0
Tuesday 26 Sep 2017 21:38

کلام امام (ع) کی روشنی میں معاشرتی تنزل کی علامات، اسباب اور ہم(1)

کلام امام (ع) کی روشنی میں  معاشرتی تنزل کی علامات، اسباب اور ہم(1)
تحریر: سید اسد عباس

امام حسین علیہ السلام کے خطبات اور کلام میں جہاں امام عالی مقام نے اپنے مشن و ہدف کے خدوخال کو روشن و واضح کیا، وہیں اس کلام میں اس دور کی معاشرتی زبوں حالی اور لوگوں کے طرز عمل کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے۔ 59 ھ کے خطبہ منٰی کو ہی لے لیجئے، جس میں امام عالی مقام نے حجاج میں سے علماء، اہل خبرہ اور صاحب رسوخ افراد کو جمع فرمایا اور ان کے سامنے ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبے میں بیان کردہ صورتحال کو دیکھا جائے اور اس کا موازانہ اپنے معاشرے سے کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں پیدا ہونے والی بہت سی خرابیاں اس وقت ہمارے معاشروں میں بدرجہ اتم موجود ہیں اور ان خرابیوں کے مقابلے میں ہمارا طرز عمل بھی اس وقت کے معاشرے سے چنداں مختلف نہیں ہے۔ ذیل میں ہم امام عالی مقام کے انہی ارشادات کی روشنی میں اس معاشرے کی صورتحال نیز ہمارے معاشرے میں موجود ویسی ہی خرابیوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں گے، تاکہ دونوں معاشروں کا موازنہ ممکن ہو اور اپنے طرز عمل پر غور کرکے اصلاح کی کاوش کی جاسکے۔

واقعہ کربلا کے کلامی پہلو کے حوالے سے آج ایک بہت خوبصورت تحریر نظر سے گزری۔ پاکستان کے معروف دانشور اور ثقہ عالم دین جناب ڈاکٹر محسن نقوی حفظہ اللہ لکھتے ہیں کہ: ’’انسانی زندگی کے چار ابعاد (Dimensions) ہیں (i) اپنے آپ سے تعلق (ii) اپنے عزیز و اقارب یعنی والدین، بچوں، رشتہ داروں سے تعلق (iii) معاشرے سے تعلق (iv) اپنے رب سے تعلق۔ جب ہم غور کرتے ہیں تو پہلے تین تعلقات کی صحت کا دارومدار اپنے ’’رب سے تعلق‘‘ پر ہے۔ جب یہ بگڑتا ہے تو انسان ظلوم و جہول بن جاتا ہے اور باقی تینوں تعلقات ظلم و جہل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاریخ اسلامی میں یہ بگاڑ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد شروع ہوا۔ معاشرے کے تعلقات ’’رب‘‘ سے کمزور ہوتے جا رہے تھے اور حکمرانوں سے مضبوط سے مضبوط تر۔ اس بگاڑنے جو تینوں ’’ابعاد‘‘ کو بگاڑنا شروع کیا تو اس کی درستی کی صرف ایک ہی راہ تھی، ’’رب‘‘ سے تعلق کا مضبوط کرنا اور ’’دین‘‘ کی حفاظت جو مقصود رب ہے۔"

ڈاکٹر صاحب مزید تحریر کرتے ہیں کہ: ’’مقاصد شریعۃ کی فہرست میں حفاظتِ دین، حفاظتِ نفس، حفاظتِ مال، حفاظتِ عقل اور حفاظتِ عرض یا ناموس شامل ہیں، جسے حفاظتِ نسل کہا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالٰی کا دین کامل جو نبی اکمل اور نبی خاتم کے ذریعے سے اس کرہ ارض پر جلوہ نما ہوا، اس کی مکی سورتیں ہوں یا مدنی صورتیں، دونوں انہی پانچ مقاصد کے گرد گھومتی ہیں، کیونکہ یہی وہ پانچ مقاصد ہیں کہ جب ان کا حصول ممکن نہ ہو اور یہ اقدار معاشرے میں ناپید ہو جائیں تو ایک نئے نبی اور نئی شریعت کی ضرورت جنم لیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور ان کے مشن کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے انہیں ستونوں پر معاشرے کو قائم کیا۔ ان مقاصد میں سب سے بڑھ کر حفاظت دین ہے، جس کے لئے نفس اور مال کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے، عقل کی قربانی یہ ہے کہ وہ تابع شریعت ہو، جبکہ عرض یا ناموس کا صرف وہی مطلب معتبر ہے جو شریعت خداوندی میں مقرر کر دیا گیا ہے۔"

محمدو آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ فقط ان مقاصد شریعت کو متعین کیا بلکہ ان کی حفاظت کے لئے مسلسل مصروف عمل رہے اور دنیا کو یہی رمز بتاتے رہے کہ دین باقی ہے تو ہی جہان باقی ہے۔ انسانی زندگی کی تمام ابعاد کا تعلق دین کی اصلاح اور رب سے تعلق پر منحصر ہے۔ معاشرے میں پیدا ہونے والے کسی بھی بگاڑ کے مقابلے میں الٰہی ہستیوں کا یہی فریضہ رہا ہے کہ وہ جان و مال، عزت و ناموس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے معاشرتی بگاڑ کے خلاف قیام کریں۔ حضرت نوح، حضرت ابراھیم، حضرت موسٰی، حضرت عیٰسی (علیھم السلام)، رسالت ماب ؐ اور دیگر الٰہی نمائندوں نے کبھی حکمرانوں سے یہ سوال نہ کیا کہ تم اقتدار میں کیسے آئے، ان کا موقف ہمیشہ یہی رہا کہ تمہارا عقیدہ کیا ہے، اس عقیدے کے عوام اور معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں، تم اپنے رب سے کس قدر دور ہوچکے ہو۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ ہمیں امام عالی مقام کے قیام کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ امام علیہ السلام نے بیعت کی پہلی کاوش سے لے کر اپنی شہادت تک یزید کے طریقہ انتخاب پر بات کرنے کے بجائے مقاصد شریعت کی زبوں حالی کو موضوع سخن بنایا۔ وہ جانتے تھے کہ مقاصد شریعت کا متروک ہونا ہی معاشرتی زوال کا بنیادی سبب ہے۔

امیر شام کو جواب اور مسئلہ کی حقیقت پر بیان
امیر شام نے یزید کی بیعت کی غرض سے مدینہ کا سفر کیا اور صلح امام حسن ؑ کی شق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے جانشین کے تعین پر کمر کس لی، بنو ہاشم اور مدینہ کے باقی قبائل کو اکٹھا کیا اور یزید کی صفات بیان کرنے لگا تو امام عالی مقام جواب میں فرمایا: یا معاویہ فلن یودی القائل وان اطنب فی صفۃ الرسول ؐ من جمیع جزء ا وقد فہمت ما لبست بہ الخلف بعد رسول اللہ ؐ من ایجاز الصفۃ والتنکب عن استبلاغ النعت۔ اے معاویہ! تعریف کرنے والا چاہے کتنی ہی تعریف کرے، صفات رسول ؐ کا ایک جز بھی بیان نہیں کرسکتا۔ اور تم تو بخوبی جانتے ہو کہ آنحٖضرت ؐ کی وفات کے بعد لوگوں نے آنحضرت کی صفات بیان کرنے میں کتنی کمی کر دی اور آپؐ کی ثناء میں کیسا ظلم روا رکھا۔

امام عالی مقام اسی خطبے میں آگے چل کر فرماتے ہیں: و فہمت ما ذکرتہ عن یزید من اکتمالہ و سیاستہ لامۃ محمد ؐ ترید ان توھم الناس فی یزید کانک تصف محجوبا او تنعت غائبا اور تخبر عما کان مما احتویتہ بعلم خاص ، وقد دل من نفسہ علی موقع رایہ، فخذ لیزید فیما اخذ فیہ من استقراۂ الکلاب المہارشۃ عند التہارش، و الحمام السبق لا ترابہن ، و القیان ذوات المعازف و ضروب الملاھی تجدہ باصرا ودع عنک ما تحاول۔1 جو کچھ تم نے یزید کے کمالات اور امت محمدیؐ کے لئے اس کی سیاست دانی کا ذکر کیا، کو میں سمجھتا ہوں۔ تم چاہتے ہو کہ یزید کے بارے میں لوگوں کو ایسے دھوکے میں رکھو گویا تم ان کے سامنے کسی پوشیدہ شخصیت والے کی صفت بیان کر رہے ہو اور کسی غائب کی تعریف کر رہے ہو یا تم کسی ایسی چیز کا ذکر کر رہے ہو، جسے تم نے مخصوص ذرائع سے حاصل کیا ہے، حالانکہ اس (یزید) نے اپنا تعارف (اعمال سے) خود کرا دیا ہے۔ لٰہذا تم بھی یزید کے لئے وہی چیزیں اختیار کرو، جو اس نے خود اپنے لئے اختیار کی ہیں۔ جیسے لڑائی کے لئے کتوں کا پالنا، کبوتروں کی پرورش، گانے بجانے والیاں اور اسی قسم کے دیگر شغل۔ ہاں یزید ان شغلوں میں کافی مہارت رکھتا ہے۔ اس (یزید کی بیعت) کے خیال کو اپنے سے دور کرو۔ امام عالی مقام دیکھ رہے ہیں کہ یزید کی عادات اور بری خصلتوں کا حامل شخص معاشرے میں کس قسم کے انتشار کو جنم دے گا۔ کیا اس کے دور حکومت میں دین محفوظ رہے گا؟ کیا لوگوں کی جان و مال عزت و ناموس محفوظ ہوگی؟ ایسے شخص کی توثیق یا بیعت مقاصد شریعت کے نہ فقط خلاف تھی بلکہ معاشرے کو دوبارہ جاہلانہ روش کی جانب دھکیلنے کے مترادف تھی۔
(جاری ہے۔۔۔۔)
حوالہ
1۔ الامامۃ والسیاسۃ ج 1 ص 186
خبر کا کوڈ : 672226
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے