0
Friday 22 Sep 2017 23:04

مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت نے سندھ کو انفراسٹرکچر منصوبوں میں یکسر نظر انداز کر دیا

مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت نے سندھ کو انفراسٹرکچر منصوبوں میں یکسر نظر انداز کر دیا
رپورٹ: ایس جعفری

وفاقی حکومت نے سندھ کو انفراسٹرکچر منصوبوں میں یکسر نظر انداز کر دیا ہے، موٹرویز، ہائی ویز، ایکسپریس وے جیسے قومی اور معاشی ضرورت کے منصوبوں میں سندھ کیلئے صرف پانچ منصوبے وفاقی وزارت مواصلات کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پلان میں شامل ہیں، جن میں سے کراچی حیدرآباد ایم نائن موٹروے منصوبہ ابھی تک نامکمل ہے، حیدرآباد سکھر موٹروے کیلئے زمین کی خریداری ابھی تک قانونی پیچیدگیوں سے دوچار ہے، جبکہ لیاری ایکسپریس وے منصوبہ جو گذشتہ دس سالوں سے زیر التواء ہے، اسکے باقی ماندہ حصے پر کام کی رفتار انتہائی سست ہے، جبکہ کشمور کندھکوٹ اور کشمور کوٹری روڈ منصوبے پر پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی دستاویز کے مطابق 136 کلومیٹر طویل کراچی حیدرآباد موٹر وے منصوبہ جس کا افتتاح سابق وزیراعظم نواز شریف نے کرنا تھا، تاہم ان کی نااہلی کے بعد یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا ہے، چھ رویہ ایم نائن موٹروے منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 44.25 ارب روپے ہے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا دعویٰ ہے کہ ایم نائن کراچی حیدرآباد موٹروے منصوبہ رواں سال اکتوبر میں مکمل ہو جائے گا، جبکہ کراچی حیدرآباد موٹروے منصوبے پر کام کرنے والی ایف ڈبلیو او کی ویب سائٹ پر منصوبے کی تکمیل دسمبر 2017ء درج ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق حیدرآباد، دادو، جامشورو اور کراچی پر مشتمل ایم نائن کراچی حیدرآباد موٹروے منصوبے کیلئے انٹر چینجز کا کام مکمل نہیں ہوا، جبکہ پانچ سے زائد مقامات پر موٹروے پر کام اب بھی جاری ہے۔

این ایچ اے ذرائع کے مطابق کراچی حیدرآباد موٹروے منصوبے کا قریباً تیس فیصد کام باقی ہے اور منصوبے کی مکمل تکمیل میں مزید چار سے پانچ ماہ لگ سکتے ہیں۔ سی پیک میں شامل اور کریڈٹ فنانسنگ کے تحت بننے والے ملتان سکھر موٹروے منصوبہ جو 392 کلومیٹر پر مشتمل ہے، اس منصوبے کے سندھ کے حصے میں کام کی رفتار انتہائی محدود ہے، سکھر ملتان موٹروے منصوبہ 2019ء کے اگست میں مکمل ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، چھ رویہ اس منصوبے پر چینی کمپنی کام کر رہی ہے۔ 299 کلومیٹر طویل حیدرآباد سکھر موٹروے منصوبے کیلئے لیٹر آف انٹرسٹ جاری کر دیا گیا ہے، چھ رویہ حیدرآباد سکھر موٹروے منصوبے کے ہر لین کی چوڑائی 3.65 میٹر ہے، جس میں پندرہ انٹر چینجز بھی شامل ہیں، دو سو اڑتیس ارب روپے لاگت کا تخمینہ ہے، حیدرآباد، جامشورو، مٹیاری، بے نظیرآباد، نو شہرو فیروز، خیرپور اور سکھر اضلاع سے حیدرآباد سکھر موٹروے منصوبے گزرے گا، تاہم اس منصوبے کیلئے درکار نجی و سرکاری زمین کے حوالے سے تاحال پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ این ایچ اے کے مطابق حیدرآباد سکھر موٹروے منصوبوں کیلئے درکار زمین ملنے تک تعمیراتی کام شروع نہیں ہوسکے گا اور منصوبہ مقررہ تاریخ تک مکمل نہیں ہوسکے گا۔

کراچی میں ٹرانسپورٹ مسائل کو کم کرنے کا سب سے اہم منصوبہ لیاری ایکسپریس وے سب سے زیادہ تاخیر کا شکار ہے، لیاری ایکسپریس وے پرویز مشرف دور میں شروع ہوا اور تجاوزات کے خاتمے سمیت دیگر مسائل حل نہ ہونے پر دس سال گزرنے کے بعد بھی 16 کلیومیٹر لیاری ایکسپریس وے مکمل نہیں ہوا، طویل عرصہ گزرنے کے باعث لیاری ایکسپریس وے کی لاگت میں بھی کروڑوں روپے کا اضافہ ہوا اور یہ منصوبہ ابھی تک نامکمل ہے۔ این ایچ اے کی دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لیاری ایکسپریس وے منصوبے کو نومبر 2017ء میں مکمل کر لیا جائے گا، تاہم زمینی حقائق کے مطابق یہ منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔ این ایچ اے کے تحت سکھر بائی پاس منصوبہ بھی سست روی کا شکار ہے، دو رویہ سکھر کیرج وے کی تکمیل کیلئے فروری 2018ء کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم یہ منصوبہ بھی بروقت مکمل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے، جبکہ شمور کندھکوٹ اور کشمور کوٹری روڈ منصوبے پر بھی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب کے علاوہ سندھ و دیگر چھوٹے صوبوں کو مسلسل نظر انداز کئے جانے کے باعث وفاق اور صوبوں میں نفرتیں بڑھ رہی ہیں، جو ملکی اور عالمی حساس صورتحال کے پیش نظر کسی بھی صورت ملک و قوم کیلئے سازگار نہیں ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت سندھ و دیگر چھوٹے صوبوں کو انفراسٹرکچر منصوبوں میں نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنانے کے بجائے برابری کے بنیاد پر حصہ دے، تاکہ چھوٹے صوبوں میں پائی جانے والی بے چینی دور ہوسکے۔
خبر کا کوڈ : 671130
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب