0
Saturday 5 Aug 2017 01:10

قطر کے خلاف چار عرب ممالک کی اقتصادی جنگ

قطر کے خلاف چار عرب ممالک کی اقتصادی جنگ
تحریر: عباس سید میر

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کو دی جانے والی ڈیڈ لائن ختم ہو چکی ہے اور اس میں مزید 48 گھنٹے کی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ توسیع کویت کی وساطت سے انجام پائی ہے تاکہ اس دوران قطر ان عرب ممالک کے پیش کردہ مطالبات تسلیم کر لے اور یوں عرب دنیا میں پیدا ہونے والا بحران ختم ہو سکے۔ ریاض، ابو ظہبی، منامہ اور قاہرہ نے اعلان کیا ہے کہ "قطر کسی شرط کے بغیر ان مطالبات کو تسلیم کرے اور انہیں مکمل طور پر عملی جامہ پہنائے"۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے پیش کردہ مطالبات کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان کے ذریعے قطر کی حاکمیت اور بالادستی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف دوحہ ایسے مطالبات کو تسلیم کرنے پر تیار دکھائی نہیں دیتا جس میں اس کی قومی خودمختاری پر آنچ آتی ہو۔ چار عرب ممالک اور ان کے مقابلے میں قطر کی جانب سے انجام پانے والے اقدامات کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب دنیا میں پیدا ہونے والا یہ بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گا جو درحقیقت اقتصادی پابندیوں کا مرحلہ ہے۔

عرب اخبار "عکاظ" جس کا نقطہ نظر ریاض کے قریب ہے، نے چند روز قبل خلیج فارس کے اعلی سطحی ذرائع سے نقل کرتے ہوئے لکھا: "اگر دوحہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے پیش کردہ تیرہ مطالبات مسترد کر دیتا ہے تو اسے مزید اقتصادی پابندیوں کیلئے تیار ہو جانا چاہئے۔ اسی طرح یہ امکان بھی موجود ہے کہ خلیج تعاون کونسل میں اس کی رکنیت بھی معطل کر دی جائے گی۔" دوسری طرف چار عرب ممالک نے قطر کے خلاف اقتصادی پابندیوں کیلئے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ ان ممالک نے جنیوا میں منعقد ہونے والے تجارتی اجلاس کے دوران ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا: "عالمی تجارت کے قانون کی شق نمبر 21 کی رو سے ہم اپنے مفادات کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے دوحہ کے خلاف بعض اقدامات انجام دیں گے۔ اسی طرح اس قانون کی شق نمبر 14 اور 73 کی روشنی میں قطر کے خلاف سزا کے طور پر اقتصادی اقدامات انجام دیئے جائیں گے۔"

ریاض اور اس کے اتحادی عرب ممالک نے تمام اقتصادی، ٹیکنالوجی اور تجارتی کمپنیز کو خبردار کیا ہے کہ قطر کے ساتھ کسی قسم کے تعاون کی صورت میں انہیں اپنے ملک میں فعالیت سے محروم کر دیا جائے گا لہذا انہیں قطر اور ان چار ممالک میں سے ایک کو انتخاب کرنا پڑے گا۔ ان عرب ممالک کا خیال ہے کہ قطر کے خلاف ان کی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں بہت سی کمپنیاں اس ملک میں اپنی سرگرمیاں ترک کر دیں گی اور سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کو ترجیح دیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک کی نظر میں ان کمپنیوں کو قطر میں سرگرمی مہنگی پڑ جائے گی اور وہ نقصان سے بچنے کیلئے اس کام سے گریز کریں گی۔ اسی طرح سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک کا خیال ہے کہ قطر کے خلاف ان کی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں قطر کی کرنسی بھی گر جائے گی اور یوں علاقائی اور بین الاقوامی بینک قطر سے تعاون ترک کر دیں گے جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ قطر میں بیرونی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہو گی اور اس ملک میں جاری ترقیاتی منصوبے خلل کا شکار ہو جائیں گے۔ ان تمام مسائل کا نتیجہ عوامی ناراضگی اور احتجاج کی صورت میں ظاہر ہو گا۔

سعودی عرب سمیت ان چار ممالک نے قطر کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں دیگر ممالک کی ہمراہی اور حمایت حاصل کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر میڈیا اور سفارتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر ثقافت نے جرمنی کا دورہ کیا ہے جس میں قطر کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں جرمن حکام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ڈاکٹر عواد بن صالح عواد نے اس دورے کے اختتام پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "جرمن حکام قطر کے خلاف پابندیوں پر مبنی ہمارے موقف کو کافی حد تک سمجھنے لگے ہیں۔" اسی طرح روس میں متحدہ عرب امارات کے سفیر نے برطانوی اخبار ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: "لندن کے بینکوں میں موجود قطر کا پیسہ عوام کے خون سے آلودہ ہے۔" عمر سیف غیاش نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا: "لندن کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ یا تو خلیج تعاون کونسل سے تعلقات بہتر بنائے اور یا پھر قطر جیسے چھوٹے ملک سے دوستی کرے جو دہشت گردانہ اقدامات میں بھی ملوث ہے۔"

دوسری طرف قطری حکام بھی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے دشمنانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کیلئے سرگرم عمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اقتصادی، سیاسی اور حتی فوجی شعبوں میں کئی اقدامات انجام دیئے ہیں جن کا مقصد اس بحرانی اور تناو پر مشتمل صورتحال میں قطر کی پالیسیوں اور مفادات کا دفاع کرنا ہے۔ قطری حکام نے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کرنے اور ان کے حکام سے ٹیلیفونک رابطہ برقرار کرنے کے ذریعے ان میں سے بعض کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ اس وقت ایران اور ترکی قطر کو کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر روزمرہ ضرورت کا سامان فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ انقرہ نے قطر کے ساتھ سیکورٹی معاہدے کے تحت اپنے فوجی اس ملک میں بھیج دیئے ہیں۔ بعض یورپی ممالک نے بھی قطر کے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے اقدامات می مذمت کی ہے جبکہ دنیا کے اکثر ممالک نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلیج فارس میں پیدا ہونے والے اس بحران کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔

قطر نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے اپنے اوپر تمام زمینی، ہوائی اور سمندری راستے بند کر دیئے جانے کے بعد اعلان کیا: "ہم تجارتی سازوسامان اور مسافروں کی نقل و حرکت کیلئے بین الاقوامی حدود سمیت دیگر متبادل راستے اختیار کریں گے۔" اس وقت قطر صرف اپنی آزاد حدود کے ذریعے دنیا کے دیگر ممالک سے رابطہ برقرار کئے ہوئے ہے اور انہیں سمندری حدود کے ذریعے ضروری سازوسامان قطر بھیجا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ایرانی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود قطری ایئرلائنز کیلئے بہترین انتخاب ہیں۔ بہرحال، اگر مذکورہ بالا چار عرب ممالک کی جانب سے قطر کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ خام تیل کی تجارت تک پہنچ جاتا ہے تو قطر کے خام تیل اور گیس کے حامل بحری جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں قطر کو متبادل سمندری راستوں کی تلاش کرنا ہو گی۔ البتہ اس بارے میں دوست ممالک کی مدد بھی انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

قطر کا اخبار "الشرق" قطر اسٹیٹ بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے: "قطری ریال کی قیمت پر کوئی فرق نہیں پڑا اور مستقبل میں بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔" عبدالباسط الشبی نے مزید کہا: "قطر میں سرمایہ کاری کو کوئی خطرہ نہیں۔ قطر کی اقتصاد بہت مضبوط ہے اور اس ملک کے بینکوں میں زر مبادلہ کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔" انہوں نے بعض عرب ذرائع ابلاغ کی جانب سے چار عرب ممالک کی جانب سے قطر کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں قطر کی معیشت پر منفی اثرات پیدا ہونے پر مبنی پروپیگنڈے کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا: "ہر ملک میں اس کی کرنسی کی قیمت اس کی اقتصادی طاقت کو ظاہر کرتی ہے نہ اس کی سیاست کو۔"

اس وقت قطر اور چار عرب ممالک کے درمیان پیدا شدہ بحران اقتصادی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ اس اقتصادی جنگ میں ہر ملک کی اقتصادی طاقت اور دیگر ممالک کی حمایت حاصل کرنا انتہائی اہمیت کے حامل اور فیصلہ کن عناصر ہیں۔ جو فریق بھی زیادہ ممالک اور کمپنیز کو اپنی طرف لانے میں کامیاب ہو جائے گا وہ اس جنگ کا فاتح قرار پائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اقتصادی جنگ میں کون سا فریق غالب آتا ہے اور اس کا اگلا قدم کیا ہو گا؟
خبر کا کوڈ : 658612
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب