0
Saturday 17 Jun 2017 19:31

علی ؑ کون؟

علی ؑ کون؟
تحریر: طاہر یاسین طاہر

کسے را میسر نہ شد ایں سعادت
بہ کعبہ ولادت،بہ مسجد شہادت

مجھ جیسا کم کمال جب ممدوح رسول ﷺ، علیؑ کا تعارف لکھنے کو قلم اٹھاتا ہے تو آسمانِ حیرت پہ چمکتے نجوم بھی مدحِ علیؑ کی بھیک میں ملی روشنی کو عین کعبہ پہ منعکس کرتے ہوئے متوجہ کرتے ہیں کہ جو کعبہ میں پیدا ہو، اس کا تعارف کوئی بشر کیا لکھ سکے گا؟ ہاں البتہ جس قدر کہ مولا کی عطا و رضا ہو۔ وہ علی ؑ جو فاطمہ سلام اللہ علیھا کے شوہر اور امام حسنؑ و حسین ؑ کے والد گرامی ہیں۔ کیا علیؑ کی تعظیم کے لئے اتنا کافی نہیں کہ علی ؑ اللہ کے گھر کے مہمان ہیں۔؟ علمائے اسلام نے ایسی کئی آیات کا تذکرہ مسلسل کیا ہے، جو علی ؑ کی شان میں نازل ہوئیں۔ آپ ؑ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ یادِ خدا اور خدمت اسلام کے لئے وقف رہا۔ آپؑ جیسا شجاع چشمِ فلک نے نہ آپؑ سے پہلے کوئی دیکھا، نہ آپؑ کے بعد دیکھ پائی۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے، (مفہوم) علی کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے، آپﷺ کے اصحاب ذی وقار (رض) نے استفسار کیا کہ یارسول اللہﷺ، علی کا چہرہ تو ہم دیکھ پائیں گے، کیونکہ علی ہمارے درمیان موجود ہیں، جو ہمارے بعد آئیں گے، وہ اس ثواب سے تو محروم رہ جائیں گے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ علی کا ذکر بھی عبادت ہے۔ یعنی جو لوگ ما بعد آئیں گے، وہ "علی علی" کرکے عبادت کا ثواب پائیں گے، تاریخ و احادیث کی بعض کتب میں یوں بھی درج ہے، جس کا مفہوم ہے کہ اگر ذکرِ علی پر پابندی ہوئی تو؟ آپﷺ نے فرمایا کہ دل میں علی کی محبت رکھنا بھی عبادت ہے۔

فضائلِ علی بے شمار و بے انتہا ہیں۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا کہ یومِ خندق، علی کی ایک ضرب ثقلین کی عبادات سے افضل ہے۔ فرمایا، حق علی کے ساتھ ہے اور علی حق کے ساتھ ہے، یااللہ تو حق کو ادھر موڑ دے، جس طرف علی ہو۔ آپﷺ کا یہ فرمان بھی سن لیں کہ علی کا جسم میرا جسم ہے، بعض روایات میں ہے کہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔ فرمایا کہ اے علی، تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے، جو ہارون کو موسٰی سے تھی، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہ حدیث بھی مستند مانی جاتی ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام درخت قلم بن جائیں، تو پھر بھی علی کے فضائل ختم نہیں ہوں گے۔ بے شک حضرت علی ؑ کے فضائل و مناقب اس قدر ہیں کہ انہیں احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ہے۔ علیؑ کو بیک وقت کئی فضیلتیں عطا کی گئی ہیں۔ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ۔ بے شک یہ تربیت پیغمبرﷺ ہی کا فیض تھا کہ علی ؑ نے بر سرِ منبر فرمایا تھا کہ (مفہوم) پوچھو، جو بھی پوچھنا چاہو، قبل اس کے کہ میں تم میں نہ رہوں۔

نہج البلاغہ میں ہے کہ جناب امیرالمومنین سے ایمان کی ماہیت و حقیقت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ایمان چار ستونوں پر قائم ہے، صبر، یقین، عدل اور جہاد پر۔ پھر آپؑ نے ارشاد فرمایا کہ صبر و یقین کے بھی چار درجے ہیں اور عدل کے متعلق آپ ؑ نے ارشاد فرمایا کہ
عدل کی چار شاخیں ہیں، فہمِ رسا، علم کی گہرائی تک پہنچنا، حسنِ فیصلہ اور قوتِ برداشت کی پختگی۔ چنانچہ جس نے غوروفکر کیا وہ علم کی گہرائیوں سے آشنا ہوا اور جو علم کی گہرائیوں میں اترا، وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہو کر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی، اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور اس نے لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی۔ بے شک علیؑ کائنات کی وہ عظیم ہستی ہیں، جن کی حیاتِ مقدسہ ایک کامل و اکمل اسوہ ہے، جس میں کسی قسم کی کجی نہیں۔ آپؑ علم رسولﷺ کا جوہر اور آئینہ تمام نما تھے۔ رسول اللہﷺ نے علی ؑ کی محبت کو ایمان کی نشانی اور آپ ؑ سے بغض کو کفر و نفاق کی علامت قرار دیا اور پھر ارشاد فرمایا: علی کو مجھ سے وہی منزلت حاصل ہے، جو مجھے اپنے پروردگار سے ہے۔

ہر وہ مسلمان جو نبی آخر الزماںﷺ کے فرامین کا خود کو امین سمجھتا ہے، اس پہ واجب ہے کہ وہ اس فرمان رسول اللہ ﷺ کی پاسداری کرے، فرمایا کہ جس جس کا میں مولا ہوں، اس، اس کا یہ علی مولا ہے۔ مگر افسوس، صد افسوس کہ جس علیؑ کو اللہ کے رسولﷺ اپنے جسم کا ٹکڑا کہتے ہیں، اسی علیؑ کو مسجد میں سجدے کی حالت میں شہید کر دیا جاتا ہے۔ امیرالمومنین کی شہادت سے بھی سوا دکھ یہ ہے کہ جب آپؑ کی شہادت کی خبر شام پہنچی تو وہاں کے لوگ ایک دوسرے سے حیرت سے پوچھتے تھے کہ کیا علیؑ مسجد بھی جاتے تھے؟ کیا علیؑ نماز بھی پڑھتے تھے؟ اللہ اکبر۔ مگر کیا علیؑ جیسی پاک باز ہستی کہ عبادتیں بھی جس پہ ناز کریں اور جس کے پوتے زین العابدین سید الساجدین کا لقب پائیں، اس علیؑ سے اس قدر بغض اور آپ ؑ کی تعلیمات سے اس قدر دوری کہ اب پھر سے علیؑ کی ذات پہ سب و شتم لکھا جا رہا ہے؟ اللہ اکبر۔ محسن نقوی یاد آتے ہیں
مدحِ علیؑ کو چاہیے کیا اعتراف میں؟
مصروف اہلِ حج ہیں مسلسل طواف میں
شاید علیؑ کی ماں کی حیا اس کو یاد ہے
کعبہ چھپا ہوا ہے ابھی تک غلاف میں
خبر کا کوڈ : 646804
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے