0
Saturday 3 Jun 2017 00:34

عشق خمینی(رہ)

عشق خمینی(رہ)
تحریر: ارشاد حسین ناصر

خدا کے فضل و کرم سے پرسکون دل، مطمئن قلب، شاد روح اور پرامید ضمیر کے ساتھ بہنوں اور بھائیوں کی خدمت سے رخصت ہوتا ہوں اور ابدی منزل کی جانب کوچ کرتا ہوں۔ آپ لوگوں کی مسلسل دعاؤں کا محتاج ہوں اور خدائے رحمٰن و رحیم سے دعا کرتا ہوں کہ اگر خدمت کرنے میں کوئی کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو تو مجھے معاف کر دے اور قوم سے بھی یہی امید کرتا ہوں کہ وہ اس سلسلے میں کوتاہی اور کمی کو معاف کرے گی اور پوری قوت اور عزم و ارادے کے ساتھ آگے کی سمت قدم بڑھائے گی۔۔۔۔ یہ امام خمینی تھے، جن کی وصیت کے یہ جملات تاریخ کا بہت ہی خوبصورت اور عدیم المثال حصہ ہیں، دنیا بھر میں جب حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت جانگداز کی خبر نشر ہوئی تو گویا ایک زلزلہ آگیا تھا۔ ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے تھے، لوگوں میں ضبط کا یارا نہ رہا اور پوری دنیا میں وہ لوگ جو حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ سے محبت کرتے تھے نہ صرف رو پڑے تھے بلکہ ہر سو سیاہ پوشی کا سماں بن گیا تھا، گویا عاشورائی ماحول صرف ایران میں ہی نہیں تھا، جہاں آپ انقلاب لے کے آئے تھے بلکہ ہر سو ، ہر ملک میں خمینیوں کیلئے یہ خبر کسی قیامت صغریٰ سے کم نہیں تھی اور ایران سمیت پوری دنیا میں حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے چاہنے والوں میں نالہ و شیون کا شور تھا۔ کوئی بھی اس عظیم سانحے کے پہلوؤں اور عوام کے جذبات کو بیان کرنے کی سکت و توانائی نہیں رکھتا۔ ایرانی عوام اور انقلابی مسلمان بجا طور پر اس طرح کا سوگ اور غم منا رہے تھے۔ اپنے رہبر و قائد کو آخری بار دیکھنے، رخصت اور انہیں الوداع کہنے کے لئے سوگواروں کا اتنا بڑا سیلاب تاریخ نے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا۔

ان سوگواروں میں ہر عمر اور ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے شامل تھے، بچے، بوڑھے، جوان، خواتین، لڑکیاں، علماء، بزرگان آیات عظام، سفرا، زعماء، طلباء، دیگر مذاہب اور ممالک کی شخصیات اور انسانوں کا سمندر تھا، جو اپنے محبوب کی عقیدت اور غم میں رواں دواں تھا۔ تہران سے پیادہ انسانوں کا سمندر ماتم کناں بہشت زہرا کی جانب رواں دواں تھے۔ ظاہر ہے یہ سوگواران ایسی ہستی کو الوداع کہنے نکل کھڑے ہوئے تھے کہ جس نے ان کی پائمال شدہ عزت کو دوبارہ بحال کر دیا تھا، جس نے ظالم و جابر شاہوں اور امریکی و مغربی لیڈروں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مسلمانوں کو عزت و وقار عطا کیا تھا۔ اسلامی جمہوری نظام کی تخلیق کی تھی۔ جس کی بدولت ایرانی مسلمان دنیا کی جابر اور شیطانی طاقتوں کے مدمقابل اٹھ کھڑے ہوئے اور دس برسوں تک بغاوتوں اور کئی ایک منظم سازشوں اور ملکی و غیر ملکی آشوب و فتنہ کے مقابلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے رہے اور آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران شجاعت کی ایسی تاریخ رقم کی، جس کی مثال رہتی دنیا تک دی جاتی رہیگی، اس لئے کہ ایک طرف اکیلا ایران اور دوسری جانب مدمقابل ایسا دشمن تھا، جس کی مشرق و مغرب کی دونوں بڑی طاقتیں وسیع حمایت کر رہی تھیں۔ ایسی ہستی کو خراج تحسین اور عقیدت کا اظہار کرنا ایسا ہی حق تھا، شاعر نے شائد انہی کیلئے کہا تھا کہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دید آور پیدا


مجھے یاد ہے کہ سخت گرمی تھی، ان دنوں ہم اپنے شہر میں بہت فعال تھے اور تنظیمی سیٹ اپ قائم کرنے کے بعد مسلسل انقلاب سے لوگوں کو وابستہ رکھنے کیلئے انقلاب کی فلمیں، جنگی موویز اور انقلاب کی سالگرہ کی ڈاکیومنٹریز گاؤں گاؤں جا کر دکھاتے تھے۔ ہمیں جیسے ہی خبر ملی ہم دیوانوں کی طرح شہر میں نکل کھڑے ہوئے اور کیا اہلسنت، کیا دیوبندی سب کی مساجد میں جا کر اس جانگداز خبر کا اعلان ایسے کرنے نکل کھڑے ہوئے جیسے کوئی اپنی فوتگی ہو جائے تو مساجد میں اعلان کرنے کیلئے بچوں کو بھیج دیتے ہیں۔ ہمارے ایک ساتھی کے پاس بائیسکل تھی، وہ ڈرائیو کر رہے تھے اور میں پچھلی سیٹ پہ بیٹھا تھا، شہر بھر کی مساجد میں اعلان کیا گیا کہ امت مسلمہ کو یہ خبر نہایت ہی دکھ اور غم کیساتھ سنائی جا رہی ہے کہ امام امت حضرت امام خمینی اس دار فانی سے دار بقا کو کوچ کر گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ یہ اعلانات کرتے ہوئے ہم دیوبندی مکتب فکر کی شہر کی سب سے بڑی مسجد جامعہ فاروقیہ میں بھی چلے گئے تھے، جہاں ہال میں جا کر دیکھا تو کچھ بزرگ قسم کے لوگ سو رہے تھے، ہم نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ لاؤڈ سپیکر کا بٹن کدھر ہے، اس نے پوچھا کیا اعلان کرنا ہے، میں نے کہا جی فوتگی کا اعلان کرنا ہے، اس نے بتایا کہ وہ بٹن ہے، میں نے دو بار اعلان کرکے جلدی سے نکلنے کی راہ لی، باہر بائیسکل تیار تھی، جس پر اس وقت کے سید ظہیر الحسن اور آج کے مولانا سید ظہیر الحسن آف امریکہ جو ولایت ٹی وی کے روح رواں ہیں، موجود تھے، بس ہم جلد از جلد اس ایریا سے نکل گئے، جہاں ہمیں کچھ کہا جا سکتا تھا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ اعلان سن کر کئی دکاندار جو دیوبندی تھے، مسجد آگئے تھے اور ہمیں تلاش کیا جا رہا تھا۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت امام خمینی سے عشق اور ان کی محبت میں ہم جیسے بھی کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے تھے، کجا یہ کہ وہ لوگ جنہوں نے ان کیساتھ ملکر انقلاب برپا کیا اور دنیا کو اپنے مدمقابل پایا تھا۔

جو لوگ امام خمینی کے جنازے اور رحلت کے واقعات سے آگاہ ہے، انہیں بخوبی علم ہے کہ کتنے لوگ ان کے غم میں حرکت قلب بند ہو جانے اور کتنے ہی لوگ جلوس جنازہ کے رش میں جان سے چلے گئے۔ اس مقصد کیلئے اب بھی وہ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تدفین اور تشییع جنازہ کی تصویریں اور فلمیں دیکھیں اور حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کی خبر سن کر آپ کے دسیوں چاہنے والوں اور شیدائیوں کی حرکت قلب اچانک رک جانے اور ان کی موت واقع ہو جانے اور اس سانحے کی تاب نہ لانے کے واقعات سنیں اور تشییع جنازے کے دوران شدت غم سے سینکڑوں بیہوش سوگواروں کو لوگوں کے ہاتھوں اسپتالوں اور طبی مراکز تک پہنچائے جانے کے مناظر، تصویروں اور فلموں میں دیکھیں تو ان کی توصیف کرنے سے عاجز رہ جائیں گے، لیکن جنہیں عشق حقیقی کی معرفت ہے اور جنہوں نے عشق کا تجربہ کیا، ان کے لئے یہ ساری باتیں اور واقعات سمجھ لینا مشکل نہیں ہے۔ امام خمینی کے بارے رہبر معظم نے فرمایا تھا کہ خمینی سے عشق تمام خوبیوں اور اچھائیوں سے عشق ہے، یہ بات بہت معمولی نہیں بلکہ اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا نے آپ کے جنازے کے شرکاء کی تعداد نوے لاکھ بتائی تھی، جو ان کی جلاوطنی سے واپس ایران آنے اور تاریخی استقبال سے کہیں زیادہ تھی۔

اس بات میں کسی کو بھی شک و شبہ نہیں ہے کہ بیسویں صدی کا یہ عظیم انسان اور دلوں پر حکمرانی کرنے والی ہمارے دور کی سب سے بلند مرتبہ شخصیت آج بھی دنیا بھر کے آزادی و حریت کا شعار بلند کرنے والوں اور ظالموں و جابروں، شاہوں و آمروں سے ٹکرا کر اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کیلئے مکمل راہنمائی کا ذریعہ اور نام ہے۔ اس عظیم مسیحا اور روشنی کے مینار کا کردار ظلم کی چکی میں پسنے والے اور مظلوم بنا دیئے گئے پا برہنہ لوگوں کیلئے مشعل راہ اور کامیابی کی کلید ہے۔۔۔۔۔۔ یہ اگرچہ سخت اور مشکل راہ ہے، تکلیفوں اور مصائب کی راہ ہے، قربانیوں و ایثار کی راہ ہے، دکھوں اور غموں کی راہ ہے، جان گنوانے کی راہ ہے، مگر یہ آزادی، حریت، غیرت، حمیت اور آئندہ آنے والی نسلوں کا مستقبل سنوارنے کی راہ ہے۔ اگر ہم اس وقت دنیا کے نظاموں اور مملکتوں و ریاستوں کے حالات اور صورت حالات کا جائزہ لیں تو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ خمینی آج بھی لوگوں کے دلوں اور زمانے کی سیاست پر حکمران ہے۔ امام خمینی کا نظریہ اس وقت بھی زندہ ہے، اس نظریہ کو محفوظ بنانے اور اور اگلی نسلوں میں منتقل کرنے والے زندہ ہیں، اگر یقین نہیں آتا تو آج یمن کو دیکھ لیں، بحرین کا جائزہ لیں، لبنان آپ کے سامنے، عراق کو دیکھ لیں ،کہاں گیا وہ پالتو صدام اور اس کا انتقام، صدام نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا ہوگا کہ کبھی ایسا وقت بھی آئیگا، جب عراق میں خمینی کی تصویر والا ریال بطور کرنسی استعمال ہوگا اور خمینی کے وہی جیالے و عاشق جنہوں نے امام کے حکم پر صدام کی مسلط کردہ جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے، ان کی نسلیں اس عراق کو بچانے کیلئے میدان میں آن کھڑے ہونگے۔

مگر دنیا جانتی اور پہچانتی ہے کہ آج عراق کو عالمی سازشوں اور تکفیری دہشت گردوں سے بچانے کیلئے نجانے کتنے قاسم سلیمانی وہاں پہنچے ہیں، شام میں دیکھیں فرزندان روح اللہ دنیا بھر سے استعمار کے چیلوں کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہیں، دہشت گردوں کی مدد پوری دنیا کر رہی ہے، مگر فرزندان روح اللہ انہیں خاک چاٹنے پر مجبور کر رہی ہے۔ ان شاء اللہ انہیں بھی سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ حجاز مقدس پر قابض حکمران آج کھل کر ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کو ساتھ ملائے بہت سی کمزور ریاستوں کو ملا کر انقلاب کے خاتمے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اور تو اور ان کے امام زمانہ کے مدمقابل کھڑا ہونے اور ان کے انقلاب و حکمرانی کا راستہ روکنے کے اقدامات بوکھلاہٹ کو ثابت کرتے ہیں، مگر ایران بہت ہی پرسکون ہے۔ اس تمام خطے میں تمام ممالک جنہوں نے دوسروں کیلئے گڑھے کھودے، خود ان میں گرے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ واحد ایران ہے جہاں بالکل امن ہے، ہر سو ماحول پر سکون ہے، ایران کل بھی اصولی ریاست تھی، آج بھی اصولوں کی بنیاد پر کھڑی ہےم وہی اصول جو بنیان گذار انقلاب روح اللہ حضرت امام خمینی نے وضع اور نافذ کئے۔ اس لئے اسے کسی سے کوئی خطرہ نہیں، انہیں کسی سے ڈر یا خوف نہیں۔ انہوں نے پابندیوں کے سائے میں ہی تمام تر ترقی کی ہے اور اسی ماحول میں پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آج امام کا ایران اوائل انقلاب کا ایران نہیں، جس پر حملہ کرکے اسے ختم کرنے کی سازش کی گئی تھی۔ آج کا ایران مضبوط، توانا، ترقی یافتہ، متحد، جدید اسلحہ سے لیس ایران ہے، جس پر اگر حملہ کیا جاسکتا تو کئی برس پہلے کر لیا جاتا۔ آج ایران خطے کی سب سے منظم اور ناقابل تسخیر قوت بن چکا ہے۔ امام خمینی کے جانشین ولی امرالمسلمین آیۃ اللہ خامنہ ای کی بابصیرت قیادت نے ایران کو بے حد مضبوط کر دیا ہے، ان کیساتھ عوام کی طاقت ہے، ابھی ایران کے بارہویں صدارتی الیکشن میں ایک بار پھر ایران کے عوام نے اس نظام اور رہبریت پر ووٹ کی پرچی کے ذریعے بھی اعتماد ثابت کر دیا ہے۔ استعمار اس کے باوجود ایران کے خلاف سازشوں کے جال بننے میں مشغول ہے، خداوند کریم کی مدد و نصرت سے ہم سب امام خامنہ ای کی رہبری میں امام وقت کے لشکر میں شامل ہو کر دشمنان خدا سے اقتدار چھین کر مظلوموں اور کمزوروں کے سپرد کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 642788
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب