0
Thursday 24 Aug 2017 18:04

بانیان پاکستان

بانیان پاکستان
تحریر: ڈاکٹر سید جعفر احمد

وہ بہترین زمانہ تھا، وہ بدترین زمانہ تھا، وہ دانائی کا زمانہ تھا، وہ بے وقوفی کا زمانہ تھا، وہ یقین کا زمانہ تھا، وہ بے یقینی کا زمانہ تھا، وہ روشنی کا موسم تھا، وہ اندھیرے کا موسم تھا۔۔۔ ہم سب براہِ راست جنت میں جا رہے تھے، ہم سب براہِ راست دوسری جانب جا رہے تھے۔ چارلس ڈکنز نے یہ سطور انقلابِ فرانس کے پس منظر میں لکھی تھیں۔ تاریخی اعتبار سے مکمل طور پر مختلف منظر نامے، جس میں پاکستان کی تشکیل ہوئی اور اس نے اپنا سفر شروع کیا، یہ سطور اس پر بھی صادق آتی ہیں۔ یہ وہ سفر تھا جو امید اور نومیدی اور یقین و بے یقینی کی متضاد کیفیتوں کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر اس قومی سوال کا جواب بن کر ابھرا جس پر متحدہ ہندوستان کے فریم ورک میں غور کرنا کم کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے بٹوارہ ناگزیر بن چکا تھا۔ بانیانِ پاکستان نے ملک کے بارے میں ایک بہت ہی پرامید اور خوشگوار تصور قائم کیا تھا۔ ان کے نزدیک یہ سماجی بھلائی اور جدید جمہوری اصولوں پر مبنی ملک ہوگا، جس میں وہ تمام خصوصیات ہوں گی، جس کی توقع ایک عام مسلمان ایک اسلامی ریاست سے کرتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کی حقیقت بانیانِ پاکستان کے پروان چڑھائے گئے تشخص کے بالکل الٹ ثابت ہوئی۔

پاکستان کی کہانی کا بڑی حد تک تعلق اس کی قیادت سے ہے۔ تاریخ دان جب تاریخی اسٹیج سجاتے ہیں، تو اپنی کہانی میں وہ پہلے کرداروں کا صرف تعارف کرواتے ہیں، جن کی خواہشات اور ان کا سماجی پس منظر و سیاق و سباق بعد میں کھلتا ہے۔ اس لئے سماجی اور سیاسی تاریخ پر کام کرنے والے تاریخ دانوں کو اہم کردار ادا کرنے والی تاریخی شخصیات کو مناسب مقام دینا پڑتا ہے۔ آزادی کے بعد پاکستان کی امیدوں اور نومیدی کا اس کے قائدین، اس کے بانیان سے بھی لینا دینا ہے۔ مگر ان میں سے کس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔؟ ہماری آزادی کو صرف ایک شخص، قائدِ اعظم محمد علی جناح کی جدوجہد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیونارڈ موسلی نے پاکستان کی تخلیق کو ایک آدمی کی کامیابی قرار دیا۔ پاکستان کی تخلیق میں جناح کے کردار کی اس سے بھی زیادہ جامع تشریح اسٹینلے وولپرٹ نے کی تھی۔ کچھ لوگ تاریخ کے دھارے کو تبدیل کر دیتے ہیں، جبکہ ان میں سے بھی کچھ دنیا کے نقشے میں ترمیم کرتے ہیں۔ ان میں بہت ہی کم لوگ نئی قومیت پر ملک تعمیر کرنے کا سہرا سر پر سجاتے ہیں اور جناح نے یہ تینوں کام کر دکھائے ہیں۔

مگر جہاں جناح کا غیر معمولی کردار انہیں ایک منفرد شخصیت بناتا ہے، وہیں یہ ہماری تحریکِ آزادی کی ایک کمزوری بھی عیاں کرتا ہے، جس نے بڑے رہنماؤں کا ایک وسیع حلقہ پیدا نہیں کیا۔ جو لوگ جناح کے ساتھ تھے، ان میں سے زیادہ تر ان کے سائے کے برابر بھی نہیں تھے۔ یہ کمزوری اس وقت کھل کر سامنے آئی، جب آزادی کے صرف 13 ماہ بعد جناح چل بسے۔ بیورلی نیکولز نے اس خطرے کو کافی پہلے بھانپ لیا تھا کہ اگر گاندھی چلے گئے، تو نہرو ہوں گے، یا پھر راج گوپال اچاری، یا پٹیل، یا پھر درجنوں دیگر۔ پر اگر جناح چلے گئے، تو ان کی جگہ کون لے گا؟ اور واقعی جب جناح کی وفات ہوئی تو ان کی جگہ لینے کے لئے کوئی نہیں تھا۔ لیاقت علی خان پختہ عمر کے تھے اور یقیناً ایک قدآور شخصیت تھے، مگر جناح کی چھوڑی ہوئی جگہ وہ قطعاً نہیں بھر سکتے تھے۔ قائدِ اعظم کے معتمد سپاہی ہونے کے باوجود لیاقت علی خان قائدِ اعظم جتنے بالادست نہیں تھے۔ صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ جناح کی وفات کے بعد وہ قدرتی طور پر سیاسی منظرنامے پر سامنے آئے۔ اسی طرح پاکستان نے اپنے سفر کا آغاز محدود سیاسی وسائل کے ساتھ کیا۔ بدقسمتی سے تحریکِ آزادی کے دوران مسلم لیگ ایک ایسا پلیٹ فارم رہی، جو مسلم سیاسی علیحدگی پسندوں کو آواز فراہم کرتی تھی۔ یہ ایک ایسی چھتری تھی، جس کے تلے ہر طرح کے مسلمان جمع ہوسکتے تھے۔

یہ ایک تحریک تو تھی، مگر ایک سیاسی جماعت نہیں۔ اس میں منظم ڈھانچہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی وفادار اور تربیت یافتہ کارکنان۔ آزادی کے فوراً بعد، لیگ کی کونسل میں تجویز پیش کی گئی کہ پارٹی کو تحلیل کر دیا جائے اور اس کے اندر موجود گوناگوں عناصر کو مختلف نظریاتی ترجیحات اور سیاسی پروگرامز کے گرد گھومنے والی زیادہ قدرتی تنظیمیں بنانے کی اجازت دی جائے۔ اس تجویز کو منظور نہیں کیا گیا اور آنے والے سالوں میں کچھ رہنماؤں کی کوتاہ بینی نے انہیں یہاں تک کہنے پر مجبور کر دیا کہ صرف اور صرف مسلم لیگ کو ہی ملک پر حکومت کرنے کا حق حاصل تھا۔ نامور لیگیوں میں سے کئی صوبائی سیاست سے اوپر نہیں گئے اور صوبائی اکھاڑوں میں بھی زیادہ تر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے نظر آتے۔ اس طرح کی اندرونی کمزوریوں کے ساتھ مسلم لیگ سول اور ملٹری اداروں کا دباؤ نہیں سہہ سکی، جنہوں نے ریاست چلانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں لیگ کی قیادت کی ایک بڑی ناکامی اس حقیقت کو نظرانداز کرنا تھا کہ پاکستان جن علاقوں پر مشتمل تھا، ان کی مؤثر سیاسی قیادت ملک کی تعمیر میں بہت بڑی مدد کرسکتی تھی۔ یہاں جن رہنماؤں کی بات کی جا رہی ہے، وہ یا تو تحریکِ پاکستان کے دوران مسلم لیگ کے ساتھ نہیں تھے اور کچھ کو نئے ملک کے حوالے سے تحفظات بھی تھے۔

مگر پھر بھی جب نیا ملک بن گیا، تب بھی ان کی اہمیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، بلکہ اس میں صرف اضافہ ہی ہوا، کیونکہ وہ حقیقی طور پر دھرتی کے بیٹے تھے، چنانچہ ان کے مضبوط سماجی بندھن اور سیاسی گڑھ تھے اور انہیں ایک بڑی تعداد عزت کی نگاہ سے دیکھا کرتی تھی۔ کنارے سے لگا دی گئی ان قدآور شخصیات میں خان عبدالغفار خان، عبدالصمد اچکزئی، جی ایم سید اور غوث بخش بزنجو شامل تھے۔ ان لوگوں کو ساتھ رکھنا نہ صرف مددگار ثابت ہوتا بلکہ لیگ کے وعدہ کردہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں بھی اہم ثابت ہوتا۔ اگر پاکستان کو ایک حقیقی وفاقی ریاست بننا تھا، جس کے لئے جناح نے سب سے زیادہ معقول دلائل دیئے تھے، تو یہ سیاستدانوں کا کام تھا، جو اسے حقیقت میں بدلنے کے لئے درکار تھا۔ وہ تحریکِ پاکستان کے حامی نہیں تھے، یہ زیادہ اہمیت کی حامل بات نہیں ہے، کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ آزادی کے بعد ریاست نے مذہبی سیاسی جماعتوں، یہاں تک کہ فرقہ وارانہ تنظیموں تک کی حمایت حاصل کرنے میں دیر نہیں کی، جنہوں نے تصورِ پاکستان کی مخالفت نہایت شدت اور مضبوط دلائل کے ساتھ کی تھی۔ اگر یہ دوسری طرح ہوا ہوتا، تو پاکستان کے سیاسی میدان میں موجود افراد کی تعداد اور قدر و قیمت آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ مختلف ہوتی۔ تقسیمِ ہند کے بعد غفار خان نے واشگاف الفاظ میں نئے ملک سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا تھا۔ ایک موقع پر جناح نے ان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب کو صوبے کی گورنری کی بھی پیشکش کی، مگر یہ تمام اقدامات آگے نہیں بڑھ سکے۔

جی ایم سید سیاسی طور پر بالکل مختلف تھے، مگر پھر بھی وہ کبھی خود کو جناح کا سپاہی اور جناح کو اپنا جرنیل قرار دے چکے تھے۔ لیگ کے ساتھ ان کے اختلاف صرف تقسیم کے وقت سامنے آئے اور وہ بھی الیکشن کے لئے تنگ نظر صوبائی سیاست پر تھے۔ انہیں مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا تھا، مگر لیگ نے ایسی قدآور سیاسی شخصیات کو دیوار سے لگا رہنے دیا۔ یہاں تک کہ لیگ کے اپنے اندر جن رہنماؤں نے صوبائی حقوق، شہری آزادیوں یا معاشرتی اصلاحات کے لئے آواز اٹھائی، انہیں رفتہ رفتہ باہر کا دروازہ دکھایا جاتا رہا۔ چنانچہ اپوزیشن کی اولین جماعتوں نے لیگ کے اپنے اندر سے جنم لیا۔ سہروردی، فضل الحق، مولانا بھاشانی، پیر صاحب مانکی شریف، افتخار حسین ممدوٹ، میاں افتخار الدین، اور کئی دیگر کبھی لیگ کا حصہ تھے، جہاں ان کی جگہ ختم ہوتی جا رہی تھی۔ پہلے سے کمزور سیاسی طبقہ جب مزید کمزور ہونا شروع ہوا تو سول ملٹری طاقت کے لئے اپنی برتری اور غلبہ جمانا مزید آسان ہوگیا۔ سول سرونٹس کو کالونیل ریاست چلانے کا تجربہ تھا۔ انہوں نے اپنے تجربے کو استعمال کرتے ہوئے وہ ریاستی نظام بحال کر لیا، جو اپنی خصوصیات میں کالونیل نظام سے بالکل بھی مختلف نہیں تھا۔ فوج کے پہلے پاکستانی کمانڈر ان چیف جنرل ایوب خان کی آمد کے ساتھ ایسا سول ملٹری اتحاد ابھرا، جس نے جلد ہی چند افراد تک محدود حکومت کا روپ دھار لیا۔ آزادی کے ابتدائی دو سال کے اندر ہی ریاست کی پالیسیاں اور نظریات سامنے آنے لگے تھے۔

کالونیل حکمرانوں کے ہاتھوں تقسیم میں ہونے والی بدانتظامی، کئی معاملات کو غیر حل شدہ چھوڑا جانا اور اہم ترین طور پر جموں اور کشمیر کے مسئلے نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان شروع سے ہی مخاصمت کو جنم دیا۔ اکتوبر 1947ء میں دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کو لے کر جنگ چھڑ گئی۔ 14 ماہ بعد جنگ بندی تو ہوگئی، مگر 70 سال اور تین جنگوں کے باوجود بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 1947ء پر ہی منجمد ہیں۔ دلیپ ہیرو نے اس مسئلے پر اپنی کتاب کا عنوان بالکل درست طور پر، دی لانگسٹ آگسٹ، (طویل ترین اگست) رکھا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات نے ہمارے حکمرانوں اور ریاستی اداروں کو موقع فراہم کیا کہ وہ پاکستان کو قومی سلامتی کی ریاست میں تبدیل کر دیں، جس کا بنیادی فلسفہ دفاعی معیشت ہو۔ ریاست کی ترجیحات انہی چیزوں کو تقویت دینے کے لئے بنائی گئیں، جنہیں ریاست خود اپنے لئے قبول کرچکی تھی۔ دوسری جانب، وہ چیزیں جو سماجی بھلائی اور جمہوری اصولوں پر مبنی ایک جدید جمہوری ریاست کے لئے ضروری ہوتی ہیں، وہ غیر اہم بن گئیں۔ جس مشکل صورتحال میں پاکستان نے آزادی کے بعد خود کو پایا، اس نے بیوروکریسی کو معاملات اپنے ہاتھوں میں لینے کا موقع فراہم کیا۔ کیتھ کیلارڈ لکھتے ہیں کہ تقسیم اور اس کے بعد کے حالات کا تقاضہ تھا کہ نئی ریاست پر حکومتی کنٹرول کے قیام کے لئے مضبوط مرکزی اقدامات کئے جائیں۔

ہندوستان کے برخلاف پاکستان الگ ہونے والی ریاست تھا، جبکہ ہندوستان (برطانوی راج کی) جانشین ریاست تھا، جسے تقسیم سے پہلے رائج پورا ریاستی نظام وراثت میں ملا تھا۔ چنانچہ پہلے سے یہ حدود واضح تھیں کہ ریاستی معاملات میں حقیقی قوت کس کے پاس ہوگی اور فیصلہ لینے کا اختیار کس کے پاس ہوگا اور اس منفرد ریاستی نظام کو سیاسی جمہوری رنگ دینے میں کس کا کردار صرف ثانوی نوعیت کا ہوگا۔ یہ اختلاف ابتداء سے ہی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ لیاقت علی خان اس کے پہلے شکار بنے۔ انہیں امریکہ بھیجا گیا، تاکہ وہ جیسا کہ انہوں نے امریکی سرزمین پر اپنا پہلا قدم رکھنے پر کہا کہ اپنے ملک اور امریکہ کے درمیان ایک روحانی پل کی تعمیر کرسکیں۔ 1951ء کے اختتام تک انہوں نے امریکہ کو خوش رکھنے کی اپنی ابتدائی پالیسی سے منحرف پالیسی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔ اسی سال اکتوبر میں ان کے قتل نے امریکی حمایت کے حصول کی زبردست کوششوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کر دیں۔ دو سالوں کے اندر اندر ہی لیاقت علی خان کو تنہا کر دیا گیا تھا، یہ راولپنڈی سازش کیس سے واضح ہے۔

جانے والے کمانڈر ان چیف جنرل گریسی نے نئے کمانڈر ان چیف ایوب خان کو فوج میں موجود نوجوان ترکوں کے ایک گروہ کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا نے بھی کراچی میں برطانوی ڈیفینس اتاشی سے نوجوان افسران میں موجود قوم پرست جذبات کے بارے میں ایک تبصرہ کیا تھا۔ وزیرِاعظم کو لاعلم رکھا گیا اور انہیں پولیس کے سویلین ذریعے سے اس تبصرے کے بارے میں معلوم ہوا۔ ایوب اور مرزا نے وزیرِاعظم کو اندھیرے میں رکھا۔ سازش در سازش اپنی کہانی خود بیان کرتی ہے۔ تاریخ دانوں نے رفتہ رفتہ پاکستان کے اپنے قیام سے ہی مطلق العنانیت کی جانب جھکاؤ کو محسوس کر لیا تھا اور تب سے اب تک اس بارے میں بہت سی سیاسی تحریریں لکھیں گئی ہیں۔ مگر یہ تاریخی حقیقت ہے کہ جنہوں نے اسے سب سے پہلے محسوس کیا، وہی مطلق العنانیت کے نتائج سہنے والوں میں سب سے اول تھے۔ یہ ہمارا مزدور طبقہ، ہمارا دانشور طبقہ، ہمارے مصنفین اور ہمارے شاعر تھے۔ اپنے وقتوں کی مشکلات کا احاطہ کرنے والی منٹو اور قاسمی کی تحریروں اور ن م راشد اور فیض احمد فیض کی شاعری کو کون بھول سکتا ہے۔ کیا انہیں بھی بانیانِ پاکستان میں شمار نہین کرنا چاہیے۔؟
بشکریہ: ڈان اردو
خبر کا کوڈ : 663882
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب