0
Tuesday 7 Mar 2017 00:09

آئندہ عام انتخابات کے تناظر میں سندھ میں نظر آتے ہوئے سیاست کے بدلتے انداز

آئندہ عام انتخابات کے تناظر میں سندھ میں نظر آتے ہوئے سیاست کے بدلتے انداز
رپورٹ: ایس جعفری

سندھ میں سیاست کے بدلتے انداز نظر آنا شروع ہوگئے ہیں، پیپلز پارٹی کی اعلٰی قیادت اندرونی مخالفت کے باوجود سخت ترین مخالفین کو گلے لگاتی نظر آتی ہے، تو دوسری بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور علیحدگی اختیار کرنے والے رہنماؤں میں اندورنی رابطے شروع ہوگئے ہیں، سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے سیاسی ایجنڈے میں بھی انتخابی دنگل کی تیاری سرفہرست نظر آتی ہے، مجلس وحدت مسلمین کی فعالیت کو دیکھتے ہوئے پی پی پی، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی و دیگر جماعتوں نے اس کیساتھ انتخابی سیاسی اتحاد کے حوالے سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر مملکت آصف علی زرداری پاکستان واپس آنے کے بعد تیزی سے غیر فعال ہونے والے سابق سیاستدانوں کو متحرک کرنے میں مصروف ہیں، تو دوسری طرف پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق) اور مسلم لیگ فنکشنل کی کئی وکٹیں گرا دی ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کے دیہی علاقوں میں مسلم لیگ فنکشنل کی مضبوط پوزیشن کو کافی حد تک نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوگئی ہے، جبکہ آصف علی زرداری شہری علاقوں میں پیپلز پارٹی کو مضبوط کرکے مزید نشستیں حاصل کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہیں۔ کراچی اور حیدرآباد میں متحدہ قومی موومنٹ کو درپیش مشکلات اور دھڑے بندیوں سے بھی پیپلز پارٹی بھرپور سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری، آصفہ اور بختاور بھی سیاست میں فعال ہیں، بے نظیر بھٹو کی دونوں صاحبزادیوں کی رائے کو پیپلز پارٹی میں اہمیت حاصل ہے، جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ بحیثیت پارٹی چیئرمین وہ کسی بھی اختیار کو استعمال کرنے اور فیصلہ سازی کی قوت رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں سندھ کے نوجوانوں خصوصاً نوجوان جیالوں میں بھی خاص اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ حال ہی میں پیپلز پارٹی کی اسلام آباد میں فوجی عدالتوں پر آل پارٹیز کانفرنس خاص کامیابی حاصل نہ کر سکی اور پارٹی کے اندرونی حلقوں نے عجلت میں اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، ایم کیو ایم لندن اور علیحدگی اختیار کرکے پاک سرزمین پارٹی بنانے والے رہنماؤں کو ہمدردوں کی جانب سے مشورے دیئے جا رہے ہیں کہ اچھے طرز سیاست، اختلافی سیاست کو برداشت کرنے کے ساتھ دیگر کمزوریوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، کئی نجی محفلوں اور کانفرنسز میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں میں ملاقاتیں اور پیغامات کے تبادلے کے حوالے سے بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ منظر عام سے دور رہنے والے ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما چاہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں اردو بولنے والوں کی نمائندگی کے اس خلاء کو جلد پُر کیا جائے، ایم کیو ایم کے بانی رکن سلیم شہزاد کے پچیس سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے ملک آکر عدالتوں کا سامنا کرنے کے عمل پر شاید حالات کو پرکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سندھ میں دیگر سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتیں، مجلس وحدت مسلمین، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، تحریک انصاف، مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ (ن)، پاکستان سنی تحریک، پاکستان عوامی تحریک، جسقم، جسمم، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتیں بھی اپنی حکمت عملی طے کرتی نظر آتی ہیں۔ مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کی بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنسز میں سیاسی امور، نئے اتحاد اور انتخابی حکمت عملی پر زور دیا جا رہا ہے۔ گذشتہ دنوں پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے بھی سندھ کا دورہ کیا ہے، جبکہ آئندہ چند دنوں میں وزیراعظم نواز شریف بھی سندھ کا دورہ کرینگے، جس میں وہ اندرون سندھ کئی فلاحی و ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرینگے، جسے (ن) لیگ کی انتخابی مہم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

شیعہ سیاسی و مذہبی جماعت مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے بھی گذشتہ ماہ اٹھارہ فروری کو کراچی میں کامیاب آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں تقریباً تمام چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے شرکت کی، جبکہ سانحہ سیہون کے چند روز بعد درگاہ شریف حضرت لعل شہباز قلندرؒ میں تحفظ مزارات اولیاء اللہ کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا گیا، اس کے علاوہ بھی ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے اندرون سندھ کئی مقامات پر اجتماعات کا انعقاد کیا گیا، جبکہ مستقبل قریب میں بھی سندھ بھر میں اجتماعات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، کراچی سمیت سندھ میں ایم ڈبلیو ایم کی سرگرمیوں کو سیاسی و مذہبی جماعتیں آئندہ عام انتخابات کے تناظر میں عوامی و انتخابی رابطہ مہم کے طور پر دیکھ رہی ہیں، اسی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان تحریک انصاف و دیگر جماعتوں نے ایم ڈبلیو ایم کیساتھ انتخابی سیاسی اتحاد کے حوالے سے رابطے شروع کر دیئے ہیں، اس حوالے سے ایم ڈبلیو ایم بھی اپنی سیاسی حکمت عملی مرتب کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ عام انتخابات میں ایم ڈبلیو ایم کسی ایک جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد کے بجائے الگ الگ حلقوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ انتخابی سیاسی اتحاد کرے گی، سیاسی حلقے اس حوالے سے کراچی سمیت سندھ بھر میں ایم ڈبلیو ایم اور پیپلز پارٹی کو ایک دوسرے کے کافی قریب محسوس کر رہے ہیں۔ نئے اتحاد کیا ہوں گے، سندھ میں سیاسی بازی کون کہاں کتنی مارے گا، ان سوالوں کا جواب آنے والے سیاسی اتحاد اور حالات پر منحصر ہے۔
خبر کا کوڈ : 615654
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب