0
Tuesday 20 Jun 2017 03:29

قدس کی آزادی ہر باشعور مسلمان کے دل کی آواز ہے

قدس کی آزادی ہر باشعور مسلمان کے دل کی آواز ہے
تحریر: محمد حسن جمالی

ہر باشعور مسلمان کی یہ دلی تمنا ہے کہ جلد از جلد قدس غاصب اسرائیل کے چنگل سے آزاد ہو جائے اور فلسطینی مسلمانوں کو بیت المقدس میں اطمینان اور سکون سے اپنی عبادات سرانجام دینے کی آزادی نصیب ہو جائے۔ عرصہ دراز سے اسرائیل نے اپنے مادی مفادات کی خاطر فلسطینی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکها ہے، انہیں مار پیٹ کر، قتل کرکے مغلوب کر رکهنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے، چنانچہ وہ آئے روز فلسطینی مظلوم مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بناتا ہے، وہ نہ چهوٹے چھوٹے معصوم بچوں پر رحم کرتا ہے اور نہ ہی صنف نازک پر ستم کرنے سے کوئی حیا محسوس کرتا ہے۔ حزب اللہ کے ساتھ لڑی گئی تینتیس روزہ جهنگ میں بری طرح شکست سے دوچار ہونے کے بعد سے فلسطینی مظلوم مسلمانوں پر اسرائیل کے مظالم، تشدد اور جارحیت میں شدت دیکهنے کو مل رہی ہے، مگر غاصب اسرائیل کے مظالم کے سامنے بے بس ہوکر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے فلسطینی مسلمان شجاعت اور غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پوری طاقت سے مزاحمت کر رہے ہیں، غاصب اسرائیل کی گولیوں اور بم دهماکوں کا جواب پتهر سے دے رہے ہیں، وہ بیدار ہیں اور میدان میں رہ کر اپنے وجود کا کهلا اظہار کر رہے ہیں۔

تاریخ بشریت اس بات پر گواہ ہے کہ بیداری اور اپنے وجود کا اظہار کسی بهی قوم یا ملت کی کامیابی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکهتا ہے، بیدار قوم کبهی پسپائی اور ناکامی کا شکار نہیں رہتی۔ تعداد میں وہ اپنے مقابل گروہ سے کم ہی کیوں نہ ہو، بالآخر کامیابی اس کا مقدر بن کر رہتی ہے۔ کسی مسلمان قوم کی بیداری سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی بهی قیمت پر ذلت کی زندگی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی ہے، وہ دوستی اور دشمنی کے انسانی، قرآنی اور اسلامی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے دوست اور دشمن کی شناخت حاصل کرتی ہے، وہ اس بات کو اچهی طرح سمجهتی و درک کر لیتی ہے کہ کون ہمارا دوست ہے اور کون ہمارا دشمن۔ کون ہمارا خیرخواہ ہے اور کون ہمارا بدخواہ نیز وہ اپنے نفع اور نقصان کو پہچان لیتی ہے۔ عزت اور ذلت کے مفہوم سے آشنا ہوکر ہمیشہ عزت کی تلاش اور ذلت سے اپنے کو دور رکهنے کی کوشیش کرتی ہے۔ وہ اغیار اور بیگانوں کی جانب امید سے دیکهنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر بهروسہ کرتی ہے، خود اعتمادی سے مالامال ہوتی ہے، وہ ہرگز دوست نما دشمنوں کی منافقتوں، چالوں اور پراپیگنڈوں سے بے خبر نہیں رہتی ہے۔

آج ملت پاکستان سمیت دنیا کے مسلم ممالک کی اکثریت یہ نہیں سمجھ پا رہی ہے کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے اور حقیقی دوست کون ہے؟ وہ دوست اور دشمن میں تفکیک نہیں کر پا رہی ہے، جس کی وجہ سے غلامانہ زندگی ان کے حصے میں آئی ہوئی ہے، ترقی کے لئے ضروری لوازمات اور امکانات اپنے اپنے ملکوں میں موجود ہونے کے باوجود فقر اور تنگدستی میں زندگی گزارنے پر وہ مجبور ہیں، آپ پاکستان کی ہی مثال لیجئے جو فقط اسلامی قوانین کے زیر سایہ مسلمانوں کو آزادانہ امن اور سکون کی زندگی فراہم کرنے کے لئے معرض وجود میں لایا گیا تها، اسلام کے نام پر یہ ملک بنا اور اللہ تعالٰی نے اس ملک کو بے شمار نعمتوں سے نواز رکها ہے، پاکستان کے پانچوں صوبے (پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان) اپنی اپنی خصوصیات کے پیش نظر جداگانہ نعمتوں کے حامل ہیں، لیکن ہماری قوم کی غفلت اور بے شعوری کے سبب اس ملک پر بے دین افراد کا قبضہ ہے، ملک کے پورے وسائل پر مٹهی بهر لوگوں کی حکومت ہے، جنہیں اپنی ذات، اولاد اور اپنے خاندان کے علاوہ کسی کی فکر نہیں۔ وہ پورے ملک کو وہ اپنے باپ کی جائیداد اور اس میں رہنے والی عوام کو اپنے گهر کی لونڈی سمجهتے ہیں، اس ملک کی دولت اور ثروت کو وہ اپنے باپ کا وراثتی حصہ سمجهتے ہوئے اپنے من پسند لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں، اس ملک کے غریب لوگوں کے حقوق ہڑپ کرکے وہ ایسے ایسے بیہودہ کاموں پر بے تحاشہ خرچ کرتے ہیں، جو تعمیر کے بجائے تخریب کا سبب بنتے ہیں، مثلا تحریک آمیز فلم کے بنانے اور ترویج کرنے والوں پر وافر مقدار میں رقم خرچ کرتے ہیں، جبکہ غریب لوگ بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں، جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔

ہماری قوم کی لاعلمی اور غفلت کے سبب ملت پاکستان میں ایسے افراد برسراقتدار ہیں، جو مغربی افکار سے متاثر اور اسلامی افکار سے تہی ہیں، انہیں اسلام کے مقدس اصول زندگی اور فطرت انسانی کے موافق قوانین کا کوئی علم نہیں، مادی خواہشتات ان کی عقل پر غالب آنے کی وجہ سے عملی میدان میں وہ حسن و قبح عقل سے بهی انکار کا مظاہرہ کرتے ہیں، ہر انسان کی عقل کا یہ حکم ہے کہ عدل حسن اور ظلم قبیح ہے، مگر ہمارے خواہشات نفسانی کے اسیر حکمران اپنے مغربی آقاؤوں کی اندھی تقلید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ معاشرے میں مساوات، عدل اور انصاف کرکے ہمیں کیا ملنا ہے، غریبوں کو حقوق دینے سے ہمیں کیا حاصل ہوگا، کمزور طبقوں کے حقوق نہیں روکیں گے تو ہماری زندگی عیاشی سے لبریز کیسے ہوگی، ہمارا فائدہ تو اس میں ہے کہ عوام کو سبز باغ دکهاتے ہوئے بس ٹائم پاس کریں، قوم کو دهوکہ دے کر اور پر فریب باتوں میں خوش رکهیں، ہمارا تو کمال یہ ہے کہ "لڑاؤ اور عیاشی کرو" کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں، تاکہ ہمارے سیاہ کارناموں پر پردہ پڑا رہے، لوگوں کو ہمارے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہ ملے، درنتیجہ ہمیں اپنے اہداف میں ہمیشہ کامیابی ملتی رہے، یہ ان کا آزمودہ کامیاب نسخہ ہے۔ آج پاکستان میں ہم دیکھتے ہیں کہ جگہ جگہ لوگ مذہبی، لسانی، علاقائی اور سیاسی اختلافات کا شکار ہیں، مسلمان آپس میں الجهے ہوئے ہیں اور اصل دشمنوں سے غافل ہیں۔

مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت (اتحاد) کو اسلام اور مسلمانوں کے دشمن خود مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جس کی ایک مثال مسئلہ فلسطین کو متنازع بنانا ہے، فلسطینی مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور دفاع کرنا سارے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، خواہ جن کا تعلق کسی بهی مکاتب فکر سے ہو، مگر ہمارے دشمن اسے متنازع بناکر مسلمانوں کو اس مسئلے پر متحد ہونے سے روکنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں، ہمارے دشمن ہمارے درمیان سے افراد کو خرید کر ہمارے اتحاد پر کاری ضرب لگا رہے ہیں، جس پر شاہد یہ ہے کہ چند روز قبل ایک نام نہاد دیوبندی ناصبی ڈاکٹر ولی خان کو دشمنوں نے خرید کر مولائے متقیان حضرت علی ابن ابی طالب کی شان میں ایک اہانت آمیز آرٹیکل لکهوایا اور روزنامہ جہان پاکستان میں شائع کروا کر پورے مسلمانوں کا دل خون کردیا۔(میں اپنی اس تحریر کے ذریعے حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس آرٹیکل کو لکهنے والے ولی خان نامی ملعون کو جلد از جلد قانونی کے دائرے میں کهنچکر اسے کیفر کردار تک پہچائے اور روزنامہ جہاں کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں دیر نہ کرے اور روزنامہ جہاں کا لائسنس فوری طور پر معطل کرے، تاکہ آئندہ ایسی قبیح حرکت تکرار نہ ہو۔)۔

حقیقت یہ ہے کہ جن بے شمار مشترکات پر مسلمان اتحاد اور ہمدلی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں، ان میں سے ایک مسئلہ فلسطین ہے، اسی اہمیت کے پیش نظر عبقری شخصیت، زمان شناس، مسلمانوں کو درپیش مسائل اور مشکلات پر گہری نظر رکھنے والے، مسلمانان عالم کے بارے میں دکھ درد دل میں رکهنے والے، عظیم فقیہ حضرت امام خمینی (رہ) نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو متحد ہوکر فلسطینی مظلوم مسلمانوں پر ڈهائے جانے والے امریکہ کے پالتو اسرائیل کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی شدت سے تاکید فرمائی ہے، ہر سال ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعے کو اسرائیل کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکال کر اسے سرکوب کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور آپ کا یہ حکیمانہ جملہ مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لئے کافی ہے کہ اگر دنیا کے مسلمان فقط ایک ایک بالٹی پانی اسرائیل پر گرا دیں تو وہ غرق ہو جائے گا نیز مسلمانوں کو اتحاد کی اہمیت سے روشناس کراتے ہوئے یہ مثال دی کہ بارش کا ایک قطرہ درخت کا ایک پتہ نہیں گراسکتا ہے، لیکن سیلاب خود درخت کو ہی جڑ سے اکهاڑتا ہے اور بہا کر لے جاتا ہے۔

موجودہ دنیا کے سیاسی حالات اور مشرق وسطٰی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمانان عالم کو مسئلہ فلسطین پر متحد ہوکر مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے دفاع میں آواز بلند کرنے کی ضرورت دو چندان ہوگئی ہے۔ پوری دنیا کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ام الفساد امریکہ کے صدر ٹرمپ آل سعود آل یهود کا پورا دودھ دوہ چکا ہے اور آل سعود نے امریکہ کی پوری غلامی قبول کرنے کا عندیہ دیا ہے، وہ امریکہ کی اطاعت سے سر مو اختلاف نہ کرنے کا پورا وعدہ کرچکا ہے، آل سعود مسلمانوں کو چهوڑ کر امریکہ کے ساتھ عقد اخوت پڑھ چکا ہے اور امریکہ کے حکم سے ہی مسلمانوں کے خلاف اور امریکہ و اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ریاض میں مختلف ممالک کے سربراہان کو جمع کرکے اتحاد تشکیل دیا، جس میں مہمان خصوصی امریکہ کا صدر حضرت ٹرمپ تها، اس اتحاد کا ہدف یہ تها کہ جو ممالک امریکہ کو اپنے سر کا تاج بنانے سے انکار کریں یا جن ممالک میں امریکہ و اسرائیل کے خلاف مزاحمتی تحریکیں ابهرنے کا خدشہ ہو، ان کو سرکوب کرنے کے لئے لائحہ عمل طے کریں، جن میں سرفہرست ایران اور حزب اللہ ہیں، پهر بحرین اور قطر و.....

صدر ٹرمپ ریاض میں چند روز مقیم رہنے کے بعد اسرائیل پہنچ جاتے ہیں، تاکہ اسے اپنے ریاض سفر کے اہداف کی کامیابی سے مطلع کریں اور اسرائیل کو یہ باور کروائیں کہ اب تجهے کسی سے خائف رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ہم تیرے تحفظ کا مکمل انتظام کر آئے ہیں، ظاہر ہے یہ خوشخبری سن کر اسرائیل کی خوشی کی انتہا نہ رہی ہوگی۔ بدون شک اس کے غرور اور نخوت میں اضافہ ہی ہوا ہے، ایسے میں مذہب اور فرقے کی تفریق کو بالائے رکهتے ہوئے مسلمانوں کو اس سال یوم القدس کی ریلی میں خصوصی طور پر اپنی شرکت کو یقینی بناکر اسرائیل کے غرور کا سر نیچا کرنے کی ضرورت ہے، اسی میں مسلمانوں کی عزت ہے، اگرچہ یوم القدس کے حوالے سے دشمنان اسلام و مسلمان مسلم معاشروں میں پراپیگنڈے کا جال بچهانے میں بهرپور کردار ادا کر رہے ہیں، جس کی ایک مثال امن کا گہوارہ گلگت بلتستان کے کچهہ سوچ و بچار سے عاری افراد سوشل میڈیا پر کچھ دنوں سے یہ اعلان کرتے پهر رہے ہیں کہ ہم اس سال یوم القدس کے دن یوم حقوق گلگت بلتستان منائیں گے۔

یقین جانیے ایسے افراد مسلمانوں کے دشمنوں کے آلہ کار اور ان کے زرخرید غلام ہیں، جن کا ہدف لوگوں کی نظروں میں یوم القدس کی اہمیت اور عظمت کو گهٹانا ہے اور غاصب اسرائیل کی حمایت اور مدد کرنے کے مترادف ہے۔ ورنہ آپ قدس کی ریلی میں ہی حقوق گلگت بلتستان کی بات بهی تو کرسکتے ہیں۔ ان میں کوئی ٹکراو نہیں اور کسی اور دن میں بهی حقوق گلگت بلتستان کے مطالبے کے لئے احتجاجی مظاہرے کرسکتے ہیں، یوم القدس کے دن ہی حقوق گلگت بلتستان کے حوالے سے ریلی نکالنے کی ضد کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے افراد ہمارے دشمنوں کے ہتهے چڑھ چکے ہیں، وہ انہیں استعمال کر رہے ہیں، ان کے ذریعے وہ پراپیگنڈہ کروا رہے ہیں، گلگت بلتستان کے غیور مسلمانوں کو ایسے افراد کی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور روز جمعہ یوم القدس کو بارونق طریقے سے منا کر ایسے دشمنوں کے آلہ کار افراد کے عزائم کو خاک میں ملانے کی ضرورت ہے، بے شک قدس کی آزادی ہر باشعور مسلمان کے دل کی آواز ہے۔
خبر کا کوڈ : 647381
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے