0
Monday 3 Apr 2017 20:07

دہشتگردی کی سب سے بڑی حامی حکومت کون؟

دہشتگردی کی سب سے بڑی حامی حکومت کون؟
تحریر: آدم وائنشٹائن (Adam Weinstein)
(کالم نگار ہفنگٹن پوسٹ)


کئی سالوں سے ایران کو "دہشت گردی کی سب سے بڑی حامی حکومت" کا ناخوشگوار لقب دیا جا رہا ہے، جبکہ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل 61 گروہوں میں اکثریت ایسے گروہوں کی ہے، جن پر وہابی طرز تفکر حاوی ہے اور انہیں سعودی عرب کی مالی سپورٹ حاصل ہے۔ ان گروہوں نے ایران اور مغربی ممالک کو اپنا اصلی دشمن متعارف کروا رکھا ہے۔ اس بلیک لسٹ میں شامل صرف دو گروہ ایسے ہیں، جو شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ حزب اللہ لبنان اور عراق کی حزب اللہ بریگیڈز ہیں، جبکہ چار گروہ ایسے ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ایران سے مالی مدد وصول کرتے ہیں۔ اس لسٹ میں موجود تقریباً تمام سنی جنگجو گروپ یا تو سعودی حکومت سے مالی مدد وصول کرتے ہیں اور یا پھر سعودی شہریوں کی مالی سپورٹ سے برخوردار ہیں۔ وہابیت ایسی آئیڈیالوجی ہے، جس نے سعودی حکام کی ضروریات اور شدت پسند متعصب عناصر کے درمیان بندھن ایجاد کر رکھا ہے۔ وہابیت کو عالم اسلام میں موجود سلفی طرز تفکر کا مذہبی سیاسی ذیلی سیٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔ سلفی اپنا نام "السلف الصالح" یا (حضرت) محمد (ص) کے "متقی ساتھی" سے اخذ کرتے ہیں اور اس بات کے دعویدار ہیں کہ انہیں کی پیروی کرنے میں مصروف ہیں۔ وہابیت اور سلفیت میں فرق یہ ہے کہ وہابیت اپنی طاقت کو برقرار رکھنے میں آل سعود رژیم پر انحصار کرتی ہے، جبکہ سلفیت ایک عالمی سطح کا طرز تفکر ہے۔

وہابیت کا آغاز کہاں سے ہوا؟
18ویں صدی میں مذہبی رہنما عبدالوہاب اور قبائلی رہنما ابن سعود کے درمیان تعاون کا آغاز ہوا، جس کا نتیجہ سعودی عرب میں مشروعیت کے دو متوازی سرچشموں یعنی مذہب اور قبائلی روایات، کی صورت میں نکلا۔ مذہبی علماء الٰہی طاقت اور اختیارات کے حامل تھے اور ابن سعود سے سمجھوتے کے بعد انہوں نے یہ اختیارات آل سعود کو بخش دیئے۔ وہابیت درحقیقت جہادی سلفی ہیں، کیونکہ وہابیت مکمل طور پر سعودی حکومت پر انحصار کرتی ہے، لہذا اس کی ماہیت انقلابی نہیں۔ سعودی عرب کا سلطنتی خاندان اقتصادی ترقی اور مغربی دنیا سے انتہائی قریبی سیاسی تعلقات اور وہابیت کے قدامت پرست مطالبات کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ ان مطالبات میں سے ایک جنوبی ایشیا، مشرق وسطٰی اور حتی مغربی دنیا میں دہشت گردی اور جہاد کی بنیاد ڈالنا اور اس کی حمایت کرنے پر آنکھیں بند رکھنا ہیں۔ بعض یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم سعودی عرب اور وہابیت کو بلاوں کے مقابلے میں ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی شدت پسندی کی حقیقی وجوہات انتہائی پیچیدہ ہیں۔

محمد الیحیٰی نے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے "دہشتگردی کو وہابیت کے سر پر مت ڈالیں" کے عنوان سے اپنے ایک مقالے میں اسی قسم کا استدلال پیش کیا ہے۔ یہ استدلال ایسے ہے کہ "سب سے زیادہ اسلام پسند جنگجووں کا سعودی وہابیت سے کوئی تعلق نہیں۔" مثال کے طور پر وہ کہتا ہے کہ طالبان کا تعلق دیوبندی فرقے سے ہے۔ دیوبندی اسلام کا ایک سامراج مخالف فرقہ ہے، جو جنوبی ایشیا میں برطانوی استعمار کے ردعمل کے طور پر ظاہر ہوا، جبکہ القاعدہ کی سوچ شدت پسندانہ ہے، جس کا منشاء اخوان المسلمین ہے۔ اگرچہ دہشت گردی کی مختلف وجوہات کی جان پہچان ضروری ہے، لیکن یہ امر اس بات کا باعث نہیں بننا چاہئے کہ پالیسی میکرز دہشت گردی کے واضح منشاء سے چشم پوشی اختیار کر لیں۔ یہ بات یقیناً صحیح ہے کہ تمام سنی شدت پسند گروہوں کی جڑیں وہابیت میں نہیں۔ حکومت مخالف اسلام پسند اخوان المسلمین کے نظریات، جیسے حسن البنا اور سید قطب، نے ہی القاعدہ کی تشکیل کی بنیاد فراہم کی ہے۔ لیکن تنظیمیں اور تحریکیں بتدریج کمال کے مراحل طے کرتی ہیں۔ وہ القاعدہ جس کا مشاہدہ ہم آج کر رہے ہیں، بہت حد تک وہابیت کے ایسے زیادہ شدت پسندانہ افکار کا نتیجہ ہے، جن کی ترویج سعودی عرب کر رہا ہے۔

پاکستان میں شدت پسندی کا فروغ
عرب دنیا سے زیادہ سعودی عرب نے پاکستان میں شدت پسندی کو فروغ دیا ہے۔ سعودی عرب کی حمایت سے پاکستان بھر میں تحریک اہلحدیث کی صورت میں ایک قسم کی سلفیت پھیلائی گئی ہے۔ دوسری طرف اس ملک میں دیوبندی کی بنیاد پرست تحریک کو سب سے زیادہ خلیج عرب ریاستوں کی حمایت حاصل ہے۔ امریکہ کی ایک سرکاری دستاویز میں ذکر ہوا ہے کہ: "سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اسلامی خیراتی ادارے، جنہیں ان حکومتوں کی براہ راست حمایت حاصل ہے، سالانہ 100 ملین ڈالر خطے کے دیوبندی اور اہلحدیث علماء کو مدد کے طور پر دیتے ہیں۔" سلفیت اور دیوبندی تحریک میں اس قسم کا گٹھ جوڑ، جنوبی ایشیا میں اسلام کی مختلف تعابیر کی پیدائش کا سبب بنا ہے، جن کا ایک نمونہ بریلوی (صوفی) فرقہ ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان قریبی تعلقات کا آغاز سابق پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے ہوا۔ حال ہی میں شائع ہونے والی سی آئی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھٹو نے 1975ء میں سعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا اور "اس ملک کی سخاوت مندانہ مدد سے بہرہ مند ہوا۔" پاکستان نے ایسی مدد کے بدلے میں "اپنے فوجی مشیر اور ماہرین سعودی عرب کی مسلح افواج کو فراہم کر دیئے۔" سی آئی اے کی دیگر دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء کے دوران پاکستان افغانستان میں 1979ء میں آغاز ہونے والی سابق سوویت یونین کی فوجی موجودگی کو اپنے لئے بڑا خطرہ تصور کرتا تھا۔ لہذا پاکستان کے حساس اداروں نے سعودی عرب اور امریکہ کے تعاون سے سابق سوویت یونین سے مقابلے کیلئے "مجاہدین" کی فوجی تربیت میں خاصی دلچسپی ظاہر کی۔

سعودی حکام فطری طور پر خادم الحرمین شریفین (مسلمانوں کے دو انتہائی مذہبی مقدس مقامات میں سے ایک) ہونے کے ناطے پاکستانی افسروں کی نظر میں امریکی ہم منصب افراد کی نسبت بہت زیادہ احترام کے حامل تھے۔ اسی طرح امریکہ پاکستانی فوجی افسروں کی جانب سے ان جنجگووں کی حمایت کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا، جنہیں وہ کئی سال تک فوجی تربیت دیتے رہتے تھے۔ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیز سعودی عرب اور جنوبی ایشیا میں سرگرم شدت پسند اسلامی گروہوں کے درمیان رابط کا کردار ادا کرنا شروع ہوگئیں۔ 1990ء کے عشرے میں پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے بھارت کی جانب سے درپیش ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی پوری توجہ کشمیر اور پنجاب پر مرکوز کر دی۔ لیکن پاکستان کے حساس اداروں اور مختلف مسلح گروہوں کے درمیان تعلقات اس وقت زیادہ مضبوط ہوئے، جب نائن الیون واقعے کے بعد پاکستان کی توجہ دوبارہ افغانستان پر مرکوز ہونے لگی۔ اسی دوران پاکستان کے حساس اداروں اور بعض مسلح گروہوں میں ٹکراو بھی پیدا ہوا، جبکہ دیگر گروہوں جیسے حقانی گروپ سے ان کے تعلقات بدستور اچھے رہے۔ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کے انکشاف کے بعد، امریکہ ڈرون حملوں کی شدت میں تیزی لایا، جبکہ دوسری طرف پاکستان کے حساس اداروں نے اسلام آباد میں سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کا نام فاش کرکے اس کا بدلہ لے لیا۔ اپنا نام فاش ہونے کے بعد سی آئی اے اسٹیشن چیف کو کئی بار جان کا خطرہ درپیش ہوا۔

اسلام آباد ریاض معاہدہ کیا ہے؟
خلیج سنی عرب ریاستوں سے بھیجے جانے والے ڈالرز بدستور پاکستان میں انتہاپسند گروہوں کی مضبوطی کا باعث بن رہے ہیں۔ جبکہ سعودی عرب کے حمایت یافتہ دینی مدارس سے مربوط خودکش دھماکے ہمیشہ سے بڑی تعداد میں عام پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستانی حکام خلیجی عرب ریاستوں کی حمایت یافتہ دہشت گردی سے چشم پوشی کے عوض اپنی سکیورٹی کی ضمانت دریافت کرتے ہیں۔ جب تک وہ برسراقتدار رہتے ہیں، جنگجووں پر مشتمل ایک غیر سرکاری فوج سے برخوردار رہتے ہیں، جنہیں وہ بلوچ علیحدگی پسند عناصر سے لے کر بھارت تک، ہر ممکنہ خطرے سے قابلے کیلئے استعمال کرتے ہیں اور جب ان کے اقتدار کی مدت پوری ہو جاتی ہے تو انہیں اور ان کے اہلخانہ کو ضروری سکیورٹی فراہم کر دی جاتی ہے۔

2000ء کی گرمیوں میں جب پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مالی کرپشن، اغواء اور جہاز اغواء کرنے جیسے جرم ثابت ہوگئے تو سعودی عرب نے انہیں پاکستان سے جلاوطن ہو کر اپنے ملک رہنے کی اجازت دے دی۔ سابق پاکستانی صدر اور بے نظیر بھٹو کے شوہر، آصف علی زرداری پر بھی مالی کرپشن کا الزام تھا اور وہ 2016ء میں خود ہی پاکستان چھوڑ کر متحدہ عرب امارات چلے گئے۔ اسی طرح پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف آج کل غداری کے الزام میں قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے دوبئی میں رہ رہے ہیں۔ لیکن سعودی عرب سے شدت پسندی کی ترویج ہمیشہ منصوبہ بندی کے تحت انجام نہیں پاتی۔ ایان ٹیلبوٹ (Ian Talbot) تاریخ پاکستان کے موضوع پر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: "نچلے طبقے کے پاکستانی شہریوں کی اسلام کے مرکز (سعودی عرب) تک رسائی، اسلام پسندی کی جانب مثبت رجحانات پیدا ہونے کا باعث بنی ہے۔ اگرچہ جنرل ضیاءالحق اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ فرقہ واریت پر اس کے اثرات غیر متوقع ہیں اور وہ پاکستان میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔" سعودی عرب بھی اپنے شدت پسندانہ اثرات سے پریشان ہے اور حال ہی میں اس نے دہشت گردی کے خوف سے 40 ہزار پاکستانی ورکرز کو ملک سے نکال باہر کیا ہے۔

صوبہ سندھ کے حکام کی مرکزی حکومت سے عاجزانہ درخواست
آج کابل کے پہاڑی علاقوں سے لے کر کراچی کے بازاروں اور ممبئی کے ہوٹلوں تک، پورا جنوبی ایشیا فرقہ وارانہ شدت پسندی کی آگ میں سلگ رہا ہے۔ اس سال فروری میں پاکستان کے مختلف شہروں میں خودکش حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں شہری جاں بحق ہوئے۔ صوبہ سندھ کے حکام نے مرکزی حکومت سے عاجزانہ درخواست کی کہ وہ خلیجی سنی عرب ریاستوں کی فنڈنگ سے منعقد ہونے والے سیمینارز کا سلسلہ ختم کرے، لیکن پاکستان کی مرکزی حکومت نے ان کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔

شاہ فیصل انٹرنیشنل پرائز کس کو ملا؟
انٹرنیٹ عام ہو جانے کے بعد سعودی علماء کو اپنی ذاتی تشہیر میں بہت سہولت حاصل ہوگئی ہے۔ سعودی مبلغین اور ان کے تربیت یافتہ افراد کے انتہا پسندی پر مبنی مسیجز دنیا بھر میں موبایل فونز پر موجود اور قابل مشاہدہ ہیں۔ طلبہ و طالبات کو فرقہ وارانہ مذہبی سیمینارز میں شرکت کیلئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھیجا جاتا ہے اور جب وہ وہاں سے واپس لوٹتے ہیں تو دنیا بھر میں موجود دینی مدارس میں موجود سینکڑوں افراد تک یہ افکار پھیلاتے ہیں۔ سعودی عرب کے ان مبلغین کا پیغام ہمیشہ مسلح کارروائیاں انجام دینے پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات اس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے، جو ان مسلح کارروائیوں کی توجیہات پیش کرنا اور ان کا دفاع کرنے پر مبنی ہوتا ہے۔ معروف مبلغ ذاکر نائیک نے اسامہ بن لادن کی کھلم کھلا حمایت کی، جس کے نتیجے میں اسے شاہ فیصل انٹرنیشنل پرائز سے نوازا گیا۔ دوسری طرف سعودی عرب اپنے اوپر دہشت گردی کی حامی حکومت یا دہشت گردی کا زمینہ فراہم کرنے والی حکومت جیسے الزامات عائد ہونے سے بچنے کیلئے سالانہ تعلقات عامہ والی کمپنیز پر کئی ملین ڈالرز خرچ کر رہا ہے۔ سعودی عرب ایک طرف خود کو عالم اسلام میں رونما ہونے والے واضح ترین دہشت گردانہ اقدامات سے لاتعلق ظاہر اور دوسری طرف سلفی پیغامات کا خیرمقدم کرکے اپنے متعصب مبلغین کے اثرات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ واشنگٹن میں سعودی عرب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود کو دہشت گردی اور شدت پسندی سے مکمل طور پر لاتعلق ظاہر کرے۔

ماسکو کیخلاف ریاض واشنگٹن اتحاد
آسٹریلیا کے وزیراعظم میلکم ٹرن بال نے ایک بار سابق امریکی صدر اوباما سے پوچھا: "سعودی آپ کے دوست نہیں؟"، اوباما نے جواب دیا: "یہ ایک پیچیدہ موضوع ہے۔" سعودی عرب کیسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک موثر اتحادی کا کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ اس ملک کی قومی سلامتی کا انحصار مسلسل دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنے پر ہے؟ 1930ء کے آغاز میں جب امریکی کمپنیز نے پہلی بار سعودی عرب کی آئل مارکیٹ کا جائزہ لینا شروع کیا تو سعودی سلطنتی خاندان نے امریکہ کو برطانیہ پر ترجیح دی، کیونکہ وہ برطانوی تاجروں کو تاجر کے نقاب کے پیچھے برطانوی سامراج تصور کرتے تھے۔ اپنے دشمن کے دشمن سے تعاون سرد جنگ کے دوران مزید گہرا ہوگیا اور 1983ء میں سی آئی اے کی جانب سے جاری شدہ مفاہمت کی یادداشت میں سابق سوویت یونین کو کنٹرول کرنے پر مبنی ہدف امریکہ اور سعودی عرب کی "سپلیمنٹ خارجہ پالیسی" قرار دیا گیا۔ یہ حقیقت کہ سعودی عرب نے سابق سوویت یونین سے مقابلے کیلئے اسلامی شدت پسندی کے دوبارہ ظہور کی ترویج بھی امریکہ کے انٹیلی جنس اداروں کیلئے پریشانی کا باعث نہ بنی۔ جب خلیج فارس کی جنگ میں سعودی سلطنتی خاندان کو غیر مسلم فوجیوں کو مقامات مقدسہ آنے کی اجازت دیئے جانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو سعودی حکومت نے وہابی علماء کی بڑی تعداد کو حکومتی عہدوں پر مقرر کرکے ان کے ذریعے ان اعتراضات کا جواب دیا۔ ایسے علماء جو بدستور حکومتی سرگرمیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے، انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

سعودی عرب اور نائن الیون
نائن الیون واقعے میں ملوث ہائی جیکرز اور سعودی حکومت کے درمیان رابطوں کی تفصیلات بیان کرنے والی 28 صفحات پر مشتمل رپورٹ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ نہ صرف سعودی عرب کے عام شہریوں، بلکہ خود سعودی حکومت نے بھی شدت پسندانہ دہشت گرد گروہوں کو مالی امداد اور انسانی قوت فراہم کی تھی۔ لیکن سعودی عرب کا دعوا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہے۔ دوسری طرف، سعودی عرب میں انجام پانے والے اکثر دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ مشرقی صوبے میں بسنے والی شیعہ اقلیت اور مغربی مراکز قرار پاتے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ نے واضح طور پر سعودی عرب میں مقیم اپنے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا: "ایسے مقامات پر جانے سے گریز کریں، جہاں شیعہ اقلیت کے افراد اجتماعات منعقد کرتے ہیں۔" اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر، زلمے خلیل زاد نے حال ہی میں پولیٹیکو میگزین میں شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے: سعودی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے نئی "صداقت پر مبنی پالیسی" اپنائی ہے اور مجھ سے بات چیت کے دوران اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ ماضی میں شدت پسند عناصر کی مالی مدد کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود محدود اعترافات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں غیر یقینی بیانات، سعودی سفارتکاری کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ سعودی حکومت نے نائن الیون حادثات کے بعد معلومات کے تبادلے اور کم خطرے والے دہشت گرد عناصر کی واپسی کیلئے مراکز تشکیل دینے کی کوششیں انجام دی ہیں، لیکن یہ کوششیں زیادہ تر خیر سگالی کی نیت ظاہر کرنے کیلئے تھا، جبکہ طولانی مدت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق بہت کم کامیابی کے ہمراہ تھیں۔

آل سعود کیجانب سے داعش کی حمایت
"پوڈیسٹا ای میلز" کا انکشاف اس بات کی تصدیق ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کی نظر میں سعودی عرب اور قطر خفیہ طور پر داعش کی مالی اور لاجسٹک مدد کرنے میں مصروف ہیں۔ تعصب آمیز نظریات اور دہشت گردی کی ایکسپورٹ درحقیقت سعودی معاشرے میں موجود متزلزل تعادل کو نابودی سے بچانے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ گذشتہ سال مارچ کے مہینے میں طالبان کمانڈر ملا منصور کو قتل کر دیا گیا۔ ان کا قتل ہونے سے چند دن قبل ہی ایران کا سفر توجہ کا مرکز بن گیا۔ امریکہ گذشتہ کئی سالوں سے اس حقیقت سے چشم پوشی اختیار کرتا آ رہا تھا کہ افغانستان کے ان بم دھماکوں میں استعمال ہونے والے امونیم نائٹریٹ کی کثیر مقدار پاکستان سے حاصل کی گئی تھی، جن میں امریکی فوجی اپاہج ہوئے تھے۔ امریکی فوج نے 2007ء میں، جب عراق کی جنگ اپنے عروج پر تھی، ایک رپورٹ شائع کی، جس میں کہا گیا تھا کہ ان غیر ملکی دہشت گرد عناصر کا 45 فیصد حصہ سعودی شہریوں پر مشتمل ہے، جو امریکی فوجیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس کے باوجود، آج واشنگٹن میں یہ بحث کی جا رہی ہے کہ آیا اخوان المسلمین مصر اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیا جائے یا نہیں۔ دوسری طرف خلیج عرب سنی ریاستوں کی سرپرستی میں دہشت گردانہ نیٹ ورکس مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ دہشت گردی سے مقابلے کی پالیسی حقیقی خطرات کا جائزہ لینے پر مبنی ہونے کی بجائے حامیوں کی توجہ مبذول کرنے کی حد تک گر چکی ہے۔ امریکہ کو دہشت گردی کے درپردہ اور اعلانیہ حامیوں سے مختلف قسم کا رویہ ترک کرنا ہوگا۔ سعودی عرب کی جانب سے شدت پسندی کے خاتمے کی بجائے اسے کنٹرول کرنے کی گوناگون کوششوں پر اس کی ایک حقیقی اتحادی کے طور پر تعریف و تمجید نہیں کرنی چاہئے۔ اسی طرح ان ممالک سے تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت ہے جو خفیہ طور پر دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔

ایک غفلت کا تاوان
دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اسٹریٹجک ماہرین کو چاہئے کہ وہ طویل مدتی نقطہ نظر اختیار کریں اور اس حقیقت کو قبول کریں کہ دہشت گرد گروہوں کی حامی حکومتیں ان گروہوں کے اقدامات کی ذمہ دار ہیں، حتی اگر یہ دہشت گرد گروہ اپنی حامی حکومتوں کے احکامات کی پیروی نہ بھی کرتے ہوں اور خود انہیں بھی نشانہ بناتے ہوں۔ جس طرح پاکستان سعودی عرب کی جانب سے وہابی دہشت گردی کی حمایت پر آنکھیں بند رکھنے کا بھاری تاوان ادا کر چکا ہے، امریکہ اور مغربی ممالک بھی آہستہ آہستہ سعودی عرب اور قطر کے دہشت گردوں سے تعلقات سے بے اعتنائی برتنے کے نتائج محسوس کر رہے ہیں۔ بہتر تو یہ ہے کہ "دہشتگردی کی سب سے بڑی حامی حکومت" کی اصطلاح سفارتی ڈکشنری سے بالکل نکال دی جائے، کیونکہ یہ اصطلاح ایک ملک کو توجہ کا مرکز بنا دیتی ہے، جبکہ دیگر ممالک اس کے پیچھے چھپنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 624204
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب