0
Sunday 4 Jun 2017 12:45

ایک انقلاب ہزار چراغ

ایک انقلاب ہزار چراغ
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

سیاہ لباس میں ملبوس لوگوں کے ہاتھوں میں ماتمی پھولوں کے گلدستے اور آنکھوں میں اشکوں کے دریا تھے، عوام کا یہ سمندر سڑکوں پر رواں دواں تھا اور فضاء میں ایک ہیلی کاپٹر تابوت کو اُٹھائے ہوئے محو پرواز تھا، کافی دیر تک لوگ چلتے رہے اور ہیلی کاپٹر پرواز کرتا رہا۔ بلآخر تابوت کو دفن کرنے کے لئے مخصوص احاطے میں ہیلی کاپٹر اترا اور تابوت کو باہر لایا گیا تو ایک کروڑ کا ہجوم سمندر کی موجوں کی طرح تابوت کی طرف بڑھا۔ لوگوں نے انتظامیہ سے تابوت لے لیا، اب تابوت ایک کروڑ افراد کے ہاتھوں پر تیر رہا تھا، لوگ رو رہے تھے، گریہ کر رہے تھے، تابوت پر پھول پھینک رہے تھے اور تابوت کو چوم رہے تھے۔ عشق و محبت کے ایسے مناظر چشم ہستی نے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ جس طرح امام خمینی (رحمۃاللہ تعالٰی علیہ) کی زندگی طاغوت کے لئے سد راہ تھی، اسی طرح آپ کا جنازہ بھی موجودہ صدی میں طاغوت کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہوا، ایسا ریفرنڈم کہ جس نے طاغوت کی شان و شوکت اور رعب و دبدبے کی مکمل نفی کر دی، عوامی اجتماع نے 4 جون 1989ء کو بہشت زہراء میں طاغوت عالم پر واضح کر دیا کہ تم مکرو و فریب کے ذریعے اقوام عالم کو گمراہ کرتے ہو، جبکہ اسلام حقائق و حقیقت کی روشنی میں ملتوں کو بیدار کرتا ہے۔

4 جون 1989ء کو لوگ روتے رہ گئے، عرفاء آہ و بکا کرتے رہے، عشاق گریہ کناں رہے اور یوں حضرت امام حسن (علیہ السلام) کے صبر، شجاعت اور علم و عمل کا وارث یہ جلیل القدر فقیہ پورے عالم اسلام کو سوگوار چھوڑ کر عالم بقاء میں اپنے جد نامدار حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی طرف کوچ کر گیا۔ حضرت امام خمینی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) نے عالمِ اسلام میں انقلاب اور بیداری کی جو لہر پھونکی تھی، آپ کے وصال کے بعد بھی اس کی لہریں ذہنوں کو مسخر اور دلوں کو فتح کرتی چلی جا رہی ہیں۔ حضرت امام خمینی نے مسلمانوں کو بادشاہوں اور مغربی طاقتوں کی غلامی کی ذلت سے نجات دلانے کے لئے انہیں یہ شعور دیا کہ وہ اپنے انسانی حقوق کو حقیقی معنوں میں حاصل کرنے کے لئے بیدار ہو جائیں اور اٹھ کھڑے ہوں۔ انبیاء کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والی ہستیوں نے انسانوں کو مادیت کی نیند سے جگا کر اور ان کی معنویت کی مہار کھینچ کر کبھی قافلہ بشریت کو آب زمزم تک پہنچایا، کبھی تفکر آدمیت کو کھینچ کر فرات کی تشنگی میں ڈبویا اور کبھی معنویت انساں کو حوضِ کوثر سے سیراب ہونے کا نقشہ بتایا۔

ہر نبی، ہر معصوم اور راہِ خدا کے ہر رہبر نے عالم بشریت کے درمیان بیدار ہو جاو، بیدار ہو جاو کی ندا دی ہے۔ خالق کی طرف سے مخلوق کی بیداری کی صدا اس لئے ہر دور میں گونجتی رہی ہے کہ اگر انسان بیدار ہو جائے تو وہ آن واحد میں کائنات کی کایا پلٹ سکتا ہے اور پلک جھپکنے سے پہلے حر (ع) کی طرح جہنم سے جنت میں پہنچ سکتا ہے، انسان بڑے سے بڑا انقلاب لا سکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ انسان بیدار ہو جائے، بیدار ہو جائے۔۔۔۔ حضرت امام خمینی کی اسلامی بیداری کی تحریک دراصل پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تحریک کا ہی تسلسُل اور نواسہ رسول حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قربانی کا ہی ثمر ہے۔ آج اطرافِ عالم میں یہ جو "مسلمانو! بیدار ہو جاو" کی آواز سنائی دے رہی ہے، یہ دراصل حضرت امام خمینی کی ہی آواز ہے۔

یہ جو آج ہر طرف انقلاب کے چراغ جل رہے ہیں، یہ بیداری کی تحریکیں، یہ شعور و آگہی کی مشعلیں، یہ تفکر و تدبر کی انجمنیں، یہ قرآن و تفسیر کی روشنیاں، یہ صاحبانِ علم و فکر کی محفلیں، یہ حریّت و آزادی کی آوازیں، یہ آزادی اور جمہوریت کی تحریکوں کا وجودِ مبارک، یہ تحقیق و جستجو کی سلسبیل، یہ انقلاب اور بیداری اسلامی کے موضوع پر مقالہ جات اور سیمینار، یہ میڈیا میں انقلاب، انقلاب کی دہائی، یہ مجلوں میں بیداری اسلامی کا شور و غل، یہ مسلمانوں میں بیداری اور انقلاب کی تڑپ، یہ صدام کی رسوائی، یہ طالبان کی نقاب کشائی، یہ قذافی کے ڈرامے کا خاتمہ، یہ عراق میں امریکی استعمار کا بھرکس بننا، یہ مصر اور تیونس میں آمریّت کا ملیامیٹ ہونا، یہ نائجیریا میں عوامی بیداری، یہ بحرین میں قیام، یہ آزادی و حریت کی ساری تحریکیں، یہ ساری انجمنیں، یہ ساری قندیلیں، یہ ساری ملتیں، یہ ساری اقوام، حضرت امام خمینی کی محتاج و ممنون ہیں۔ بلاشبہ حضرت امام خمینی نے اسلامی بیداری اور ملی شعور کی خاطر جو چراغ جلایا تھا، آج اس چراغ سے ہزاروں چراغ روشن ہوچکے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 643298
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے