0
Sunday 19 Mar 2017 00:02

یمن کے خلاف سعودی جارحیت کا دوسرا سال، امید کی بحالی میں ناکامی

یمن کے خلاف سعودی جارحیت کا دوسرا سال، امید کی بحالی میں ناکامی
تحریر: سید علی نجات

سعودی عرب نے 26 مارچ 2015ء کے دن یمن کے مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حمایت کے بہانے اس ملک کے خلاف کھلی جارحیت کا آغاز کر ڈالا۔ اس فوجی کاروائی کو ابتدائی مہینے میں "فیصلہ کن طوفان" کا نام دیا گیا جبکہ اس کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے "امید کی بحالی" رکھ دیا گیا۔ متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، اردن، سوڈان اور مراکش اس جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دے رہے ہیں اور سعودی سربراہی میں تشکیل پانے والے فوجی اتحاد میں شامل ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے انجام پانے والے ہوائی حملوں میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں کے قتل عام کے باوجود ترکی، اسرائیل اور امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے اس جارحیت کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور اسے یمن کے نام نہاد قانونی صدر کا دفاع قرار دیتے ہوئے قانونی قرار دیا ہے اور یمن میں انصاراللہ نامی عوامی انقلابی گروہ کے خاتمے پر تاکید کی ہے۔

سعودی عرب کی سربراہی میں یمن مخالف اتحاد نے اس جارحیت کا مقصد یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی کو اقتدار میں واپس لوٹانا، یمن کے سیاسی مستقبل میں علی عبداللہ صالح کے ہر قسم کے کردار کی مخالفت اور اسے اقتدار سے دور رکھنا اور انصاراللہ یمن کی جانب سے ہتھیار پھینک کر خود کو ان کے حوالے کر دینا بیان کیا ہے۔ لیکن یمن کے خلاف سعودی جارحیت کے حقیقی اہداف اور وجوہات کو سمجھنے کیلئے تین مختلف سطحوں یعنی اندرونی، علاقائی اور بین الاقوامی عوامل کو مدنظر قرار دینے کے ساتھ ساتھ دیگر اسباب جیسے سعودی عرب کی جانب سے عوام کی توجہ اندرونی مشکلات سے ہٹانے کی کوشش، اپنی زمینی وسعت میں اضافے کی لالچ، یمن میں رونما ہونے والی اسلامی بیداری کی تحریک کو خطے میں پھیلنے سے روکنا، یمن اور سعودی عرب کی شیعہ آبادیوں کو آپس میں تعلق قائم کرنے سے روکنا، یمن میں شیعہ قوتوں کو برسراقتدار آنے سے روکنا، انصاراللہ یمن تحریک کو محدود کرنا، اپنے پٹھو عناصر کو یمن میں برسراقتدار لانے کی کوشش، یمن میں جمہوریت کے فروغ کو روکنا، خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا، ایران فوبیا پر مبنی پالیسیز کا اجراء، اسلامی مزاحمتی بلاک کا مقابلہ کرنا اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی شان و شوکت میں اضافہ کرنا وغیرہ پر توجہ دینا ضروری ہے۔

سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی جانب سے یمن کے خلاف دو سالہ جارحیت کے نتائج اور اثرات کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اتحاد مذکورہ بالا اہداف میں سے کسی ایک کے حصول میں بھی ناکام رہا ہے۔ بلکہ برعکس اس جارحیت کے منفی نتائج ظاہر ہوئے ہیں، جیسے مالی بحران، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، اندرونی اختلافات کی شدت میں اضافہ، فوجی شان و شوکت میں کمی، اپنی سرحدوں کے قریب دہشت گرد گروہوں کے اثرورسوخ میں اضافہ، حکومت مخالف اعتراضات میں اضافہ، یمنی عوام کے دلوں میں سعودی حکومت کے خلاف نفرت میں اضافہ اور بین الاقوامی سطح پر اعتماد اور وقار میں کمی وغیرہ۔ سعودی عرب کی جانب سے امید واپس لوٹانے میں ناکامی اور مطلوبہ اہداف حاصل نہ کر پانے پر سعودی سربراہی میں عرب اتحاد نے یمن کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانا شروع کر دیا اور مغربی ایشیا کے اس غریب ترین عرب ملک کا انفرااسٹرکچر تباہ کر ڈالا۔ لہذا ایئرپورٹس، اسپتال اور صحت کے مراکز، رہائشی عمارتیں، پل، سڑکیں، پانی اور بجلی سے مربوط ادارے، مالی ادارے اور انصاراللہ یمن اور علی عبداللہ صالح کے حامیوں کی اکثریت والے علاقے جو یمن کے شمال مغربی اور مغربی حصوں میں واقع ہیں، سب سے زیادہ سعودی اتحاد کے ہوائی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

اقتصادی ماہرین نے اعلان کیا ہے کہ سعودی جارحیت کے نتیجے میں یمن کو اب تک 50 ارب ڈالر کا خسارہ ہو چکا ہے۔ اکتوبر 2016ء میں شائع ہونے والی ورلڈ بینک، اقوام متحدہ، اسلامی ترقیاتی بینک اور یورپی یونین کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ میں اب تک اس ملک کا بہت بڑا نقصان ہو چکا ہے۔ 7 ارب ڈالر یمن کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 7 ارب ڈالر کا نقصان یمن کی مصنوعات اور اقتصادی مراکز کو پہنچا ہے جن کی تعمیر نو کیلئے کئی سال درکار ہوں گے۔ اگرچہ سعودی اتحاد نے یمن کے خلاف اپنی جارحیت کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ صرف حوثی جنگجووں، عوامی کمیٹیز اور ان کے اتحادیوں کو نشانہ بنائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب تک بڑی تعداد میں بیگناہ بچے، خواتین اور بوڑھے سعودی ہوائی حملوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ گذشتہ دو سال سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن کا ہوائی، سمندری اور زمینی محاصرہ کر رکھا ہے۔ دو سال کی جارحیت میں اب تک 12 ہزار افراد قتل ہو چکے ہیں، ہزاروں افراد زخمی جبکہ یمن کی کل آبادی 26 ملین میں سے 15 ملین افراد غذائی قلت سے روبرو ہیں۔ اسی طرح ہیومن رائٹس واچ اور دیگر بین الاقوامی قانونی اداروں جیسے ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈر کے مطابق یمن کے خلاف انجام پانے والے سعودی اقدامات 2015ء کے سب سے بڑے جنگی جرائم قرار دیئے گئے ہیں۔

سعودی حکام کا خیال تھا کہ وہ یمن کے خلاف فوجی اتحاد تشکیل دے کر ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں پورے یمن پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن یمن آرمی، انصاراللہ یمن اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے شدید مزاحمت اور ثابت قدمی کے باعث سعودی عرب اس وقت یمن کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔ دو سال گزر جانے کے بعد بھی سعودی عرب اربوں ڈالر کے اخراجات کے باوجود کوئی کامیابی حاصل نہیں کر پایا اور اس کی جارحیت کا نتیجہ سوائے بیگناہ شہریوں کے قتل عام کے کچھ نہیں نکلا۔ لہذا 2016ء کے اواخر میں سعودی حکام نے یمن مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانا شروع کر دیا تاکہ اس طرح امریکہ کی مدد سے اس دلدل سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کر سکے۔
خبر کا کوڈ : 619549
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب