0
Monday 6 Mar 2017 13:24

تیزی سے گوشہ نشین ہوتا امریکہ اور خطے پر اس کے اثرات

تیزی سے گوشہ نشین ہوتا امریکہ اور خطے پر اس کے اثرات
تحریر: سعداللہ زارعی

اس بات کا قوی امکان پایا جاتا ہے کہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ مزید گوشہ نشینی کا شکار ہوتا جائے گا۔ اس گوشہ نشینی کے زیادہ تر اثرات مشرق وسطی خطے میں ظاہر ہوں گے کیونکہ گذشتہ چند عشروں کے دوران یہ خطہ امریکی مداخلت کا مرکز رہا ہے۔ اس گوشہ نشینی کی علامات، دلائل اور اثرات کے بارے میں درج ذیل نکات اہم ہیں:

1۔ سابق امریکی صدر جارج بش کی دوسری صدارتی مدت کے آخری سال امریکہ نے رسمی طور پر مشرق وسطی خطے میں فوجی پالیسی ترک کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ 2005ء یعنی جارج بش کی دوسری صدارتی مدت کے درمیان امریکی حکومت اس نتیجے تک پہنچ چکی تھی کہ اسلامی ممالک میں بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت ایک بڑی غلطی تھی کیونکہ مسلمان پہلے سے ہی مغربی کی تسلط پسندانہ اور جاہ طلب پالیسیوں سے شدید متنفر ہیں۔ لہذا امریکہ نے اسلامی ممالک میں براہ راست فوجی مداخلت کی پالیسی ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فیصلے کے اثرات امریکہ کی جانب سے لیبیا کے خلاف نیٹو کی فوجی کاروائی میں عدم مشارکت، شام پر براہ راست فوجی حملہ نہ کرنے کا فیصلہ اور یمن میں فوجی مداخلت نہ کرنے کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ اگرچہ امریکہ ان تمام ممالک میں جاری جنگ اور بدامنی میں دہشت گرد عناصر اور جارح قوتوں کی حمایت کے باعث ان کے مجرمانہ اقدامات میں برابر کا شریک ہے۔

سابق صدر براک اوباما کے 8 سالہ دوران صدارت میں بھی امریکہ کی فوجی و سکیورٹی پالیسیاں اسی بنیاد پر استوار تھیں۔ دوسرے الفاظ میں صدر براک اوباما نے گذشتہ صدر جارج بش کی آخری دنوں میں اپنائی جانے والی پالیسیوں کو ہی مزید آگے بڑھایا۔ چونکہ گذشتہ چند سالوں کے دوران خطے میں مداخلت سے متعلق امریکی تجربات میں زیادہ فرق نہیں آیا لہذا یہ کہنا درست ہو گا کہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت میں بھی سابقہ پالیسی جاری رہے گی۔ امریکہ کی مسلح افواج جو افغانستان، پاکستان اور عراق میں شکست سے روبرو ہونے سے پہلے اپنی فوجی شان و شوکت پر بہت زور دیتی تھیں اب خاص طور پر ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی نیوی کے مقابلے میں انتہائی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ حتی بعض موارد میں جب امریکی مسلح افواج کی شان و شوکت بھی خطرے میں پڑ چکی تھی انہوں نے کوئی خاص ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت میں امریکہ کی جانب سے فوجی طاقت اور اثرورسوخ میں اضافے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں امریکی طاقت اور اثرورسوخ میں اضافہ نہیں ہوا اور خطے کے امور سے متعلق امریکی سوچ میں بھی کوئی فرق نہیں آیا۔ ممکن ہے ڈونلڈ ٹرمپ بھی سابق صدر براک اوباما کی طرح بعض اوقات "میز پر موجود آپشنز" کی بات کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے پاس کوئی آپشنز موجود ہی نہیں ہیں۔

2۔ امریکہ مستقبل قریب میں اندرونی سطح پر بہت سے مسائل اور مشکلات سے روبرو ہونے والا ہے جیسا کہ موجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے سے پہلے بھی امریکہ بہت سی مشکلات اور بحرانوں کا شکار تھا۔ فرگوسن جیسے شہر اور ریاستوں میں امریکی پولیس کی جانب سے سیاہ فام شہریوں سے انتہائی نامناسب رویے کے باعث شدید سکیورٹی مشکلات پیدا ہو چکی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاہ فام شہریوں، ہسپانوی نژاد شہریوں، مہاجرین اور مسلمانوں کے خلاف سخت موقف کا اظہار کر کے صورتحال مزید خراب کر دی جس کے نتیجے میں امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں عوام اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں شدت آ چکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اینٹی امیگریشن پالیسیاں اپنائے جانے کے باعث امریکی مصنوعات جو گذشتہ عشرے کے دوران پیداوار اور اعتبار میں کمی کا شکار تھیں مزید مشکلات سے روبرو ہو گئیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں موجود تقریباً 500 صنعتی مراکز میں سے 40 فیصد مراکز ایسے ہیں جو مہاجرین خاص طور پر میکسیکو کے باشندوں نے تعمیر کئے ہیں اور وہی چلا رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مہاجرین کے خلاف سخت موقف اپنائے جانے کا نقصان امریکی مصنوعات کو ہو گا۔ لہذا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی مدت صدارت میں امریکہ کی اندرونی مشکلات اور مسائل میں مزید شدت آئے گی۔

3۔ مشرق وسطی خطے میں امریکی مداخلت اور اثرورسوخ میں کمی کے نتیجے میں خطے کے بعض ممالک کا کردار بھی متاثر ہو گا۔ گذشتہ چند عشروں کے دوران امریکہ نے مشرق وسطی میں اپنی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اسرائیل، سعودی عرب اور ترکی جیسے ممالک کی مدد حاصل کی ہے۔ اس عرصے میں امریکہ نے ان ممالک کو اپنے اتحادی کے طور پر ظاہر کیا ہے اور خود پیچھے رہ کر ان کی بھرپور حمایت کی ہے۔ خطے میں امریکی مداخلت میں کمی اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو شدید مشکلات سے دوچار کر دے گی۔ مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کم ہونے کا نتیجہ غاصب صہیونی رژیم کا وجود خطرے میں پڑنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرق وسطی خطے میں امریکی مداخلت اور اثرورسوخ میں کمی کا ایک اہم نتیجہ اسرائیل کی طاقت میں کمی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔

امریکہ کی جانب سے گوشہ نشینی پر مبنی پالیسی اختیار کرنے کا اثر اسرائیل کے علاوہ سعودی عرب پر بھی پڑے گا۔ سب بخوبی آگاہ ہیں کہ سعودی عرب کی وہابی – سعودی رژیم کی بنیاد ہی برطانیہ اور اس کے بعد امریکہ کی جانب سے بھرپور سیاسی حمایت اور مدد کے ذریعے پڑی ہے اور اسی حمایت کے نتیجے میں آل سعود رژیم آج تک باقی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے ہمیشہ تمام عرب ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو اپنا محور و مرکز بنائیں اور اس طرح عرب دنیا کو سعودی عرب کی مرکزیت میں منظم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اب جب امریکہ نے خود کو گوشہ نشین کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو سعودی حکومت کا حقیقی اثرورسوخ اور اصلی سیاسی طاقت کھل کر سامنے آئے گی۔ کچھ عرصہ پہلے بعض سیاسی ماہرین یہ پیشین گوئی کر چکے تھے کہ امریکہ کی جانب سے گوشہ نشینی کی سیاست اپنانے کے بعد سعودی حکومت خطے میں نئی جنگیں شروع کر کے جدید فوجی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کرے گی تاکہ اس طرح اپنی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کو مزید کمزور ہونے سے بچا سکے۔ آل سعود رژیم کے سامنے صرف دو راستے ہیں؛ ایک تو یہ کہ امریکہ کی غیرحاضری میں خود اس قدر طاقتور ہو کہ خطے میں نئی طاقت کے طور پر کردار ادا کر سکے، جو ایک ناممکن امر ہے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ امریکہ کی جگہ کوئی نئی غیرمغربی طاقت متبادل کے طور پر تلاش کرے اور اس کی مدد سے خطے میں اپنا سابقہ اثرورسوخ باقی رکھے۔ یہ نئی طاقت روس کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتی۔

اگر سعودی عرب اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ اس کے پاس روس سے اسٹریٹجک تعلقات استوار کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہا تو اسے مشرق وسطی خطے اور روس کی جنوبی سرحدوں سے ملحق علاقوں میں سرگرم شدت پسند وہابی تکفیری دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور مدد ترک کرنا ہو گی۔ اگر سعودی حکومت ایسا اقدام انجام دیتی ہے تو اس کا منطقی نتیجہ سعودی عرب کے اثرورسوخ میں کمی کی صورت میں ظاہر ہو گا جبکہ اس بات کا قوی امکان بھی موجود ہے کہ خود سعودی عرب کے اندر موجود شدت پسند عناصر حکومت کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف ایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات استوار ہو چکے ہیں جس کے باعث روس سعودی عرب کو ایران پر ترجیح نہیں دے گا بلکہ سعودی حکومت پر زور ڈالے گا کہ وہ ایران مخالف پالیسیوں اور سرگرمیوں پر نظرثانی کرے اور یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جسے قبول کرنا سعودی حکومت کی نظر میں خطے میں اپنی طاقت اور اثرورسوخ کا فاتحہ پڑھنے کے مترادف ہے۔ لہذا سعودی عرب کی جانب سے امریکہ کی جگہ روس کو نئی حامی طاقت کے طور پر اپنانا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

دوسری طرف خطے کی بدلتی صورتحال میں ترکی بھی سعودی عرب کی طرح انتہائی پیچیدہ صورتحال سے روبرو ہے۔ امریکہ کی جانب سے گوشہ نشینی اختیار کئے جانے کے بعد ترکی نیٹو سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اس وقت بھی نیٹو ہیڈکوارٹرز یعنی برسلز کے ساتھ ترکی کے تعلقات کشیدہ ہیں اور ترک حکومت نے کچھ عرصہ قبل ملک میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت سے متعلق یورپی رویے کو دشمنانہ قرار دیا ہے۔ لہذا ترکی کے پاس بھی صرف دو ہی راستے بچے ہیں؛ ایک گوشہ نشینی اور دوسرا اپنا حامی بلاک تبدیل کرنا۔ ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ رجب طیب اردگان دوسرا راستہ اختیار کریں گے۔ ترکی کی جانب سے روس کے قریب آنا اگرچہ ظاہری حد تک ہی کیوں نہ ہو لیکن شام کے مسئلے پر اس کے دور رس نتائج ظاہر ہوں گے۔ روس ترکی سے نیٹو کو ترک کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس کا مقصد نیٹو کی خاص طور پر مشرقی یورپ میں طاقت پر کاری ضرب لگانا ہے۔ چونکہ یہ ہدف روس کیلئے انتہائی اہم ہے لہذا وہ اس کیلئے ترکی کو مراعات دینے پر بھی تیار ہے جیسا کہ گذشتہ چند ماہ میں ہم نے دیکھا کہ شام کے اہم شہر الباب پر ترکی کی حامی قوتوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ روس ترکی کو اہم مراعات دینے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

اگرچہ ترک صدر رجب طیب اردگان گاہے بگاہے رجز خوانی کرتے رہتے ہیں لیکن مسئلہ شام میں ترکی اور روس کے درمیان تعاون کا حتمی نتیجہ شام میں ترکی کی فوجی مداخلت اور اثرورسوخ میں کمی کی صورت میں ظاہر ہو گا کیونکہ روس شام میں جاری بحران کو موجودہ صدر بشار اسد کو اقتدار میں رہتے ہوئے سیاسی بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانے کا مصمم ارادہ کر چکا ہے۔ یہ اسٹریٹجی ترکی کو اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ شام میں اپنی فوجی پوزیشن مضبوط بنا سکے۔ دوسری طرف شام کی مسلح افواج اور اسلامی مزاحمتی بلاک بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھیں گے اور شام کی خودارادیت اور قومی سلامتی پر ہلکی سی آنچ آنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔

لہذا خطے میں امریکی کردار میں کمی کا نتیجہ براہ راست طور پر اس کے اتحادی ممالک کی طاقت اور اثرورسوخ میں کمی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ خطے میں امریکہ کے روایتی اتحادی ممالک جیسے اسرائیل، سعودی عرب اور ترکی شدید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے جبکہ دوسری طرف روس اور اسلامی مزاحمتی بلاک کی طاقت اور اثرورسوخ میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔
خبر کا کوڈ : 615482
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے