0
Friday 31 Mar 2017 10:17

سعودی اتحاد کی مخالفت کیوں؟

سعودی اتحاد کی مخالفت کیوں؟
تحریر: سید میثم ہمدانی
meesamhamadani@gmail.com

پہلے ہی دن سے طے شدہ بات کو اب رسمی طور پر اعلان کر دیا گیا ہے۔ سعودی حکومت کی تحریری درخواست پر ہم نے راحیل شریف صاحب کو اصطلاحاً اسلامی اتحاد فوج کی کمان کیلئے رضایت مندی کا خط جاری کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم سعودی اتحاد کے مخالف کیوں ہیں؟ کیا اس کی مخالفت کرنا ایران کے مفادات کی پاسداری ہے؟ استکباری نظام کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ایسا ماحول فراہم کرتا ہے کہ جس میں حتٰی سوچنے والا انہی اصول و قواعد کی بنیاد پر سوچتا ہے، جو استکبار کا مقصود ہوتا ہے۔؟ سعودی اتحاد کی حمایت کے ساتھ ہمیشہ یہی کہا جاتا رہا ہے کہ ہم کسی فرقہ واریت کا حصہ نہیں بنیں گے۔؟ ہم یمن جنگ میں شامل نہیں ہوں گے؟ وغیرہ۔ کیا ہم سعودی اتحاد کی مخالفت اس لئے کر رہے ہیں کہ یہ ایک مخالف فرقے کا اتحاد ہے؟ ہرگز نہیں، اگر حقیقت کے آئینے سے دیکھا جائے تو فرقہ واریت سرے سے کوئی حقیقی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ پاکستان جیسے سنی شیعہ اکٹھے معاشرے میں آج بھی ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ انہی دونوں فرقوں کے پیروکاروں کے آپس میں رشتے ناتے موجود ہیں۔ فرقہ واریت درحقیقت ایک ایسا عنوان ہے، جس سے دشمن نے ہمیشہ فائدہ اٹھایا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ دونوں طرف سے شدت پسند فرقہ پرست عناصر کو کونسی طاقتیں پشت پناہی کرتی ہیں؟ پس اگر مسئلہ فرقہ واریت نہیں ہے تو پھر اس کی مخالفت کیوں۔؟

اسلامی دنیا میں اس وقت دو تفکرات کھل کر سامنے آچکے ہیں؟ ایک استکبار مخالف، جس کو مزاحمتی بلاک کہا جاتا ہے اور دوسرا استکبار کے حامی سازشی عناصر، جنہوں نے ہمیشہ سے امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو جو آج تک اپنے آپ کو اسلام کا ہیرو قرار دیتے تھے اور حتٰی اپنے ایٹمی بمب کا نام اسلامی بمب رکھا ہوا تھا، کیا واقعاً آج وہ اس فیصلہ پر پہنچ گئے ہیں کہ ہمیں عالمی سیاست کے اندر استکباری بلاک کا حصہ بن جانا چاہیئے۔ ہم شام کی بات نہیں کرتے، اگرچہ شام ایک سنی اکثریت ملک ہے، آپ صدام کے عراق کی بات کر لیں۔ جب عراق پر امریکہ نے حملہ کیا تو کیا سعودی عرب کو اس وقت اسلامی اتحاد بنانے کی فکر محسوس نہیں ہوئی۔؟ جب طالبان کے افغانستان پر امریکہ نے حملہ کیا تو اس وقت اسلامی افواج کہاں تھیں۔؟ آج دفاع حرمین شریفین کے نام پر اتحاد بنانے والے اس وقت کہاں تھے، جب عراق اور شام میں اسلام کے مقدسات اور حُرُم شرفاء خطرے میں تھے۔ امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہا السلام کا حرم مبارک عراق کے شہر سامرا میں بمب لگا کر شہید کر دیا گیا، شام میں حضرت سکینہ و حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے حرمین شریفین پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا اور کئی اصحاب کبار کے روضے مسمار کر دیئے گئے لیکن غیرت ایمانی رکھنے والے سعودی اتحاد کا نام و نشان نہیں تھا۔؟

اصل بات یہ ہے کہ استکبار نے مڈل ایسٹ کیلئے جو ناپاک منصوبہ بنایا ہوا تھا، جس میں ہمارے ملک پاکستان کے بھی حصہ بخرے ہونے تھے، اس کی شکست فاش کے بعد اب دشمن کو  اپنی ہی ذات خطرے میں محسوس ہونا شروع ہوگئی ہے۔ مقبوضہ فلسطین پر غاصب یہودی ریاست، جس نے نیل سے فرات تک کا نعرہ بلند کیا تھا، اب مجبور ہے کہ اپنے ہی گرد آھنی دیوار تعمیر کرے، تاکہ اس کے ٹینک جو لبنان کے بارڈر پر جاکر رک گئے تھے، مزید عقب نشینی پر مجبور نہ ہوں۔ اس ناامنی کا احساس دشمن کو نئی سازش کی طرف بڑھا رہا ہے اور آج ہم ریال کے چکر میں یا کسی اور غلط تجزیہ و تحلیل کے نتیجے میں دشمن کے اس جال میں پھنسنے جا رہے ہیں۔؟ پاکستان کا سعودی اتحاد کی کمان کرنا کوئی شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے، نہ ہی اس کمان سے کسی شیعہ کو اپنے لئے احساس خطر کرنا چاہیئے اور نہ ہی کسی سنی کو فخر اور تکبر میں مبتلا ہونا چاہیئے، اصل مسئلہ یہ ہے چند افراد کے اس فیصلے کے نتیجے میں یہ پاکستانی قوم ہوگی، جس کو یمن کی جنگ میں شریک نہ ہونے کے فیصلے کی وجہ سے، جو اسلامی دنیا کے اندر مقام حاصل ہوا تھا، اس سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور پھر آئندہ فلسطین اور کشمیر کی آزادی کا نعرہ لگانے کا اخلاقی جواز موجود نہیں رہے گا، چونکہ اسرائیل اور امریکہ وہ پہلے ممالک ہیں، جنہوں نے سعودی اتحاد کو ویلکم کہا ہے۔؟ اس اتحاد کی کمانڈننگ پوزیشن ہمیں تاریخ میں ہمیشہ کیلئے استکبار کے مخالف مزاحمتی بلاک سے الگ کرکے آئندہ کے دور کا جنرل نیازی قلمداد کرے گی۔!
خبر کا کوڈ : 623248
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے