0
Tuesday 6 Jun 2017 01:05

سندھ کے آئندہ مالی سال 2017،18 کا 10 کھرب 43 ارب روپے سے زائد کا بجٹ، رپورٹ

سندھ کے آئندہ مالی سال 2017،18 کا 10 کھرب 43 ارب روپے سے زائد کا بجٹ، رپورٹ
رپورٹ: ایس جعفری

سندھ کے آئندہ مالی سال 2017،18 کا 10 کھرب 43 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کو سندھ اسمبلی میں بجٹ پیش کیا، بجٹ میں 14 ارب 32 کروڑ روپے کا خسارہ ہوگا، کل ترقیاتی بجٹ 3 کھرب 44 ارب روپے ہے، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، 49 ہزار سے زائد خالی آسامیاں پُر کرنے کا بھی اعلان کیا، 2017ء اور 2018ء میں نئی آسامیوں کے مقصد کیلئے بجٹ میں 20 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، 120 گز کے مکانات پر پراپرٹی ٹیکس اور سنیماؤں پر انٹرٹینمنٹ ٹیکس بھی لگایا گیا ہے، صوبے میں امن و امان کیلئے 92 ارب 91 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، بجٹ میں کراچی کیلئے 10ارب روپے کے خصوصی پیکج کا بھی اعلان کیا گیا ہے، وسائل کا سب سے زیادہ حصہ تعلیم کیلئے رکھا گیا ہے، جو 2 کھرب 2 ارب 20 کروڑ روپے ہے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت کیلئے ایک کھرب 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، کراچی کے پانی کے منصوبے کے ۔ 4 کیلئے آئندہ سال کے بجٹ میں 6.4 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، زراعت اور ماہی گیری کے شعبے میں سبسڈیز اور مراعات کا اعلان کیا گیا ہے، سندھ کی اپنی الگ پاور پالیسی بنانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جو کہ اپنے حتمی مراحل میں ہے، جبکہ رواں سال سندھ حکومت نے 8 ارب روپے کے زیادہ اخراجات کئے ہیں۔

سندھ کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 14 ارب 32 کروڑ روپے کا خسارہ ہوگا
آئندہ مالی سال کیلئے سندھ حکومت کا بجٹ خسارہ 14 ارب 32 کروڑ روپے ہوگا، بجٹ کا کل حجم 10 کھرب 43 ارب 18 کروڑ 56 لاکھ روپے ہے، جبکہ آمدنی کا تخمینہ 10 کھرب 28 ارب 84 کروڑ 53 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ سندھ کو قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت وفاقی حکومت سے 6 کھرب 27 ارب 30 کروڑ روپے ملیں گے، جبکہ صوبے کی اپنی آمدنی کا تخمینہ 2 کھرب روپے لگایا ہے۔ صوبے کو سرمایہ جاتی ذرائع سے 57 ارب 51 کروڑ 40 لاکھ روپے ملنے کی توقع ہے۔ ان میں سے ساڑھے 46 ارب بینکوں کا قرضہ بھی شامل ہوگا۔ سندھ حکومت کو غیر ملکی امداد سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 42 ارب 74 کروڑ روپے ملنے کی توقع ہے، جو قرض اور امداد کی شکل میں ہوں گے۔ وفاقی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں سے سندھ کو 27 ارب 32 کروڑ 61 لاکھ روپے ملنے کی توقع ہے۔ رواں سال خرچ نہ ہونے والے 60 ارب روپے بھی آئندہ سال کی آمدنی میں ظاہر کیے گئے ہیں۔ بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے 14 ارب 34 کروڑ 94 لاکھ روپے پبلک اکاؤنٹس سے بھی حاصل کئے جائیں گے۔

سندھ کا آئندہ مالی سال کا کل ترقیاتی بجٹ 3 کھرب 44 ارب روپے
سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کیلئے 2 کھرب 74 ارب روپے مختص
سندھ کا آئندہ مالی سال کا کل ترقیاتی بجٹ 3 کھرب 44 ارب روپے ہے، جس میں سے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کیلئے 2 کھرب 74 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 2 کھرب 44 ارب روپے صوبے کے اے ڈی پی کیلئے ہے، جبکہ 30 ارب روپے اضلاع کے اے ڈی پی کیلئے ہے۔ غیر ملکی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 42 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاق کی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں کیلئے 27.3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اے ڈی پی کے فنڈز میں سے 2158 جاری اسکیموں کیلئے ایک کھرب 51 ارب 83 کروڑ روپے، جبکہ نئی 816 اسکیموں کیلئے 92 ارب 16 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی ترقیاتی اسکیموں کیلئے 10 ارب روپے، سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کیلئے 27 کروڑ 70 لاکھ روپے، سندھ ریونیو بورڈ کیلئے 29 کروڑ روپے، سماجی بہبود کیلئے 29 کروڑ روپے، محکمہ کھیل اور نوجوانان کے امور کیلئے 2 ارب 10 کروڑ روپے، محکمہ خصوصی ترغیبات کیلئے ڈھائی ارب روپے، تھرکول انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کیلئے 13 ارب 75 کروڑ روپے، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کیلئے 3 ارب 20 کروڑ روپے، محکمہ خواتین کی ترقی کیلئے 42 کروڑ 60 لاکھ روپے، محکمہ ورکس اینڈ سروسز کی ترقیاتی اسکیموں کیلئے 26 ارب روپے، محکمہ تعلیم کی ترقیاتی اسکیموں کیلئے 21 ارب 12 کروڑ 28 لاکھ روپے، محکمہ توانائی کی ترقیاتی اسکیموں کیلئے 3 ارب روپے، محکمہ ماحولیات اور کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے 40 کروڑ روپے، محکمہ ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن کی ترقیاتی اسکیموں کیلئے 14 کروڑ روپے، محکمہ کی ترقیاتی اسکیموں کے لےے 2 ارب روپے ، محکمہ خوراک کے لےے 10 کروڑ روپے ، محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کیلئے 84 کروڑ روپے، گورنر سیکرٹریٹ کیلئے 11 کروڑ 70 لاکھ روپے، محکمہ صحت کی ترقیاتی اسکیموں کیلئے 15 ارب50 کروڑ روپے، محکمہ داخلہ کی ترقیاتی اسکیموں کیلئے 2 ارب 45 کروڑ روپے، محکمہ انسانی حقوق کیلئے 3 کروڑ 60 لاکھ روپے، محکمہ صنعت کی ترقیاتی اسکیموں کیلئے 2 ارب 74 کروڑ 50 لاکھ روپے، محکمہ اطلاعات کیلئے 20 کروڑ روپے، محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے ایک ارب 38 کروڑ روپے، محکمہ آب پاشی کیلئے 22 ارب روپے، محکمہ کچی آبادی کیلئے 10 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

49 ہزار نئی آسامیاں
وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ اگلے مالی سال کیلئے 49 ہزار نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں، 2017ء اور 2018ء میں نئی آسامیوں کے مقصد کیلئے بجٹ میں 20 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 25 ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرز ملازمین کو سندھ کی سروس میں شامل کیا جائے گا، اس کے علاوہ دس ہزار اہلکاروں کو سندھ پولیس میں بھرتی کیا جائے گا۔

رواں سال سندھ حکومت نے 8 ارب روپے کے زیادہ اخراجات کئے
رواں مالی سال 2016،17 کے دوران سندھ حکومت نے بجٹ سے 8 ارب روپے کے زیادہ اخراجات کئے۔ رواں سال بجٹ کا تخمینہ 869.11 ارب روپے تھا، جسے بڑھا کر 877.59 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 572.76 ارب روپے لگایا گیا تھا، لیکن نظر ثانی شدہ تخمینہ 606.96 ارب روپے ہے۔ اس طرح غیر ترقیاتی اخراجات میں 34 ارب روپے اضافہ ہوا ہے۔ ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 225 ارب روپے لگایا گیا تھا، جبکہ نظر ثانی شدہ تخمینہ 210 ارب روپے ہے۔ اس طرح ترقیاتی اخراجات میں 15 ارب روپے کی کٹوتی ہوئی۔ یہ اعداد و شمار وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی بجٹ تقریر میں دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال کے آخر تک 88 فیصد ترقیاتی بجٹ استعمال کر لیا جائے گا، جو کہ گذشتہ سال کی نسبت 20 فیصد زیادہ ہے۔

امن و امان کے قیام کیلئے بجٹ میں 92 ارب 91 کروڑ روپے مختص
صوبے میں امن و امان کے قیام کیلئے سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 92 ارب 91 کروڑ روپے مختص کئے ہیں، جو رواں سال کے 84 ارب 26 کروڑ روپے کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہیں۔ آئندہ سال سندھ پولیس میں 10 ہزار نئی بھرتیاں کی جائیں گی۔ آئندہ سال سندھ پولیس کو ٹرانسپورٹ کی مد میں 2 ارب روپے اور فرانزک لیب کی تعمیر کیلئے 2 ارب 60 کروڑ روپے فراہم کئے جائیں گے۔ 28 کروڑ روپے کی لاگت سے سندھ پولیس کیلئے انٹیلی جنس اور ڈیٹا سسٹم فراہم کیا جائے گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری منسوبے (سی پیک) کی سکیورٹی کیلئے 3 ہزار نئی بھرتیاں کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق آئندہ سال سندھ اسپیشل سکیورٹی یونٹ میں ایک ہزار اہلکار تعینات کئے جائیں گے، اعلیٰ معیار کے ہتھیاروں کی خریداری کیلئے 2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، صوبے کے بڑے شہروں میں سکیورٹی کیمروں کی تنصیب کیلئے 20 کروڑ روپے کی لاگت سے فزیبلٹی اسٹڈی کی جائے گی۔

تعلیم کیلئے بجٹ میں 2 کھرب 2 ارب 20 کروڑ روپے مختص
تعلیم کیلئے سندھ کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 2 کھرب 2 ارب 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، جو کہ رواں مالی سال کے ایک کھرب 63 ارب 12 روپے کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔ یونیورسٹیز اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کیلئے 5 ارب روپے کی گرانٹ مختص کی گئی ہے، جبکہ تعلیم کے شعبے کیلئے 17.23 ارب روپے ترقیاتی بجٹ اس کے علاوہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق رواں سال کے دوران محکمہ تعلیم کی 48 اہم اسکیموں کو مکمل کیا گیا، جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران 50 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی۔ آئندہ سال شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی آف اینیمل سائنسز سکرنڈ کے قیام کیلئے 1.1 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ قائد ایوان یونیورسٹی آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کیلئے 2.6 ارب روپے، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ ٹیکنالوجی کراچی کے ڈپارٹمنٹ فوڈ انجینئرنگ کیلئے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔ سندھ یونیورسٹی جامشورو کے انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے 15 کروڑ 10 لاکھ روپے، گورنمنٹ ہائی اسکول کی سائنس لیبارٹریز کیلئے 12 کروڑ روپے، کراچی یونیورسٹی کے انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے 12 کروڑ 90 لاکھ روپے، داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کیلئے 13 کروڑ 10 لاکھ روپے، قابل اور ذہین طلباء کی مالی معاونت کیلئے 75 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ اے ون گریڈ حاصل کرنے والے طالب علموں کو فی کس ایک لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو اگلے سال 8 ارب 8 کروڑ روپے فراہم کئے جائیں گے، جبکہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی تعمیر کیلئے 14 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

صحت کیلئے ایک کھرب 32 کروڑ روپے مختص
سندھ کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت کیلئے ایک کھرب 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، جو کہ رواں سال کی مختص کردہ رقم 79.88 ارب روپے سے 26 فیصد زیادہ ہیں۔ صحت کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مزید 15.50 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس طرح صحت کا مجموعی بجٹ ایک کھرب 15 ارب 85 کروڑ روپے ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی اعلان کیا کہ صحت کے شعبے میں آئندہ سال 25 ہزار اسامیاں تخلیق کی جائیں گی۔ ان 25 ہزار اسامیوں میں سے 21 ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بھی مستقبل کیا جائے گا۔ ویکسی نیٹر کی 2118 اضافی اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ کراچی کو آئندہ سال ساڑھے 4 ارب روپے اور انڈس اسپتال کراچی کو ایک ارب روپے کی گرانٹ دی جائے گی۔ ای پی آئی پروگرام کیلئے 69 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ صحت سندھ میں 80 کروڑ روپے کی لاگت سے آٹومیشن سسٹم قائم کیا جائے گا۔ صوبے کے تمام بڑے اسپتالوں میں ساڑھے 7 کروڑ روپے کی لاگت سے اسپتال ویسٹ منیجمنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا۔ سجاول کے اسپتال کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کا درجہ دے دیا جائے گا۔ آئندہ سال تمام بڑے اسپتالوں میں میمو گرافک مشینیں فراہم کی جائیں گی۔ غلام محمد مہر میڈیکل کالج سکھر میں 15 کروڑ روپے کی لاگت سے 200 بستروں کا اسپتال قائم کیا جائے گا۔ سول اسپتال میرپورخاص میں 10 کروڑ 70 روپے کی لاگت سے کینسر وارڈ تعمیر کیا جائے گا۔ سندھ کے اسپتالوں میں 40 کروڑ کی لاگت سے ہیلتھ منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیا جائے گا۔ لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد میں 5 کروڑ روپے کی لاگت سے 30 بستروں کا بچوں کیلئے انتہائی نگہداشت یونٹ قائم کیا جائے گا۔ 6 کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت سے شہید بے نظیر میٹرنٹی ہوم گلشن حدید ملیر کو اپ گریڈ کرکے 50 بستروں کے اسپتال میں تبدیل کیا جائے گا۔ 5 کروڑ 60 لاکھ روپے کی لاگت سے صحت کے شعبے میں مانیٹرنگ اینڈ سرویلینس سسٹم کو بہتر بنایا جائے گا۔ ہیپاٹائٹس کنٹرول مراکز کی تعداد 63 سے بڑھا کر 73 کر دی جائے گی۔

سندھ میں سڑکوں کی تعمیر کیلئے آئندہ سال 25 ارب 77 کروڑ روپے مختص
سندھ میں سڑکوں کی تعمیر کیلئے آئندہ سال 25 ارب 77 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ روڈ انفراسٹرکچر کی مرمت کیلئے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ 8.8 ارب روپے کی لاگت سے کراچی، ٹھٹھہ دو رویہ سڑک کو آئندہ سال مکمل کیا جائے گا۔ دریائے سندھ پر کندھ کوٹ پل کی تعمیر 10 ارب روپے کی لاگت سے آئندہ سال مکمل ہو جائے گی۔ کراچی حیدرآباد سپر ہائی وے کو کراچی ٹھٹھہ نیشنل ہائی سے منسلک کرنے کیلئے ایم 9 این 5 لنک روڈ پر کام شروع کیا جائے گا۔ حیدرآباد ٹنڈو محمد خان روڈ کے 5 ارب روپے کے منصوبے پر بھی آئندہ سال کام شروع ہوگا۔ حکومت سندھ اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے 328 کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام شروع کیا جائے گا۔

کراچی کے پانی کے منصوبے K4 کیلئے آئندہ سال کے بجٹ میں 6.4 ارب روپے مختص
کراچی کے پانی کے منصوبے K4 کیلئے سندھ حکومت نے آئندہ سال کے بجٹ میں 6.4 ارب روپے اور سیوریج کے منصوبے S3 کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کئے ہیں۔ K4 کیلئے وفاقی حکومت 9.95 ارب روپے مہیا کرے گی۔ عالمی بینک کے تعاون سے آئندہ سال کراچی نیبرہڈ امپروومنٹ پروجیکٹ مکمل کیا جائے گا، جس پر 10.5 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ اس منصوبے میں کراچی کے ضلع جنوبی، ضلع ملیر اور ضلع کورنگی کے کچھ حصے شامل ہیں۔ 1.2 ارب روپے کی لاگت سے گجر نالہ کے دونوں اطراف 24 فٹ چوڑے روڈ کی تعمیر کی جائے گی۔ 1.6 ارب روپے کی لاگت سے 1000 ایم جی ڈی پمپ ہاؤس دھابیجی کی تعمیر کی جائے گی۔ ہالیجی جھیل سے کراچی کو 65 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جائے گا۔ کراچی کے صنعتی علاقوں کیلئے 1.4 ارب روپے کی لاگت سے 5 ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جائیں گے۔ کراچی کا کچرا ٹھکانے لگانے کیلئے دھابیجی میں 50 کروڑ روپے کی لاگت سے جگہ تعمیر کی جائے گی۔ شہید ملت روڈ پر ٹیپو سلطان اور خالد بن ولید انٹر سیکشن پر پلوں کی تعمیر کیلئے 1.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ 12 ہزار روڈ لانڈھی، کورنگی کی تعمیر اور ری ماڈلنگ کیلئے 1.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ حیدرآباد ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 37.13 ارب روپے، میرپورخاص، تھرپارکر، عمر کوٹ اور بدین کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 18.72 ارب روپے، شہید بے نظیر آباد ڈویژن کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 15.59 ارب روپے اور لاڑکانہ ڈویژن کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 18.15 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

کراچی سرکلر ریلوے کے گرد چار دیواری کی تعمیر کیلئے بجٹ میں 24 کروڑ 10 لاکھ روپے مختص
حکومت سندھ نے کراچی سرکلر ریلوے کے گرد چار دیواری کی تعمیر کیلئے آئندہ سال مالی سال کے بجٹ میں 24 کروڑ 10 لاکھ روپے مختص کر دیئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کو اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے کو سی پیک کا حصہ بنایا گیا ہے اور سی پیک کے تحت اس میں 2.4 ارب امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال وفاقی حکومت کے تعاون سے تعمیر ہونے والے گرین لائن بس منصوبے کو فعال کیا جائے گا اور ٹکٹنگ سسٹم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے حوالے کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ بھی اعلان کیا کہ کراچی کا اورنج لائن بس ریپڈ ٹرانسپورٹ سسٹم کا منصوبہ 2017ء تک مکمل کیا جائے گا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے 22 کلو میٹر ریڈ لائن منصوبہ ڈیزائن کے مرحلے میں ہے، جبکہ 26 کلو میٹر کے ییلو لائن بس منصوبے پر آئندہ سال کام شروع کر دیا جائے گا۔ سندھ مضاربہ کے ذریعہ ٹرانسپورٹرز کو بسوں کی خریداری کیلئے منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جس کیلئے 2 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔

زراعت اور ماہی گیری کے شعبے میں سبسڈیز اور مراعات کا اعلان
سندھ کے بجٹ میں زراعت اور ماہی گیری کے شعبوں کیلئے متعدد مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران گندم کی سبسڈی کیلئے 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ کاشت کاروں کو ٹریکٹرز کی خریداری کیلئے 50 کروڑ روپے، جبکہ زرعی آلات کی خریداری کیلئے 55 کروڑ 50لاکھ روپے، چھوٹے ایگری کلچر پاور ٹیلرز اور دیگر آلات کی خریداری کیلئے 10 کروڑ روپے، پاور ڈرلنگ رگز کی خریداری کیلئے 10 کروڑ روپے اور ایگری کلچر انجینئرنگ کی استعداد کار کو بہتر بنانے کیلئے 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ آئندہ سال کاشت کاروں کو 141 سولر پمپس بھی فراہم کئے جائیں گے۔ چھوٹی سطح پر ڈیری فارمنگ کے منصوبے کیلئے 1.7 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، تاکہ غربت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ماہی گیری کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو ایک ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی، جس میں بلامعاوضہ لائف اسٹاک انشورنس کوریج بھی شامل ہے۔

غریب لوگوں کی مالی معاونت کیلئے ساڑھے 3 ارب روپے مختص
حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال کے دوران صوبے کے انتہائی غریب لوگوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کیلئے مشروط کیش ٹرانسفر اسکیم کے تحت ساڑھے 3 ارب روپے مختص کئے ہیں، یہ رقم ان غریب افراد میں تقسیم کی جائے گی، جن کی نشاندہی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہوئی تھی۔ رواں سال بھی اس مد میں ساڑھے تین ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔ اس اسکیم کا مقصد یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

ٹیکس فری بجٹ کے دعوے کے باوجود دو نئے ٹیکسز کا اضافہ
سندھ اسمبلی میں بجٹ برائے مالی سال 2017،18 کے ٹیکس فری بجٹ میں بھی پراپرٹی اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر مزید دو نئے ٹیکس کا اضافہ کیا گیا ہے، پراپرٹی ٹیکس کے تحت 120 گز کے مکان پر بھی پراپرٹی ٹیکس عائد ہوگا اور صوبے بھر کے سینما گھروں پر انٹرٹینمنٹ ٹیکس بھی عائد کیا گیا ہے۔

پنشن
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کراچی پیکج
بجٹ میں کراچی کیلئے 10ارب روپے کے خصوصی پیکج کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

سندھ کی اپنی الگ پاور پالیسی بنانے کا اعلان
سندھ اپنی الگ پاور پالیسی بنائے گا، پاور پالیسی حتمی مراحل میں ہے، اس بات کا اعلان وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کو سندھ اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پاور پالیسی مستقبل میں سندھ کی ضروریات کا احاطہ کرے گی، سندھ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی بھی قائم کی جائے گی، جس سے سندھ کے توانائی کے مسائل حل کئے جا سکیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ آئندہ سال متبادل توانائی کے مختلف منصوبے شروع کئے جائیں گے، 285 بنیادی مراکز صحت کو بجلی فراہم کی جائے گی، یہ بجلی سولر انرجی سے فراہم کی جائے گی، اس منصوبے پر 45 کروڑ 40 لاکھ روپے کی لاگت آئے گی، میرپور خاص، بدین، سانگھڑ اور کراچی کے دیہی علاقوں کے پوٹینشل صارفین کو 213 گھریلو بائیو گیس پلانٹس ممیسر کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ بھی اعلان کیا کہ عالمی بینک کے تعاون سے 13 ارب روپے کی لاگت سے سندھ رینیو ایبل انرجی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ اگلے سال شروع کیا جائے گا، جس میں سندھ حکومت اپنے حصے 2 ارب 60 کروڑ روپے ادا کرے گی، شہروں میں مکانات کی چھتوں پر شمسی پی وی ڈیمانسٹریشن پاور پلانٹس نصب کئے جائیں گے، اس منصوبے پر 50 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔
خبر کا کوڈ : 643515
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ٹوٹا دل
17 Sep 2021
ہماری پیشکش