0
Friday 7 Jul 2017 19:59

ماہ جولائی۔۔۔ تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

ماہ جولائی۔۔۔ تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

یہ جولائی کا مہینہ ہے، اس مہینے سے ہماری بڑی یادیں وابستہ ہیں، شہداء کو جتنا بھی یاد کیا جائے، ان کا حق ادا نہیں ہوسکتا، زندہ قومیں کبھی بھی اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتیں۔ آج میں نے عام روایت سے ہٹ کر دو ایسے شہیدوں کا انتخاب کیا ہے کہ جنہیں ہمارے ہاں بہت کم یاد کیا جاتا ہے۔ آیئے آج یاد کریں ان کو جن کی یاد تکفیریت کے طلسم کو توڑنے کے لئے کافی ہے، جن کا نام محبت اور اخوت کی علامت ہے، جنہوں نے ہمارے اتحاد اور بقا کے لئے اپنی زندگیاں قربان کر دیں اور جنہوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر وطن کا علم بلند رکھا۔ گذشتہ روز بھارتی وزیراعظم مودی جب اپنے اسرائیلی ہم منصب نیتن یاہو کے ساتھ  اسرائیلی شہر حیفا کے ساحل کے کنارے ننگے پائوں ٹہل رہے تھے تو مجھے اسی ماہ جولائی کے وہ دو عظیم شہید یاد آرہے تھے کہ جن کے نام سے آج بھی ہندوستان کے ایوانوں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ ہندوستان اور اسرائیل، جتنے بھی باہمی دورے اور معاہدے کر لیں، یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ پاکستان کے عوام اور فوج کسی بھی طور ہندوستان اور اسرائیل سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں۔ اگرچہ اس وقت سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں نے بھی  فلسطین کی حمایت سے ہاتھ کھینچ کر اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہوا ہے، تاہم    یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ پاکستانی نظریاتی طور پر ایک مستقل قوم ہیں اور پاکستانی قوم کشمیر اور فلسطین کی حمایت کو اپنے ایمان کا جزو سمجھتی ہے۔

اس مہینے میں جب مسٹر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تو یہ وہ مہینہ ہے، جس میں یعنی ماہ جولائی میں وطن عزیز پاکستان کے دو عظیم بیٹوں نے نشانِ حیدر حاصل کیا تھا۔ ان میں سے ایک کا نام کرنل شیر خان ہے، جو یکم جنوری 1970ء کو خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی میں پیدا ہوئے۔ 5 جولائی 1999ء کو کرنل شیر خان دشمن کی مشین گن کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے کے بعد شہید ہوگئے۔ یاد رہے کہ کرنل شیر خان خیبر پختونخوا کے پہلے فوجی اہلکار ہیں، جن کو نشان حیدر دیا گیا، شہادت کے وقت ان کی عمر 29 سال 7 ماہ تھی۔ ماہ جولائی میں وطن عزیز پر اپنی جان نچھاور کرکے نشان حیدر حاصل کرنے والے دوسرے عظیم سپوت کا نام لالک جان ہے۔ لالک جان کا تعلق شمالی علاقہ جات سے ہے، یہ یکم اپریل 1967ء کو گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں پیدا ہوئے  اور 1984ء میں سترہ سال کی عمر میں  بحیثیت سپاہی پاک فوج میں بھرتی ہوئے۔ قوم کے اس عظیم سپوت نے اپنی شہادت سے پہلے 7 جولائی 1999ء کو 3 دن کے دوران ہونے والے ہندوستانی فوج کے سترہ حملوں کو ناکام بنایا۔ مقابلے اور جدوجہد کے دوران دشمن کی مشین گن کا ایک برسٹ ان کے سینے پر آلگا، لیکن زخمی حالت میں بھی انہوں نے تین گھنٹوں تک دشمن کی فوج کا مردانہ وار مقابلہ کیا، اسی طرح حالت جنگ میں ان کی شہادت واقع ہوئی۔ شہادت  کے وقت ان کی عمر 32 سال تین ماہ تھی، وہ نشان حیدر حاصل کرنے والے اب تک پاک فوج  کے آخری اہلکار ہیں۔

ہمارے لاکھوں کروڑوں سلام ہوں ان شہداء پر، جن کے خون سے یہ چمن لہلہا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی جانوں نے نذرانے دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دشمن چاہے ان کے سروں سے فٹبال کھیلے، ان کے گلے کاٹے، انہیں ناپاک فوج کہے، ان کے خلاف کفر کے فتوے دے اور نئی دہلی سے لے کر تل ابیب تک پورا عالم کفر ایک ہو جائے، اس کے باوجود پاک فوج کے جوان کبھی بھی ارض وطن پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔
اے راہِ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو
وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا لئے تم نے
بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو
سہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لئے تم نے
تمہیں چمن کی فضائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو
چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم
رسولِ پاک نے بانہوں میں لے لیا ہوگا
علی تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے
حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہوگا
تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں
جنابِ فاطمہ جگرِ رسول کے آگے
شہید ہو کے کیا ماں کو سرخرو تم نے
جنابِ حضرتِ زینب گواہی دیتی ہیں
شہیدو رکھی ہے بہنوں کی آبرو تم نے
وطن کی بیٹیاں مائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
خبر کا کوڈ : 651521
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب