0
Tuesday 4 Apr 2017 21:57

نریندر مودی، حقائق سے انحراف کی کوشش

نریندر مودی، حقائق سے انحراف کی کوشش
رپورٹ: جے اے رضوی

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو سرینگر جموں شاہراہ پر چنہنی ناشری ٹنل کا افتتاح کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کو ایک پیغام دیا ہے کہ انہیں سیاحت یا دہشت گردی میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا، بصورت دیگر انہیں تاریک مستقبل کا سامنا رہے گا۔ ظاہر ہے بھارتی وزیراعظم نوجوانوں کی جانب سے پتھراؤ کے اُن واقعات کا ذکر کر رہے تھے، جو گزرے کچھ عرصہ سے مقبوضہ کشمیر خاص طور پر جنوبی کشمیر میں اُن مقامات پر دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں عسکریت پسندوں اور قابض فورسز کے درمیان جھڑپیں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ کشمیر کے منظر نامے پر یہ ایک نیا مظہر ہے، جو فی الوقت دہلی سے لیکر سرینگر تک زیر بحث ہے اور جس کے بارے میں بھارتی فوجی سربراہ جنرل بین راوت نے ایک بیان دیکر پتھراؤ کرنے والوں کو مسلح جنگجوؤں کے مماثل قرار دیکر ایک ایسے مباحثے کی شروعات کی، جسے نئی دہلی اور مقبوضہ کشمیر میں حکمران سیاسی جماعتوں کے علاوہ بھارت کا دائیں بازو اور کشمیر کے حوالے سے دائمی طور پر متعصبانہ طرز عمل کے حامل میڈیا چینل عروج پر پہنچا کر کشمیر کے بنیادی ڈسکورس کو تبدیل کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

ایک سادہ سی بات ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ ستر برسوں کے دوران مزاحمتی سیاست کا ماحول کسی نہ کسی رنگ میں گرم رہا ہے اور 1990ء کے بعد اس میں عسکریت کا عنصر شامل ہوگیا، جس کی وجہ سے بے شک کشمیر اور کشمیریوں کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جیسا کہ بھارتی وزیراعظم نے بھی اپنی تقریر کے دوران کہا، لیکن اس صورتحال کی بنیادی وجہ کیا ہے۔؟ وہ اگرچہ کسی سے پوشیدہ نہیں، لیکن اُسے جیسا کہ متعدد حلقوں کا ماننا ہے، دانستہ طور نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ تقسیم ہند کے بطن سے جنے اس ناسور کی وجہ سے برصغیر میں تین جنگیں برپا ہوئیں۔ دو نیوکلیائی قوتوں کی موجودگی مستقبل کے سارے امکانات پر کالے بادلوں کے مترادف ہے۔ ایسے حالات میں اگر کشمیر کے مسئلے کو صرف پتھراؤ کے واقعات تک محدود کرکے ایک نیا ڈسکورس قائم کرنے کی کوششیں کی جائیں تو یہ بدنصیبی کی انتہاہی نہیں بلکہ دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ مزاحمتی جماعتیں ایک طرف آج نیشنل کانفرنس جیسی مین اسٹریم جماعت جو برسہا برس تک کشمیر میں برسر اقتدار رہی ہے، یہ بات کہنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتی کہ بھارت جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں سے وقت وقت پر منحرف ہوتی رہی ہے اور غم و غصہ کی صورتحال قائم ہونے میں اس عمل کا کلیدی ہاتھ ہے۔

بھارت نے دفعہ 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات کو ہر ہر قدم پر ختم کرنے میں کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے اپنی تقریر میں سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ’’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘‘ کا وظیفہ دہرایا، مگر انہوں نے یہ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اٹل بہاری واجپائی کے اس منتر کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کیا کچھ کیا گیا۔؟ ظاہر ہے کہ ماضی میں مذاکراتی عمل کے نام پر جو کمیٹیاں قائم کی گئیں، انکی رپورٹیں آج بھی نریندر مودی کے دفتر میں گرد چاٹ رہی ہیں۔ اس سارے عمل پر یہ محسوس کرنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہئیے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے نام پر اب تک جو بھی کوششیں سامنے آئی ہیں، وہ وقت گزاری کے سوا کچھ نہیں تھا، اگر ایسا ہوتا تو غالباً صورتحال اس مرحلے پر نہیں پہنچی ہوتی۔ بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کے حقیقی مسئلے سے مسلسل اعراض جموں و کشمیر کے لئے ہی نہیں بلکہ سارے برصغیر کے لئے خوش آئند نہیں ہوسکتا۔ اس عنوان سے اگر دیکھا جائے تو بھارتی وزیراعظم کے دورۂ جموں و کشمیر کے حوالے سے جو اُمیدیں باندھی جا رہی تھیں، وہ کہیں بھر آتی نظر نہیں آتیں۔ اس کے برعکس انہوں نے ’’سیاحت اور دہشت پسندی‘‘ کی ترکیب استعمال کرکے سیاست اور معیشت کو خلط ملط کرنے کی کوشش کی ہے۔

معیشی اعتبار سے دیکھا جائے تو سیاحت کسی بھی عہد میں جموں و کشمیر کی معیشت کی بنیاد نہیں رہی ہے بلکہ زراعت، باغبانی اور دستکاریاں جموں و کشمیر کی پہچان رہی ہے، گذشتہ برسوں کی اقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ زرعی اعتبار سے آج کشمیر محتاج ہے۔ دستکاریوں کی صنعت تباہ حال ہے اور باغبانی مسابقت کے دباؤ میں چرمرا رہی ہے۔ ایسے حالات میں موجودہ صنعتی اعتبار سے یہاں موجود پانی کے ذخائر ایک نعمت بے بہا ہے، جس پر بھارتی ملکیت یافتہ NHPC قابض بنی بیٹھی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں برسر اقتدار پی ڈی پی و بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان شراکت اقتدار کی بنیادی دستاویز ’’ایجنڈا آف الائینس‘‘ میں شامل کارپوریشن پر قابض پن بجلی گھروں کی واپسی سے بھارت کا دو ٹوک انکار جموں و کشمیر کے عوام کی معیشی بہبود کے تئیں اس کی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے پتھر پھینکنے والوں کا پتھر تراشنے والوں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹنل کی تعمیر میں جن نوجوانوں نے کام کیا، اُن میں نوے فیصد مقامی تھے۔ غالباً انہیں بنیادی حقائق سے بے خبر رکھا گیا ہے کہ جموں سرینگر شاہراہ کی کشادگی کے لئے چل رہے مختلف پروجیکٹوں پر کام کرنے والوں میں مقامی لوگوں کی تعداد شاید ہی پچاس فیصد سے زیادہ ہو، کیونکہ باہر کی اکثر کمپنیاں بیرون ریاست سے لیبر منگوانے کو ہی فوقیت دیتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بھارتی حکومت معاملات کو الجھانے کی بجائے بنیادی حقائق کا احساس کرتے ہوئے کشمیر مسئلے کے حوالے سے موجود فریقین کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرکے انسانیت جمہوریت اور کشمیریت کے وظیفے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنے میں کوئی تاخیر نہ کرے۔
خبر کا کوڈ : 624456
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب