0
Monday 23 Jan 2017 17:49

پاراچنار دھماکہ، نیشنل ایکشن پلان اور وفاقی وزیر داخلہ کا نرم رویہ

پاراچنار دھماکہ، نیشنل ایکشن پلان اور وفاقی وزیر داخلہ کا نرم رویہ
تحریر: تصور حسین شہزاد

کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں زندگی نے ابھی آنکھ کھولی ہی تھی، منڈی میں سبزیاں فروخت کرنے اور خریدنے والوں کا رش اپنے عروج پر پہنچا ہی تھا کہ ظالمان نے ہنستے بستے گھروں میں صف ماتم بچھا دی۔ ایک زوردار دھماکے سے پوری منڈی گوشت کے لوتھڑوں سے اَٹ کر رہ گئی۔ اطلاعات کے مطابق 12 کلو گرام بارودی مواد پھلوں کی پیٹی میں چھپایا گیا تھا۔ جسے ریموٹ کنٹرول سے اُڑایا گیا۔ دھماکے میں 30 کے قریب افراد شہید اور 90 افراد زخمی ہوئے۔ پارا چنار میں کے پی اور ملحقہ علاقوں سے فروٹ اور سبزیاں منڈی میں لائی جاتی ہیں۔ یہ علاقہ اپنی حساسیت کی وجہ سے حفاظتی حصار میں رہتا ہے، جہاں داخلے کیلئے راستے میں کئی چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اتنی بھاری مقدار میں بارودی مواد کرم ایجنسی کی مصروف ترین سبزی منڈی تک کیسے پہنچا، یہ سکیورٹی اداوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ واضح رہے کہ کرم ایجنسی میں شیعہ آبادی کی اکثریت ہے اور شدپ پسند پہلے بھی 2 بار، جون 2013ء میں مارکیٹ اور ٹیکسی سٹینڈ کے قریب دھماکہ کرکے 57 افراد کو شہید کر چکے ہیں۔ بعدازاں ایک دھماکہ دسمبر 2015ء میں کرکے 25 افراد کو شہید کیا گیا۔

گذشتہ روز ہونیوالے بم دھماکے کی ذمہ داری 2 کالعدم دہشتگرد تنظیموں نے قبول کی ہے۔ ایک کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دوسری کالعدم لشکر جھنگوی العالمی ہے۔ جنہوں نے ذرائع ابلاغ کو پیغام رسانی کے ذریعے اس واردات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ کالعدم شدت پسند گروہ نے انتباہ کیا ہے کہ یہ دھماکے ان کے مذہبی پیشواؤں اور لیڈروں کے ماورائے عدالت قتل کے بدلے میں کئے گئے ہیں۔ کالعدم تنظیموں کی جانب سے قبول کی جانیوالی ذمہ داری سے عیاں ہے کہ شدت پسندی اور دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ اپنے منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک مرتبہ پھر نئے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ بالخصوص فرقہ واریت کی بنیاد پر ہونیوالی وارداتیں سکیورٹی اداروں کیلئے نیا چیلنج ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ کرم ایجنسی کے لوگوں نے سکیورٹی حکام کی طرف سے ممنوعہ اسلحہ سکیورٹی اداروں کے پاس جمع کروانے کی ہدایت یہ کہہ کر نظرانداز کر دی تھی کہ انہیں داعش اور دیگر کالعدم مذہبی گروہوں کی جانب سے حملوں کا خطرہ ہے اور گذشتہ روز کے بم دھماکے نے ان کے خدشات درست ثابت کر دیئے ہیں۔ مزید براں یہ بھی واضح ہوگیا کہ یہاں لوگوں کی حفاظت پر مامور اداروں کی کارکردگی کیا ہے۔؟

پاراچنار دھماکہ فرقہ واریت کا ہی شاخسانہ نہیں بلکہ اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت طے شدہ پروگرام پر عملدرآمد میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ بالخصوص سول حکومتوں نے اس کے تحت اپنے فرائض میں کوتاہی اور غفلت مجرمانہ کا ارتکاب کیا ہے، تبھی تو فرقہ وارانہ تنظیمیں ازسرنوء منظم ہوکر اپنی مذموم سرگرمیاں جاری رکھنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ پارا چنار میں کوہاٹ اور گردونواح سے منڈی میں سبزیاں اور فروٹ لائے جاتے ہیں۔ انہیں لانے والی ٹرانسپورٹ درجن بھر چیک پوسٹوں سے گزر کر آتی ہے۔ اتنے حفاظتی اقدامات کے باوجود بھی تخریب کاروں کا اپنے ہدف تک باآسانی پہنچ جانا بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کہتے ہیں کہ ہمیں ہر داڑھی والے کو دہشتگرد نہیں سمجھنا چاہیے۔ دہشتگردوں اور فرقہ وارانہ جماعتوں میں تمیز کرنی چاہیے۔ پارا چنار واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنیوالے دہشتگرد گروہوں کی اس دہشتگردی کے بعد وفاقی وزیر داخلہ اس کی کیا توجہیہ پیش کریں گے؟ نیز یہ کہ کیا وہ بتانے کی زحمت کریں گے کہ فرقہ واریت کی بنیاد پر بننے والے گروہوں کی دہشتگردی کو وہ کس تناظر میں دیکھنا پسند کریں گے۔

دہشتگردوں کا کوئی فرقہ، مذہب اور قومیت نہیں ہوتی، وہ صرف دہشتگرد ہیں، جو انسانیت کیخلاف سرگرم عمل ہیں، انہیں کچلنے اور نیست و نابود کرنے کیلئے ہمیں معاشرے کے تمام انسان دوست حلقوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ ہمارے عسکری ادارے گذشتہ تین سال سے پوری دلجمعی کیساتھ ان کیخلاف نبرد آزما ہو کر قربانیاں دے رہے ہیں، لیکن سیاسی حکومتیں ابھی تک اگر مگر کی گردان میں مصروف ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کے بارے میں یہ عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ دہشتگرد جماعتوں کیساتھ خاص طور پر ہمدردیاں رکھتے ہیں اور کسی حد تک شدت پسندوں کیلئے بھی ان کے دل میں نرم گوشہ پایا جاتا ہے۔ اس لئے چودھری نثار علی خان کے بارے میں حزب اختلاف بالخصوص تحفظات رکھتی ہے۔ نجانے کیوں ہم ابھی تک گوں مگوں سے نکل نہیں پا رہے۔ جب تک ہم اس تذبذب سے نکل کر یکسو ہو کر باہمی تعاون مضبوط کرکے فرقہ واریت میں ملوث دہشتگردوں کیخلاف فیصلہ کن وار نہیں کرتے، ہمیں اس قسم کے واقعات کا سامنا رہے گا۔ اس کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے میں تاخیر ہمارے لئے خسارے کا سودا ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 602840
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب