0
Saturday 29 Apr 2017 00:29

دہشت گردی اور اس کے ناکام حامی

دہشت گردی اور اس کے ناکام حامی
تحریر: سعداللہ زارعی

حلب کی آزادی، اسلامی مزاحمتی بلاک اور اس کے اتحادیوں کی اس قدر اہم اور اسٹریٹجک کامیابی تھی کہ اسے بعد میں رونما ہونے والے واقعات جیسے دہشت گردوں کے دیوانہ وار حملے اور شام ایئرفورس کے الشعیرات ہوائی اڈے پر امریکہ کے میزائل حملے سے مربوط قرار دیا جا رہا ہے۔ لہذا مدمقابل کے یہ تمام اقدامات درحقیقت دفاعی نوعیت کے تھے جو ردعمل کے طور پر سامنے آئے اور کسی قسم کے "اسٹریٹجک" پہلو کے حامل نہ تھے۔ "اسٹریٹجک اقدام" ایسے اقدام کو کہا جاتا ہیں جو میدان جنگ کی صورتحال کو دگرگوں کرتے ہوئے جدید صورتحال کی پیدائش کا باعث بنتا ہے۔

اس پس منظر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران امریکہ، ترکی، سعودی عرب اور ان کے حمایت یافتہ دہشت گرد تکفیری گروہ شام کے سیاسی اور فوجی میدان میں بنیادی تبدیلی ایجاد کرنے میں ناکام رہے ہیں لہذا یہ اقدامات محض ٹیکٹیکل حیثیت کے حامل تھے۔ البتہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے میڈیا ذرائع کی مدد سے یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ شام میں انجام پانے والے ان کے اقدامات اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں اور اس طرح اپنے اقدامات کی اہمیت بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن عملی میدان میں انہیں کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور آخرکار وہ خود اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ مثال کے طور پر مشرقی حمص میں واقع شعیرات ایئربیس پر امریکی میزائل حملہ اسٹریٹجک نوعیت کا نہیں تھا اور وسیع میدان میں ایک "جزوی اقدام" محسوب ہوتا ہے۔ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

دہشت گرد گروہوں نے حلب میں ذلت آمیز شکست کا شکار ہونے کے بعد جس میں ان کے تقریباً دس ہزار افراد مارے گئے، 15 سے 17 ہزار دہشت گرد عناصر فوراً صوبہ حما منتقل کر دیئے گئے۔ ان عناصر نے بڑے پیمانے پر حملے کا آغاز کیا اور ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ ان عناصر نے "تحریر الشام فرنٹ" نامی جدید اتحاد قائم کیا اور ایک ماہ کے اندر اندر مغربی حما، جابرہ، مغربی حلب اور سہل القاب کے علاقوں پر قابض ہو گئے۔ تحریر الشام فرنٹ کے اعلی سطحی کمانڈرز کی جانب سے شائع ہونے والی اخبار کے مطابق ترکی، قطر اور سعودی عرب نے اس گروہ پر مزید پیشقدمی کیلئے دباو ڈال رکھا تھا لیکن اسی دوران شام آرمی اور اسلامی مزاحمت نے جوابی حملوں کا آغاز کر دیا۔ ان جوابی حملوں کے نتیجے میں، جو گذشتہ ایک ماہ سے جاری ہیں، نہ فقط دہشت گردوں کی پیشقدمی کو روک دیا گیا اور ان کے ہاتھ لگے علاقوں کو واپس لے لیا گیا بلکہ مزید پیشقدمی کرتے ہوئے دہشت گرد عناصر کو اور پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ یہ کامیابی ایسی صورت میں حاصل ہوئی ہے جب دہشت گرد عناصر اپنی فتح کو یقینی تصور کر چکے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے شام حکومت سے انجام پانے والی جنگ بندی کو بھی توڑ ڈالا تھا۔

ترکی، سعودی عرب اور قطر جنہوں نے دہشت گرد گروہ تحریر الشام کی لاجسٹک سپورٹ کا ذمہ اٹھا رکھا تھا، نے حما میں اس گروہ کی کامیابی سے توقعات وابستہ کر رکھی تھیں۔ ان کی نظر میں حلب میں شام آرمی اور اسلام مزاحمتی بلاک کی شاندار کامیابیوں کے پیش نظر مذاکرات میں شرکت کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آستانہ مذاکرات کے پہلے دور میں ترکی نے مذاکرات کی میز ترک کر دی اور سعودی عرب سے وابستہ عناصر نے بھی شام حکومت سے بات چیت کا سلسلہ ترک کر دیا۔ لہذا وہ آستانہ مذاکرات کے اگلے دور سے پہلے پہلے صوبہ حما میں نئی فتوحات حاصل کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے تاکہ ان کے ذریعے شام حکومت سے کوئی ڈیل کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ شام آرمی کو حاصل ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ترکی اور سعودی عرب کے حکام نے شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے سربراہان پر زور دیا ہے کہ شام حکومت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں اور بہتر یہ ہے کہ سیاسی مذاکرات کسی اور مقام پر منتقل کر دیئے جائیں۔

جنیوا کے حالیہ مذاکرات میں جب ڈی مستورا نے دیکھا کہ وہ سیاسی عمل کی قیادت کرنے کے قابل نہیں رہے تو انہوں نے مذاکرات کا ایجنڈا ہی تبدیل کر دیا اور دیگر مسائل کے بارے میں بات چیت کیلئے "عبوری حکومت کے قیام" کی شرط عائد کر دی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ شام کے حکومتی وفد کی جانب سے واضح طور پر عبوری حکومت کے قیام پر مبنی فارمولہ قبول کئے جانے کے باوجود مدمقابل نے اعلان کیا کہ اسے حکومت پر اعتماد نہیں۔ شک و تردید سے بھرپور یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد عناصر موجودہ صورتحال کو اپنے خلاف گردانتے ہیں۔ درحقیقت اقوام متحدہ ایک طرف تو اس لئے سرزنش کے لائق ہے کہ اپنی ذمہ داری ہونے کے باوجود شام میں خانہ جنگی کی شدت کم کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ دوسری طرف دہشت گرد عناصر کی جانب سے شام کی عوام اور حکومت کے خلاف جدید حملوں کا باعث بھی بنی ہے۔ اس سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو شام، اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت بن چکا ہے۔

اسی دوران امریکہ نے شام میں ایک فوجی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں کوئی اہم اور بنیادی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ خود اس اقدام نے بھی امریکہ کی حیثیت اور وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے کیونکہ فوجی اقدامات کو تجزیہ و تحلیل کرتے وقت اس بات کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ جب ایک سپرپاور کوئی جارحانہ اقدام انجام دیتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے ایک بڑی تبدیلی کی قیمت ادا کی ہے لیکن اگر اس اقدام کے نتیجے میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ اقدام ناکامی کا شکار ہوا ہے۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ فطری طور پر مدمقابل کو آزمانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے کیونکہ امریکہ اسے بارہا آزما چکا ہے۔ لہذا یہ کہا جا رہا ہے کہ جمعہ 7 اپریل کی صبح چار بجے انجام پانے والا یہ امریکی میزائل حملہ درحقیقت تین ممالک ترکی، سعودی عرب اور قطر کی درخواست پر انجام پایا ہے۔ اس فوجی اقدام کا جنیوا مذاکرات کے وقت پر انجام پانا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندے کی جانب سے "عبوری حکومت کے قیام" کو پہلی ترجیح کے طور پر پیش کرنا اور ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے آستانہ مذاکرات کو کم اہمیت ظاہر کرنے کی کوشش اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شام کے فوجی ہوائی اڈے پر امریکی حملے کی منصوبہ بندی میں یہ تینوں ممالک شریک تھے۔

قبرص کے ساحل سے دو طیارہ بردار جنگی جہازوں سے شام کے فوجی ہوائی اڈے الشعیرات پر میزائل حملے کے بعد جس کے نتیجے میں شام ایئرفورس کے کچھ جنگی طیارے اور فوجی سامان تباہ ہو گیا، یہ چہ میگوئیاں زور پکڑنے لگیں کہ شاید مستقبل میں بھی ایسی کاروائیوں کا سلسلہ جاری رہے لیکن امریکی حکام نے روسی حکام سے سرکاری ٹیلیفونک رابطوں اور ملاقاتوں کے ذریعے واضح کیا کہ وہ شام کے خلاف فوجی کاروائیاں جاری رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور اب بھی شام حکومت کے بارے میں ان کا وہی موقف ہے جو میزائل حملوں سے پہلے تھے۔ پس یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ الشعیرات ایئربیس پر امریکی میزائل حملے کا مقصد کیا تھا؟ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات میں اس بات پر تعجب کا اظہار کیا تھا کہ شام حکومت نے یہ جاننے کے باوجود کہ اس کا ہر اقدام شدید نظارت کے تحت ہے، اپنے مخالفین کے خلاف یہ کیمیائی حملہ کیوں انجام دیا ہے؟ انہوں نے اپنے اس تعجب کے ذریعے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ادلب کے علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں شام حکومت کے ملوث ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

الشعیرات ایئربیس پر حملے کے ذریعے امریکہ دو بنیادی مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ پہلا بنیادی مقصد امریکہ کی سکیورٹی عزت و وقار کی بحالی تھی جو خطے میں امریکہ کی مسلسل فوجی شکست کے باعث عوام کی نظر میں غیر موثر اور بے فائدہ ہو چکی تھی۔ امریکہ نے شام کے داخلی حالات سے سوء استفادہ کرتے ہوئے اور اس بات کا یقین کرتے ہوئے کہ شام حکومت فی الحال محدود فوجی اقدامات چاہے وہ شدید ہی کیوں نہ ہوں، کا جوابی ردعمل ظاہر نہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے، الشعیرات ایئربیس پر میزائل حملہ انجام دیا اور اس کے فوراً بعد ہی روسی حکام اور چند دیگر ممالک کے حکام سے رابطہ کر کے یہ اعلان کیا کہ وہ ایسے مزید اقدامات انجام دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اگرچہ امریکہ میں اسلامی مزاحمتی بلاک پر کاری ضرب لگانے کے کافی محرکات موجود ہیں لیکن الشعیرات ایئربیس پر میزائل حملے کے سلسلے میں وہ خاص طور پر ترکی، سعودی عرب اور قطر کے اکسانے پر اس فیصلے پر تیار ہوا ہے۔ دراصل امریکی حکام ترکی، قطر اور سعودی عرب کو یہ یقین دلانا چاہتے تھے کہ وہ شام میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
خبر کا کوڈ : 631614
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب