0
Saturday 21 Jan 2017 10:43

وائیٹ ہاؤس کا وائیٹ مکین امریکہ کو گریٹ بنا سکے گا؟؟؟

وائیٹ ہاؤس کا وائیٹ مکین امریکہ کو گریٹ بنا سکے گا؟؟؟
ابو فجر لاہوری

امریکہ کے وائیٹ ہاؤس میں نیا "وائیٹ" مکین پہنچ چکا ہے اور ان سے قبل "بلیک" مکین باراک اوباما 8 سال کی مدت پوری کرکے رخصت ہوئے ہیں۔ اب ٹرمپ اپنی 4 سالہ مدت کیلئے وائیٹ ہاؤس کے مکین بنے ہیں۔ کیا ٹرمپ بھی 8 سال صدر رہیں گے یا اپنے 4 سال بھی مشکل سے پورے کریں گے؟ کیونکہ 2 سال کے اندر اندر ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے یا وہ خود پیدا کر لیں گے کہ کانگریس ان کا مواخذہ کرنے پر مجبور ہو جائے گی، لیکن یہ بہت ہی دور کی کوڑی ہے، جو واشنگٹن میں وہ لوگ لے کر آرہے ہیں، جو صدر ٹرمپ سے خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس وقت سے پہلے ہی صدر ٹرمپ کا پیچھا شروع کر رکھا ہے، جب ابھی انہوں نے انتخاب لڑنے کا ارادہ ہی ظاہر کیا تھا، جونہی انہوں نے ری پبلکن نامزدگی کا ارادہ ظاہر کیا، ان کے مخالفین ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے پڑ گئے اور تاک تاک کر ان کی کمزوریاں، کوتاہیاں اور سکینڈلز منظر عام پر لانے لگے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں ان کیخلاف تسلسل کیساتھ مہم چلائی گئی۔ شروع شروع میں تو یہی لگا کہ ٹرمپ نے اپنے آپ کو مشکل میں پھنسا لیا ہے اور ری پبلکن پارٹی انہیں امیدوار نامزد نہیں کرے گی، لیکن دوسرے امیدوار ایک ایک کرکے میدان سے باہر ہوتے چلے گئے، سب سے پہلے تو جیب بش نے ہار مانی، جن کے بارے میں کئی سال پہلے ہی یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ اگلے صدر ہوسکتے ہیں۔ جیب کے دوڑ سے باہر ہونے کے بعد ٹرمپ کے حوصلے بلند ہوتے گئے، بس پھر کیا تھا مخالفین ایک ایک کرکے رنگ سے باہر ہوگئے، جو آخر تک ڈٹے رہے انہیں پرائمری کی شکست نے باہر کر دیا اور یوں ڈونلڈ ٹرمپ پرائمری جیت کر ٹکٹ کے مستحق قرار پائے، لیکن اس موقع پر بھی مخالفین نے ہار نہیں مانی اور کہا گیا کہ پارٹی اب بھی ان کیخلاف فیصلہ کر سکتی ہے، غالباً یہ وہ لوگ تھے جنہیں ٹرمپ کا صدر بننا ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔

جب ڈونلڈ کو ری پبلکن ٹکٹ مل ہی گیا تو مخالفین ایک دوسرے پہلو سے حملہ آور ہوگئے اور اب کی بار ری پبلکن پارٹی کے رہنماؤں اور ٹرمپ کو بیک وقت ہدف تنقید بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ تک کہا گیا کہ پارٹی نے ٹرمپ کو امیدوار نامزد کرکے صدر کا منصب طشتری میں رکھ کر ڈیمو کریٹس کو پیش کر دیا ہے، مطلب اس کا یہ تھا کہ ہیلری اور ٹرمپ کا کوئی مقابلہ ہی نہیں، وہ انہیں آسانی سے ہرا دیں گی، ڈیڑھ 2 سال پہلے ہی ہیلری کو ’’امریکہ کی پہلی خاتون صدر‘‘ لکھا جانے لگا، جوں جوں انتخابی مہم آگے بڑھتی گئی تجزیہ نگاروں کے تجزیئے کاٹ دار ہوتے گئے، تان ہمیشہ اس پر توڑی گئی کہ ٹرمپ ہارے کہ ہارے، یہاں تک کہ 8 نومبر کو جب ووٹ ڈالے جا رہے تھے، تمام تر جائزے اور تجزیئے ٹرمپ کیخلاف تھے۔ نیوز ویک نے تو سکوپ کے چکر میں کمال ہی کر دیا، ہیلری کو منتخب کراکے ٹائٹل سٹوری والا ایڈیشن مارکیٹ میں بھیج دیا، اعتماد ہو تو ایسا، لیکن ٹرمپ ڈرامائی طور پر جیت گئے تو مخالفین نے انگلیاں دانتوں میں دبا لیں، انہیں یہ انہونی ہونے کا یقین نہ تھا، لیکن یہ ہوچکی تھی۔ دنیا میں ایسی انہونیاں ہمیشہ ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوتی رہیں گی۔ اب جو لوگ یہ کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ کانگریس ان کا مواخذہ کرے گی، امریکی اصطلاح میں امپیچمنٹ، معلوم نہیں ان کے ذرائع کیا ہیں، یہ ان کے من کی موج ہے یا وہ امریکی سیاسی حرکیات کا جو ادراک رکھتے ہیں، اس کی بنیاد پر ایسا کر رہے ہیں۔ کانگریس پر ری پبلکن کنٹرول ہے، اس لئے اگلے 2 سال تک تو مقدمہ چلانے کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ری پبلکن پارٹی اپنے ہی صدر کیخلاف ایسا اقدام کیوں کرنا چاہے گی۔؟

بعض تجزیہ نگاروں کی یہ خواہش ضرور ہے کہ نومبر 2018ء میں جب مڈٹرم الیکشن ہوں گے، ہر 2 سال بعد ایک تہائی سینیٹ اور پورے ایوان نمائندگان کا الیکشن ہوتا ہے، یہ دونوں ایوان مل کر کانگریس کہلاتے ہیں، تو ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور پھر اپنی اس اکثریت کی بنیاد پر صدر ٹرمپ کیخلاف مقدمہ چلانے کی کوشش کرے گی، لیکن یہ سب کچھ ایسے مفروضوں پر مبنی ہے جس کی کوئی بنیاد اس وقت موجود نہیں۔ خواہش و خواب کی بات دوسری ہے، لیکن کیا ضروری ہے کہ صدر ٹرمپ کوئی ایسی بڑی غلطی کریں، جس کی بنیاد پر ان پر مقدمہ چلانا ضروری ٹھہرے۔ امریکی تاریخ کے گذشتہ 50 برس میں 2 امریکی صدر ایسے گزرے ہیں، جنہیں اس صورتحال کا سامنا رہا۔ پہلے تو صدر نکسن تھے، جنہوں نے مخالف سیاسی جماعت کے ہیڈ کوارٹر میں جاسوسی کے آلات نصب کرائے تھے، جس پر ان کیخلاف فضا بننا شروع ہوئی، یہاں تک کہ کانگریس میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ ہوگیا تو وہ مستعفی ہوگئے۔ دوسرے صدر کلنٹن تھے، جن کیخلاف کوئی سیاسی مقدمہ تو نہیں بنا، البتہ ایک خاتون مونیکا کیساتھ ان کے سکینڈل کی بنیاد پر ان کیخلاف مواخذے کی کارروائی شروع ہوگئی، لیکن بالآخر انہیں بری قرار دیدیا گیا اور انہوں نے اپنی مدت پوری کی۔

اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں یہ مفروضہ بلکہ مفروضے قائم کئے جا رہے ہیں کہ وہ ایسی پالیسیاں اختیار کریں گے، جو امریکیوں کو پسند نہیں آئیں گی اور لوگ تنگ آکر ان کا مواخذہ شروع کرنے کی تحریک چلائیں گے اور بالآخر انہیں عہدے سے ہٹا کر دم لیں گے، لیکن یہ سب کچھ اس وقت ریت کی دیوار پر کھڑا ہے اور عین ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے بارے میں تمام پیش گوئیاں غلط ثابت کر دیں، اتنا البتہ ضرور ہے کہ ان کا سفر ہموار نہیں ہوگا اور عین ممکن ہے کہ وہ 2020ء میں بھی دوسری ٹرم کیلئے بھی امیدوار ہوں۔ خواہشیں گھوڑے نہیں ہوتے جن پر سواری کی جائے۔ لیکن بیرونی دنیا میں امریکہ کے مخالفین ٹرمپ کو "اچھا" صدر قرار دے رہے ہیں۔ مخالفین کے مطابق ٹرمپ برا ضرور ہے، لیکن "کھرا" بندہ ہے، یعنی صاف گو ہے، جو اس کے دل میں ہے وہی کرتا ہے، ہیلری کی طرح منافق نہیں۔ ہیلری کے دل میں کچھ اور، اور ظاہری طور پر کچھ اور ہوتا ہے۔ امریکی عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ دنیا بالخصوص اسلامی دنیا کو جنگ میں جھونکنے کا سہرا بھی ہیلری کے سر پر ہے، کیونکہ اب یہ سب باتیں کھل کر واضح ہوچکی ہیں کہ القاعدہ ہو یا طالبان، یہاں تک کہ داعش بھی امریکہ کی ہی پیداوار ہیں۔ ان دہشتگرد تنظیموں نے جہاں مسلمانوں میں قتل و غارت کو فروغ دیا، وہاں مغرب کیلئے بھی خطرات پیدا کئے ہیں۔ اس حوالے سے امریکی عوام ہیلری کی پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر چونکہ امریکی شدت پسند ہیں، اس لئے انہیں ایسے ہی صدر کی ضرورت تھی، جو انہیں مل گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو "گریٹ" بناتا ہے یا پھر امریکی تباہی کا باعث بنتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 602110
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب