0
Thursday 23 Mar 2017 14:17

پاک افغان بارڈر کی بندش سے ہونیوالے نقصانات

پاک افغان بارڈر کی بندش سے ہونیوالے نقصانات
رپورٹ: ایس علی حیدر

جون 2016ء میں طورخم پرانے گیٹ کی جگہ نئے گیٹ کے تعمیر سے شروع ہونے والی شورش کی وجہ سے ایک سال کے عرصے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو چار بار آمدورفت کے لئے بند کیا گیا۔ آخری بار بندش نے کافی طول پکڑا، جس کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اور تجارتی سامان لے جانے والی مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔ پاک افغان ٹرانسپورٹ یونین کے صدر محمد شاکر آفریدی نے کہا کہ ایک سال کے عرصے میں یہ چوتھی دفعہ ہے کہ سرحد کو آمدورفت کے لئے بند کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹرانسپوٹروں کو بڑا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر دفعہ بغیر پیشگی اطلاع کے راستہ بند کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے گاڑیاں ایک بڑی تعداد میں کئی کئی دن کھڑی ہوتی ہیں۔ شاکر آفریدی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیاں پہلے سے تجارت کافی کم ہوگئی ہے اور اس قسم کے اقدامات کی وجہ سے اس میں مزید کمی آئے گی، جو کہ دونوں ممالک کے لئے اچھی خبر نہیں ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق افغانستان میں اتحادی افواج کی موجودگی میں نیٹو سپلائی، ٹرانزٹ اور پاکستانی اشیاء کے یومیہ 700 تک کنٹینر چمن اور طورخم کے راستے سے جاتے تھے، لیکن اب یہ تعداد بمشکل 200 تک پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے دونوں ممالک کے تاجروں کو بڑی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر رہنماء ضیاءالحق سرحدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں 70 فیصد لوگوں کا روزگار افغانستان کے ساتھ ہونے والی تجارت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سے طورخم اور چمن راستے میں 1200 سے زیادہ کنٹینر پھنس گئے ہیں، لیکن یہ تعداد اس سے الگ ہے، جس میں پاکستان سے برآمد کیا گیا سامان جا رہا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں سرحدی نے کہا کہ پاکستان سے افغانستان کو تعمیر کے کاموں میں استعمال ہونے والے میٹریل سے لیکر تازہ میوہ جات، سبزیاں، گوشت، مرغی، چینی، گڑ، آٹا اور افغانستان سے خشک اور تازہ میوہ جات، کوئلہ، چمڑا، لوہے کا سکریپ اور کپاس وغیرہ آتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ راستے کی بندش کی وجہ سے ٹرکوں میں موجود خوارک کی چیزیں خراب ہوگئی ہیں، جس کی وجہ سے تاجروں کو کروڑوں کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ پاک افغان سرحد کی یہ طویل بندش دونوں ممالک کے عوام کے لئے بڑی پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں افغان سفیر عمر زاخیلوال نے مختلف سطح پر پاکستانی حکام کے ساتھ اس مسئلے کے حل کے لئے ملاقاتیں کیں، لیکن اس میں خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی۔ سفیر نے افغان عوام اور میڈیا کے دباؤ میں آکر پاکستانی حکام کو ایک سخت جواب دیا، جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ اگر جلد آمدورفت کے لئے راستہ نہیں کھولا جاتا تو پاکستان میں 2500 پھنسے افغان شہریوں کو فضائی راستے وطن پہنچایا جائے گا۔ طویل انتظار کے بعد 7 اور 8 مارچ کو اُن لوگوں کو جانے کی اجازت دی گئی جو قانونی طور پر پاکستان آئے تھے۔

پشاور میں افغان ٹریڈ کمشنر میر اویس یوسفزئی نے بتایا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ سفارتی سطح پر سرحد بندش کے مسئلے کے مستقل حل کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت متاثر ہو رہی ہے، جس میں زیادہ نقصان پاکستان کے کاروباری لوگوں کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اور تجارت کو الگ رکھا جائے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے بین الاقومی معاہدے موجود ہیں، جس کی رو سے افغانستان اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ تجارت میں تعاون کریں گے۔ یوسفزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاک افغان دو طرفہ تجارت 2.5 ملین ڈالر سے کم ہوکر 1.3 ملین سالانہ تک پہنچ گئی ہے اور یہ آمدنی آدھے سے بھی کم ہے، جو کہ ایک تشویش ناک بات ہے۔ طورخم میں کسٹم حکام کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ روزانہ دو کروڑ روپے صرف کسٹم ڈیوٹی کی مد میں پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ اور دوسرے اداروں کے نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔ کراچی بندرگاہ کے حکام کے مطابق 2010ء میں افغان راہداری مال لانے والے کنٹینروں کی تعداد 75 ہزار تھی جو کہ اب کم ہو کر 15 ہزار رہ گئی۔

افغان صنعت و تجارت کے سربراہ خان جان الکوزی نے کابل میں پاک افغان تاجروں کے اجلاس جو کہ "سرحد پار" کے عنوان سے منعقد ہوا تھا، میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرحد بندش کی وجہ سے دونوں جانب تازہ میوہ جات اور سبزیوں سمیت دیگر اشیاء سے بھرے تقریباً 5000 کنیٹنرز سرحد پار کرنے کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ الکوزی نے پاکستان اور افغانستان باہمی تجارت کے حوالے سے مزید اعداد و شمار دیتے ہوئے کہا کہ سرحد کی بندش کی وجہ سے زیادہ نقصان پاکستانی تاجروں کو ہو رہا ہے، کیونکہ 20 لاکھ ٹن مال ہر سال افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک اور روس کو برآمد ہوتا ہے، لیکن راستے ایسے وقت میں بند کر دیئے گئے ہیں کہ پاکستان میں میوہ جات اور سبزیوں کا سیزن ہے۔ اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ راہداری تجارت میں مشکلات کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم پچھلے تین سالوں میں 2.5 ارب ڈالر سے کم ہوکر 1.2 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ سال 2014ء میں افغان صدر نے دورہ پاکستان کے دوران دو طرفہ تجارت 5 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، لیکن اس میں اضافے کی بجائے کافی کمی آئی۔ کراچی بندرگاہ افغان تاجروں کے لئے نزدیک اور کم خرچہ والا راستہ ہے، جس کی وجہ 80 فیصد تجارتی مال یہاں سے افغانستان جاتا ہے، لیکن سرحد کی بار بار بندش اور دوسرے مسائل کی وجہ سے 20 فیصد مال یہاں سے گزرتا ہے۔ افغان تاجر ان کی بندرگاہوں اور وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات بڑھا رہے، جو پاکستان کے نسبت طویل اور مہنگے ہیں۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں کے مطابق 16 فروری سے سرحد کی بندش کی وجہ سے دو طرفہ تجارات کو 70 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوچکا ہے۔ پاک افغان شاہراہ خیبر ایجنسی کے جمرود میں، جس میں 1000 تک، لنڈی کوتل میں 1700 سے 1900 تک جبکہ طورخم بازار جس میں 1500 سے زیادہ دوکانیں ہیں گزرتی ہے۔ کئی دنوں آمدورفت کی وجہ بندش کی وجہ سے مقامی اور چھوٹے کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔ گل عسکر جو کہ جمرو د میں سڑک کے کنارے اخبارات فروخت کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ راستے کی بندش نے تمام کاروبار پر بہت بُرا اثر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے جب یہاں سے گاڑیاں گزرتی تھی تو ضرور یہاں پر رُک کر خریداری کر لیتے تھے، جس کی وجہ سے لوگوں کا روزگار اچھا تھا، لیکن کئی دنوں سے بازار میں رش اور گاہگ کم ہوگیا ہے۔ پاکستان کی نئی تجارتی پالیسوں کے لئے پاک افغان سرحد پر رہائش پذیر لوگ کافی پراُمید تھے کہ اس سے خطے میں تجارتی سرگرمیاں مزید بڑھ جائینگی، کیونکہ پاکستان سے تجارتی سامان نہ صرف افغانستان بلکہ وسطی ایشیا کی منڈیوں تک پہنچ رہا ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور دہشتگردی کی محفوظ پناہگاہوں کے الزامات نے اس سلسلے میں کافی مشکلات پیدا کی ہیں۔ شاکر کا کہنا ہے کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ساتھ قبائلی جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ یہاں پر تعلیم کی کمی اور روزگار کے مواقعے کم ہیں۔ انہوں کہا کہ گاڑی کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے ویزے کی شرط جیسے اقدامات پر پہلے بڑے مسائل موجود تھے اور ساتھ سرحد کو سیل کرنے سے اس میں مزید اضافہ ہوا ہے، کیونکہ کھڑی گاڑیوں میں ایسے مالکان بھی جو کہ ماہانہ تین لاکھ ادا کرتے تھے، لیکن ان حالات میں پوار کرنا ممکن نہیں۔

میڈیا سے بات چیت میں ضیاءالحق سرحدی نے بتایا کہ بارڈر منیجمنٹ کے حصے میں پاکستانی حکام نے کافی اقدمات کئے ہیں، جس سے دہشتگردی کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن دو طرفہ تجارت میں حائل رُکاوٹوں کو اسلام آباد اور کابل کو مشترکہ طور پر دور کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے، تاکہ ان مسائل کو مستقل بنیادوں پر جلد حل کیا جائے۔ مارچ کے پہلے ہفتے اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم "ای سی او" کا 13ہواں سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جس میں رکن ممالک کے 5 صدور، 3 وزرائے اعظم اور ایک نائب وزیراعظم نے شرکت کی اور افغانستان کی نمائندگی اسلام آباد میں افغان سفیر عمر زاحیلوال نے کی۔ اجلاس کے اعلامیہ میں تجارت کے فروع اور پاکستان کے وسطی ایشیائی ممالک، روس کی منڈیوں اور ایران کے ساتھ تجارت کے فروغ پر زور دیا گیا۔ افغانستان دوسرے ممالک سے تجارتی تعلقات مزید بہتر بنانے کیلئے پاکستان کے راستون پر انحصار کم کر رہا ہے۔ افغان وزارت تجارت کے مطابق پاکستان کے راستے 20 فیصد جبکہ وسطی ایشیائی اور ایرانی بندرگاہ کے راستے 80 فیصد تجارت منتقل ہوچکی ہے جس کی بنیادی وجہ دونون ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں تجارت میں پیدا ہونے والی مشکلات ہیں۔ وسطی ایشیا اور روس تک پہنچنے کے لئے ایک ہی راستہ جو کہ افغانستان سے گزرتا ہے، استعمال ہوتا ہے۔ اس سے پہلے پچھلے سال 9 اور 10 نومبر کو منعقد ہونے والے سارک ممالک اجلاس جو کہ اسلام آباد میں ہونے والا تھا، اس وجہ سے ملتوی کر دیا گیا تھا، جس میں چار رکن ممالک انڈیا، افغانستان، بنگلہ دیش اور بھوٹان نے شرکت سے انکار کیا تھا۔ آنیوالے وقت میں دیکھا جائے گا کہ پاکستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ اپنی خارجہ اور تجارتی پالیسوں میں کوئی تبدیلی لا رہا ہے کہ نہیں۔
خبر کا کوڈ : 620690
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب