0
Tuesday 23 May 2017 01:01

ریاض کانفرنس، خطرے کی گھنٹی

ریاض کانفرنس، خطرے کی گھنٹی
تحریر: ڈاکٹر ابوبکر عثمانی

آخر ایسی کونسی انہونی ہوگئی ہے جو جناب چپ سادھے دم بخود ہیں۔ زیادہ عرصہ تو نہیں ہوا جو ’’اسلامک اتحاد‘‘ کی بلند بلند بانگ دیکر اسے اللہ کی رسی قرار دینے پر کمر بستہ تھے۔ اب تو واضح ہوگیا ناں، اس ڈور کا سرا کس شیطانی سربراہ کے ہاتھ ہے۔؟ اس کے ہلانے سے کونسے نئے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔؟ جن کے الٹے ہاتھوں پہ سیدھے سیدھے بوسے دیتے تھے، کیسے وہ بچھ بچھ گئے، اسی بزرگ کے آگے کہ جسے تم گالیاں دیتے تھے۔؟ کہاں گئے وہ تمہارے نعرے، اب کرو ناں لعن طعن۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کو۔ کل تک تو صرف ’’درس جہاد‘‘ لیتے تھے، مبارک ہو آج ’’درس اسلام‘‘ بھی لے لیا۔ جسے عالم اسلام کا سپہ سالار بنانے پہ کمربستہ تھے، اب خبر ہوئی کونسی نوکری اور کس کی چاکری کرنے گیا ہے وہ۔ دھوکہ میرے ساتھ نہیں تمہارے ساتھ ہوا ہے۔ تمہیں اسلام کے دفاع کے نام پہ بہکایا گیا۔ تحفظ حرمین کا نام لیکر تمہیں استعمال کیا گیا۔ دین کے نام پہ بددیانتی کی گئی تمہارے ساتھ۔ اب چپ کیوں ہو۔ تین حرف بھیجو اس لقمہ حرام پہ کہ جس نے تمہارے ایمان کو شیطان کے دامن میں گروی رکھا۔

خبر نہیں تمہارا خون کیوں نہ کھولا، جب سرزمین مقدس پہ اسلام کے نام پہ محفل سجا کر شیطان بزرگ کے نمائندہ اول کی آؤ بھگت کی گئی۔ معلوم نہیں آج تم سڑکوں پہ کیوں نہ نکلے، جب عالم اسلام کے حریف اول کو عالم اسلام کا سچا دوست پکارا گیا۔ لاکھوں بے گناہ شہیدوں کے لہو سے آج کیوں نظریں چرا رہے ہو، میں جانتا ہوں تم کل بھی مجبور تھے، آج بھی مجبور ہو، ڈالر و ریال کی چمک نے تمہاری آنکھیں اتنی چندھیا دی ہیں کہ سب کچھ دیکھ کر بھی تم کچھ دیکھنے کے قابل نہیں۔ ظاہری بصارت پہ ہی اکتفا ہے، بصیرت کبھی میسر ہی نہیں آئی تمہیں۔ تم مجبور ہو، اپنے مفادات سے، جو سعود و یہود نے اپنے پاس رہن رکھے ہیں۔ تم مجبور ہو اپنی حرص و ہوس سے، جو تمہاری بھوک کے بڑھاوے کا سبب ہیں۔ تم مجبور ہو اپنے خبث باطن سے جو تمہیں شیطان کی خدمت پہ آمادہ رکھتا ہے، وگرنہ آج تم یوں چپ سادھے دم بخود نہ ہوتے بلکہ ضرورتوں کے کشکول بیچ چوراہے میں پھوڑ کے خیمہ حق کی جانب رجوع کرتے۔ اسلام حقیقی کے پیروکاروں کے ہم آواز بنتے، مگر تم ایسا کر نہیں سکتے کہ تم مجبور ہو۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت عرب اسلامک کانفرنس کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے نریندر مودی پاکستان کے قومی سلامتی اجلاس کی صدارت کرے۔ اس کانفرنس میں مراکش کے شاہ ششم اور سوڈان کے صدر عمرالبشیر نے وہی کردار ادا کیا ہے جو کہ نار نمرود کو بجھانے میں ایک ننھی چڑیا۔ وہ جو اپنی چونچ میں اتنے بڑے الاؤ کو بجھانے کے واسطے پانی لیکر جا رہی تھی تو کسی نے کہا اے بے وقوف چڑیا تمہاری چونچ میں یہ معمولی سا پانی اس الاؤ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو جواب ملا کہ جانتی ہوں یہ معمولی پانی اس نار نمرود کا کچھ نہیں بگاڑ پائے گا، مگر جب آگ لگانے والوں اور بجھانے والوں کے نام لکھے جائیں گے تو میرا نام بجھانے والوں کی فہرست میں ہوگا۔ امریکہ کی جانب سے یورپین ناٹو کے بعد ’’سنی ناٹو‘‘ کا قیام دورس خطرناک نتائج اور اسلامی دنیا کی تباہی و تاراجی کی جانب پیشقدمی ہے۔ اسلامک ملٹری الائنس کے قیام کے ابتدائی مرحلے میں ہی اعلان کیا گیا تھا کہ یہ اتحاد دہشتگردی کے خلاف ہے۔ امریکہ نے اس اتحاد کا اعلانیہ اور اسرائیل نے غیر اعلانیہ خیرمقدم کیا۔

اب اس کانفرنس میں کہ جس کی صدارت امریکی صدر نے کی، دو ملکوں کو ’’دہشتگرد‘‘ قرار دیا گیا ہے، ایک کو براہ راست اور دوسرے کو نام لئے بغیر ’’عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔‘‘ امریکی صدر اور ’’سنی ناٹو‘‘ کے سربراہ نے مشترکہ طور پر ایران کو دشمن ڈکلیئر کیا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دہشت گردی سے متاثرہ ملک قرار دیا۔؟ بھارت میں دہشت گردی کون کرا رہا ہے۔؟ اس کا الزام کس پہ ہے۔؟ بھارتی میڈیا دہشتگردی کی مد میں کس کے خلاف واویلے میں مصروف ہے۔؟ سب بخوبی واقف ہیں۔ کہاں تو یہ دعوے کئے جا رہے تھے کہ فوجی اتحاد کی کمانڈ ایک پاکستانی کے پاس ہونے سے پاکستان کے مفادات کا بہتر تحفظ ہوگا اور کہاں اسی اتحاد کی پہلی بے ضابطہ نشست میں بھارتی دکھوں کا رونا رویا گیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں کو بیدردی سے نظرانداز کرکے دبے لفظوں میں اسے دہشتگرد قرار دیا گیا۔ وطن عزیز کے منتخب جمہوری وزیراعظم کو اس کانفرنس میں نہ ہی بولنے کا موقع دیا گیا اور نہ ہی امریکی صدر نے شرف ملاقات بخشا، حالانکہ دونوں کی خوب تیاری کی گئی تھی۔

امریکی ایماء پر تشکیل پانے والا ’’سنی ناٹو‘‘ فوجی اتحاد دو ممالک کیلئے مستقبل قریب و بعید میں انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔ اول، ایران جو کہ مشرق وسطٰی میں اپنا اثر رکھتا ہے اور اسرائیل کے خلاف تمام مقاومتی تحریکوں کا حامی ہے اور عراق و شام و لبنان یعنی اسرائیلی سرحد تک رسائی کا حامل ہے۔ اس رسائی کو کاٹنے کیلئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے تمام تر حربے آزمائے بالخصوص شام میں بزور طاقت حکومتی تبدیلی کیلئے مگر روس، چین کی حمایت و مدد سے ایران نے ان کے دانت کھٹے کئے۔ دوسرا ملک پاکستان جو کہ چین اور اسلامی دنیا کے درمیان ایک پل ہے اور ون بیلٹ ون روڈ ویژن میں کلیدی اہمیت و حیثیت کا مالک ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ پچاس سے زائد اسلامی ملکوں کو لنک کرتا ہے۔ امریکہ جسے ایک طرف اسرائیل کا تحفظ مقدم ہے اور دوسری طرف ون بیلٹ ون روڈ ویژن سے نالاں ہے۔ اس نے سعودی عرب کے ذریعے ان تمام مسلمان ملکوں کو اس نام نہاد اسلامی ملٹری اتحاد میں اکٹھا کیا، جو اس ویژن سے لنک ہیں۔

ان دونوں امریکی عزائم کا حصول ایسی طویل جنگ کی صورت میں نظر آرہا ہے، جو کہ خدانخواستہ (اسلامی دنیا) کے اندر لڑی جائے اور بنیاد ایسی ہو کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ تمام اسلامی ملک اس میں شریک ہوں۔ یعنی مسلک، جس کا ایک اشارہ سعودی جارحانہ بیانات میں بھی ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ایماء پہ تشکیل پانے والے اس عسکری اتحاد میں ایران، شام، عراق، لبنان وغیرہ شامل نہیں۔ پاکستان کہ جس نے یمن میں اپنی فوجیں نہ بھیج کر اور ساتھ یہ اعلان کرکے کہ اگر یہ فوجی اتحاد کسی اسلامی ملک کیخلاف ہوا تو پاکستان اس سے الگ ہوجائیگا، آل سعود کی نگاہ میں مورد الزام ہے، جس کا اظہار اس کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان سے تضحیک آمیز سلوک سے بھی ہوتا ہے۔ اس بات کا خدشہ شدید ہے کہ پاکستان کو سبق سکھانے اور امریکہ کے مذموم عزائم کے حصول کیلئے آل یہود آل سعود اس بڑی جنگ کی ابتداء کیلئے خدانخواستہ وطن عزیز کو میدان جنگ بنائیں اور دہشت گردی کے اپنے ازلی ہتھیار سے شیعہ سنی فسادات کے نام پر اہل وطن کو خاک و خون میں غلطاں کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے وطن عزیز کی سالمیت، عزت و وقار کو مقدم رکھیں اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ایسی خارجہ پالیسی مرتب کرکے اس پہ عمل پیرا ہوں، جس کا انجام جنگوں کے ایندھن کے بجائے امن و ترقی پہ منتج ہو۔
خبر کا کوڈ : 639475
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش