0
Thursday 13 Jul 2017 22:37

شکست موصل کے بعد داعش کا اگلا ہدف

شکست موصل کے بعد داعش کا اگلا ہدف
تحریر: ایس ایم شاہ

اس وقت دشمن کی چالوں کا ادراک سب سے مشکل مرحلہ ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ استعماری طاقتیں ہمیشہ سے مسلمانوں کو سرکوب کرنے میں مصروف عمل رہی ہیں۔ البتہ ان کے تیور بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی دوستی کا لبادہ پہن کر انسانی ہمدردی، فلاح و بہبود اور انسانی حقوق کی علمبردار بن کر میدان میں اترتی ہیں تو بسا اوقات اپنا حقیقی چہرہ عیاں کرکے دشمن بن کر میدان میں قدم رکھتی ہیں۔ اکثر و بیشتر لڑاؤ اور حکومت کرو کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اپنے ہی مسلمانوں میں سے بعض سادہ لوح افراد کی برین واشنگ کرکے بہت زیادہ مذہبی بنا کر یا سیکولر مسلمان بنا کر ان کو آگے کیا جاتا ہے۔ طالبان اور داعش وغیرہ کا تعلق بھی اسی صنف سے ہے، تاکہ مرے بھی مسلمان، مارے بھی مسلمان اور دنیا والوں کے سامنے انتہا پسندی کے نام پر بدنام بھی اسلام اور مسلمان ہوجائیں۔ درحقیقت داعش کا اگلا ہدف کہنا درست نہیں کیونکہ یہ لوگ کرائے کے مزدور ہیں۔ یہ لوگ جہاں سے مزدوری زیادہ ملے، وہاں کا رخ کرنے والے ہیں بلکہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے ہم نواؤں کا اگلا ہدف کیا ہوگا، کہنا درست ہے، کیونکہ یہ سب کچھ ان استعماری طاقتوں کا کھیل ہے۔ داعش نے تین سالوں سے موصل کو اپنا خود ساختہ مرکز خلافت قرار دے رکھا تھا۔ 2014ء میں موصل پر قبضہ ہوتے ہی ابوبکر بغدادی نے مسجد النورین سے اپنی خلافت کے آغاز کا اعلان کیا۔

عراقی عوام، سیاست دان اور علماء و مجتہدین عظام سب ایک پیچ پر جمع ہوگئے۔ بالخصوص آیت اللہ سید علی سیستانی کے ایک فتویٰ نے دشمن کے تمام چالوں کو نقشہ بر آب کر دیا۔ انہوں نے داعش کے خلاف نبردآزما ہونے کو تمام عراقیوں کے لئے واجب کفائی قرار دیدیا۔ دشمن فرقہ وارانہ فسادات ایجاد کرکے عراقیوں کو شیعہ سنی میں تقسیم کرنا چاہتے تھے۔ آپ نے فتویٰ دیا کہ اہل سنت شیعوں کے نہ صرف بھائی ہیں بلکہ سنی نفس شیعہ ہیں۔ یوں آج وہ دن دیکھنا بھی نصیب ہوا کہ عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے رواں ہفتہ باضابطہ موصل سے داعش کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کے نزدیک ان کے اگلے ہدف کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض کا کہنا ہے اب داعش اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ ایک خاص ملک یا شہر کو اپنا مرکز قرار دے سکے، بلکہ یہ لوگ اپنے اپنے ملک کی طرف واپس لوٹیں گے۔ لہذا جن جن ممالک سے داعش میں بھرتی ہوکر آئے ہیں، اب یہی افراد اپنے اپنے ملک میں دہشتگردانہ واردات کریں گے اور ان کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوں گے۔ بعض کے نزدیک اب یورپین ممالک کو ان سے بہت زیادہ خطرہ ہے، جبکہ اکثر کی رائے یہ ہے کہ اب ان کا اگلا ہدف افغانستان اور لیبیا ہوگا، کیونکہ سی این این کے مطابق اس سال کے ابتدائی چھ مہینوں کے اندر لیبیا کے اندر داعش کے داخلے میں بیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ساتھ ہی ترکی کے لئے بھی ان سے زیادہ خطرہ ہے، کیونکہ یہ بھی عراق اور شام کے ہمسائے میں واقع ہے۔

میری نظر میں بھی یہی آخری نظریہ زیادہ قوی دکھائی دیتا ہے، کیونکہ لیبیا اور افغانستان دونوں کافی عرصے سے حالت جنگ میں ہیں۔ لہذا ان کی دفاعی طاقت اتنی قوی نہیں کہ وہ ان کو روک سکے۔ ساتھ ہی پہلے سے ہی دونوں ملکوں میں داعشیوں کا اثر و رسوخ قائم ہے۔ کیونکہ داعش اب ایک نظریاتی طبقے کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ علاوہ ازیں افغانستان میں پہلے سے ہی نظریاتی اعتبار سے داعشی فکر رکھنے والے افراد کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ وہ سب شام اور موصل کے فراریوں کے لئے معاون ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں امریکی فوج ابھی تک موجود ہے۔ اگر خدانخواستہ داعش افغانستان کو اپنا مرکز خلافت قرار دے، جیسا کہ پہلے طالبان ایسا کرچکی ہے، تب ہمسائے میں آگ لگنے کے بعد دوسرے ہمسائیوں کے لئے بھی یہ بڑا خطرہ رہتا ہے، کسی بھی وقت آگ انہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ مملکت خداداد پاکستان، افغانستان کے جوار میں واقع ہے اور موجودہ صورتحال میں ان کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی سرد مہری کی شکار ہے۔ دوسری طرف ہمارے ملک میں بھی تنگ نظری اور مذہبی شدت پسندی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

یہاں تک کہ معتبر ذرائع کے مطابق اب پاکستان کی سرکاری جامعات میں بھی روز بروز شدت پسندی فروغ پا رہی ہے۔ جب سرکاری یونیورسٹیوں میں بھی مذہبی انتہا پسندی فروغ پانے لگے تو اس بلا سے نجات صرف ایک خواب بن جائے گی۔ پھر دسیوں آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد ہی کیوں نہ کئے جائیں، ان کا کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ جامعات سے نظریاتی افراد تربیت پاتے ہیں۔ جب یونیورسٹیوں سے ہی داعشی اور طالبانی نظریات کی ترویج ہو اور داعشی ہم نظر افراد تربیت پاکر نکلیں گے تو آہستہ آہستہ یہی افراد ہمارے اہم اداروں کی "کی پوسٹوں" پر بھی قابض ہو جائیں گے۔ پھر ان کو نکال پھینکنا ناممکن ہوگا۔ لہذا اب ان نازک حالات میں مملکت خداداد کے تمام اداروں اور شہریوں کو اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے اور ہر فورم پر مذہبی انتہا پسندی کو سرکوب کرنے اور باہمی اتحاد، ہمدلی اور اخوت کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ اتحاد ہی وہ عظیم طاقت ہے، جس کے ذریعے استعماری اور ہر طرح کے دشمنوں کی مختلف سازشوں کا ادراک اور ان کا مردانہ وار مقابلہ بھی بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 653172
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب