0
Tuesday 7 Feb 2017 17:52

اوباما امریکی تاریخ کے بدترین صدر کیوں؟

اوباما امریکی تاریخ کے بدترین صدر کیوں؟
تحریر: علی محسنی

سابق امریکی صدر براک اوباما نے ایسی حالت میں وائٹ ہاوس کو ترک کیا ہے جب ان کے آٹھ سالہ دور میں کوئی مثبت اقدام نظر نہیں آتا بلکہ انسانی حقوق سمیت دیگر کئی ایشوز پر ان کا ریکارڈ بہت خراب نظر آتا ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق دوغلی پالیسیاں اپنانے اور دیگر مشابہہ اقدامات کے باعث عوام کی جانب سے انہیں امریکہ کا کمزور ترین صدر اور امریکی تاریخ کا بدترین صدر جیسے القابات سے نوازا گیا۔ یہاں کچھ سوالات انسان کے ذہن میں آتے ہیں جیسے:
کیا براک اوباما سے پہلے آنے والے امریکی صدور مملکت نے ان موارد میں بہتر عمل کیا تھا جن میں اوباما پر کمزوری، وعدہ خلافی اور دوغلی پالیسیاں اپنانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے؟
کیا اوباما سے پہلے آنے والی امریکی حکومتوں نے انسانی حقوق کے دفاع، نسل پرستی کے خاتمے اور غلامی ختم کرنے سے متعلق کوئی عظیم کارنامے انجام دیئے تھے؟
سب سے اہم سوال یہ کہ ایسے مسائل کی بابت اوباما کو شدید تنقید کا نشانہ کیوں بنایا گیا ہے جن کی امریکی سیاست میں تبدیلی تقریباً ناممکن دکھائی دیتی ہے؟

ان تمام سوالات کے جواب میں یہ کہنا درست ہو گا کہ براک اوباما نے اپنی صدارتی مہم کے دوران "تبدیلی" یا Change کا نعرہ لگایا تھا اور اسی نعرے کی بنیاد پر امریکی شہریوں کی حمایت حاصل کر پائی تھی۔ انہوں نے صدر بننے سے پہلے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بدنام زمانہ گوآنتانامو جیل کو بند کریں گے جبکہ ملک کا پہلا سیاہ فام صدر ہونے کے ناطے امریکی سیاہ فام شہریوں میں ان سے یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ وہ ملک میں موجود نسلی تعصبات کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات انجام دیں گے۔ لیکن جب براک اوباما صدر بنے تو انہوں نے کوئی نئی راہ اپنا لی اور قوم کو خود سے مایوس کیا۔ ذیل میں ان کے چند اہم اقدامات بیان کئے گئے ہیں۔

1۔ اوباما جرج بش سے زیادہ جنگ طلب
براک اوباما نے 2008ء میں عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد عوام سے وعدہ کیا کہ وہ ملک میں اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کریں گے اور ہر صورت میں جنگ کا خاتمہ کر کے صلح کا پیغام عام کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ عالمی سطح پر خاص طور پر مشرق وسطی میں امریکی کی فوجی سرگرمیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے جنگی صورتحال ختم کر دیں گے۔ لیکن بعد میں انہوں نے نہ صرف اپنے وعدوں پر عمل نہ کیا بلکہ جنگ کی آگ شعلہ ور کرنے میں سابق صدر جرج بش پر بھی بازی لے گئے۔ اب جبکہ وہ وائٹ ہاوس چھوڑ کر چلے گئے ہیں تو اپنے جانشین یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے نئے کارزار چھوڑ کر جا رہے ہیں اور جرج بش سے ورثے میں ملنے والی صورتحال سے کہیں زیادہ بدتر صورتحال آنے والے امریکی صدر کو سونپ کر جا رہے ہیں۔

براک اوباما نے 8 برس قبل جب جرج بش سے اقتدار اپنی تحویل میں لیا تو امریکہ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں پھنسا ہوا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صدارتی الیکشن میں براک اوباما کی کامیابی بہت حد تک سابق صدر جرج بش کی جنگ طلبانہ پالیسیوں کی مرہون منت تھی۔ اس بات کی واضح دلیل یہ ہے کہ اوباما نے اپنی صدارتی مہم کے دوران جرج بش کی شدت پسندانہ پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد عالمی سطح پر امریکی جنگوں کا خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے خود کو امریکہ کا نجات دھندہ بنا کر پیش کیا اور امریکہ کو ایسے ملک کے طور پر متعارف کروایا جو جنگ کی آگ میں جل رہا تھا۔

2۔ پراکسی وارز اور حکومتوں کی سرنگونی پر مبنی اوباما کی پالیسیاں
اگر ہم صدر براک اوباما کے دوران صدارت کا ایک کلی خاکہ پیش کرنا چاہیں تو کہیں گے کہ ان کی مدت صدارت میں دیگر ممالک میں بغاوتوں کے منصوبے بنائے گئے، ڈرون طیاروں سے دنیا کے مختلف حصوں میں انسانوں کا قتل عام کیا گیا، ۳۴ افریقی ممالک سمیت دنیا کے ۶۰ مختلف ممالک میں امریکی فوجی اڈے قائم کئے گئے اور اقتصادی ہتھکنڈوں کے ذریعے لاطینی امریکی ممالک میں حکومتیں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ چین کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات، شام میں جنگ کو طول دینا، عراق میں بدامنی کی فضا پیدا کرنا اور لیبیا میں تباہ و بربادی پھیلانا بھی براک اوباما کے دورہ صدارت کے اہم کارنامے ہیں۔ اسی طرح برازیل میں صدر ڈلما روزیف کے خلاف بغاوت کی حمایت اوباما کی انہیں پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

3۔ خفیہ جنگوں کا آغاز
فروری 2009ء میں صدر براک اوباما نے اعلان کیا کہ وہ اکتوبر 2010ء تک عراق میں موجود 1 لاکھ 60 ہزار فوجیوں کی تعداد کم کر کے 50 ہزار فوجیوں تک لے آئیں گے جس پر انہیں چند ماہ بعد یعنی دسمبر میں امن کا نوبل انعام بھی حاصل ہوا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دوران دنیا کے مختلف حصوں میں بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کے ذریعے انجام پانے والے امریکی حملوں میں بے سابقہ اضافہ رونما ہوا۔ صدر براک اوباما کے 8 سالہ دورہ صدارت میں ڈرون حملوں کے ذریعے قتل کئے جانے والے افراد کی تعداد 2900 ہے جن میں 900 عام شہری شامل ہیں۔ ان حملوں کی اکثریت افغانستان میں انجام پائی ہے۔

4۔ خفیہ اور پراکسی وارز کی وسعت میں اضافہ
صدر براک اوباما کے پہلے چار سالہ دورہ صدارت میں ان کی پالیسی جنگ کے پھیلاو پر مبنی رہی ہے جس کی بنیاد پر دنیا کے مختلف حصوں میں امریکہ نے جنگ کی آگ لگائی۔ اس کی ایک واضح مثال دنیا کے مختلف حصوں میں امریکی کمانڈوز تعینات کرنا ہے تاکہ وہ خفیہ کاروائیاں انجام دے سکیں۔ 2011ء کے آخر تک ان خفیہ کاروائیوں کی تعداد 120 تک جا پہنچی۔ ایسی ہی خفیہ کاروائیوں میں سے ایک معروف ترین کاروائی پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ٹارگٹ کلنگ تھی۔ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو ٹھیک اس وقت نشانہ بنایا گیا جب شام میں خانہ جنگی اپنے ابتدائی مراحل سے گزر رہی تھی۔ اوباما کے دور صدارت میں امریکی خفیہ کاروائیوں کا دائرہ پاکستان، افغانستان، یمن، صومالیہ اور عراق کی حد تک بڑھ گیا اور ان علاقوں میں امریکی فوجی تعینات کر دیئے گئے۔ یوں اوباما دور میں سابق امریکی صدر جرج بش کے دور سے 60 فیصد زیادہ فوجی تعینات کئے گئے۔

5۔ انسانی حقوق کے بارے میں دوغلی پالیسیاں
جب بحرین میں شروع ہونے والی عوامی احتجاجی تحریک کو کچلنے کیلئے سعودی عرب کی افواج جزیرہ شیلڈ فورسز کے عنوان سے بحرین میں داخل ہوئیں تو امریکہ نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا اور اسے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کا اندرونی مسئلہ قرار دے دیا۔ لیکن دوسری طرف جب شام میں تکفیری دہشت گروہوں نے اپنی کاروائیوں کا آغاز کیا اور ایران نے شام کی قانونی حکومت اور صدر بشار اسد کی درخواست پر اپنے فوجی مشیر شام بھیجے تو اس کے خلاف امریکہ نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ بحرین میں مستبد آل خلیفہ رژیم کو اقتدار میں باقی کیوں رکھنا چاہتا ہے؟ اس سوال کے جواب کیلئے خلیج فارس میں امریکی مفادات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ امریکی نیوی کا پانچواں بحری بیڑہ اس وقت بحرین میں تعینات ہے لہذا امریکی حکومت بحرین میں ایسی جمہوریت کا فروغ نہیں چاہتی جس کے نتیجے میں ایک شیعہ حکومت برسراقتدار آ جائے۔

دوسری طرف چونکہ امریکہ مجبور ہو کر عراق سے اپنی فوجیں باہر نکال چکا ہے، لہذا بحرین میں اپنی فوجی موجودگی خطے سے متعلق اسٹریٹجک اہداف کیلئے انتہائی ضروری سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ بحرین میں کسی بھی قسم کی بنیادی سیاسی تبدیلی کا خواہاں نہیں۔ بحرین میں پرامن عوامی احتجاجی تحریک کی حمایت نہ کرنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ واشنگٹن خطے میں شیعہ قوتوں کی طاقت میں اضافے سے خوفزدہ ہے کیونکہ اس طرح اس کے روایتی اتحادی سعودی عرب کو بڑا خطرہ درپیش ہو سکتا ہے۔ اگر بحرین میں جاری عوامی انقلابی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہو جاتی ہے اور شیعہ اکثریتی ملک ہونے کے ناطے وہاں ایک مضبوط شیعہ حکومت برسراقتدار آ جاتی ہے تو یہ امر سعودی عرب کیلئے بہت زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، بحرین خطے میں سب سے بڑے پیمانے پر امریکی مصنوعات درآمد کرنے والا ملک تصور کیا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2011ء میں بحرین میں امریکی درآمدات کی کل قیمت 668 ملین ڈالر تھی جو بحرین کی آبادی کے لحاظ سے بہت بڑی رقم ہے۔ چنانچہ امریکی حکومت اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے بحرین میں اپنی پٹھو مستبد اور آمر حکومت کی حمایت کر رہی ہے۔

6۔ سعودی حکومت کے ہاتھوں بیگناہ یمنی شہریوں کے قتل عام پر مجرمانہ خاموشی
صدر براک اوباما کے دور حکومت میں سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کی مدد سے اپنے جنوبی ہمسایہ ملک یمن پر فوجی چڑھائی کر دی۔ یمن خطے کے فقیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس سعودی جارحیت کے نتیجے میں اب تک ہزاروں بیگناہ یمنی شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ دوسری طرف اس حملے کے نتیجے میں یمنی عوام شدید غربت اور افلاس کا شکار ہو چکے ہیں۔ یمن پہلے سے ہی انتہائی پسماندہ ملک تھا اور اب جنگ کے باعث اسپتالوں اور اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سعودی حکومت نے یمن کے انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جب یمنی فوج اور الحوثی قبائل کے جوابی حملے میں متحدہ عرب امارات کے 45 فوجی ہلاک ہوئے تو سابق امریکی صدر براک اوباما نے ابوظہبی کے ولیعہد اور متحدہ عرب امارات کے نائب کمانڈر محمد بن زائد النہیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور فوجیوں کی ہلاکت پر اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام متحدہ عرب امارات اور ہلاک شدہ فوجیوں کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی رکھتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہلاک شدہ فوجی یمن کی سرزمین میں قابض قوت کے طور پر موجود تھے اور اس ملک پر جارحیت کی حالت میں دفاع کرنے ولی قوتوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔

7۔ نائن الیون حادثے میں جاں بحق افراد اور ان کے اہلخانہ کے جذبات سے چشم پوشی
جب امریکہ کے قانون ساز اداروں میں نائن الیون حادثے میں ملوث ہونے کے ناطے سعودی حکومت کو قانونی سزا دینے کی باتیں ہونے لگیں تو سابق امریکی صدر براک اوباما نے خبردار کیا کہ وہ ایسے ہر قانون کو ویٹو کر دیں گے جس میں سعودی حکومت کے خلاف کسی قسم کا اقدام اٹھایا گیا ہو۔ لیکن اس کے باوجود امریکی کانگریس نے نائن الیون حادثے کا شکار افراد کے اہلخانہ کو یہ حق دیا کہ وہ سعودی حکومت کے خلاف خسارے کا مقدمہ درج کر سکتے ہیں۔ براک اوباما نے کانگریس کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن اراکین کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومتوں کے خلاف ایسا اقدام دنیا کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے خلاف امریکی کاروائیوں میں خلل کا باعث بن سکتا ہے۔

8۔ امریکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھوں بیگناہ انسانوں کا قتل عام
معروف امریکی سیاسی ماہر اور سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کی اہم ترین شخصیت اسٹیفن لینڈمین کے بقول شام میں جاری جنگ صدر بشار اسد کی جنگ نہیں بلکہ امریکہ اسے کنٹرول کر رہا ہے لہذا شام میں جاری خانہ جنگی وہاں کے اندرونی مسائل کے باعث شروع نہیں ہوئی بلکہ وائٹ ہاوس نے اپنے آلہ کار عناصر کی مدد سے شام میں بدامنی پھیلائی ہے اور شام میں ہونے والے سارے خون خرابے کا اصلی ذمہ دار امریکہ ہے۔ صدر براک اوباما کی سربراہی میں امریکی حکومت نے ہمیشہ شام میں سرگرم حکومت مخالف مسلح دہشت گرد گروہوں کی مدد کی ہے۔ امریکہ کے حمایت یافتہ گروہوں میں داعش بھی شامل ہے۔ صدر براک اوباما کی کوشش تھی کہ معتدل گروہوں کا بہانہ بنا کر دہشت گرد مسلح گروہوں کو نابود ہونے سے بچایا جائے اور اس طرح شام حکومت کو خانہ جنگی میں الجھائے رکھے۔

صدر براک اوباما نے اپنا دور صدارت ختم ہونے سے دو ہفتے قبل الوداعی تقریر میں اعلان کیا کہ 2017ء میں دہشت گرد گروہ داعش کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے اپنی اس پیشن گوئی کی کوئی دلیل یا وضاحت پیش نہ کی۔ شام کے اخبار "الثورہ" کے مطابق صدر براک اوباما کے اس اعلان کے ساتھ ہی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک آڈیو ٹیپ جاری کی جس میں سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور شام میں سرگرم متعدد دہشت گرد گروہوں کے سربراہان کے درمیان ملاقات کا راز فاش کیا گیا تھا۔ اس ٹیپ میں کہا گیا کہ امریکہ نے داعش کی بنیادیں رکھیں اور اس اقدام کا مقصد شام میں صدر بشار اسد کی حکومت گرانا تھا۔ الثورہ اس بارے میں مزید لکھتا ہے: "اگر براک اوباما کی جانب سے 2017ء میں داعش کی نابودی سے متعلق یقین دہانی اس بنیاد پر ہے کہ جو کوئی کسی دہشت گرد گروہ کو تشکیل دیتا ہے جب بھی چاہے اسے نابود بھی کر سکتا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ امریکی عوام سمیت پوری دنیا سے جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد سابق سوویت یونین کا مقابلہ کرنا تھا لیکن اس کے بعد القاعدہ کو ختم کرنے میں ناکام رہا اور آج تک القاعدہ کی کئی ذیلی شاخیں دنیا کے مختلف حصوں میں سرگرم عمل ہیں"۔

9۔ گوآنٹانامو جیل جہاں عدالتی کاروائی کے بغیر افراد کو قید میں رکھا جا رہا ہے
امریکہ نے 2002ء میں گوآنٹانامو جیل کی بنیاد رکھی جس کا مقصد اس جیل میں افغانستان جنگ کے قیدیوں کو رکھنا تھا۔ اس کے بعد عراق جنگ کے قیدی بھی اسی جیل میں رکھے گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس جیل میں استعمال ہونے والے غیرانسانی ہتھکنڈے فاش ہوتے گئے جن میں مصنوعی طریقے سے غرق کرنا (واٹر بورڈنگ) اور حواس خمسہ کا مکمل خاتمہ شامل تھا۔ ٹارچر کے ان غیرمعمولی ہتھکنڈوں کے فاش ہونے کے بعد امریکی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کے دعووں کی حقیقت کا بھانڈا پھوٹ گیا اور عالمی میڈیا میں اس پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے۔ گوآنٹانامو جیل میں انجام پانے والے یہ اقدامات امریکی تاریخ کی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں قرار دی گئیں۔ لہذا اس عالمی رائے عامہ کے تناظر میں سابق امریکی صدر براک اوباما نے 2009ء میں اپنی صدارتی الیکشن مہم کے دوران امریکی عوام سے وعدہ کیا کہ وہ ایک سال کیلئے اس جیل کو بند کر دیں گے۔ اس کے بعد 22 جنوری 2009ء کو وائٹ ہاوس نے اعلان کیا کہ اگلے 120 دن تک گوآنٹانامو جیل بند کر دینے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے لیکن نومبر 2010ء سے لے کر اب تک اس جیل میں 173 قیدی موجود ہیں اور ان میں سے اکثریت ایسے قیدیوں کی ہے جنہیں دنیا کی کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ جب براک اوباما نے امریکہ کے صدر کے طور پر عہدہ سنبھالا تو گوآنٹانامو جیل میں 242 قیدی تھے جن میں سے 190 قیدیوں کو 42 دیگر ممالک کی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے بغیر کسی فرد جرم عائد کئے اور عدالتی کاروائی چلائے بڑے پیمانے پر افراد کو گوآنٹانامو جیل میں رکھنے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جیل کو بند کر دے۔ یاد رہے امریکی حکومت نے گوآنٹانامو جیل میں دنیا کے مختلف ممالک سے افراد کو صرف اس بنیاد پر قید کر رکھا اور انہیں دن رات ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا گمان ہے۔ اس جیل میں بدترین ٹارچر کیا جاتا ہے جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق متعدد قیدی ٹارچر کے دوران ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ سابق امریکی صدر براک اوباما اپنے 8 سالہ مدت صدارت میں اس جیل کو بند کرنے میں ناکام رہے اور اس طرح انہوں نے صدر بننے سے پہلے صدارتی مہم کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں کی کھلی خلاف ورزی کی۔

مذکورہ بالا نکات کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ تاریخ میں براک اوباما کا نام اچھے انداز میں ذکر نہیں کیا جائے گا۔ جیسا کہ امریکی تجزیہ کار اور مصنف اسٹیفن لنڈمین نے کہا ہے کہ اوباما حکومت کی جانب سے بحرین کی پرامن عوامی احتجاجی تحریک کے خلاف آل خلیفہ رژیم کے ظالمانہ اقدامات کی حمایت اور وائٹ ہاوس کی جانب سے اپنے پست اہداف کے حصول کیلئے شدت پسندی کو مزید فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے باعث تاریخ میں براک اوباما کا چہرہ جرج بش سے بھی زیادہ شدت پسندانہ اور منحوس دکھایا جائے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ براک اوباما ایک جنگی مجرم اور بہت بڑا جھوٹا شخص ہے۔
خبر کا کوڈ : 607335
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب