0
Friday 10 Feb 2017 15:44

صدور انقلاب کی حقیقت

صدور انقلاب کی حقیقت
تحریر: ثاقب اکبر

1979ء میں ایران میں جب اسلامی انقلاب رونما ہوا تو اس کے ساتھ ہی ’’صدور انقلاب‘‘ کی صدا سنائی دی جانے لگی۔ ’’صدور‘‘ سے مراد برآمد یا ایکسپورٹ ہے۔ صادر کرنا یعنی برآمد کرنا۔ دنیا میں یہ شور اٹھا کہ ایرانی قیادت اپنا انقلاب پوری دنیا میں ایکسپورٹ کرنا چاہتی ہے۔ یہ کہہ کر خاص طور پر ایران کے ہمسایہ ملکوں کو خوفزدہ کیا جانے لگا۔ عراق کی صدام حکومت نے 1980ء میں جب عالمی طاقتوں کے ایماء پر ایران پر جنگ مسلط کی تو اس کے ہمسایہ عرب ممالک نے اس انقلاب کے صدور ہی کو روکنے کے جذبے سے صدام کی بھرپور مدد کی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعاً ایرانی قیادت اپنا انقلاب برآمد کرنا چاہتی تھی اور برآمد کرنا چاہتی ہے۔ اگر اس سوال کا جواب ہاں ہے تو پھر اس برآمد کرنے سے کیا مراد ہے۔؟ ایران کے دستور کی شق نمبر 154 میں کہا گیا ہے: ’’اسلامی جمہوریہ ایران تمام انسانی معاشرے میں انسانی سعادت اور کامیابی کو اپنی آرزو سمجھتا ہے نیز استقلال، آزادی اور حق و عدالت پر مبنی حکومت کو ساری دنیا کے انسانوں کا حق سمجھتا ہے۔ اس لئے دیگر قوموں کے داخلی امور میں ہر طرح کی مداخلت سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے محروم و مستضعف لوگوں کے مستکبرین کے مقابلے میں حصول حق کی جدوجہد کی، دنیا کے ہر علاقے میں حمایت کرتا ہے۔"

امام خمینی نے اپنے اسی نظریئے کو کئی مقامات پر بیان کیا ہے۔ انہوں نے ایک جگہ فرمایا: ’’اسلام مستضعفین اور کمزور کر دیئے جانے والے انسانوں کی نجات کے لیے آیا ہے۔" انھوں نے کہا: ’’اسلام اسی مقصد کے لئے آیا ہے کہ زمین پر مستکبرین نہ رہیں اور وہ مستضعفین کے وسائل کا استحصال نہ کریں۔" ایک اور موقع پرانہوں نے کہا: ’’میں صراحت سے اعلان کرتا ہوں کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے تمام تر وجود کے ساتھ ساری دنیا میں مسلمانوں کی اسلامی حیثیت کے احیاء کے لئے اپنے وسائل صرف کرے گا اور کوئی وجہ نہیں کہ دنیا کے مسلمانوں کو دنیا میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے دعوت نہ دے۔ نیز انہیں اس امر کی دعوت نہ دے کہ وہ طاقت، سرمایہ اور فریب سے کام لینے والی قوتوں کا راستہ روکیں۔" جیسا کہ ایران کے آئین کی مذکورہ بالا شق میں وضاحت کی گئی ہے کہ صدور انقلاب سے مراد طاقت کے ذریعے اور قوموں کے امور میں مداخلت کے ذریعے سے اپنے مقاصد کا حصول انقلاب اسلامی کا مطمع نظر نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اپنے افکار و نظریات کی تشہیر ہے، تاکہ ستم رسیدہ اور محروم قومیں ظالم و جابر قوتوں کے مقابلے میں اپنے حقوق کے حصول کے لئے بیدار ہوں اور قیام کریں، لیکن چونکہ یہی بات عالمی استبدادی قوتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی کی حیثیت رکھتی تھی، اس لئے انہوں نے جہاں اس انقلاب کو ختم کرنے کے لئے فوجی راستہ اختیار کیا، وہاں وسیع پیمانے پر پراپیگنڈا کیا کہ ایران کی اسلامی قیادت زبردستی اپنا انقلاب دوسری قوموں پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔

اسی پراپیگنڈا کا جواب دیتے ہوئے امام خمینی نے وضاحت کی: ’’یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ہمارا انقلاب ہر جگہ پہنچنا چاہیے، اس سے یہ غلط معنی نہ نکالا جائے کہ ہم کشور کشائی چاہتے ہیں۔ انقلاب کے صدور سے ہماری مراد یہ ہے کہ تمام قومیں بیدار ہوں، تمام حکومتیں بیدار ہوں اور اپنے آپ کو اس مشکل سے نجات دیں، جس میں وہ اس وقت گرفتار ہیں۔" امام خمینی نے ایک اور مقام پر یہ بھی فرمایا: ’’انقلاب کو برآمد کرنا دیگر ممالک کے عوام کی زندگی کے امور میں مداخلت نہیں بلکہ اس معنی میں ہے کہ الٰہی معارف کی پیاسی انسانی فکر کو اس کے سوالات کا جواب دیا جائے۔" امام خمینی کے جانشین اور ایران کے موجودہ روحانی رہبر آیت اللہ خامنہ ای نے بھی صدور انقلاب کی حقیقت کو بارہا اپنا موضوع سخن بنایا ہے۔ انہوں نے ایک موقع پر فرمایا: ’’اسلامی انقلاب کو برآمد کرنے کی فکر جو ایک عوامی فکر ہے اور اسے ہمارے بزرگوار امام نے ایران میں تخلیق کیا ہے، ایکسپورٹ ہوچکی ہے۔ ہم نے بارہا کہا ہے کہ انقلاب و اسلام کے مفاہیم بہار کے پھولوں کی خوشبو کی طرح ہیں، جس کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، یہ خوشبو ہر جگہ جا پہنچتی ہے، یہ نسیم روح افزا اور صبائے حیات بخش ہے، جو ہر جگہ خود بخود جا پہنچتی ہے۔ ان لوگوں نے جنجال برپا کر رکھا ہے، شور شرابا بپا کیا ہوا ہے، لیکن یہ انقلاب جا پہنچا ہے، صادر ہوگیا ہے اور اب آپ اسے مختلف ممالک میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔"

ایک اور مقام پر ایران کے روحانی پیشوا نے کہا: ’’امام خمینی اپنی تحریک کو عالمی سمجھتے تھے اور اس انقلاب کو تمام مسلمان اقوام کا انقلاب جانتے تھے، بلکہ اسے غیر مسلمانوں کا بھی کہہ کر اس کا تعارف کرواتے تھے۔ امام کو یہ کہنے سے کوئی باک نہ تھا، لیکن اس سے مراد دیگر ممالک میں مداخلت نہیں اور ہم ایسا نہیں کرتے۔ انقلاب کا صادر کیا جانا ماضی کی استعماری قوتوں کی روش سے مختلف روش کا حامل ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اس رحمانی مظہر کی خوشبو پوری دنیا میں پھیل جائے، قومیں اپنی ذمے داری کو پہچان لیں، مسلمان اقوام جان لیں کہ ان کی حیثیت کیا ہے اور وہ آج کہاں کھڑی ہیں۔" ایک اور مقام پر آیت اللہ خامنہ ای نے وضاحت کی: ’’انقلاب کوئی ایسی چیز نہیں جسے سیاسی ذرائع سے برآمد کیا جائے یا فوجی اور سکیورٹی کے ذرائع سے آگے بڑھایا جائے، ایسا کرنا غلط ہے، ہم نے شروع ہی سے یہ راستہ بند کر رکھا ہے۔"

البتہ اب اس انقلاب کی کامیابی کو ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے، انقلاب کی قیادت اور اسلامی جمہوریہ ایران کا طرز عمل صدور انقلاب کے حوالے سے بھی پوری دنیا میں آشکار ہوچکا ہے۔ آج ساری استعماری و صہیونی قوتیں اس انقلاب کے مقابلے میں اکٹھی ہیں۔ آمریتیں اور ملوکیتیں عالمی استعمار کے سہارے اپنی بقا کے راستے تلاش کر رہی ہیں، جھوٹ اور منافقت کے ذریعے ایران کے چہرے کو بگاڑ کر پیش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ گویا سارے کا سارا باطل آج بھی پہلے روز کی طرح سے اس انقلاب سے لرزہ براندام ہے اور ایران کی اسلامی قیادت پہلے روز کی طرح اپنے مقاصد پر پورے جذبے اور شعور سے گامزن ہے۔ ایران کے عوام اپنی قیادت کی پشت پر کھڑے ہیں اور دنیا کی بہت سی قومیں آج کھلے عام اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کو اپنے لئے ایک سرمایہ سمجھتی ہیں اور بعض قومیں جو زیر زمین حقائق کا اعتراف کرتی ہیں، اس انتظار میں ہیں کہ قلعۂ باطل کی لرزتی دیواریں زمین بوس ہو جائیں اور وہ نعرہ مستانہ لگاتے ہوئے اس انقلاب کے ساتھ جا کھڑی ہوں۔
خبر کا کوڈ : 608204
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب