0
Friday 29 Sep 2017 20:30

قیام امام حسین ؑ کا ہدف۔۔۔۔ اصلاح امت مسلمہ

قیام امام حسین ؑ کا ہدف۔۔۔۔ اصلاح امت مسلمہ
تحریر: علامہ سید ساجد علی نقوی

تاریخ کے صفحات پر سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا موقف اور نقطہ نگاہ آج بھی اپنی پوری رعنائیوں کیساتھ رقم ہے۔ چنانچہ جب حاکم مدینہ کی طرف سے یزید کی بیعت کیلئے دباؤ ڈالا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کا حکمران یزید جیسا شخص ہو تو ایسے اسلام پر سلام۔ بیعت سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کرسکتا۔ اس طرح امام عالی مقام نے اپنا موقف دو ٹوک انداز میں بیان کر دیا اور حکومت، اس کے کردار اور پالیسیوں کو ٹھکرا کر غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔
منظر کشی
آپ نے اپنے خطوط و خطبات میں قیام کی وجوہات واضح کرنے کیلئے کئی مرتبہ اس دور کی صورتحال، کیفیت، امت کی حالت زار اور حالات کی ابتری کی نقشہ کشی اور منظر کشی فرمائی۔ چنانچہ امام جب مکہ تشریف لائے تو بصرہ کے قبائل کے سرداروں کو ایک خط لکھا، جس میں امام ؑ نے تحریر فرمایا کہ میں ابھی اپنے نمائندے کو اس خط کیساتھ آپ کی طرف بھیج رہا ہوں، میں آپ کو کتاب خدا اور سنت پیغمبر اکرم ؐ کی طرف دعوت دیتا ہوں، چونکہ حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ سنت پیغمبر اکرم ؐ ختم ہوچکی ہے اور بدعتیں زندہ ہوگئی ہیں، اگر آپ میری بات کو سنیں گے تو میں آپ کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کروں گا۔ سفر عراق کے دوران مقام بیضہ پر لشکر حر کو خطبہ میں ارشاد فرمایا ’’اے لوگو! یہ (حکمران) اطاعت خدا کو ترک کرچکے ہیں اور شیطان کی پیروی کو اپنا نصب العین بنا چکے ہیں، یہ ظلم و فساد کو اسلامی معاشرے میں رواج دے رہے ہیں، خدا کے قوانین کو معطل کر رہے ہیں اور ’’مال فے‘‘ کو انہوں نے اپنے لئے مختص کر لیا ہے، خدا کے حلال و حرام اور امر و نواہی کو بدل چکے ہیں۔ میں اس معاشرے کی ہدایت و رہبری کیلئے اور ان سے سب فتنوں، فساد کاریوں اور مفسدوں کیخلاف کہ جنہوں نے میرے نانا کے دین کو تبدیل کر دیا ہے، قیام کرنے میں دوسروں سے زیادہ اہل ہوں۔‘‘

اس خطبے میں کی گئی منظر کشی سے واضح ہوتا ہے کہ یزیدی دور میں حکمران، احکام شریعت الٰہی اور سنت رسول ؐ میں دیئے گئے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو بھلا کر گمراہی اور گناہ کی زندگی اختیار کرچکے تھے۔ عدل اجتماعی سے گریز کرتے ہوئے مستقل طور پر بے عدلی اور ناانصافی کو اسلامی معاشرے کا حصہ بنایا جا رہا تھا۔ خدا نے انسان اور معاشرے کی بھلائی کیلئے شریعت کی شکل میں جو قوانین اور پابندیاں عائد کیں، ان سے عملاً برات کرکے اپنے خود ساختہ قوانین رائج کئے جا رہے تھے، قومی خزانے کو لوٹا جا رہا تھا اور کرپشن اور حرام خوری حکمرانوں کی عادت بن چکی تھی، جس سے معاشی ناہمواری، غربت، افلاس اور جہالت کو فروغ مل رہا تھا۔ حکمران خود بھی اور رعایا بھی حلال و حرام کی تمیز نہیں کر رہے تھے، بلکہ حرام امور کو حلال تصور کرکے انجام دے رہے تھے، خدا کے احکامات کی تابعداری کرنے کی بجائے نافرمانی کر رہے تھے اور جن کاموں سے خدا تعالٰی نے منع فرمایا تھا، ان سے باز نہیں آرہے تھے۔ سفر عراق میں ذی حسم کے مقام پر خطبہ میں ارشاد فرمایا ’’وہ جو ہونیوالا ہے، وہ آپ دیکھ رہے ہیں، زمانے کے حالات بالکل تبدیل ہوچکے ہیں۔ برائیاں ظاہر ہوچکی ہیں، نیکیاں اور فضیلتیں، بہت تھوڑی رہ گئی ہیں، جیسے کسی برتن کی تہہ میں چند قطرے، لوگ ذلت و پستی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ زندگی کا منظر پتھریلی چراگاہ کی طرح ہے، جس میں گھاس کم ہے، زندگی دشواریوں میں تبدیل ہوچکی ہے، کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے دوری اختیار نہیں کی جا رہی۔ ان حالات میں ایک ایماندار شخص کو چاہیے کہ اپنے پروردگار کے دیدار کا طالب و مشتاق رہے اور اس قدر ذلت بار حالات میں حسین ابن علی موت کو سعادت اور ظالموں کیساتھ زندگی گزارنے کو بوجھ سمجھتے ہیں۔" مزید ارشاد فرمایا، ’’لوگ دنیا کے بندے ہیں، دین ان کی زبانوں پر صرف لقلقہ لسانی تک ہے، جب تک ان کی زندگی پررونق رہتی ہے، اس وقت تک دین کیساتھ رہتے ہیں اور جب امتحان و آزمائش کا وقت آتا ہے تو دیندار بہت کم رہ جاتے ہیں۔"

تصویر کشی
حالات کی تصویر کشی کرتے ہوئے مختلف مقامات پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اس وقت ہم ایسے حالات سے گزر رہے ہیں کہ سنت رسول ؐ ختم ہوچکی ہے اور اس کی جگہ بدعت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ تم کتنے بدبخت اور سرکش افراد ہو کہ جنہوں نے قرآن کو پس پشت ڈال لیا اور تم لوگوں نے شیطان کو دماغ میں بسا لیا ہے۔ تم لوگ بڑے جنایت کار ہو، کتاب خدا میں تحریف کرنیوالے، سنت خدا کو فراموش کرنے اور اسے ختم کرنیوالے ہو، تم پیغمبر اکرم ؐ کے فرزندوں کو مار ڈالتے ہو، تم اوصیاء کو اذیت دینے والے اور تم ایسے پیشواؤں کے پیروکار ہو، جو قرآن مجید کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ اسلام میں تحریف ہو جانے کا خطرہ ہی نہیں بلکہ اسلام کے نابود ہونے کا خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ پیغمبر اکرم ؐ کے قانون کو ختم کیا جا رہا ہے اور اس کی جگہ بدعتیں زندہ کی جا رہی ہیں۔ ان تمام بیانات میں سیدالشہداء نے کھل کر اور دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ یزیدی حکومت کی طرف سے بدعتوں کو فروغ دینے اور سنت رسول اکرم ؐ کے خاتمے کا سلسلہ اب فوری طور پر روکنا ضروری ہے، اسلام کے زندگی بخش قوانین کو نظر انداز کرنے اور باطل کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، قرآن اور قرآنی احکام کے رو سے انسان کا قتل، ظلم و ناانصافی، انسانی حقوق کی پامالی، شہری آزادیوں کا سلب کیا جانا، غربت، افلاس اور جہالت کا فروغ، کرپشن اور بدامنی کا راج، عدل اجتماعی سے انحراف، استحصال اور اس طرح کے دیگر امور حرام ہیں، لیکن یزید اور اس کے کارندے بلا دریغ یہ حرام امور نہ فقط انجام دے رہے ہیں بلکہ انہیں حلال ثابت کرنے کی بھرپور کوششیں جاری تھیں۔

امامت و رہبری
ایسی صورتحال میں امت کی رہبری و رہنمائی فرمانا، امت کو ہدایت کا راستہ دکھانا، امت کو فساد اور شر سے بچانا، امت کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے سے آگاہ کرنا اور امت کو صحیح اور سچے نظام حکومت اور نظام حیات کی طرف متوجہ کرنا صرف اور صرف آپ ہی کی ذمہ داری تھی۔ جبھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ ’’امام وہ ہے جو کتاب و سنت پر عمل پیرا ہو، اسلامی معاشرہ کی رہبری اور اس ظلم و فساد اور ان ظالم و جابر حکمرانوں کیخلاف جدوجہد کرنے کیلئے میں (حسین ؑ ) دوسروں کی نسبت زیادہ سزا وار ہوں۔۔۔ یہ ایسی حکومت ہے، جس نے قرآنی احکام، سنت اور قوانین پیغمبر اکرم ؐ میں تغیر و تحریف کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے، لہذا اس کیخلاف جدوجہد کرنا میرا دینی فریضہ ہے۔ میری ذمہ داری ہے کہ میں تمام برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ دوں اور قرآن اور اسلام کے فراموش شدہ حیات آفرین احکام کو دوبارہ اس معاشرے میں رواج دوں، ظلم و ستم اور اسلامی قوانین میں تبدیلی کو روکوں۔ ان حالات میں ظلم و فساد کیخلاف جدوجہد ضروری ہے، یعنی اگر اس جدوجہد میں امت کے پاک ترین افراد کا خون بھی بہہ جائے تو فقط یہ کہ دشمن اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا بلکہ اس کے بہترین نتائج ظاہر ہوں گے اور اسلام پھلے پھولے گا۔ اب مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالٰی سے ملاقات کی رغبت کرے اور میں تو موت کو اپنے لئے سعادت اور ظالموں کیساتھ جینے کو بوجھ سمجھتا ہوں۔‘‘

اہداف

امام نے اپنے قیام کے اہداف و مقاصد واضح فرمائے، چنانچہ اپنے بھائی محمد ابن حنفیہ کو ایک وصیت نامے میں امام عالی مقام نے اس طرح ارشاد فرمایا: ’’میرے اس قیام، میری جدوجہد کا اصل مقصد اور میری اس تحریک اور اقدام کا اصل ہدف صرف امت کی اصلاح ہے، میرا عزم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔‘‘ اس فصیح و بلیغ بیان میں آپ نے اپنے اہداف و مقاصد اور اسلام کے تحفظ اور دین کی بقاء کیلئے اپنے خدا اور اپنے نانا سید الرسل ؐ کی طرف سے ودیعت کی گئی ذمہ داریوں کا مکمل احاطہ فرما دیا ہے۔ اصلاح کو ہدف قرار دینا بذات خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فساد موجود ہے، انتشار و افتراق برپا ہے اور بگاڑ ہویدا ہے۔ لہذا ان برائیوں کے خاتمے کیلئے اصلاح کی ضرورت درپیش ہے۔
فقط اصلاح امت

امام عالی مقام کے ان ارشادات نے واضح کر دیا کہ آپ کی جدوجہد، آپ کا سفر، آپ کا قیام، آپ کی شہادت اور پھر آپ کے خانوادے کے پابہ زنجیر طویل سفر کا مقصد ذات، مفادات، شہرت، دولت، فقط حکومت یا نمود و نمائش نہیں تھا بلکہ صرف اور صرف اصلاح امت اور فلاح امت تھا۔ اس جدوجہد نے اس اصول کی بنیاد ڈال دی ہے کہ جب بھی، جس دور میں بھی، جس خطے میں بھی اور جن حالات میں بھی اس قسم کی صورتحال درپیش ہو تو عظیم مقاصد اور اجتماعی مفادات کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ تاریخ شاہد ہے کہ 10 محرم 61 ھ کے بعد جب بھی حریت کی تاریخ رقم ہوئی، جب بھی ظلم کیخلاف قیام کا مرحلہ آیا، جب بھی فساد کے خاتمے کی جدوجہد ہوئی اور جب بھی جبر سے مسلط رہنے والی حکومتوں کی مزاحمت کی بات نکلی تو سب حریت پسندوں اور تمام تحریکوں نے حسین اور کربلا سے ضرور استفادہ کیا۔ تعلیمات اور سیرت امام حسین ؑ کی روشنی میں اصلاح امت کا سلسلہ ماضی میں بھی جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ برائیوں اور مفاسد کو دور کرنے اور دنیا کو ایک ہمہ گیرعادلانہ نظام فراہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اصلاح امت کا بنیادی فریضہ انجام دیا جائے۔ یہ فریضہ انجام دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ امام حسین ؑ کے فرامین، کردار، سیرت، انداز عمل اور جدوجہد سے استفادہ کریں۔ اصلاح امت کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے اپنے مسلکی، فروعی، ذاتی اور جماعتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد امت، وحدت امت اور اصلاح امت کا مشن جاری رکھیں۔ سچ جو میدان کربلا میں کہے اور سچ کیلئے جفائیں سہے۔ غسل اپنے لہو سے کرکے بھی۔۔۔سرخرو اور سربلند رہے۔۔۔صرف اس کو حسین ؑ کہتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 672953
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب