0
Friday 21 Apr 2017 14:23

کفریا اور الفوعہ کے اہالی پر بزدلانہ حملہ، چند اہم نکات

کفریا اور الفوعہ کے اہالی پر بزدلانہ حملہ، چند اہم نکات
تحریر: علی احمد

دو برس تک محاصرے، مسلسل گولہ باری اور تکفیری دہشت گرد عناصر کے سنائپرز کا سامنا کرنے کے بعد آخرکار دو شیعہ شہروں فوعہ اور کفریا کے اہالی کا مضایا اور الزبدنی میں محاصرے کا شکار تکفیری دہشت گرد عناصر اور اہلخانہ کے ساتھ تبادلے کا آغاز ہوا۔ 5 ہزار افراد پر مشتمل 75 بسوں کا قافلہ فوعہ اور کفریا سے نکلا۔ ان افراد کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل تھی جبکہ کچھ تعداد میں شہر کا دفاع کرنے والے رضاکار بھی شامل تھے۔ طے یہ پایا تھا کہ ان بسوں کا قافلہ تکفیری دہشت گردوں کے زیر قبضہ علاقوں سے گزر کر حلب جائے گا۔ ابھی یہ قافلہ حلب کے قریب دہشت گردوں کے زیر قبضہ علاقے الراشدین پہنچا ہی تھا کہ اسے روک لیا گیا۔ بہانہ یہ بنایا گیا کہ شام کے حکومت مخالف گروہوں میں تبادلے کی نوعیت پر اختلاف رائے پیدا ہو گیا ہے۔

شیعہ مہاجرین کا یہ قافلہ 36 گھنٹوں تک اس مقام پر رکا رہا اور تقریبا چار سو کے قریب دہشت گردوں نے اس کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ اس مدت میں مہاجرین کو کسی قسم کی سہولیات مہیا نہ کی گئیں۔ بچے بھوک سے بلکنے لگے۔ اسی اثنا میں ایک ویگن آتی دکھائی دی جو بظاہر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ بچوں کیلئے کھانے پینے کا سامان لائی ہے۔ قریب پہنچنے کے بعد ویگن میں سوار شخص نے بچوں میں چپس اور دیگر کھانے پینے کی چیزیں بانٹنا شروع کر دیں۔ جیسے ہی بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد اس کے گرد جمع ہوئی تو اس خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی دھماکے سے اڑا دی۔ اس دھماکے میں سو سے زیادہ افراد شہید ہو گئے جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں افراد زخمی بھی ہوئے اور 200 کے قریب افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ دہشت گرد عناصر نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اغوا کر لیا ہے۔

اس خوفناک حادثے میں متعدد ایمبولینسز اور چار بسیں مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گئیں اور ان میں سوار افراد زندہ زندہ جل گئے۔ یہ عام شہریوں کے قتل عام کا انتہائی بھیانک واقعہ تھا جو تکفیری دہشت گرد عناصر کی جانب سے انجام پایا۔ اس واقعے کی خبر دہشت گرد گروہوں کے کیمروں کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچی۔ یہ واقعہ شام کے شیعہ مسلمانوں کی مظلومیت کا ایک اور ثبوت ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دھماکے میں تقریبا ایک ٹن بارودی مواد استعمال کیا گیا جو تھکے ہارے شیعہ مہاجرین کی بڑی تعداد کی شہادت کا باعث بنا اور اس طرح سویلین افراد کا تاریخی قتل عام وقوع پذیر ہوا۔ کئی گھنٹوں تک کسی قسم کی امداد رسانی نہیں کی گئی بلکہ صرف ایک کلومیٹر اس طرف شام آرمی کے جوان، جو قافلے کا انتظار کر رہے تھے، کو بھی چیک پوسٹ سے عبور کر کے زخمیوں کی مدد کیلئے آنے کی اجازت نہ دی گئی جس کے باعث شہداء کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ ہو گیا۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ اس دلخراش واقعے کی تمام تر ویڈیوز اور تصاویر حکومت مخالف گروہوں سے وابستہ میڈیا نے شائع کیں جو درحقیقت اس مضایا اور الزبدانی سے آنے والے دہشت گرد عناصر کے قافلے کا انتظار کر رہے تھے۔ بعد میں اعلان کیا گیا کہ اس دھماکے میں دہشت گرد گروہ "تحریر الشام" کے بھی تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری النصرہ فرنٹ کے ذیلی گروہ "احرار الشام" نے قبول کی۔ دسیوں کیمروں کے سامنے انجام پانے والے اس خودکش بم دھماکے اور عام شہریوں کے وحشیانہ قتل عام کے بارے میں درج ذیل نکات قابل توجہ ہیں:

جیسا کہ جنیوا اور آستانہ مذاکرات اور دیگر مختلف مذاکرات میں ثابت ہو چکا ہے، شام کے حکومت مخالف دہشت گرد گروہ واحد نقطہ نظر کے حامل نہیں اور بارہا ایسا ہوا ہے کہ ان کے اندرونی اختلافات آپس میں شدید ٹکراو اور ایکدوسرے کے کمانڈرز کی ٹارگٹ کلنگ پر منتج ہوئے ہیں۔ لہذا حکومت مخالف گروہ ایک متفقہ فیصلہ کرنے سے عاری ہیں۔ اس بار بھی اگرچہ دہشت گرد گروہوں نے شام حکومت سے اس تبادلے پر اتفاق رائے کیا تھا لیکن ان کے اندرونی اختلافات اس عظیم قتل عام کا باعث بنے۔

یہ سانحہ مغربی عربی محاذ کو انتہائی مشکل صورتحال سے روبرو کر دے گا۔ چند ہفتے قبل خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں کے مشکوک استعمال کے صرف دو گھنٹے بعد ہی مغربی اور عربی میڈیا سے 130 رپورٹس نشر کی گئیں اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ بعض رپورٹرز نے اپنی رپورٹ اس حادثے سے پہلے ہی تیار کر رکھی تھی اور وہ صرف اس کے رونما ہونے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ جلد از جلد عالمی رائے عامہ کو شام حکومت کی مذمت کیلئے ہموار کر سکیں۔ عملی طور پر ایسا ہی ہوا اور وہ شک و تردید کا شکار نئے امریکی صدر کو شام پر میزائل حملوں کا فیصلہ کروانے میں کامیاب ہوئے۔ امریکہ نے 72 گھنٹے کے اندر اندر شام حکومت کے الشعیرات ایئربیس کو نشانہ بنا ڈالا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے کچھ بچوں اور خواتین کو کیمیائی ہتھیاروں سے متاثر ہوتا دیکھ کر شعیرات ایئربیس کو میزائلوں سے داغ دیا اور ان دسیوں جنگی طیاروں کو نابود کر ڈالا جو داعش اور تکفیری دہشت گرد گروہوں کے خلاف سرگرم عمل تھے، اس بار بھی بیگناہ بچوں اور خواتین کے قتل عام کی ذمہ داری قبول کرنے والے دہشت گرد گروہ احرار الشام کے خلاف 96 میزائل فائر کرتے ہیں یا نہیں؟ یا ان کا مقصد محض دہشت گردی کا نام استعمال کر کے اپنے علاقائی اور عالمی اہداف کے حصول کو یقینی بنانا، مزید فوجی اور اقتصادی معاہدے انجام دینے کیلئے اپنے عرب اتحادیوں کو راضی کرنا اور اپنے علاقائی اسٹریٹجک اتحادی یعنی اسرائیل کی قومی سلامتی کو یقینی بنانا تھا؟

خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال انتہائی مشکوک تھا جس کے بارے میں اب تک آزاد تحقیق انجام نہیں پائی۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی تھی۔ امریکہ نے خود ہی عدالتی اتھارٹی، جج اور لاء انفورسمنٹ پاور کے طور پر عمل کرتے ہوئے طاقت کا ناجائز استعمال کیا اور اقوام متحدہ کی جانب سے آزاد تحقیق پر زور دینے کی بجائے خود ہی شام حکومت کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرا کر یکطرفہ فوجی اقدام انجام دے ڈالا۔ جبکہ حلب کی آزادی کے بعد حکومت مخالف مسلح دہشت گرد عناصر کے خلاف مسلسل کامیابیوں اور پیشقدمی میں مصروف شام حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف معقول نظر نہیں آتا بلکہ ممکن بھی نہیں۔ امریکہ چاہتا تھا کہ جب تک عالمی رائے عامہ کی توجہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر مرکوز ہے اور حقیقی ذمہ دار بھی سامنے نہیں آیا، جلد از جلد فوجی اقدام کے ذریعے اپنے سیاسی اہداف حاصل کر لے۔ امریکی حکام کا دعوی ہے کہ انہوں نے الشعیرات ایئربیس پر حملہ کر کے انصاف قائم کیا ہے لیکن اب کیا وہ فوعہ اور کفریا کے بیگناہ خواتین اور بچوں کے قتل عام پر احرار الشام کے مراکز کو شدید میزائل حملوں کا نشانہ بنانے پر تیار ہیں؟

اسی طرح اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ، نکی ہیلی خان شیخون واقعے کے بعد کیمیائی ہتھیاروں سے متاثرہ بچوں کی تصاویر سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں لائی تھیں تاکہ صحافیوں اور رکن ممالک کو اس بات پر قائل کر سکیں کہ وہ شام کے خلاف مذمت کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیں۔ لیکن کیا اب بھی وہ حاضر ہیں فوعہ اور کفریا کے مہاجری کے قافلے پر ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں بچوں کی جلی ہوئی اور بسوں کی کھڑکیوں سے آویزاں لاشوں کی تصاویر سکورٹی کونسل لائیں؟ یہ خودکش دھماکہ ایسے دہشت گرد عناصر کے زیر قبضہ علاقے میں ہوا ہے جنہیں امریکہ اور مغربی ممالک "اعتدال پسند" کہتے ہیں۔ دہشت گرد گروہ احرار الشام نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر کے تمام شکوک و شبہات دور کر دیئے ہیں۔ اس حملے کے ذمہ داران کے بارے میں بھی کسی قسم کا شک و شبہہ نہیں پایا جاتا۔ حق تو یہ بنتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اس حملے کو جنگی جرم کا مصداق قرار دیتے ہوئے ذمہ دار گروہ کے خلاف قانونی اقدامات انجام دے لیکن چونکہ دہشت گردی مغربی اور عربی حکومتوں کے ہاتھ میں شام میں اپنے سیاسی اہداف کے حصول کا وسیلہ بن چکا ہے لہذا وہ صرف داعش کے اقدامات کی ظاہری طور پر مذمت کرتے ہیں۔

گذشتہ ایک سال سے روس کی جانب سے امریکہ پر شام میں سرگرم گروہوں میں سے دہشت گرد گروہوں کی نشاندہی کرنے کیلئے دباو ڈالا جا رہا ہے لیکن اب تک امریکہ نے ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے اکثر دہشت گرد گروہوں کو دہشت گرد تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور انہیں حکومت مخالف اعتدال پسند گروہوں کے طور پر پیش کرتا آیا ہے۔ لہذا فوعہ اور کفریا کے اہالی پر حالیہ خودکش حملے کے کئی دن بعد تک، جو جنگی جرم کا واضح مصداق اور کھلی دہشت گردی ہے، مغربی اور عربی میڈیا پراسرار خاموشی کا شکار رہا اور کسی قسم کی خبر یا تجزیہ پیش نہیں کیا گیا۔ جبکہ خان شیخون واقعے کے فوراً بعد ہی اس میڈیا نے پوری دنیا کو سر پر اٹھا رکھا تھا تاکہ عالمی سطح پر شام حکومت کو اس حملے کا ذمہ دار ظاہر کیا جا سکے۔

دہشت گرد گروہوں کی نظر میں فوعہ اور کفریا کے اہالی شام حکومت کے حامی تصور کئے جاتے ہیں لہذا ان کیلئے یہی جرم ان کا مال اور جان لینے کیلئے کافی ہے۔ مزید برآں، فوعہ اور کفریا کے اہالی گذشتہ دو برس سے دہشت گرد عناصر کے خلاف شدید مزاحمت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور مکمل طور پر محاصرے کا شکار ہونے کے باوجود انہیں اپنے علاقے میں گھسنے نہیں دیا۔ دہشت گرد عناصر اس مزاحمت کا بدلہ بھی لینا چاہتے تھے۔ اسی نقطہ نظر کے باعث ہم دیکھتے ہیں کہ دہشت گردوں کے حامی ممالک کی جانب سے فوعہ اور کفریا کے مہاجرین پر ہونے والے خودکش حملے اور خان شیخون کے مشکوک واقعے کا ردعمل کس حد تک مختلف ہے۔ دونوں حملوں میں شام کے شہری نشانہ بنے اور بچے اور خواتین اس کی بھینٹ چڑھے اور سب کے خون کا رنگ بھی ایک ہی تھا اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دونوں اقدامات جنگی جرائم کا مصداق تھے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی و عربی حکام اور میڈیا کا ردعمل کس قدر مختلف ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ شام میں جاری جنگ جو ساتویں سال میں داخل ہو چکی ہے، انتہائی طاقت فرسا ہو چکی ہے جبکہ دوسری طرف دہشت گرد عناصر ہر روز پسپائی پر مجبور ہو رہے ہیں اور روزانہ کئی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقے ان کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں لہذا وہ کھیل کے قوانین بدلنا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر یہ کہ خطے کے معروف عرب ممالک اور ترکی شام کے متعلق اپنے منصوبوں پر پانی پھرتا دیکھ رہے ہیں لہذا انہوں نے طیش میں آ کر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ سویلین افراد کے قتل عام میں دہشت گرد عناصر کیلئے ان کے مذہب کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ دہشت گرد گروہوں کی نظر میں ایک فرد کا سب سے بڑا جرم شام حکومت کی حمایت ہے، چاہے وہ شیعہ ہو، سنی ہو یا کرد ہو۔ جیسا کہ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ تکفیری دہشت گرد عناصر نے ادلب و دیگر علاقوں میں حکومت کے حامی سنی اور کرد افراد کو بھی انتہائی بے دردی سے قتل عام کیا۔

ہمیں امید ہے کہ دنیا کے بیدار ضمیر افراد اور گروہ، دہشت گردی سے مقابلے میں امریکہ اور اس کے مغربی، عربی اور علاقائی اتحادیوں کے دوغلے رویوں کا مشاہدہ کریں گے اور فوعہ اور کفریا کے مظلوم شیعہ اہالی کا ناحق بہنے والا خوان مغربی عربی میڈیا لابی کو رسوا کر ڈالے گا۔ یہ اہالی گذشتہ دو سال سے دہشت گردوں کے محاصرے کا شکار تھے اور اب شام حکومت کے زیر قبضہ علاقے سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھے کہ انہیں خون میں نہلا دیا گیا اور دہشت گردوں کے حامی مغربی و عربی میڈیا نے مجرمانہ خاموشی کے ذریعے اپنا حقیقی کریہہ چہرہ آشکار کر دیا۔ یہ میڈیا ہمیشہ سے شام میں موجود حقائق کو برعکس ظاہر کرتا آیا ہے اور دہشت گرد عناصر کو مظلوم اور شام حکومت کو ظالم دکھاتا آیا ہے۔

دلچسپ امر تو یہ ہے کہ شام میں سرگرم حکومت مخالف دہشت گرد گروہوں کی جانب سے جنہیں سب سے زیادہ انسانی ہمدردی کا حامل ظاہر کیا جاتا ہے، یعنی وائٹ ہلمٹس، اس خودکش حملے میں ان کا نام و نشان تک دیکھنے کو نہ ملا۔ مغربی ممالک اور میڈیا بھی وائٹ ہلمٹس کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتے ہیں اور انہیں کی ارسال کردہ تصاویر اور ویڈیوز شام حکومت کے خلاف وسیع پروپگنڈے کا ذریعہ بنائی جاتی ہیں۔ اگرچہ فوعہ اور کفریا کے اہالی پر دہشت گرد عناصر کے زیر قبضہ علاقے میں خودکش حملہ کیا گیا لیکن وائٹ ہلمٹس کا ایک فرد بھی وہاں نظر نہ آیا۔
خبر کا کوڈ : 629497
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب