0
Thursday 29 Jun 2017 14:05

آزادی حلب سے زیادہ بڑی فتح

آزادی حلب سے زیادہ بڑی فتح
تحریر: سعداللہ زارعی

شام عراق سرحد سے ملحقہ علاقوں تک داعش کے خلاف آپریشن میں مصروف شام آرمی اور عراق آرمی کی رسائی اس قدر اہم اور اسٹریٹجک ہو گئی ہے کہ امریکی حکام، اسرائیلی حکام اور خطے میں امریکی اتحادیوں نے اسے اپنی خاص توجہ کا مرکز بنا رکھا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی فوج کا اپنی سرحدوں پر موجود ہونا ایک معمولی واقعہ ہے، خاص طور پر اس وقت جب اس کی سرحدوں کو داعش جیسے مسلح دہشت گرد گروہ سے خطرہ لاحق ہو۔ لہذا کیا وجہ ہے کہ عراق اور شام آرمی کا اپنے ممالک کے سرحدی علاقوں میں موجود ہونا اس قدر اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اسرائیل اسے اپنے لئے ایک اسٹریٹجک خطرہ قرار دیتا ہے اور امریکہ اس امر کو "اہم منفی تبدیلی" کے طور پر بیان کرتا ہے؟ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

جب عراق اور شام کی افواج ایسے سرحدی علاقے پر آپس میں ملتی ہیں اور فوجی زبان میں ان کا "الحاق" انجام پاتا ہے جو ایک عرصے سے شدت پسند عناصر کے زیر قبضہ رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب بغداد سے دمشق تک ایک سیف زون قائم ہو چکا ہے اور دو اہم عرب ممالک نے ایسی نئی سیکورٹی صورتحال پیدا کرنے کے عزم راسخ کو حقیقت کا رنگ عطا کر دیا ہے جس میں کسی قسم کا خلل ڈالنا ممکن نہیں۔ یہ کم از کم گذشتہ 40 برس کے دوران ایک انتہائی کم نظیر امر ہے۔ اس عرصے میں عراق اور شام کی حکومتیں یا تو ایکدوسرے کی دشمن رہی ہیں اور یا ان کے درمیان کسی قسم کا تعاون موجود نہیں رہا۔ شام میں حکمران بعث پارٹی اور عراق میں حکمران بعث پارٹی کے درمیان پائی جانے والی دشمنی اس قدر شدید تھی کہ حتی مشترکہ دشمنوں کی جانب سے درپیش خطرات کے باوجود اس دشمنی میں کمی نہ آ سکی۔

عظیم قدرتی وسائل اور بڑی آبادی کے حامل تاریخی اعتبار سے دو طاقتور ممالک، عراق اور شام میں جدائی اور دوری ہمیشہ سے ہی مغربی طاقتوں، اسرائیل اور خطے میں ان کی پٹھو حکومتوں کیلئے اسٹریٹجک ہدف رہا ہے۔ لیکن آج ان دو بڑے عرب ممالک میں قربتیں دکھائی دے رہی ہیں اور اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ دونوں ممالک مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم بر جمع ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ امر خطے کیلئے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتا ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک کیلئے بھی سبق آموز واقع ہو سکتا ہے۔ عراق اور شام کی دو قومیں آپس میں متحد ہو کر اور ایکدوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر خطے میں موجود مسائل اور بحرانوں کو حل کرنے کیلئے اہم اقدامات انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اسرائیل نے شام میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے ذریعے بدامنی شروع کروا کر اور پھر اسے عراق تک پھیلا کر یہ گمان کیا تھا کہ اس طرح اس کی تسلط پسندانہ پالیسیوں میں رکاوٹ بننے والے مشرقی محاذ کے دو اہم دشمن یعنی عراق اور شام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ بغداد اور دمشق سے تہران کے گہرے اور برادرانہ تعلقات کے پیش نظر اسرائیلی حکام اس عظیم پریشانی کا شکار رہے ہیں کہ کہیں ان تعلقات کا نتیجہ تہران سے دمشق تک ایک پیوستہ سیکورٹی و سیاسی راہداری کی صورت میں نہ نکل آئے لہذا وہ ہمیشہ سے اس مشرقی محاذ کی جانب سے شدید خطرے کا احساس کرتے آئے ہیں۔ وہ بحران جو داعش کے ذریعے ابتدا میں شام میں ایجاد کیا گیا اور اس کے بعد اسے عراق تک پھیلا دیا گیا، دیگر تکفیری دہشت گرد عناصر جیسے النصرہ فرنٹ نے اس کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا۔ 2014ء تک اس بحران کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا اور اسرائیلی حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ شام کا کام تمام ہونے والا ہے۔ 2014ء میں شام میں داعش کی تیزی سے جاری پیشقدمی کے دوران عراق بھی شدید دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گیا۔

اسرائیلی حکومت ہر گز ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ چند سال کے انتہائی مختصر عرصے میں یہ دونوں ممالک دہشت گردی کے عفریت پر قابو پا کر ملک میں سیکورٹی حالات کو نارمل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لہذا اسرائیل مطمئن تھا کہ اس کی مشرقی سرحدوں سے ایران کی مغربی سرحدوں تک کا علاقہ اس کیلئے سیف زون ہے اور اسرائیلی سیکورٹی ماہرین اس عرصے کو اسرائیل کی کھوئی ہوئی طاقت واپس لانے کیلئے سنہری دور کے طور پر یاد کرنے لگے۔ لیکن آج 2017ء کے وسط میں عراق کو درپیش سیکورٹی بحران کا خاتمہ ہو چکا ہے اور شام میں بھی سرگرم داعش آخری سانسیں لے رہی ہے۔ شام میں داعش کے بچے کھچے دہشت گرد عناصر مکمل طور پر شام آرمی کے محاصرے میں ہیں اور باہر سے ان کی ہر قسم کی لاجسٹک سپورٹ منقطع ہو چکی ہے۔ دوسری طرف عراق اور شام میں گہرے برادرانہ تعلقات استوار ہو چکے ہیں اور دو دشمن ملک آج دو برادر ملک بن گئے ہیں۔

تقریباً ایک سال پہلے سے یہ پیش گوئی کی جا رہی تھی کہ شام اور عراق میں دہشت گردی پر قابو پا لیا جائے گا لہذا اس وقت سے اسرائیل کی پوری کوشش تھی کہ ایسا نہ ہونے پائے کیونکہ وہ شام اور عراق میں موجودہ حکومتوں کے ہوتے ہوئے سیاسی استحکام کو اپنے لئے خطرناک تصور کرتا ہے۔ تقریباً 6 ماہ قبل اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے روس کا دورہ کیا۔ انہوں نے روسی حکام سے ملاقات میں انہیں بھی یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ شام اور عراق کی موجودہ حکومتیں بین الاقوامی امن کیلئے خطرہ ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے گذشتہ چند عشروں کے دوران تقریباً دس لاکھ روسی یہودیوں کا مقبوضہ فلسطین کی جانب نقل مکانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہودیوں کے مستقبل سے متعلق اپنے شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا۔

روسی حکام نے اسرائیلی وزیراعظم کو یقین دہانی کروائی کہ وہ سیکورٹی خدشات سے نمٹنے کیلئے تل ابیب کی ہر ممکنہ مدد کو تیار ہیں۔ اسی طرح روسی حکام نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ اسرائیل کیلئے کسی نئی سیکورٹی خطرے کی پیدائش کی روک تھام کریں گے۔ البتہ خود روسی حکام بھی اس امر سے بخوبی آگاہ تھے کہ جس صورتحال کو اسرائیلی وزیراعظم اپنے لئے اسٹریٹجک خطرہ قرار دے رہے ہیں وہ پیدا ہو کر ہی رہے گی اور اسے پیدا ہونے سے روکنا خود روس کے بس میں بھی نہیں۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ عراق اور شام کی فوجوں میں الحاق پیدا ہونے سے روکنے کیلئے انجام پانے والے اقدامات میں روس نے بھی ایک حد تک مدد فراہم کی لیکن روس نے ہر گز اپنے طور پر اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنے کی کوشش نہیں کی۔

امریکہ نے عراق اور شام کی نئی سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر اس منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا جسے درحقیقت اسرائیلی حکام اور ماہرین نے تیار کیا تھا۔ یہ منصوبہ شام کے جنوبی حصے پر مرکوز تھا جہاں شام، عراق اور اردن کی سرحدوں کا ملاپ ہوتا ہے۔ یہ ایک انتہائی اسٹریٹجک خطہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد عراق سے متصلہ شام کے سرحدی علاقے میں 80 کلومیٹر چوڑائی پر مبنی "سیف زون" قائم کرنا تھا تاکہ شام آرمی اور اس کی اتحادی فورسز اس علاقے میں داخل نہ ہو پائیں۔ اسی طرح اس علاقے کو نو فلائی زون قرار دے کر اس کی فضائی حدود میں شام اور اس کے اتحادیوں کی جنگی اور سویلین پروازوں کا داخلہ بھی ممنوعہ قرار دینے کا ارادہ کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا اصل مقصد اسلامی مزاحمتی بلاک کا آپس میں رابطہ منقطع کرنا تھا تاکہ عراق اور شام کی سرحد پر ان کا مطلوبہ بفر زون قائم ہو سکے اور یوں شام میں سرگرم اسلامی مزاحمتی قوتوں کا عراق میں سرگرم اسلامی مزاحمتی قوتوں سے رابطہ برقرار نہ ہو پائے۔

امریکی حکام نے فوراً ہی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں شروع کر دیں اور پہلے مرحلے پر عراق کی سرحد پر واقع شام کے علاقے میں 60 کلومیٹر چوڑی اور 100 کلومیٹر لمبی پٹی کی نشاندہی کر دی گئی۔ اس خطے کو "بفر زون" قرار دے دیا گیا اور روس آرمی کے ذریعے شام اور ایران کو یہ پیغام پہنچایا گیا کہ یہ خطہ امریکہ کے زیر کنٹرول ہے لہذا کسی کو اس میں داخل ہونے کا حق حاصل نہیں۔ دوسری طرف یہ ایک واضح امر تھا کہ اگر اسلامی مزاحمتی بلاک اس امریکی صہیونی منصوبے پر خاموشی اختیار کر لیتا تو عراق، شام اور اسلامی مزاحمتی بلاک کیلئے عظیم مشکلات اور مسائل جنم لے لیتے۔

سب سے پہلی مشکل یہ ہوتی کہ شام اور عراق کے درمیان لاجسٹک سپورٹ منقطع ہو جاتی کیونکہ عراق اور شام کی مشترکہ سرحد پر نہ تو زمینی نقل و حرکت کی اجازت تھی اور نہ ہی فضائی حدود میں پرواز کی اجازت تھی۔ اسی طرح بحیرہ روم میں امریکی نیوی کی موجودگی کے باعث سمندری راستے سے بھی عراق اور شام کا رابطہ منقطع ہو چکا تھا۔ ایسی صورت میں امریکہ انتہائی آسانی سے کسی بھی فوجی کاروائی کے ذریعے شام میں فتح سے ہمکنار ہو سکتا تھا۔ اس ناپاک منصوبے کا دوسرا منفی اثر تکفیری دہشت گرد گروہوں کی از سر نو تشکیل اور نشوونما کا زمینہ فراہم ہونا تھا۔ وہ بھی ایسے وقت جب داعش کا خاتمہ انتہائی نزدیک دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی صہیونی منصوبے کا تیسرا اثر یہ نکلتا کہ سعودی عرب اور ترکی کو شام میں اپنا شکست خوردہ منصوبہ دوبارہ آزمانے کا موقع ہاتھ آ جاتا۔ یہ تمام اثرات اور نتائج ایک اصلی نتیجے پر ختم ہو رہے تھے اور وہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی مطلوبہ سیکورٹی صورتحال کی پیدائش کی صورت میں ظاہر ہونا تھا۔

اسلامی مزاحمتی بلاک نے جنرل قاسم سلیمانی کی کمان میں خطے سے متعلق اس امریکی صہیونی شیطانی منصوبے کو ناکام بنانے کا عزم راسخ کر لیا۔ اسلامی مزاحمتی بلاک کے پاس اس حتمی فیصلے کے ٹھوس دلائل موجود تھے۔ سب سے پہلی دلیل یہ ہے کہ امریکہ کو اس بات کا حق حاصل نہیں کہ وہ کسی ملک میں آ کر اس کی سرزمین کے ایک حصے کو اسی کے باشندوں کیلئے نو گو ایریا قرار دے۔ امریکہ کس قانون کی بنیاد پر دیگر ممالک کی سرزمین کو اپنے فوجی اور سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتا ہے؟ لہذا اسلامی مزاحمتی بلاک نے روس کے ذریعے امریکی فوجی کمانڈروں کو یہ واضح پیغام پہنچا دیا کہ شام آرمی عراق کے ساتھ اپنے سرحدی علاقوں پر کنٹرول کا مکمل حق رکھتی ہے اور انہیں اس حق سے روکنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔

امریکی حکام نے اس جرات مندانہ پیغام کے جواب میں ہمیشہ کی طرح دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور مدمقابل کو یہ باور کروانے کیلئے کہ اس کی دھمکیاں حقیقت پر مبنی ہیں محدود پیمانے پر عراقی سرحد کی جانب پیشقدمی کرتی ہوئی شام آرمی کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ لیکن اسلامی مزاحمتی بلاک نے ان امریکی ہتھکنڈوں کو کوئی اہمیت نہ دی اور بے مثال شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شام کے جنوب میں عراق کی سرحد کی جانب پیشقدمی جاری رکھی۔

دوسری طرف عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے داعش کے خلاف شاندار کامیابیاں حاصل کرتی ہوئی اپنی رضاکار فورسز کو حکم دیا کہ وہ شام کی سرحد کی جانب پیشقدمی کا آغاز کر دیں۔ یوں شام کی سرحد کے قریب وسیع عراقی علاقہ دہشت گرد عناصر سے آزاد کروا لیا گیا اور ان پر عراق آرمی اور اس کی اتحادی رضاکار فورسز کا قبضہ ہو گیا۔ لہذا عراق اور شام میں سرگرم اسلامی مزاحمتی فورسز کی شجاعت اور بہادری کے نتیجے میں وہ عمل انجام پا گیا جسے روکنے کیلئے امریکہ، اسرائیل اور خطے میں ان کی پٹھو حکومتیں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں۔ یہ عمل درحقیقت شام آرمی اور عراق آرمی کا سرحدی علاقوں میں آپس میں الحاق اور اتصال ہے۔ امریکی حکام اپنے موقف سے پسماندگی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے اور ان کے اس اقدام سے یہ ثابت ہو گیا کہ وہ اسلامی مزاحمتی بلاک سے ٹکر لینے کی جرات اور ہمت نہیں رکھتے۔

حالیہ دنوں میں عراق اور شام کی سرحد پر جو کچھ بھی ہوا وہ انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ بعض فوجی ماہرین شام آرمی کی محوریت میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب سے حلب شہر کی آزادی کو انتہائی اہم اور اسٹریٹجک قرار دے رہے تھے اور ان کی یہ رائے درست بھی تھی لیکن آج وہی فوجی ماہرین شام اور عراق کے مشترکہ سرحدی علاقوں میں امریکی صہیونی منصوبے کی ناکامی کو اسلامی مزاحمتی بلاک کیلئے حلب کی آزادی سے زیادہ بڑی فتح قرار دے رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مغرب کی حمایت یافتہ دہشت گردی پر اسلامی مزاحمتی بلاک کا غلبہ اصل میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے وجود کیلئے شدید خطرات جنم لینے کا باعث بن جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 649353
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب