0
Tuesday 20 Jun 2017 23:11

اسرائیل کا قیام، مظالم اور یوم القدس

اسرائیل کا قیام، مظالم اور یوم القدس
تحریر: ارشاد حسین ناصر

دنیا بھر کے کمزوروں یعنی مستضعفین و محرومین کی آواز جنہوں نے بیسویں صدی میں امت مسلمہ کی قیادت و علمبرداری کی اور ایک عظیم اسلامی انقلاب برپا کرکے اڑھائی ہزار سالہ بادشاہت کا خاتمہ کیا، دنیا انہیں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کے نام سے یاد کرتی ہے۔ آپ نے اس انقلاب سے بہت پہلے امت مسلمہ کے قلب میں اس خنجر (اسرائیل نامی صیہونی ریاست) کی طرف متوجہ کیا اور ان خطرات سے مسلسل آگاہ و خبردار کیا، جو مستقبل میں اس منحوس سازش کے عملی ہونے کے بعد مرتب ہوسکتے تھے، آپ نے اس حوالے سے نہ صرف اپنی صدا بلند کی بلکہ اسلامی مملکتوں کے سربراہوں کو اس مسئلہ کا حل بھی بتاتے رہے، کبھی تو آپ کی آواز ان الفاظ میں خبردار کرت۔۔۔۔۔"اسلامی ممالک کے سربراہوں کو متوجہ ہونا چاہئے کہ فساد کا یہ جرثومہ (صہیونی ریاست)، جس کو اسلامی سرزمینوں کے قلب میں تعینات کیا گیا ہے، صرف عرب اقوام ہی کو کچلنے کے لئے نہیں ہے بلکہ اس کا خطرہ اور ضرر پورے مشرق وسطٰی کو درپیش ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ دنیائے اسلام پر صہیونیت کا غلبہ ہو اور اسلامی ممالک کی زیادہ سے زیادہ زرخیز اراضی کو استعمار کا نشانہ بنایا جائے اور صرف اسلامی حکومتوں کی جانفشانی، استقامت اور اتحاد کے ذریعے ہی استعمار کے سیاہ سپنے سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے اور اگر اسلام کو درپیش اس حیاتی مسئلے میں کسی بھی حکومت نے کوتاہی کی تو دوسری حکومتوں پر لازم ہے کہ اس حکومت کو سزا دیں، اس سے تعلقات توڑ دیں اور دباؤ ڈال کر اس کو اپنے ساتھ چلنے پر آمادہ کریں۔ تیل کی دولت سے مالا مال اسلامی ممالک پر لازم ہے کہ تیل اور دوسرے وسائل سے اسرائیل کے خلاف حربے (اور ہتھیار) کے عنوان سے استفادہ کریں اور ان ممالک کو تیل بیچنے پر پابندی لگائیں جو اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں۔"

ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہونے کے بعد بانی انقلاب حضرت امام خمینی نے جمعۃ الوداع کو عالمی یوم القدس قرار دیا، ایران میں قائم اسرائیلی سفارت خانہ کو فلسطینیوں کے سپرد کرکے ایک ایسا پیغام دنیا کو دیا، جس سے اسرائیل و امریکی ایوانوں میں زلزلہ طاری ہوگیا اور مزاحمت کے دیوانوں کو امید صبح نظر آنے لگی۔ آپ نے یوم القدس، اسکی اہمیت و ارزش بیان کرتے ہوئے اسے یوم الاسلام اور یوم اللہ و یوم رسول اللہ کہا اور امت اسلامی کو اسے منانے کی بھی بھرپور تاکید فرمائی۔ انہوں نے اسرائیل نامی ناجائز ریاست کو سرطانی جرثومے سے تشبیہ دی اور اس کیخلاف تمام وسائل سے لیس ہو کر امت کو اس کیخلاف جہاد کا سبق پڑھایا، اسلام کے اس حقیقی درد آشنا نے ہر موقعہ پر اسرائیل کی نابودی اور امت کے اتحاد کی دعوت دی اور ان خطرات سے خبردار کیا، جو مستقبل میں پیش آسکتے تھے، آپ نے ایک موقعہ پر فرمایا: "آج مسلمانوں کا قبلہ اول، اسرائیل مشرق وسطٰی میں اس سرطانی پھوڑے کے زیر قبضہ چلا گیا ہے۔ آج وہ پوری طاقت سے ہمارے عزیز فلسطینی اور لبنانی بھائیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور خاک و خون میں تڑپا رہا ہے۔ آج اسرائیل تمام تر شیطانی وسائل کے ذریعے تفرقہ اندازی کر رہا ہے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اپنے آپ کو اسرائیل کے خلاف (ضروری وسائل سے) لیس کرے۔" انبیاء کی سرزمین فلسطین اور قبلہء اول بیت المقدس پر صیہونیوں کے ناجائز قبضہ کو ستر برس گذر چکے ہیں۔ 15 مئی 1948ء کو دنیا پر ناجائز وجود پانے والی ریاست کو امام راحل امام خمینی نے مسلمانوں کے قلب میں خنجر سے تعبیر کیا تھا اور امت کو اس کی آزادی کی راہ جہاد کی صورت دکھائی تھی، مگر خائن عرب حکمرانوں نے اسرائیل کے ناپاک وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے تسلیم ہونے کی ذلت کو گوارا کیا، نتیجتاً ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان اسی طرح دربدر ہیں۔۔۔۔۔

اگر مسلمان حکمران ایران کا ساتھ دیتے تو اسرائیل کا وجود یقیناً دنیا سے مٹ چکا ہوتا، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ستر برس عالم اسلام کی اجتماعی بے حسی اور مظلوم فلسطینیوں سے مسلم حکمرانوں کے منافقانہ رویوں کی طویل اور دردناک داستانوں سے بھرا ہوا ہے تو دوسری طرف یہ ستر برس ظلم و بربریت وحشت و درندگی کی قدیم و جدید تاریخ سے بھرپور اور سفاکیت کے انمٹ مظاہروں کی پر درد و خوفناک کہانیوں کے عکاس ہیں۔۔۔۔۔۔ ان ستر برسوں میں ارضِ مقدس فلسطین میں ہر دن قیامت بن کر آیا ہے، ہر صبح ظلم و ستم کی نئی داستان لے کر طلوع ہوئی، ہر لمحہ بے گناہوں کے خون سے، گھر بار، سڑکیں، بازار، مساجد و عبادت گاہیں، سکول و مدارس کو رنگین کرنے کا پیامبر بن کر آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ناجائز ریاست اسرائیل کے حکمرانوں نے ان برسوں میں خون آشامیوں کی جو تاریخ رقم کی ہے، اس کی مثال تاریخ کے صفحات بیان کرنے سے قاصر ہیں۔۔۔۔۔۔ کون سا ظلم ہے، جو بے گناہ، معصوم اور مظلوم قرار دیئے گئے ارض مقدس فلسطین و غزہ کے باسیوں پر روا نہیں رکھا جا رہا۔۔۔۔۔۔ آج فلسطین کی دختران کی عزتوں کی پائمالی کا حساب نہیں، کتابیں اور بیگ اُٹھائے سکول جاتے معصوم بچوں پر بموں کی یلغار اور گولیوں کی بوچھاڑ کے واقعات نے ہر باضمیر انسان کو ہلا کر رکھ دیا ہے، سنہرے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے تعلیمی اداروں میں جانے والے، والدین کی اُمید، نوجوانوں کی خون میں اٹی لاشیں اور نوحہ و ماتم کرتی ماؤں اور بہنوں کی چیخ و پکار اور نالہ و فریاد کے مناظر دنیا کے باضمیر انسانوں کو ہر روز جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔!

امام خمینی جیسے عظیم رہنما کی بات پر عمل کرتے ہوئے امت مسلمہ اتحاد و وحدت کا مظاہرہ کرتی تو اسرائیل کا ناپاک وجود آج کہیں نظر نہ آتا، انہوں نے بارہا ان خطرات سے متوجہ کیا اور برملا کہا کہ اگر تمام مسلمان ایک ایک بالٹی پانی اسرائیل پر انڈیل دیں تو اس کا خاتمہ ہو جائے۔ انہوں نے ایک موقعہ پر کہا: "اسلامی ممالک کے سربراہوں کو متوجہ ہونا چاہئے کہ فساد کا یہ جرثومہ (صہیونی ریاست)، جس کو اسلامی سرزمینوں کے قلب میں تعینات کیا گیا ہے، صرف عرب اقوام ہی کو کچلنے کے لئے نہیں ہے بلکہ اس کا خطرہ اور ضرر پوری مشرق وسطٰی کو درپیش ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ دنیائے اسلام پر صہیونیت کا غلبہ ہو اور اسلامی ممالک کی زیادہ سے زیادہ زرخیز اراضی کو استعمار کا نشانہ بنایا جائے اور صرف اسلامی حکومتوں کی جانفشانی، استقامت اور اتحاد کے ذریعے ہی استعمار کے سیاہ سپنے سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے اور اگر اسلام کو درپیش اس حیاتی مسئلے میں کسی بھی حکومت نے کوتاہی کی تو دوسری حکومتوں پر لازم ہے کہ اس حکومت کو سزا دیں، اس سے تعلقات توڑ دیں اور دباؤ ڈال کر اس کو اپنے ساتھ چلنے پر آمادہ کریں۔ تیل کی دولت سے مالامال اسلامی ممالک پر لازم ہے کہ تیل اور دوسرے وسائل سے اسرائیل کے خلاف حربے (اور ہتھیار) کے عنوان سے استفادہ کریں اور ان ممالک کو تیل بیچنے پر پابندی لگائیں جو اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں۔"

افسوس یہ تیل کی دولت اسرائیل کے خلاف بطور ہتھیار استعمال نہ ہوئی، اگر ہوئی تو جمہوری اسلامی ایران کے خلاف، پہلے آٹھ سال اپنے پٹھو صدام کے ذریعے ایران پر جنگ مسلط کی اور اس کے بعد اب بھی یہی تیل کی دولت ایران اور اہل فلسطین کے حامی و مددگار ملک شام کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ گذشتہ پانچ برس سے جس طرح شام کو فلسطینیوں کی مدد اور نصرت کی سز ا دی جا رہی ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ شام کا کوئی اور قصور نہیں تھا، شام ایک ماڈریٹ مملکت تھی، جہاں لوگ بڑی آزادی سے دیگر عربوں کی بہ نسبت آزاد تھے اور انہیں ہر سہولت میسر تھی۔ ہاں شام کا قصور اتنا تھا کہ اس نے اسرائیل کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے اور مقاومت کے ساتھ غداری نہیں کی، بلکہ مقاومت بلاک کی ایک بڑی تنظیم حماس نے جب شام کو خیر آباد کہا، قطر جا بیٹھے اور شامی حکومت کے خلاف لڑنے والوں کی حمایت بھی کرتے رہے، اس کے باوجود شام کے موجودہ حکمران نے ان کیساتھ برائی نہیں کی، جبکہ اس کے مقابل ہم دیکھتے ہیں کہ آل سعود اور ان کے اتحادیوں نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو ناصرف وسیع اور اوپن کیا ہے بلکہ جہادی و مزاحمتی تحریک حماس کی حمایت و مدد کرنے پر قطر کیساتھ بائیکاٹ کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔

موجودہ حالات میں یوم القدس اور مسئلہ فلسطین کی اہمیت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے، لٰہذا اس عالمی دن کو پہلے سے زیادہ شان و شوکت اور عظمت کیساتھ منانے کیلئے باہر نکلنا چاہیئے، ایسے میں جب امت مسلمہ کے مرکز مقدس سرزمین پر قابض خائن حکمران اسلام کے ازلی دشمن کیساتھ ملکر اسرائیل کیساتھ اپنے تعلقات کو کھول رہے ہیں اور اس خیانت میں دیگر ممالک کو بھی شریک کر رہا ہے، امت کو واضح کر دینا چاہیئے کہ آل سعود کو قطعی کوئی حق نہیں کہ امت کے بارے ایسے فیصلوں سے یہ تاثر دے کہ وہ امت مسلمہ کی قیادت کر رہا ہے، ان خائن اور عیاش عربوں کو ان کی اوقات یاد دلانے کیلئے امت متحد ہو کر دنیا کے ہر شہر اور ملک میں اپنے اس دیرینہ مسئلہ پر یکجہتی کا اظہار کرے، تاکہ خائنین کی خیانت پر کاری ضرب لگائی جا سکے۔ قدس ہمیں امام زمانہ عج کے زمانہ کی تیاری کا راستہ و روش دکھاتا ہے، اس لئے کہ امام زمان عج نے بھی مظلوموں کو ظالموں سے نجات دلانے کیلئے جنگ کرنی ہے اور ظالموں سے اقتدار چھین کر مظلوم اور محروم لوگوں کے حوالے کرنا ہے، ہمیں اس موقعہ کو گنوانا نہیں چاہیئے۔

پاکستان میں مختلف اسلامی و سیاسی تنظیموں کی طرف سے مظلوم فلسطینی بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جمعۃ الوداع یعنی رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو امام خمینی کے فرمان پر عمل پیرا ہو کر اس دن کو عالمی یوم القدس کے طور پر منایا جاتا ہے اور پورے ملک میں جلسے، جلوس، ریلیاں، سیمینارز کے ذریعے مظلوم فلسطینیوں کی آواز کو اقوام عالم تک پہنچانے کی سعی کی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ ہر سال پہلے سے زیادہ قوت اور شہامت کے ساتھ جاری رہتا ہے، دنیا بھر کی طرح ہمارے ملک کی فضائیں بھی مردہ باد اسرائیل کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھتی ہیں، ہر سو اسرائیلی پرچموں کو نذر آتش کرکے اس کے وجود کے خاتمے کا عزم دہرایا جاتا ہے، اس دن مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے اور انہیں اس بات کا احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں، اس کیساتھ ساتھ پوری دنیا میں مختلف اقوام و ملل کیطرف سے نکلنے والے مظاہروں، ریلیوں اور احتجاجی جلوسوں سے استعمار کی یہ سازش بھی ناکامی سے دوچار ہوتی ہے، جس کا مقصد اس مسئلہ کو عرب مسئلہ یا علاقائی مسئلہ بنا کر اسے محدود کرنا ہے۔۔۔۔۔۔ ہم یقین سے کہتے ہیں کہ وہ دن جلد اور ضرور آئے گا، جب دنیا کے نقشہ سے اس شیطانی جرثومے اور غدود کو محو کر دیا جائے گا، اس لئے کہ ولی امر المسلمین نے بھی یہی کہا ہے کہ اسرائیل دنیا کے نقشے سے جلد محو ہو جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 647608
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے