسے حساس شہر میں سبھی مذاہب کے ماننے والے متحد ہوکر رہتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کسی مسلمان کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ علم و دانش میں پیچھے رہے۔ غلام رضا انصاری نے دنیا بھر میں قتل و غارت گری کیلئے شدت پسند عناصر کی مدد کرنے والی طاقتوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ رسول اسلام (ص) آج کے افغانستان، شام، عراق اور یمن وغیرہ کے حالات سے راضی نہ ہوں گے۔ اسلام امن و آشتی اور تحفظ کا دین ہے، لیکن تکفیری جماعتوں نے استکباری طاقتوں کی حمایت سے دین محمدی ؐ کی حقیقی تصویر مسخ کر دی ہے اور اسلام و مسلمین کو جہان میں بدنام کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو اس بات کی طرف متوجہ ہونا چاہئے کہ اسلام وہ دین ہے جس نے علم و دانش پر زور دیا ہے، لہٰذا وہ اپنی تمام تر توجہ تعلیم پر مرکوز کریں، لیکن جب ہم نتائج دیکھتے ہیں تو وہ مایوس کن نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ جو ملک دنیا میں تیزی سے اقتصادی ترقی کر رہا ہے، اس میں مسلمانوں کو بھی برابر کا حصہ ادا کرنا چاہئے۔

غلام رضا انصاری کا کہنا تھا کہ چند سال قبل تک اسلام کو ایک منطقی، عقل و دانش والے دین کی طرح پہچانا جاتا تھا لیکن کفر کے فتوے لگانے والوں اور شدت پسند عناصر نے اس کو اس قدر مسخ کر دیا کہ لوگ اس سے متنفر ہو رہے ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استکبار کے ساتھی ایسی فکر کی پشت پناہی کرتے ہیں، جس سے اسلام کے مقصد کو نقصان پہنچا اور انہوں نے اسلام پر گہری اور عمیق ضرب لگائی ہے۔ اسلامی ملک شام کے شہر حلب کی تکفیری دہشتگردوں سے آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے غلام رضا انصاری نے کہا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ حلب کی آزادی پر یہ لوگ پریشان ہیں اور سوگ منا رہے ہیں، جبکہ سب کو اس بات کا علم ہے کہ حلب پر قابض تکفیری تھے اور انہوں نے پچھلے چار سال میں وہاں مظالم کے سوا کچھ نہیں کیا۔ اتحاد بین المسلمین پر زور دیتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلام اور رسول اسلام (ص) کے نزدیک اتحاد کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اتحاد پر آنچ نہ آنے دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وحدت اسلامی کا یہ معنی نہیں کہ شیعہ سنی ہو جائے یا سنی شیعہ ہو جائے، اختلافِ نظر دنیا کے تمام مذاہب میں موجود ہے اور وہی اختلاف مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن میں ارشاد رب العزت ہے کہ تفاوت ترقی کیلئے باعث رحمت ہے، تاہم اس تفاوت کو دور کرنے کا ذریعہ گفتگو اور پرامن ہونا چاہئے۔ حضرت محمد مصطفٰی (ص) کی سیرت اقدس پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رسول اکرم (ص) کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ نے تمام مسلمانوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب رسول اسلام نے مکہ فتح کیا تو اس کے بعد وہ اس نرمی، الفت اور محبت سے پیش آئے کہ اسی وجہ سے بہت سے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ ہمیں رسول خدا کی زندگی سے الہام حاصل کرنا چاہئے اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گزارنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ مطالعہ بھی کرنا چاہئے کہ پیغمبر اسلام نے اپنی ازواج، گھر والوں اور دیگر افراد کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا اور پھر گھروں میں ایسا ہی ماحول پیدا کرنا چاہئے۔ ایران اور ہندوستان کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی روابط بہت اچھے ہیں اور روز بروز ان میں بہتری آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخری کچھ برسوں کے دوران ان تعلقات میں مزید مضبوطی آئی ہے اور اس وقت اعلٰی سطح کے مراسم ہیں، امید کی جاتی ہے کہ ان میں مزید گہرائی آئے گی۔ اپنے خطاب کے اختتام پر ایرانی سفیر نے شیعہ فیڈریشن کی فعالیت و سرگرمیوں کو بھی سراہا اور انہیں بھرپور تعاون دینے کی یقین دہانی کرائی۔

ایک روزہ سیرت النبی (ص) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کاروان اسلامی کے سربراہ مولانا غلام رسول حامی نے کہا کہ برما سے لیکر شام تک مسلمانوں کی تباہی کی وجوہات قرآن اور رسول اللہ (ص) کی سیرت پاک سے دوری ہے۔ ان کا کہنا تھا ’’آج مسلمان پوری دنیا میں کیوں لڑ رہے ہیں، برما سے لیکر شام تک اس کی صرف دو ہی وجوہات ہیں، ہم نے قرآن کو چھوڑ دیا اور ہم نے رسول اللہ (ص) کو چھوڑ دیا، لیکن جس دن دونوں کو پکڑ لیا تو مسلمانوں کا ضمیر بیدار ہوجائے گا۔‘‘ مولانا غلام رسول حامی نے کہا کہ پیغمبر اسلام (ص) نے اس دنیا کو چھوڑنے سے قبل فرمایا تھا کہ میں تم لوگوں میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ایک قرآن ہے اور دوسرا میرے اہل بیتؑ ہیں، ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھنا، کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج دونوں چیزوں سے مسلمان دور ہوتے جا رہے ہیں، سیرت رسول اکرم (ص) بیان کرتے ہوئے مولانا غلام رسول حامی نے کہا کہ اتحاد اسلامی کا عملی ثبوت پیش کرنا مسلمانوں کا اہم ترین فریضہ ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی نے سیرت نبوی (ص) کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام کا انعقاد ہوتا رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں سیرت نبوی (ص) کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ آغا سید حسن نے کہا کہ پیغمبر اسلام (ص) کا جب ظہور ہوا تو پوری دنیا میں ظلم و جبر کا خاتمہ ہوا اور خواتین سمیت ہر ایک کو اس کا حق ملا۔ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وقت ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ اسوۂ رسول (ص) کو دنیا تک پہنچانے کیلئے مسلمان متحد ہو کر اپنا رول ادا کریں۔ اس دوران مولانا سید محمد کوثر جعفری نے سیرت رسول اللہ (ص) بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب نظام ولایت کے تحت حکومت ہوگی تو پھر اس حکومت کے سامنے ساری حکومتیں جھکیں گی اور طاغوتی و استکباری طاقتوں کے مذموم مقاصد ناکام ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا تبھی ہوسکتا ہے جب مسلمان سیرت نبوی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں گے اور آپ کی بتائی ہوئی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کریں گے۔ گوجر بکروال اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے صدر چوہدری طالب نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ آج کے پروگرام کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے ہیں کہ شیعہ فیڈریشن نے مسلمانوں کو ایک اسٹیج فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کاز کیلئے وہ اپنے خون کا آخری قطرہ تک دینے کو تیار ہیں۔ انقلاب ایران کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اگر کسی سیاسی لیڈر کو پسند کرتے ہیں تو وہ ایران کے سابق صدر احمدی نژاد ہیں۔

جموں پونچھ سے تعلق رکھنے والے ایران میں مقیم مولانا سید ذاکر حسین جعفری نے کہا کہ اسلام ایک آفاقی نظام ہے، جس پر تمام انسانیت کو عمل پیرا ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام نبی اکرم (ص) یا علی مرتضٰی (ع) کے گھر کا دین نہیں بلکہ یہ اللہ کا دین ہے، جس پر لوگوں کو ہی نہیں بلکہ نبیوں اور اماموں کو بھی عمل کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی ہمیں خود لانی ہے، جس کیلئے گھروں میں اسلامی معاشرے اور اسلامی اقدار کو اپنانا ہے۔ مولانا سید ذاکر نے کہا کہ قرآن کا فرمان ہے کہ خدا اس وقت تک اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ کوئی قوم خود اپنی حالت نہ بدلے، اس نے انسان کو عقل سے نوازا ہے اور اسے خود سوچنا ہے کہ اس کیلئے کون سا دین اور کون سا راستہ بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو کل اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے، جس کیلئے خود کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ایٹم بم سے نہیں ڈرتا بلکہ وہ ملتِ ایران کی علمی ترقی سے خوف کھا رہا ہے اور اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران نے ایسی ترقی کی کہ آج امریکہ ایران کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دن دور نہیں کہ جب تمام شیعہ سنی قبلۂ اول بیت المقدس میں مل کر اتحاد و بھائی چارگی کے ساتھ نماز ادا کریں گے۔  اپنے خطاب میں بھارت کے معروف عالم دین مولانا قمر غازی نے کہا کہ آج اسلام کا چہرہ مسخ کر دیا گیا ہے اور ایسا اسلام کا لبادہ اوڑھنے والے نام نہاد مسلمانوں کی وجہ سے ہو رہا ہے، کیونکہ ان کے پاس نہ کوئی لیڈر ہے اور نہ کوئی رہبر۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں حقیقی و الٰہی رہبر ہو، وہاں دہشتگرد پیدا نہیں ہوتے، انہوں نے کہا کہ سچا مسلمان چاہے سنی ہو یا شیعہ، کبھی دہشتگرد نہیں ہوسکتا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ممبر پارلیمنٹ آف انڈیا شیخ عبدالرحمن نے کہا کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازش کسی اور نے طے کی ہے لیکن آلہ کار مسلمان بنے ہوئے ہیں۔ یہ ریشہ دوانیاں کرنے کیلئے اسلام دشمن طاقتیں ایک جگہ جمع ہوئی ہیں، یہ سازشیں ناکام تو ہوںگی ہی، لیکن اس میں ہمارا بھی کچھ کردار بنتا ہے۔ درایں اثنا مولانا سید عابد حسین جعفری نے کہا کہ سیرت یا تو قرآن سے سمجھی جاسکتی ہے یا پھر نبی کے جگر گوشوں سے۔ ممبر اسمبلی کرگل کشمیر علی اصغر کربلائی نے اپنے پرجوش خطاب میں کہا کہ اگر انسان میں دین کی خاطر خدمت کرنے کا جذبہ ہو تو اس کو کوئی روک نہیں سکتا، چاہے حالات کیسے بھی کیوں نہ ہوں۔ کانفرنس کے اختتام پر قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چیئرمین جہانگیر میر نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی ؒ نے سیرت نبوی پر عمل کرتے ہوئے ایران میں اسلامی انقلاب برپا کیا اور وہ امریکہ جیسی بڑی طاقت کے سامنے بھی نہیں جھکے اور یہ صرف سیرت نبوی (ص) پر عمل پیرا ہونے کا ہی نتیجہ ہے۔ کانفرنس میں متعدد شعراء کرام جن میں حیدر کرت پوری، ذوالفقار نقوی، احتشام حسین بٹ اور عظمت جعفری شامل ہیں نے اپنا کلام پیش کیا جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت مولانا شیخ ناصری نے حاصل کی۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض شیعہ فیڈریشن کے ترجمان اعلٰی سید فدا حسین رضوی اور انور حسین ونتو نے انجام دیئے۔

جموں میں منعقدہ اس سیرت النبی (ص) کانفرنس کے آخر میں شیعہ فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد پورا ہوگا اور لوگ اس سے استفادہ کریں گے۔ انہوں نے کانفرنس میں موجود تمام مہمانوں، مختلف محکمہ جات اور ریاست جموں و کشمیر بھر سے تشریف لائے ہوئے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کریں گے کہ ایسی محافل آئندہ ہوتی رہیں گی۔ انہوں نے تمام لوگوں سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد ایسی تقاریب پونچھ اور ڈوڈہ میں بھی منعقد کرنے کا ارادہ ہے، جس کے بارے میں سب کو آگاہ کیا جائے گا۔ مہمان ذی وقار غلام رضا انصاری کو عاشق حسین خان کے ہاتھوں شال اور مومنٹو بھی پیش کیا گیا۔ اس موقعہ پر پروفیسر ظہور الدین، سابق ایم ایل اے اشوک شرما، مولانا سید تقی عابدی، شیعہ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سید افتخار حسین جعفری، شیعہ فیڈریشن کے سینیئر نائب صدر شیخ سجاد حسین، نائب صدر بشیر احمد میر، ابوالقاسم رضوی کے علاوہ کرگل، لداخ، کشمیر، پونچھ اور ریاست جموں و کشمیر کے دیگر خطوں سے بڑی تعداد میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔
خبر کا کوڈ : 592772
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب