0
Monday 11 Sep 2017 10:57

قائد اعظم کے عظیم اوصاف اور تصورات

قائد اعظم کے عظیم اوصاف اور تصورات
ترتیب و تنظیم: علی اویس

قائداعظم بجا طور پر ایسے راہ نماؤں میں شمار ہوتے ہیں جو اپنے غیر معمولی شخصی اوصاف، اپنی تاریخ فہمی اور تدبر کے حوالے سے اپنے زمانے پر اثرانداز ہوئے اور حالات کا رخ موڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کامیابی کا بڑا راز معروضی حالات کے ان کے فہم میں پوشیدہ تھا۔ قائداعظم کے تصورات کی اہمیت بھی اسی حقیقت میں مضمر ہے کہ یہ تصورات ذاتی ہوتے ہوئے بھی روحِ عصر کے بہترین عکاس تھے۔ قیام پاکستان سے قبل اور اس کے بعد عوام کو ان پر جو بے پناہ اعتماد تھا، لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے جو زبردست عقیدت و محبت تھی، قائد اعظم نے اسی کو بروئے کار لاکر اپنی قوم کو درپیش مشکلات و مصائب سے نمٹنے کے لئے حوصلہ عطا کیا۔ آزادی نے عوام کے سینوں میں حب الوطنی کے جن جذبات کو بھڑکایا تھا، ان کی حرارت اور توانائی کا رُخ تعمیری سرگرمیوں کی سمت موڑ دیا۔ قائد اعظم بلا شبہہ ہندوستان کی جدید تاریخ کے معمار تھے۔ ایک تاریخ ساز شخصیت۔ ایک ایسی شخصیت جس کی عصر حاضر میں کوئی اور دوسری مثال نہیں ملتی۔ آج بھی ان کی شخصیت اپنے سیاسی کردار کے آئینے میں سماجی علوم کے ماہرین کے لیے ایک اہم ترین شخصیت ہے۔ ایک ایسی شخصیت جس کی تفہیم کے بغیر ہندوستان کی جدید تاریخ کا ابلاغ یقیناً ناممکن ہے، وہ مثالی شخصیت اور قابل رشک راہ نما تھے۔ آپ کی عظمت اور کردار کی بلندی کو دوست دشمن دونوں نے تسلیم کیا اور قدر دانی کی۔ بقول سرجنی نائیڈو جناح عصر حاضر کی سب سے سربر آوردہ اور جاذب نظر شخصیت تھے۔ تحریک پاکستان کے ممتاز راہ نما علامہ شبیر احمد عثمانی نے فرمایا کہ وہ اورنگزیب عالمگیر کے بعد دوسرے عظیم مسلمان تھے۔

پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور قائد اعظم کے دست راست نوابزادہ لیاقت علی خان نے کہا کہ قائد اعظم نے حصول پاکستان کے بعد خود کو وقف کردیا تھا اور وہ عظیم مقصد یہ ہے کہ ہم اس نومولود مملکت کو عظیم اور طاقت ور ملک بنائیں گے۔ انہوں نے برصغیر کی ملت اسلامیہ کے لیے اپنی عظیم صلاحیتوں کو وقف کر رکھا تھا۔  برطانوی پارلیمنٹ کے رکن سراسٹینفورڈ کرپس نے کہا کہ وہ بہ حیثیت انسان راست بازی اور دیانت داری کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے، ان کے ساتھ گفت گو کرنا متعدد وجوہات کی بناء پر دشوار ترین امر تھا، کیوں کہ وہ اپنے مقصد اور موقف پر غیرمتزلزل یقین رکھتے تھے، وہ بہت نفیس اور خوش اخلاق میزبان تھے اور اپنے موقف کے حق میں دوسروں کو ہم وار کرنے اور دوسروں کے اٹھائے ہوئے سوالات کا مدلل جواب دینے کے لیے پوری رات جاگنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ برطانیہ کے سابق وزیر ہند لارڈ پیتھک لارنس نے کہا کہ قائداعظم جناح کا نام ایک عظیم قوم کی تشکیل کرنے والے راہ نما کی حیثیت سے تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ امریکا کے صدر ہیری ایس ٹرومین نے کہا کہ پاکستان کے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے خواب کو تعبیر سے ہم کنار کرنے والے، ایک مملکت کے معمار اور دنیا کی سب سے بڑی مسلم قوم کے بابائے قوم تھے، مسٹر جناح کی مقصد سے وابستگی، جاں نثاری اور بے مثل قیادت کی یادیں پاکستان کے عوام اور حکومت کی آیندہ آنے والے دنوں میں ہمیشہ راہ نمائی کرتی رہیں گی۔

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ جارج مارشل نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح ان راہ نماؤں میں ممتاز و نمایاں تھے جو اپنے مقصد سے غیرمشروط وابستگی اور اس پر غیرمتزلزل یقین رکھتے تھے، انھوں نے نہ صرف دنیا کی ایک بہت بڑی قوم کی تشکیل کی، بلکہ اس کے مشکل ترین ابتدائی مرحلے میں دنیا کی دوسری اقوام کے ساتھ تعاون کو فروغ دے کر راہ نمائی کی، ان کی راست بازی، دیانت داری، خلوص اور ناقابلِ تسخیر عزم کی ان کے سیاسی دوست اور دشمن سب ہی قدر کرتے تھے، انہیں تنظیمی اور سیاسی امور میں جو مہارت تھی اس نے ان کو نہ صرف ایشیا بلکہ دنیا کے عظیم مدبروں کی صف میں نمایاں اور ممتاز کردیا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کے بعد گورنر جنرل کے عہدے پر متمکن ہونے والے راہ نما خواجہ ناظم الدین نے کہا کہ قائداعظم تاریخ اور پاکستان کے دوام و ثبات تک زندہ رہیں گے، یہ بات ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ قائداعظم ہماری قوم میں پیدا ہوئے اور ہم نے ان کی بے مثل قیادت میں پاکستان حاصل کیا۔ بھارت کے وزیراعظم مسٹر جواہر لال نہرو نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح تاریخ ساز شخصیت تھے، ان کی قوت فیصلہ، خوداعتمادی اور بے مثال وکالت نے ان کو ایک قابل رشک راہ نما بنادیا۔ مختلف امور کے حوالے سے ان کے طرزِعمل یا ان کے ردِعمل میں تبدیلیوں کے باوجود اہم ترین امور پر ان کے یہاں استقلالِ فکر و عمل کی کارفرمائی کو دریافت کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔ بعض لوگوں نے ہندو مسلم تعلقات، ہندوستان کے اتحاد یا ایسے ہی دیگر موضوعات کے حوالے سے قائداعظم کی جانب سے مختلف ادوار میں اختیار کردہ مؤقف میں تضاد کی نشان دہی کی ہے۔

یہ قائداعظم کی دلیل اور ان کے مدعا کے فرق کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ قائداعظم کی حیثیت مسلمانوں کے مقدمے کے ایک مستعد اور صاحبِ نظر وکیل کی تھی۔ وہ بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ہندوستانی سیاست میں وارد ہوئے اور انھوں نے مسلمانوں کی نمائندگی اور ان کے کاز کی بہترین عملی تعبیر کی تلاش کے کام کو اپنا مطمعٔ نظر بنایا۔ یہ دور ہندوستان کی سیاست میں ہمہ جہتی تبدیلیوں، سیاسی تحریکوں، آئینی اصلاحات اور تصادم و تعاون کے مختلف النوع رجحانات کا دور تھا۔ ہمہ وقت بدلتی سیاسی صورتِ حال کے علاوہ یہ بات بھی واضح تھی کہ ہندوستان کے مستقبل کا حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کے مقدمے کے وکیل کی حیثیت سے قائداعظم کے دلائل، ان کے الفاظ اور ان کی لغت میں بھی تبدیلیاں آتی چلی گئیں۔ ظاہر بیں نظروں نے قائداعظم کی استعمال کردہ اصطلاحات اور ان کی ڈکشنری ہی کو ان کی منزل تصور کرلیا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ان کی سیاست میں تضاد دیکھنے پر مجبور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قائداعظم کی اصل منزل کیا تھی یا ان کا حقیقی مدعا کیا تھا۔ اس سوال کا جواب یوں بھی اہم ہے کہ اگر قائداعظم کے مقصد کو سمجھ لیا جائے تو ان کے نظریات و افکار کی گرہیں بھی کھلنے لگتی ہیں۔ بنیادی طورپر قائداعظم برصغیر کے مسلمانوں کے لیے سماجی انصاف اور ان کے سیاسی و جمہوری حقوق کو یقینی بنانا چاہتے تھے۔ ابتدا میں انھوں نے یہ مقصد متحدہ ہندوستان کے پس منظر میں حاصل کرنا چاہا اور جب انھیں متحدہ ہندوستان کے اندر اس مقصد کا حصول ممکن نہیں نظر آیا تو پھر اسی مقصد کے لیے انھوں نے علیحدہ مملکت کی تجویز پیش کی۔

ایک علیحدہ مملکت کا تصور قائداعظم کے نزدیک دین کے بنیادی اراکین میں شامل نہیں تھا کہ جس پر زندگی کے ایک خاص مرحلے میں وہ ایمان لے آئے تھے بلکہ یہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے سماجی اور سیاسی حقوق کے حصول کے دیگر مجوزہ راستوں کے بند ہو جانے کے بعد بچ جانے والا واحد اور ناگزیر راستہ تھا۔ ایک بار جب انھوں نے اس راستے کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا تو ان کے دلائل کا رخ بھی اسی جانب مڑ گیا۔ انھوں نے مسلم قومیت کو اپنے مطالبے کی اساس بنایا مگر ایسا کرتے وقت وہ ایک دلیل ہی کا سامان کر رہے تھے۔ مسلم قومیت ان کا ہدف نہیں بلکہ ان کے ہدف کے حصول کی سیاسی دلیل تھی۔ جہاں تک سماجی انصاف کے مسئلے کا تعلق ہے تو اس ضمن میں قائداعظم کے خیالات میں اشکال کی ذرا سی بھی گنجائش موجود نہیں ہے۔ تحریکِ پاکستان کی مختلف تعبیرات میں ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ اس کی پشت پر مسلمان سرمایہ دار یا مسلم بورژوا طبقے کے مفادات کارفرما تھے۔ Hanna Papanek نے ایک تحقیقی مقالے میں بمبئی، گجرات اور کلکتہ کے مسلم بورژوا طبقے کے حقیقی عزائم پر سے پردہ اٹھایا ہے، جس کا خیال تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ہندوستان میں اپنے تجارتی و صنعتی مراکز بدستور قائم رکھے گا، جب کہ پاکستان تو تمام تر اس کے لیے فرشِ راہ ہوگا۔ قائداعظم مسلم سرمایہ داروں کو ساتھ لے کر چلنے پر مجبور تھے کہ مسلم لیگ کو فنڈز کی ضرورت تھی مگر وہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی ہوسِ زر سے بھی ناواقف نہیں تھے۔

1943ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ دہلی میں انھوں نے تنبیہ کردی تھی کہ پاکستان میں عوامی حکومت ہوگی اور یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کردوں، جو ایک ظالمانہ اور قبیح نظام کے وسیلے سے پھل پھول رہے ہیں اور اس بات نے انھیں اتنا خود غرض بنا دیا ہے کہ ان کے ساتھ عقل کی کوئی بات کرنا مشکل ہوگیا ہے، عوام کی لوٹ کھسوٹ ان کے خون میں شامل ہوگئی ہے، انھوں نے اسلام کے سبق بھلا دیے ہیں، حرص اور خودغرضی نے ان لوگوں کو اس بات پر قائل کر رکھا ہے کہ دوسروں کے مفادات کو اپنے مفادات کے تابع بنا کر موٹے ہوتے جائیں، میں گائوں میں گیا ہوں، وہاں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ہمارے عوام ہیں جن کو دن میں ایک وقت کی روٹی نصیب نہیں، کیا یہی تہذیب ہے؟ کیا یہی پاکستان کا مقصود ہے؟، اگر پاکستان کا یہی تصور ہے تو میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔ عدل عمرانی اور ایک عام مسلمان کی اقتصادی بہبود کے بارے میں قائداعظم کے یہ خیالات اپنی تشریح آپ ہیں۔ آج بھی یہ اتنے ہی برمحل ہیں جتنے اب سے نصف صدی قبل تھے۔ قائداعظم کی زندگی کے مشن میں جو دوسرا اہم ترین مقصد کارفرما تھا وہ برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی و جمہوری حقوق کی پاس داری تھی۔ ایک وسیع حلقے کے نزدیک قائداعظم کی جمہوریت پسندی ہی محلِ نظر ہے۔ مثلاً کانگریسی مصنّفین کی یہ عمومی رائے ہے کہ جناح جمہوریت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہیں کرسکے اور جب ہندوستان کی آزادی کا مرحلہ آیا تو انھوں نے اس خیال کے پیشِ نظر کہ اب ہندو اکثریت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اقتدار میں آجائے گی، مسلمانوں کے لیے علیحدہ مملکت کا مطالبہ کردیا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 1940ء اور 1947ء کے درمیان بظاہر خود قائداعظم نے غیر منقسم ہندوستان کے پس منظر میں جمہوریت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

قائداعظم کے اس دور کے موقف کی تشریح اور ان کے جمہوریت کے بارے میں مکمل طرزِ فکر کا جائزہ لینے سے پہلے ایک مرتبہ پھر اس بات کو دہرانے کی ضرورت ہے کہ ایک خاص وقت میں دیے گئے جناح کے دلائل کو ان کا آخری مدعا تصور کرنا ایک زبردست خلط مبحث کو جنم دے سکتا ہے۔ اس خلط مبحث کے ابطال سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ قائداعظم اول تا آخر جمہوریت کے قائل تھے۔ قائداعظم کی تعلیم برطانیہ میں ہوئی تھی، جہاں انھوں نے گلیڈ اسٹون (Gladstone) اور جان مارلے (John Morley) جیسے لبرل راہ نمائوں کے خیالات سے غیرمعمولی اثرات قبول کیے تھے۔ قائداعظم اپنی سیاسی زندگی میں تقریباً 35 سال تک ہندوستان کی امپیریل لیجسلیٹیو کونسل کے رکن رہے، اس دوران انھوں نے بارہا شہری آزادیوں اور قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھائی۔ انھوں نے پریس سے متعلق اس مسودۂ قانون (Press Bill) کی سخت مذمت کی جس کے ذریعے حکومت نے آزادیٔ اظہار پر پابندی لگانے کے اختیارات حاصل کرلیے تھے۔ 1919ء میں رولٹ ایکٹ کی آمد پر انھوں نے امپیریل لیجسلیٹو اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ ایسا کرتے وقت انھوں نے جمہوریت سے نہیں بلکہ برطانوی حکومت سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ سِول لبرٹیز پر ان کے ایمان کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ غدر پارٹی کے انقلابی بھگت سنگھ کے لیے بھی انہی حقوق کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں، جو انگریزوں کو حاصل تھے۔

وہ فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کے اس درجہ مخالف تھے کہ جب سبھاش چندربوس نے جاپان کی مدد سے انڈین نیشنل آرمی قائم کی، تو قائداعظم نے یہ کہہ کر اس کی مذمت کی کہ فوج کو سویلین اتھارٹی کی حکم عدولی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ قیام پاکستان کے بعد جون 1948ء میں اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فوج پر لازم ہے کہ وہ دستور کا احترام کرے۔ جس پاکستان کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا اس میں عوام مقتدر اعلیٰ کی حیثیت رکھتے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قائداعظم جمہوریت کے فلسفے کے اس درجہ قائل تھے، قیامِ پاکستان سے قبل کے مختلف ادوار کی ان کی سیاست اور نقطہ ہائے نظر میں نظر آنے والے اختلاف کی توجیہہ پہ بحث جاری رہیگی۔ ہندوستان کے مخصوص پس منظر میں ان کا پختہ یقین تھا کہ اگر یہاں جمہوریت، ضروری انتظامات کے بغیر نافذ ہوتی ہے تو یہ مسلمانوں کو مستقل طور پر ہندو اکثریت کے سامنے بے بس بنادے گی۔ قائداعظم کا پورا سیاسی کیرئیر ان نظاموں کی وکالت یا ان کے تقاضوں کی تکمیل میں گزرا۔ وفاقیت قائداعظم کی کاوشوں کا ایک اہم محور تھی۔ برصغیر میں نمائندہ اداروں کا قیام مرحلہ وار اصلاحات کے ذریعے ہوا۔ مطالبۂ پاکستان پیش کیے جانے کے بعد قائداعظم نے مختلف مواقع پر مجوزہ مملکت کے لیے وفاقی نظام کی وکالت کی۔ 8 نومبر 1945 کو ایسوسی ایٹ پریس آف امریکا کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا کہ نظریہ پاکستان اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ قومی حکومت کو وہ پوری خودمختاری حاصل ہوگی، جو ممالک متحدہ امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا کے دساتیر میں ملتی ہے۔ البتہ بعض نہایت اہم اختیارات مرکز کے پاس ہوں گے۔ آئینی اصلاحات کے ہر موقعے پر انھوں نے مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سیاسی تحفظات کے حصول کی بھرپور کوشش کی۔

مگر ایک اقلیت کے حقوق کی حمایت اور مذہبی حیثیت کو سیاست کے لیے استعمال کرنے میں جو فرق تھا وہ قائداعظم کی سیاست میں نمایاں تھا۔ چنانچہ عین اس زمانے میں جب کہ وہ مسلم اقلیت کے سیاسی حقوق اور اس کے خلاف کسی قسم کے امتیاز کے امکان کے خلاف برسرپیکار تھے، انھوں نے تحریک خلافت سے خود کو الگ رکھا، جو شخص اقلیتوں کے حقوق کے لیے تمام عمر برسرپیکار رہا ہو وہ قیام پاکستان کے بعد نئی مملکت کی اقلیتوں کو بے یارومدد گار کیسے چھوڑ سکتا تھا۔ چناں چہ 11 اگست 1947 کی اپنی تقریر میں انھوں نے ریاست اور مذہب کے تعلق کے حوالے سے جو چشم کشا گفتگو کی وہ تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ اس تاریخی تقریر میں آپ نے فرمایا کہ بایں ہمہ اس تقسیم میں کسی ایک مملکت میں یا دوسری مملکت میں اقلیتوں کا وجود ناگزیر تھا، اس سے مفر نہیں تھا۔ اس کا بھی کوئی اور حل نہیں تھا، اب ہمیں کیا کرنا ہے؟ اگر آپ اپنا رویہ تبدیل کرلیں اور مل جل کر اس جذبے سے کام کریں کہ آپ میں سے ہر شخص خواہ وہ اس ملک کا پہلا شہری ہے یا دوسرا یا آخری سب کے حقوق و مراعات اور فرائض مساوی ہیں، قطع نظر اس سے کہ کس کا کس فرقے سے تعلق ہے اور ماضی میں اس کے آپ کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات تھے اور اس کا رنگ و نسل یا عقیدہ کیا ہے تو آپ جس قدر ترقی کریں گے اس کی کوئی انتہا نہ ہوگی، اب آپ آزاد ہیں۔ اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ہم جن سیاسی بحرانوں سے گزرے ہیں ان امور سے متعلق قیام پاکستان سے قبل بھی قائداعظم کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے اور ان کے حوالے سے ان کا طرز فکر بڑے واضح طور پر تاریخ میں محفوظ ہے۔ آج بھی ہمیں انہی مسائل سے سابقہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج جب کہ ہم تہ در تہ بحرانوں کی زد میں ہیں، کیا ہم بانیٔ پاکستان کے ارشادات سے روشنی اخذ کرنے کی زحمت گوارا کریں گے۔؟

1948ء بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا آخری سال تھا۔ اگرچہ آپ نے اپنی سیاسی زندگی نہایت سرگرمی اور تن دہی سے گزاری مگر آپ کی زندگی کے آخری دس سال جن میں آپ کو بڑھتی ہوئی عمر اور گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر مکمل آرام کی ضرورت تھی نہایت ہنگامہ خیز سال تھے۔ قیام پاکستان کے بعد نومولود مملکت کے مسائل ایسے نہ تھے جن کو قائد اعظم نظر انداز کردیتے یا دوسروں پر چھوڑ دیتے۔ اسی لیے آپ نے ان مسائل کی جانب بھرپور توجہ دی۔ پاکستان کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کا تعین اور اس پر عملہ درآمد کو یقینی بنانا ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے وہاں کے عوام کے مسائل معلوم کرنا اور پھر ان کے تدارک کے لیے اقدامات، قومی معیشت کا فروغ و استحکام ، نظام تعلیم موثر بنانا، سرحدوں کا دفاع، آئین ساز اسمبلی، سرکاری ملازمین اور مسلح افواج کو نہ صرف ان کے فرائض سے آگاہ کرنا بلکہ ان کو یہ باور کرانا کہ قوم ان سے کیا توقعات رکھتی ہے۔ ان تمام امور سے قائد اعظم نے حتی المقدور عہدہ برا ہونے کی بھرپور کوشش کی۔
خبر کا کوڈ : 668182
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب