0
Saturday 3 Jun 2017 13:03

امام خمینی کی تابندہ شخصیت(1)

امام خمینی کی تابندہ شخصیت(1)
ترتیب و تنظیم: حیدر علی

تنگ و تاریک دنیا کو نور اسلام سے روشن کرنیوالے سید روح اللہ خمینی ۲۰ جمادی الثانی ۱۳۲۰ ھ؛ق مطابق ۲۴ ستمبر ۱۹۰۲ء کو ضلع خمین، صوبہ مرکزی کے علم اور ہجرت و جہاد کے جذبوں سے سرشار ایک گهرانے میں، زہرائے مرضیہ سلام اللہ علیہا کی اولاد میں سے عالم طبیعت میں قدم رکها۔ آپ ایسے آباء و اجداد کے صفات کے وارث تهے، جو نسل در نسل عوام کی ہدایت اور معارف الٰہیہ کے حصول میں کوشاں رہے تهے۔ امام خمینی کے والد گرامی مرحوم آیت اللہ سید مصطفی موسوی، آیت اللہ العظمی میرزائے شیرازی ؒ کے ہم عصر تهے، جو نجف اشرف میں کئی سال تک اسلامی علوم حاصل کرکے درجہ اجتہاد پر فائز ہونے کے بعد ایران واپس آئے اور خمین میں عوامی توجہ کا مرکز بن کر دینی امور میں ان کی رہنمائی کے تحت، فرائض انجام دینے لگے۔ ابهی سید روح اللہ کی ولادت سے پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گزرا تها کہ حکومت وقت کے حمایت یافتہ طاغوتی سرداروں نے آپ کے والد کے حق پسندانہ نعروں کا جواب گولی سے دیا اور آپ کو خمین سے اراک جاتے ہوئے راستے میں شہید کیا، کیونکہ سید مصطفی مرحوم نے ان سرداروں کی زور آزمائیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا تها۔ شہید مصطفی خمینیؒ کے لواحقین حکم قصاص الٰہی کے اجراء کےلئے (اس وقت دار الحکومت) تہران جا کر حصول انصاف کےلئے جد و جہد کرتے رہے، یہاں تک کہ قاتل سے قصاص لیا گیا۔ اس طرح روح اللہ خمینی بچپن میں ہی یتیمی کے غم میں مبتلا اور شہادت کے مفہوم سے آشنا ہوئے۔

سید روح اللہ خمینی کی زندگی کا پہلا دور (۱۹۰۲ء سے ۱۹۲۱ءتک):

روح اللہ کے بچپن اور نوجوانی کا دور ایران کے اجتماعی اور سیاسی بحرانوں میں گزرا۔ آپ ابتدائے زندگی سے معاشرے کی مشکلات اور درد و رنج سے آشنا تهے اور اپنے تاثرات کو ڈرائینگ کی صورت میں خطوط ترسیم کرکے ظاہر فرماتے تهے۔ گهر اور اطرافیوں کے ساختہ و پرداختہ دفاعی پناہ گاہ اور حوادث و مسائل کی بهٹی میں تپ کر ایک مکمل مجاہد میں تبدیل ہوچکے تهے۔ اس دور کے بعض متاثر کن حوادث دوران طفولیت و نوجوانی کی آپ کی ڈرائینگ اور خوش نویسی کی مشقوں میں منعکس ہوئے ہیں اور دسترس میں ہیں جیسے مجلس پر بمباری کرنے کا واقعہ۔ منجملہ ایک شعری قطعہ ہے جو آپ کی دوران نو جوانی کی ڈائری میں محفوظ ہے جس میں "غیرت اسلام کیا ہوئی اور قومی جوش و جذبہ کہاں ہے" کے عنوان سے ملت ایران سے خطاب ہے:
هان ای ایرانیان، ایران اندر بلاست مملکت داریوش دستخوش نیکولاست
آگاہ اے ایرانیوں، ایران بلا کا شکار ہے داریوش کی حکومت اتفاق سے اچهالا ہے

(کوثر، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام، چاپ اول: ۱۹۹۳ء جلد اول ص۶۱۵)

اس نوشتہ کو روح اللہ کے دوران نوجوانی کے پهلے سیاسی بیانیہ کے عنوان سے یاد کیا جاسکتا ہے اور ملکی مسائل کے حوالے سے آپ کی ذہنی تشویش کو سمجها جاسکتا ہے۔ روح اللہ بہادروں اور جنگجووں کی طرف اس قدر مائل تهے کہ جنگل تحریک میں میرزا کوچک خان کے وصف میں اشعار اور تقریر کے ذریعے لوگوں کو تحریک جنگل کی حمایت پر آمادہ کیا اور اس طرح سے اس تحریک کی حمایت میں عوامی مدد کا انتظام کیا اور آخرکار خود بنفس نفیس اس تحریک میں شامل ہونے کا مصمم ارادہ کیا۔ آپ نے موقع نکال کر جنگل کا سفر کیا اور میرزا کی پناہ گاہ کا نزدیک سے معائنہ کیا۔(روح اللہ الخمینی، سید علی قادری، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام ، چاپ سوم، بہار ۲۰۰۴ء، ص۲۳۲۔۲۳۶)

سید روح اللہ کی تعلیم:

آپ نے زبردست استعداد سے بہر مند ہونے کی وجہ سے علوم کے مختلف شعبوں کو بسرعت طے کیا۔ فقہ و اصول و فلسفہ کے علاوہ عرفان کی بهی عالی ترین سطح میں خمین و اراک و قم کے برجستہ اساتذہ کے نزدیک تعلیم حاصل کی۔ سید روح اللہ نے اراک میں تحصیل کے دوران میں ۱۹برس کی عمر میں مشروطہ کے ایک رہبر آیۃ اللہ طباطبائی کی یاد اور ان کی تجلیل مقام کی مناسبت سے ہونے والے ایک سمینار میں اپنا پہلا خطابیہ بیان پڑها اور حاضرین سے داد وصول کی۔ یہ خطابیہ بیان حقیقت میں ایک سیاسی بیانیہ تها جو علمدار مشروطیت کی خدمات و زحمات کی قدر دانی کی خاطر حوزہ علمیہ اراک کی جانب سے ایک جوان طالب علم کی زبان سے پڑها گیا۔ امام خمینی اس حوالے سے اپنی ایک یاد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مجھے منبر پر جانے کو کہا گیا، میں نے بهی قبول کرلیا، اس رات کم سویا، اس وجہ سے نہیں کہ لوگوں سے روبرو ہونے کا خوف دامنگیر تها بلکہ یہ سوچ رہا تها کہ کل ایسے منبر پر جاوں گا، جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق ہے، خدا سے مدد طلب کی کہ اول سے لے کر آخر تک کوئی ایسی بات نہ کہوں جس پر خود یقین نہ ہو اور خدا سے یہ طلب ایک عہد تها، جو میں نے اپنے خدا سے کیا تها۔ میرا پہلا منبر طولانی ہوگیا۔ لیکن کوئی خستہ نہیں ہوا۔ کچھ لوگوں نے داد و تحسین سے نوازا۔ جب دل سے پوچها تو معلوم ہوا داد و تحسین کی صدائیں اچهی لگ رہی تهیں، اسی وجہ سے دوسری اور تیسری دعوت رد کردی اور چار برس تک کسی بهی منبر پر قدم نہ رکها۔ (خمینی روح اللہ ، سید علی قادری، موسسہ تنظیم ونشر آثار امام، تیسرا ایڈیشن، بہار ۲۰۰۴ء، ص۲۶۰ کے بعد)

روح اللہ کی زندگی کا دوسرا دور (۱۹۲۱ء سے ۱۹۴۱ء تک):

روح اللہ کی زندگی کا یہ دور قم کی ہجرت سے شروع ہوا اور رضا خان کی دین کو سیاست سے دور کرنے کی سیاست کے ہمراہ ۱۹۴۲ء تک محیط ہے۔ اس دور میں روح اللہ تحصیل و تدریس، تالیف کتاب اور نوراللہ اصفہانی و مدرس اور بعض دوسرے بزرگ اور برجستہ جنگجو علماء سے آشنائی پیدا کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ رضا خان کے اس اختتامی دور میں علماء کا مقصد حوزہ علمیہ قم کی حفاظت تها۔ اس دور میں اس اقدام کی اہمیت ۱۹۷۹ء میں حکومت اسلامی کی تاسیس سے کم نہ تهی۔

روح اللہ کی زندگی کا تیسرا دور (۱۹۴۲ء سے ۱۹۶۱ء تک):

امام کی زندگی کا یہ دور چالیس برس سے آغاز ہوتا ہے اور دو اہم حوادث سے ہمکنار ہے، ایک دوسری عالمی جنگ، دوسرے ایران پر قبضہ۔ ایران سے رضا خان کا خروج اور محمد رضا کی سلطنت کا آغاز۔ امام کی نظر میں اصلاحی قیام کے لئے یہ بہترین موقع تها۔ امام خمینی کی تمام کوششوں اور اقدامات کے باوجود یہ قیام ممکن نہ ہوا۔ امام جو اس دور میں ایک کامل اور جامع الشرائط عالم اور ایک ہوشیار رہبر ہیں، اپنے علم اور اپنی سیاسی بصیرت سے رضا خان کے بیس سالہ دور کے تجربات کا بهر پور فائدہ اٹهاتے ہوئے ایک بیانیہ صادر فرماتے ہیں جس میں آپ اس امر کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ قیام کے لئے یہ بہترین موقع ہے کیونکہ آپ ایران اور دنیا کے حالات کا بخوبی علم رکهتے ہیں، اس بیانیہ میں آپ فرماتے ہیں کہ آج وہ دن ہے جب نسیم روحانیت چل رہی ہے اور اصلاحی قیام کے لئے بہترین دن ہے۔ اگر موقع ہاتھ سے نکل گیا اور خدا کے لئے قیام نہ کیا اور دینی رسومات کا بول بالا نہ کیا تو کل تم پر کچھ اوباش اور شہوت پرست افراد مسلط ہوں گے اور اپنے باطل اغراض و مقاصد کے لئے تمہارے آئین و شرف سے کهلواڑ کریں گے۔ (صحیفہ امام، ج۱، ص۲۱)

روح اللہ کی زندگی کا چوتها دور (۱۹۶۱ء سے ۱۹۸۹ء تک):

اس دور کا آغاز دو ناگوار حادثات سے ہوتا ہے، ایک آیۃ اللہ بروجردی کی رحلت (۳۰/مارچ ۱۹۶۱ء)، جس کو عالم اسلام کے لئے ایک عظیم سانحہ اور دشمنان ایران و اسلام کے لئے رکاوٹوں کے خاتمہ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے آیۃ اللہ کاشانی، استعمار برطانیہ سے نبردآزما بہادر کی رحلت، ان کے نام سے ایران و اسلام کے دشمنوں کے جسم پر لرزہ طاری ہوجاتا تها۔ امور مملکت پر امریکہ کے تسلط سے امریکی اصلاحات کے نفاذ کے لئے شاہ پر دباؤ بڑهتا گیا اور اصلاحات ارضی اور صوبائی انجمنوں کے لائحہ عمل کی صورت میں رونما ہوا، جو ظاہر میں عوام فریب تها لیکن حقیقت اور باطن میں ایک منحوس اتحاد کی خبر دے رہا تها اور امریکہ و اسرائیل اور ان کے عوامل کے تسلط کی مملکت کے تمام امور پر راہیں ہموار کررہا تها۔ اس وقت امام نے امریکی اصلاحات کا ڈٹ کر مقابلہ اور شاہ نے اس کی تلافی کے لئے ۱۹۶۳ء میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی شہادت کے دن مدرسہ فیضیہ پر حملہ کردیا۔ اس حادثہ میں کچه طلاب اور علماء شہید اور مجروح ہوئے، امام نے حادثہ فیضیہ کے چہلم کی مناسبت سے ایک پیغام میں اس راز سے پردہ اٹهایا، فرمایا کہ میں مصمم ہوں کہ خاموش نہ بیٹهوں، جب تک کہ فاسد حکومت کا قلع قمع نہ کردوں۔ امام نے ۳ جون ۱۹۶۳ء کو مدرسہ فیضیہ میں ایک تاریخی تقریر کی اور شاہ نے امام کی آواز کو دبا دینے کا حکم صادر کیا۔

۴ جون ۱۹۶۳ء کو شام کے وقت امام کو گرفتار کرکے زندان قصر منتقل کردیا گیا۔ ۵ جون کو امام کی گرفتاری کی خبر تہران اور دوسرے شہروں میں جنگل کی آگ کی طرح پهیل گئی اور لوگ سڑکوں پر ابل پڑے اور یا موت یا خمینی، کا نعرہ لگاتے ہوئے قصر شاہ کی کی طرف روانہ ہوئے اور قیام کو شدت کے ساته کچل دیا گیا اور کشت و کشتار پر تمام ہوا۔ پانچ جون کا قیام رہبر انقلاب کی ترکیہ اور اس کے بعد عراق جلاوطنی پر علی الظاہر سست پڑگیا۔ امام کے بڑے صاحبزادے مصطفی کی ۱۹۷۸ء میں رمز آمیز شہادت نے اس قیام کے پیکر میں تازہ روح پهونک دی۔ ۷ جنوری ۱۹۷۸ء میں روزنامہ اطلاعات میں امام اور روحانیت کے بارے میں ایک توہین آمیز مقالہ شائع ہوا، جس سے مذہبی حلقوں میں شدید اعتراض کی لہر دوڑ گئی اور یہ لہر ۹ جنوری ۱۹۷۸ء کے قیام کا موجب ہوئی۔ ۱۰ جنوری کو قم میں شہید ہونے والے شہداء کے چہلم کا پروگرام تبریز، اصفہان، یزد، شیراز اور دوسرے شہروں میں پیام کی صورت میں جاری رہا اور ۸ ستمبر ۱۹۷۹ء کے قتل و کشتار پر تمام ہوا اور یہ سلسلہ شاہ کے ایران سے فرار اور امام کی وطن واپسی تک چلتا رہا۔ ایرانی عوام نے اپنے بے سابقہ استقبال کے ضمن میں بہشت زہرا میں اما م کی تاریخ تقریر سنی اور ۲۱ بہمن ۱۹۷۹ء کو نظامی حکومت کو لغو کرنے کے حوالے سے آپ کے سرنوشت ساز حکم کو دل و جان سے تسلیم کیا۔ بہادر اور شجاع ملت نے امام کے حکم سے شاہ کی فوج کے حملے کو روکنے کے لئے شہر کے حساس علاقوں میں اپنی بے مثال استقامت و فداکاری کا نمونہ پیش کیا اور بغاوت کرنے والوں کے منصوبہ کو نقش بر آب کردیا اور ان کو کسی طرح کی کوئی مہلت نہ دی اور سرانجام ۵ جون کے قیام کی کامیابی ۱۱ فروری ۱۹۷۹ء کو سننے کو ملی۔

امام خمینی کی رہبریت اور لوگوں کا عشق انقلاب کی کامیابی کی ضمانت بنے:

۱۱ فروری کی صبح سے لے کر ۳ جون ۱۹۹۰ء تک بے شمار سنگین حوادث رونما ہوئے اور ان تمام حادثات کا محور امریکا کی مخاصمانہ کارروائیاں رہیں اور تمام مغربی ممالک نے اس میں اس کا ساتھ دیا اور سب نے مل کر ایران میں دائیں اور بائیں بازو کی مختلف پارٹیوں کی مدد سے اسلامی انقلاب کا مقابلہ کیا، لیکن سب کو منہ کی کهانی پڑی۔ ان حادثات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ جس کو چند سطروں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے صرف ایک حملے میں کہا جاسکتا ہے کہ ان حوادث میں سے ہر ایک تنہا انقلاب کے رخ کو موڑ سکتا تها اور انقلاب کو شکست سے دوچار کرسکتا تها۔ لیکن الطاف و عنایات خداوندی، امام کی ذہانت اور ملت ایران کی وفاداری اور آگاہی نے ان کے تمام منصوبوں اور سازشوں کو اس طرح نقش برآب کیا، جب ملت ایران گیارہ برس سختیاں اور مشکلات برداشت کرنے کے بعد اپنے عظیم الشان رہبر کے پیکر مطہر کو وداع کہنے کے لئے آئی تهی تو اس کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ تهی، جو تعداد آپ کے ایران واپسی کے موقع پر تهی۔ لوگوں کا عشق اور ان کی استقامت عمیق تر اور امام اور انقلاب کی راہ پر چلنے کے لئے ان کا عزم و ارادہ پختہ تر اور تمام سازشوں اور حوادث کے باوجود ان کا نظام ہر زمانے سے زیادہ پرثبات اور مستحکم تر تها۔ آپ کی روح شاد ہو اور آپ کی راہ پر چلنے والوں کی کثرت ہو۔
خبر کا کوڈ : 642608
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے