0
Saturday 9 Sep 2017 01:00

امام حسینؑ کا علمائے دین اور عمائدین ملت سے منیٰ میں خطاب (2)

امام حسینؑ کا علمائے دین اور عمائدین ملت سے منیٰ میں خطاب (2)
تالیف: محمد صادق نجمی
ترجمہ: علی مرتضٰی زیدی

امام حسین علیہ السلام نے منیٰ میں علماء اور زعماء سے خطاب فرماتے ہوئے دوسرے حصے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی طرف دعوت دی اور تیسرے حصے میں علماء کی ذمہ داریوں کا تذکرہ فرمایا۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی دعوت:

امام علیہ اسلام نے فرمایا کہ اے لوگو! الله تعالیٰ نے علمائے یہود کی سرزنش کر کے اپنے اولیاء کو جو نصیحت کی ہے، اس سے عبرت حاصل کرو ۔الله تعالیٰ نے فرمایا :یہودی علما اور دینی رہنما انہیں گناہ آلود باتوں اور حرام خوری سے کیوں نہیں روکتے؟ اور فرمایا : بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر اختیار کیا، انہیں لعن اور نفرین کی گئی ہے۔ (یہاں تک کہ) فرمایا : وہ ایک دوسرے کو برے اعمال کی انجام دہی سے منع نہیں کرتے تھے اور وہ کتنا برا کام کرتے تھے۔ درحقیقت الله تعالیٰ نے اس لئے انہیں برا قرار دیا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے یہ دیکھنے کے باوجود کہ ظالمین کھلم کھلا برائیوں کو پھیلا رہے ہیں ، انہیں (ظالموں کو) اس عمل سے باز رکھنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ انہیں،ان ظالموں کی طرف سے ملنے والے مال و متاع سے دلچسپی تھی اور ان کی طرف سے (پہنچ سکنے والی) سختیوں سے خوفزدہ تھے۔ جبکہ خداوند متعال کا ارشاد ہے کہ: لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ اور پروردگار نے فرمایا ہے: مومنین اور مومنات ایک دوسرے کے دوست اور سرپرست ہیں، اچھائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں ۔ الله تعالیٰ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے آغاز کیا اور اسے اپنی طرف سے واجب قرار دیا کیونکہ پروردگار جانتا ہے کہ اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام پائے اور معاشرے میں برقرار رکھا جائے تو تمام واجبات، خواہ وہ آسان ہوں یا مشکل، خودبخود انجام پائیں گے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکرکا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے اور ساتھ ہی مظلوموں کو انکے حقوق لوٹائے جائیں، ظالموں کی مخالفت کی جائے ،عوامی دولت اور مال غنیمت عادلانہ نظام کے تحت تقسیم ہو، اور صدقات ( یعنی زکات اور دوسرے واجب اور مستحب مالیات) کو صحیح مقامات سے وصول کر کے حقداروں پر خرچ کیا جائے۔

خطبے کے دوسرے حصے کے اہم الفاظ کی تشریح:

اِعتَبروا اَیُّھا النّاسُ: اس طرح کچھ خاص افراد، اس محفل میں موجود حاضرین یا حتیٰ صرف اس زمانے کے افراد مخاطب نہیں ہیں بلکہ اس خطاب میں وہ تمام انسان شامل ہیں جو کسی بھی زمانے میں اور دنیا کے کسی بھی گوشے میں اس خطاب کو سنیں۔ یہ بالکل یا ایھا الناس کی مانند ہے، جس کے ذریعے قرآن مجید میں بارہا اور متعدد مقامات پر خطاب کیا گیا ہے۔
اولیاء:
یہاں اولیاء سے مراد وہ افراد ہیں جو الله تعالیٰ کی جانب توجہ رکھتے ہیں اور ساتھ ہی معاشرے میں بھی ذمے دار مقام کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ اگر یہ معاشرے میں کسی مقام پرفائز نہ ہوں تو اہم اور مشکل ذمے داریوں کی ادائیگی کی ان سے توقع نہیں کی جا سکتی۔
احبار: صالح علماء

ربانی: خدا پرست شخص جو خدا پر اعتقاد رکھنے کے ساتھ ساتھ خداوند متعال کے احکام کا علم بھی رکھتا ہو اور اس کے حلال و حرام کی پابندی کرتا ہو۔ امام حسین علیہ السلام نے جس آیتِ کریمہ کا ذکر کیا ہے، اگرچہ اس میں یہودی علما اورمذہبی رہنماؤں کی سرزنش کی گئی ہے لیکن یہاں باشعور قاری کے لئے اس وضاحت کی ضرورت نہیں کہ یہ مذمت اور سرزنش صرف یہودی علما یا عیسائی رہبروں کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ (اگر یہودی علما کے سے اعمال انجام دیں تب) تمام دینی رہبر اور حتیٰ مسلم علما بھی اس میں شامل ہیں۔ کیونکہ کسی بھی دین اور مذہب سے تعلق رکھنے والے علما کی اپنے فریضے سے غفلت ، کوتاہی اور بے جا خاموشی عام افراد کے گناہ اور نافرمانی کے مرتکب ہونے کی مانند نہیں ، کیونکہ علما کی خاموشی اور بے عملی کے نتیجے میں دین کی بنیادوں کو نقصان پہنچتا ہے (جبکہ عام افراد کے گناہ فقط خود ان کی اپنی ذات کو نقصان پہنچاتے ہیں)۔
قول اثم:
گناہ آلود باتیں۔ جس میں جھوٹ، تہمت ، حقائق کی تحریف وغیرہ سب شامل ہیں۔
اکل سحت: حرام خوری
باوجود یہ کہ تمام گناہوں اور منکرات سے روکا گیا ہے لیکن اس آیتِ کریمہ میں قول اثم واکل سحت پر زور دیا گیا ہے، تاکہ یہ بتایا جائے کہ یہ دو گناہ تمام گناہوں سے زیادہ خطرناک ہیں ۔لہذا ہر گناہ سے زیادہ ان کی مخالفت اور ان سے مقابلہ کیا جائے کیونکہ بسا اوقات دشمنوں کی جھوٹی باتیں اور ان کا مذموم پروپیگنڈہ (جو قول اثم کا ایک اہم ترین مصداق ہے) اسلام اور مسلمانوں کے لئے کسی بھی ا ور چیز کے مقابلے میں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ اکل سحت یا حرام خوری سے بھی اس کا صرف انفرادی اور جزی پہلو مراد نہیں ہے ، بلکہ یہ وسیع پہلوؤں کی حامل ہے جس میں (آج کی دنیا کے لحاظ سے) نقصان دہ برآمدات اور درآمدات، غیر قانونی طریقوں سے ملک کی معیشت پر قابض ہو جانا وغیرہ بھی شامل ہیں اور یقینا اس قسم کی اکل سحتکے نقصانات جوئے اور ناپ تول میں ڈنڈی مارنے جیسی انفرادی حرام خوریوں کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔

خطبے کا تیسرا حصہ، علما کی ذمے داریوں کا بیان:
امام علیہ السلام نے فرمایا، اے وہ گروہ جو علم وفضل کے لئے مشہور ہے، جس کاذکر نیکی اور بھلائی کے ساتھ کیا جاتا ہے، وعظ و نصیحت کے سلسلے میں آپ کی شہرت ہے اور الله والے ہونے کی بنا پر لوگوں کے دلوں پر آپ کی ہیبت و جلال ہے ،یہاں تک کہ طاقتور آپ سے خائف ہے اور ضعیف و ناتواں آپ کا احترام کرتا ہے، حتیٰ وہ شخص بھی خود پر آپ کو ترجیح دیتا ہے جس کے مقابلے میں آپ کو کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں ۔جب حاجت مندوں کے سوال رد ہو جاتے ہیں تو اس وقت آپ ہی کی سفارش کارآمد ہوتی ہے ( آپ کو وہ عزت و احترام حاصل ہے کہ) گلی کوچوں میں آپ کا گزر بادشاہوں کے سے جاہ و جلال اور اعیان و اشراف کی سی عظمت کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ سب عزت و احترام صرف اس لئے ہے کہ آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ الہٰی احکام کا اجراء کریں گے ،اگرچہ اس سلسلے میں آپ کی کوتاہیاں بہت زیادہ ہیں۔ آپ نے امت کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ہے، (معاشرے کے) کمزور اوربے بس افراد کے حق کو ضائع کردیا ہے اور جس چیز کو اپنے خیال خام میں اپنا حق سمجھتے تھے اسے حاصل کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ نہ اس کے لئے کوئی مالی قربانی دی اور نہ اپنے خالق کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالی اور نہ الله کی خاطر کسی قوم وقبیلے کا مقابلہ کیا۔ (اسکے باوجود) آپ جنت میں رسول الله کی ہم نشینی اور الله کے عذاب سے امان کے متمنی ہیں، حالانکہ مجھے تو یہ خوف ہے کہ کہیں الله کا عذاب آپ پر نازل نہ ہو،کیونکہ الله کی عزت و عظمت کے سائے میں آپ اس بلند مقام پر پہنچے ہیں، جبکہ آپ خود ان لوگوں کا احترام نہیں کرتے جو معرفت خدا کے لئے مشہور ہیں جبکہ آپ کو الله کے بندوں میں الله کی وجہ سے عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

آپ دیکھتے رہتے ہیں کہ الله سے کئے ہوئے عہدو پیمان کو توڑاجا رہا ہے، اسکے باوجود آپ خوفزدہ نہیں ہوتے، اس کے برخلاف اپنے آباؤ اجداد کے بعض عہد و پیمان ٹوٹتے دیکھ کر آپ لرز اٹھتے ہیں ، جبکہ رسول الله کے عہد و پیمان( اس سے مراد وہ عہد و پیمان ہیں جو بیعت کے وقت رسول گرامی، نے لئے تھے۔ اسی طرح ولایت اور جانشینی کے لئے غدیر خم کے موقع پر رسول الله سے جو عہد و پیمان کئے گئے تھے، وہ بھی مراد ہیں۔)، نظر انداز ہو رہے ہیں اور کوئی پروا نہیں کی جا رہی ۔ اندھے ، گونگے اور اپاہج شہروں میں لاوارث پڑے ہیں اور کوئی ان پررحم نہیں کرتا۔ آپ لوگ نہ تو خود اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور نہ ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو کچھ کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں نے خوشامد اور چاپلوسی کے ذریعے اپنے آپ کو ظالموں کے ظلم سے بچایا ہوا ہے، جبکہ خدا نے اس سے منع کیا ہے اور ایک دوسرے کو (بھی)منع کرنے کے لئے کہا ہے اور آپ ان تمام احکام کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔ آپ پر آنے والی مصیبت دوسرے لوگوں پر آنے والی مصیبت سے کہیں بڑی مصیبت ہے، اس لئے کہ (اگر آپ سمجھیں تو) علماء کے اعلیٰ مقام و منزلت سے آپ کومحروم کر دیا گیا ہے، کیونکہ مملکت کے نظم و نسق کی ذمہ داری علمائے الہٰی کے سپرد ہونی چاہئے، جو الله کے حلال و حرام کے امانت دار ہیں اور اس مقام و منزلت کے چھین لئے جانے کا سبب یہ ہے کہ آپ حق سے دور ہو گئے ہیں اور واضح دلائل کے باوجود سنت کے بارے میں اختلاف کا شکار ہیں۔ اگر آپ اذیت و آزار جھیلنے اور الله کی راہ میں مشکلات برداشت کرنے کے لئے تیار ہوتے تو احکام الہٰی (اجراء کے لئے) آپ کی خدمت میں پیش کئے جاتے، آپ ہی سے صادر ہوتے اور (معاملات میں) آپ ہی سے رجوع کیا جاتا لیکن آپ نے ظالموں اور جابروں کو یہ موقع دیا کہ وہ آپ سے یہ مقام و منزلت چھین لیں اور الله کے حکم سے چلنے والے امور ( وہ امور جن میں حکم الہٰی کی پابندی ضروری تھی) اپنے کنٹرول میں لے لیں تاکہ اپنے اندازوں اور وہم و خیال کے مطابق فیصلے کریں اور اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کریں۔

وہ حکومت پر قبضہ کرنے میں ا س لئے کامیاب ہو گئے، کیونکہ آپ موت سے ڈرکر بھاگنے والے تھے اور اس فانی اور عارضی دنیا کی محبت میں گرفتار تھے۔ پھر ( آپ کی یہ کمزوریاں سبب بنیں کہ) ضعیف اور کمزور لوگ ان کے چنگل میں پھنس گئے اور (نتیجہ یہ ہے کہ) کچھ تو غلاموں کی طرح کچل دیئے گئے اور کچھ مصیبت کے ماروں کی مانند اپنی معیشت کے ہاتھوں بے بس ہو گئے۔ حکام اپنی حکومتوں میں خودسری، آمریت اور استبداد کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی میں ذلت و خواری کا سبب بنتے ہیں، بدقماش افراد کی پیروی کرتے ہیں اور پروردگار کے مقابلے میں گستاخی دکھاتے ہیں۔ ہر شہر میں ان کا یک ماہر خطیب منبر پر بیٹھا ہے ۔ زمین میں ان کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور ان کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں (یعنی جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں) عوام ان کے غلام بن گئے ہیں اور اپنے دفاع سے عاجز ہیں۔ حکام میں سے کوئی حاکم تو ظالم، جابر اور دشمنی اور عناد رکھنے والا ہے اور کوئی کمزوروں کو سختی سے کچل دینے والا ،ان ہی کا حکم چلتا ہے جبکہ یہ نہ خدا کو مانتے ہیں اور نہ روز جزا کو۔ تعجب ہے اور کیوں تعجب نہ ہو! ملک ایک دھوکے باز ستم کار کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے مالیاتی عہدیدار ظالم ہیں اور صوبوں میں اسکے (مقرر کردہ) گورنر مومنوں کے لئے سنگ دل اور بے رحم۔ (آخر کار) الله ہی ان امور کے بارے میں فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں ہمارے اور ان کے درمیان نزاع ہے اور وہی ہمارے اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلاف پر اپنا حکم صادر کرے گا۔

(امام نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ پر فرمایا) بارالہا! تو جانتا ہے کہ جوکچھ ہماری جانب سے ہوا (بنی امیہ اور معاویہ کی حکومت کی مخالفت میں) وہ نہ تو حصول اقتدار کے سلسلے میں رسہ کشی ہے اورنہ ہی یہ مال دنیا کی افزوں طلبی کے لئے ہے بلکہ صرف اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ تیرے دین کی نشانیوں کو آشکار کر دیں اور تیری مملکت میں اصلاح کریں، تیرے مظلوم بندوں کو امان میسر ہو اور جو فرائض، قوانین اور احکام تو نے معین کئے ہیں ان پر عمل ہو۔ اب اگر آپ حضرات (حاضرین سے خطاب) نے ہماری مدد نہ کی اور ہمارے ساتھ انصاف نہ کیا تو ظالم آپ پر (اور زیادہ) چھا جائیں گے اور ( نور نبوت) کو بجھانے میں اور زیادہ فعال ہو جائیں گے۔ ہمارے لئے تو بس خدا ہی کافی ہے، اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف ہماری توجہ ہے اور اسی کی جانب پلٹنا ہے۔ یہ وہ خطبہ تھا جو امام حسین علیہ السلام نے منیٰ میں ارشاد فرمایا اور تمام حاضرین کو تاکیدی حکم دیا کہ یہ پیغام دوسروں تک پہنچانے کی حتیٰ الامکان کوشش کریں تاکہ رفتہ رفتہ تمام مسلمان، پیکر اسلام کو پہنچنے والے ان نقصانات سے آگاہ ہو جائیں، جن کے نتیجے میں اسلام کی اساس کو خطرہ لاحق ہے۔
خبر کا کوڈ : 667375
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے