0
Monday 4 Sep 2017 23:54

میانمر سے فلسطین تلک اہل اسلام کی داستان غم

میانمر سے فلسطین تلک اہل اسلام کی داستان غم
تحریر: سعداللہ زارعی

حج کی عظیم عبادت کے ایام قریب آتے ہی اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حجاج بیت اللہ کرام کے نامی تاریخی پیغام جاری کیا۔ آپ نے اس پیغام میں مسلمانوں کے درمیان عالمی استکبار کی تفرقہ انگیزی پر مبنی سازش کا انکشاف کیا اور عالم اسلام میں اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت اور معروف مذہبی، سیاسی و ثقافتی شخصیات پر زور دیا کہ وہ اسلامی دنیا میں جاری خانہ جنگیوں اور شدت پسندانہ اقدامات کی فوری روک تھام اور حقیقی دشمن سے مقابلے کا شعور اجاگر کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کریں۔ اسی طرح اس پیغام میں میانمر میں جاری مسلمانوں کی نسل کشی کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اور مسلمانان عالم کو اس بارے میں موثر اقدامات انجام دینے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

کم از کم گذشتہ دو عشروں سے عالم اسلام کو درپیش مصائب اور مشکلات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام دشمن قوتوں نے عالمی سطح پر اس کامل ترین ابراہیمی دین کے پھیلاو اور غلبے کی روک تھام کیلئے جامع منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ اسی طرح خطے کی سطح پر بھی اسلامی نظریات اور راہ حل کی آواز دبانے کیلئے وہابیت اور قوم پرستی (نیشنل ازم) کا وسیع استعمال کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ اس ٹکراو کا نتیجہ ان جنگوں کی صورت میں ظاہر ہوا ہے جو مغربی قابض قوتوں اور ان کے دست پروردہ دہشت گرد گروہوں نے خطے پر تھونپی ہیں۔

صرف اسلام کی خاطر خطے پر تھونپی گئی 9 جنگیں
بدقسمتی سے گذشتہ 15 برس کے دوران ہم نے خطے میں 9 جنگوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ 2001ء میں امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے افغانستان پر تھونپی گئی جنگ، 2003ء میں امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے عراق کے خلاف جنگ، 2007ء، 2012ء اور 2014ء میں اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے خلاف شروع کی گئی جنگیں، 2012ء میں تکفیری دہشت گرد عناصر کی جانب سے شام میں خانہ جنگی کا آغاز، 2014ء میں تکفیری دہشت گرد گروہوں کی جانب سے عراق میں خانہ جنگی کا آغاز اور 2016ء میں جارح سعودی رژیم کی جانب سے یمن کے خلاف جنگ کا آغاز۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسلمانوں کا مرکزی خطہ گذشتہ 15 برس کے دوران ہر 20 ماہ میں ایک بار جنگ کا شکار ہوا ہے اور اس عرصے میں ہونے والے نقصان کے اعتبار سے یہ خطہ گذشتہ 200 سالوں کے دوران دنیا کے کسی اور خطے سے قابل موازنہ نہیں ہے۔ نہ براعظم امریکہ، نہ براعظم یورپ، نہ براعظم ایشیا کے غیراسلامی علاقے اور نہ براعظم افریقہ اس قدر کم عرصے میں اتنی زیادہ جنگوں کا شکار نہیں ہوا۔ کیوں؟ کیونکہ یہ اسلامی خطہ ہے۔ البتہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسلام جنگ کا باعث یا ترغیب دلانے والا دین ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان مسلسل جنگوں کے آغاز کا مقصد اسلام کو سر اٹھانے سے روکنا تھا، اسلام کو بین الاقوامی سطح پر ابھر کر سامنے آنے سے روکنا تھا اور اسلام کو انسان کے سماجی شعبے میں داخل ہونے سے روکنا تھا۔

بحران اور بدامنی پیدا کرنے والی حکومتیں
اس بنیاد پر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جنگ کی آگ لگانے میں ایسی طاقتوں کا ہاتھ ہے جو "ترقی یافتہ اسلام" کو اپنے مفادات اور حیثیت کیلئے شدید خطرہ تصور کرتے ہیں۔ ان طاقتوں کے ساتھ ساتھ خطے کی بعض مخصوص رژیموں کا نام لینا بھی ضروری ہے جو اس خطے میں اسلام اور مسلمانوں کے نام پر حکومت کر رہی ہیں۔ فراوان دلائل اور شواہد کی روشنی میں نیز سیاہ ماضی ہونے کے ناطے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ اسلامی خطے پر تھونپی گئی ان 9 جنگوں کے حقیقی مسبب ہیں۔ ان اسلام دشمن طاقتوں نے بعض اوقات روایتی افواج کے ذریعے اور بعض اوقات کٹھ پتلی دہشت گرد گروہوں کے ذریعے یہ جنگیں خطے پر مسلط کی ہیں۔

دوسری طرف خطے میں جنگ کی آگ جلتی رہنے کیلئے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کو خطے میں موجود ایسی کٹھ پتلی حکومتوں کی ضرورت تھی جو اس اہم مقصد میں ان کی مدد کر سکیں۔ خطے میں جنگ کے شعلوں کے تسلسل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی کٹھ پتلی حکومتیں موجود ہیں جو اس بدامنی اور بحران کو ہوا دے رہی ہیں۔ یہ وہی حکومتیں ہیں جن کے بارے میں امام خامنہ ای نے اپنے پیغام حج میں فرمایا ہے کہ وہ "اشِدّآءُ علی الکفّار" کو بھی پس پشت ڈال چکی ہیں اور "رُحَمآءُ بَینَھُم" کو بھی فراموش کر چکی ہیں جس کے نتیجے میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم مزید جری اور گستاخ ہو چکی ہے۔

فلسطین اور میانمر، مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کے عکاس
خطے کو درپیش مشکلات کا حل واضح اور روشن ہے۔ ایک طرف اتحاد کا فروغ اور ایکدوسرے کو قومی و مذہبی تنازعات سے پرہیز کرنے کی ترغیب دلانا اور دوسری طرف جنگ کی آگ جلانے والے دشمنوں کو نشانہ بنانا نیز مسلمانوں کا خود کو ہر اس چیز سے لیس کرنا جس کی سخت اور نرم جنگ میں ضرورت پیش آتی ہے۔ فلسطین اور میانمر کی موجودہ صورتحال مسلمانوں کا ایکدوسرے سے دست و گریبان ہو جانے اور دشمن کے مقابلے میں میدان خالی چھوڑ دینے کا نتیجہ ہے۔ ایک جگہ مقامی اکثریت رکھنے والے افراد کی سرزمین جارح اقلیت کے قبضے میں آ چکی ہے جبکہ دوسری جگہ حکومتی سطح پر دینی اقلیت کی نسل کشی اور قتل عام کیا جا رہا ہے۔ جی ہاں، فلسطین اور میانمر مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کی مکمل طور پر عکاسی کر رہے ہیں اور بہت اچھے انداز میں عالم اسلام کے اکثر حصے میں اسلام اور اس کے نجات بخش پیغام کے متروک اور مغفول ہونے کو بیان کر رہے ہیں۔

استکباری قوتوں سے زیادہ مسلمانوں کی سستی موجودہ صورتحال کی باعث ہے
ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حجاج گرامی کے نام اپنے پیغام میں مسلمانان عالم خاص طور پر مسلمان حکمرانوں کو موجودہ صورتحال کے بارے میں غور و خوض کرنے اور اپنی پالیسیوں اور اسلوب پر نظر ثانی کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ حقیقت امر یہ ہے کہ سیکورٹی بحرانوں کا شکار اسلامی ممالک کی موجودہ صورتحال سامراجی سازشوں سے زیادہ خود مسلمانوں کی سستی کا نتیجہ ہے۔ جی ہاں، سامراجی طاقتوں سے مقابلہ نہ کرنا اور اپنوں سے ہی ٹکر لے لینا بھی وہ امر ہے جو سامراجی پالیسیوں سے مکمل ہم آہنگی اور مطابقت رکھتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گھر کا حصار مضبوط ہونا چاہئے تاکہ غدار عناصر اسے نقصان نہ پہنچا سکیں۔

عالمی استکباری طاقتیں خطے میں طولانی مدت کیلئے اپنا تسلط باقی رکھنا چاہتی ہیں اور وہ اپنے اس مقصد کی تکمیل کیلئے مسلمانوں کو کمزور کر دینا چاہتی ہیں۔ لہذا امام خامنہ ای نے اپنے پیغام حج میں استکباری طاقتوں سے زیادہ خود مسلمانوں کو مخاطب قرار دیا ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ ایسی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں جو مغرب کی ایماء پر بنائی گئی ہیں اور خطے کے بعض ممالک مغرب کے کٹھ پتلی کے طور پر خطے میں انہیں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نرم جنگ کی باری آ چکی ہے
اس سال امام خامنہ ای کا پیغام حج گذشتہ سالوں سے کچھ مختلف تھا۔ اس سال کے پیغام میں ایک انتہائی اہم اور چھپا ہوا نکتہ موجود تھا۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ خطہ ایسے حالات سے عبور کر رہا ہے جو اسلام دشمن عناصر کی نظر میں ایک طوفان کی مانند خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے۔ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کی نظر میں سخت جنگ پر مشتمل اس مرحلے کے خاتمے کے بعد نرم جنگ کا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔ لہذا مسلمانان عالم، خاص طور پر اسلامی دنیا کی حکومتوں اور اہم سیاسی و مذہبی شخصیات کو زیادہ سے زیادہ نرم جنگ کے ہتھکنڈوں پر توجہ دینی چاہئے اور اس طرح اس نئے مرحلے میں بھی دشمن کی چالوں اور سازشوں کو ناکامی سے دوچار کرنا ہو گا۔
خبر کا کوڈ : 666466
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے