0
Sunday 29 Jan 2017 23:19

خطے کے بدلتے حالات اور پس پردہ حقائق

خطے کے بدلتے حالات اور پس پردہ حقائق
تحریر: ہادی محمدی

مغربی ایشیا اور مشرق وسطٰی کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ان بدلتے حالات کی تصویر کا ایک واضح اور ظاہری رخ ہے، جبکہ دوسرا رخ پوشیدہ اور پس پردہ ہے۔ ظاہری طور پر سفارتی سرگرمیاں، اجلاس اور نشستوں کا انعقاد، متنازعہ بیانات اور موقف کا اظہار، فوجی مشقیں، عراق اور شام میں داعش کے خلاف جنگ، شمال مغربی حلب، ادلب اور جبل الزاویہ میں دہشت گرد گروہوں کی آپس کی لڑائی، وائٹ ہاوس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انٹری، یمن کیلئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کی نئی کوششوں کا آغاز اور امن پسندانہ پیغامات وغیرہ دکھائی دیتے ہیں۔ ان واقعات اور حالات کا دوسرا پہلو وہ درپردہ حقائق ہیں، جن کا پیغام اسٹریٹجک اور ان کے اثرات خطے میں نئی صف بندی کے قیام کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ پس پردہ حقائق تین بنیادی ارکان پر مشتمل ہیں جو درج ذیل ہیں:

1۔ عراق اور شام
عراق اور شام میں جاری جنگ درحقیقت ارادوں اور اسٹریٹجیز کی جنگ ہے۔ ایک طرف مغربی طاقتیں اور دہشت گردی کے حامی ممالک ہیں، جو اپنے آلہ کار یعنی تکفیریت کو نابود ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ یہ قوتیں میدان میں باقی رہنا چاہتی ہیں، لیکن حالات کی باگ ڈور ان کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ یہ طاقتیں مذہبی، قومی و اندرونی تضادات اور اختلافات سے فائدہ اٹھا کر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں اور یہ آس لگائی بیٹھی ہیں کہ دہشت گرد عناصر تیزی سے نابود نہ ہونے پائیں۔ دوسری طرف مغربی – صہیونی سازشوں کا مقابلہ کرنے والی قوتیں موجود ہیں، جو بڑی حد تک حالات پر قابو پا چکی ہیں اور ان کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ اینٹی مغربی – اسرائیلی محاذ ترکی کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں اسے کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ رجب طیب اردگان کی سربراہی میں ترکی ایسے حالات کا شکار ہوچکا ہے کہ کم سطح پر مراعات پر بھی قانع ہے۔ اگرچہ ترکی فی الحال قابل اعتماد نہیں اور وہ ڈبل گیم کر رہا ہے، لیکن چونکہ خطے کے حالات بھی اس کے حق میں نہیں اور نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اخوان المسلمین کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے، لہذا شام کے میدان میں فاتح قوتوں سے ساز باز پر مجبور ہوچکا ہے اور ایسے مفادات حاصل کرنے کا خواہاں ہے، جو حلب میں اس کی کامیابی سے زیادہ کم نہیں۔

ترکی کے حمایت یافتہ مسلح دہشت گرد گروہ جو شام حکومت کے مقابلے میں خود کو بے بس اور لاچار پاتے ہیں، داعش اور النصرہ فرنٹ سے ٹکراو کا راستہ اختیار کرچکے ہیں، تاکہ اس طرح اپنی بقا کو یقینی بنانے کے علاوہ ترکی کی ہمراہی میں جہاں تک ممکن ہو سیاسی مراعات حاصل کرسکیں۔ شطرنج کے اس کھیل کا نتیجہ خطے میں موجود مختلف اتحادوں پر بھی اثر انداز ہوا ہے اور ابھی سے آل سعود رژیم گوشہ نشینی کا شکار ہو کر شام میں اپنا اثر و رسوخ مکمل طور پر کھو چکی ہے۔ سعودی حکومت کیلئے حالات اس قدر کٹھن ہوچکے ہیں کہ ترکی میں متعین سعودی سفیر نے رجب طیب اردگان کو غدار کا لقب عطا کیا ہے۔ یہ نیا منظرنامہ عملی میدان میں اصلی دہشت گرد گروہوں کی شدید کمزوری کا باعث بنے گا اور انہیں سیاسی راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دے گا۔

2۔ امریکہ
امریکہ خطے میں مسلسل ناکامیوں کے بعد شدید تذلیل کے احساس میں مبتلا ہے اور اپنی بالادستی ختم ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے، لہذا اس نے خلیج فارس میں اپنی بخت آزمائی کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ اس اسٹریٹجی کے ذریعے عراق اور شام میں شکست کا ازالہ کرنا چاہتا ہے اور سمندر میں ایران کے خلاف طاقت کا توازن اپنے حق میں تبدیل کرنے کے درپے ہے۔ لیکن امریکہ کو خلیج فارس میں متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ اول یہ کہ وہ اپنے جلے ہوئے پتے استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ خطے میں امریکی اتحادی عراق اور شام کی پراکسی وارز میں شکست کے بعد اپنی افادیت کھو چکے ہیں اور اب تو صورتحال ایسی ہوچکی ہے کہ وہ شاید اپنے تخت و تاج کی حفاظت کی قیمت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو ادا نہ کر پائیں۔ لیکن جو چیز ٹرمپ کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، وہ خلیج فارس میں اپنا تسلط قائم رکھنا ہے، جس کیلئے امریکہ کی کوشش ہوگی کہ خلیجی ریاستوں پر حکمفرما فرسودہ سلطنتوں کا سلسلہ کسی نہ کسی طرح برقرار رکھا جائے۔ ٹھیک ایسے وقت جب کویت کا ایک اعلٰی سطحی حکومتی عہدیدار تہران آ کر ثالثی پر مبنی اپنا پیغام ایرانی حکام کو منتقل کرتا ہے، استنبول میں واقع نیٹو عہدیداران فوری طور پر کویت میں اپنا علاقائی دفتر کھول دیتے ہیں، تاکہ برطانوی – امریکی فوجی ٹھکانوں کا سلسلہ مکمل کر لیا جائے، جبکہ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایمرجنسی اقدام کے تحت اپنے جاسوسی آلات، جدید ریڈار سسٹم اور الیکٹرونک آلات سعودی عرب کو فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔

امریکی اور برطانوی حکام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم جوئی میں انہیں خطے میں موجود سلطنتی حکمرانوں کی ہر قیمت پر حفاظت کرنا ہے، لہذا تہران کے نام کویتی عہدیدار کے پیغام کا مقصد ایران سے تعلقات کی بحالی اور فروغ نہیں بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے ایران سے کسی قسم کے تصادم کے دوران کویتی سلطنت کی سکیورٹی کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے "ایران کو کنٹرول کرنے پر مبنی اسٹریٹجی" اپنانے کے ساتھ ساتھ سمندری حدود میں ایران کی سرگرمیوں کو محدود کرنے، خلیج فارس، بحیرہ عرب اور دیگر سمندری راستوں پر ایران کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا مقصد خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب پر امریکی کنٹرول یقینی بنانا ہے۔ ٹرمپ ان اقدامات کے ذریعے اس صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں، جو انہیں عراق اور شام میں دیکھنی پڑی ہے۔ وہ نہیں چاہتے عراق اور شام کی طرح خلیج فارس اور بحیرہ عرب سے بھی عقب نشینی پر مجبور ہو جائیں، لہذا ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ، مغربی طاقتیں اور نیٹو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز اقدامات انجام دے رہے ہیں۔

3۔ مقبوضہ فلسطین اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم
ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئے امریکی صدر نے فلسطین اتھارٹی پر دباو میں مزید اضافہ کرکے اسے اسرائیل سے ساز باز پر مجبور کرنے کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے عرب سلطنتوں خاص طور پر خلیج فارس کے جنوب میں واقع عرب حکومتوں کو برقرار رکھنے کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ حکومت مسئلہ فلسطین کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی عینک سے دیکھ رہی ہے۔ فلسطین اتھارٹی اور اس کی حامی اردن حکومت کی بوکھلاہٹ اور سرگردانی ابھی سے واضح ہوچکی ہے، جس کے نتیجے میں انہوں نے روس کا دامن تھامنا شروع کر دیا ہے اور روس بھی اپنی پوزیشن بہتر بنانے کیلئے ان کا پرتپاک استقبال کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطین اتھارٹی کو دی جانے والی قلیل مالی امداد بھی منقطع کر دینے کا فیصلہ اور اقوام متحدہ کا بجٹ 40 فیصد کم کرکے اسے بھی اس شرط سے مشروط کر دینا کہ ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا، جو اسرائیل مخالف ہو یا فلسطینیوں کے حق میں جاتا ہو، اسی پالیسی کے تحت انجام پایا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد عالمی سطح پر اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنا ہے۔ اہم نکتہ جس سے خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی غافل ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کی جانب سے اتحادی عرب ممالک کو اپنے مطلوبہ فلسطین امن منصوبے میں شامل ہونے پر مجبور کرنے سے ان عرب حکام کی پوزیشن مزید کمزور ہو جائے گی، جبکہ دوسری طرف اخوان المسلمین سے وابستہ گروہوں کیلئے بھی شدید مشکلات جنم لیں گی، جنہوں نے تکفیری وہابیت یا رجعت پسند عرب حکومتوں کے تعاون پر مبنی سراب دیکھ کر مہم جویانہ اقدامات انجام دیئے ہیں۔

اخوانی گروہ ایک اہم اور تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں اخوان المسلمین سے وابستہ گروہ بھی دہشت گرد گروہ قرار پائے ہیں، لہذا انہیں یا تو اسرائیل اور امریکہ کے سامے ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا پھر ایران کی مرکزیت میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب واپس لوٹ کے آنا ہوگا۔ ترکی کو اس مشکل کے علاوہ نیٹو کی صورتحال تبدیل ہونے کی پریشانی بھی لاحق ہے۔ ترکی بھی ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ اسے یا تو ٹرمپ کے ساتھ ساتھ اپنی پالیسیوں میں یو ٹرن لینا ہوگا یا پھر مدمقابل اتحاد یعنی روس اور چین کے ساتھ شامل ہونا پڑے گا۔ مذکورہ بالا تینوں بنیادی ارکان میں ایران کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ایران تاریخ کے اہم ترین موڑ پر کھڑا ہے اور اسے اس موڑ سے فاتح کے طور پر آگے نکلنا ہوگا۔ جیسا کہ ایران گذشتہ 15 سال کے دوران خطے میں پیش آنے والے بڑے چیلنجز میں کامیابی سے آگے بڑھا ہے، درپیش خطرات کو مفید مواقع میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہا ہے اور آج خطے میں ایک مستحکم اور طاقتور پوزیشن کا حامل ہے، اسی طرح ان شاء اللہ مستقبل میں بھی کامیابی سے اس مرحلے کو بھی پیچھے گزار دے گا۔
خبر کا کوڈ : 604708
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب