0
Wednesday 18 Oct 2017 11:11

امریکہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پر غضبناک کیوں؟

امریکہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پر غضبناک کیوں؟
تحریر: کبری آسوپار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شدید غصے میں ہے اور ان دنوں جو کچھ اس کی زبان سے نکل رہا ہے اور اس کے عمل سے ظاہر ہو رہا ہے وہ ایک ایسے زخمی بھیڑیئے کے رونے سے شباہت رکھتا ہے جو اپنے ہدف تک پہنچنے کیلئے آخری رکاوٹ برطرف کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہوتا ہے۔ امریکی صدر سب سے بہتر اس حقیقت کو درک کر رہا ہے کہ آج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کس مقام پر کھڑی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ امریکی جاہ طلب مفادات کی گردن پر سپاہ پاسداران کے فوجی بوٹوں کے دباو کا احساس کر رہا ہے۔ امریکہ گلوبل ولیج کا چوہدری بننے کا خواہش مند ہے لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک طاقتور دفاعی ونگ ہونے کے ناطے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایسا نہیں ہونے دیتی۔ ٹرمپ شدید غصے میں ہے، ماضی کے تمام امریکی صدور کی طرح جو سپاہ پاسداران پر غضب ناک تھے۔

آج امریکہ اپنے صدر مملکت کے ہمراہ، جو اپنے ڈیموکریٹک حریفوں کے برخلاف جو دل میں آتا ہے اگل دیتا ہے، غیر متوقع انداز میں ایران اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف اپنی تمام سرگرمیوں کا اصلی مقصد بیان کر چکا ہے کہ ایران اور سپاہ پاسداران دہشت گرد ہیں۔ یہ وہی مقصد ہے جو ماضی کے امریکی صدور انتہائی مودب اور پیارے انداز میں عالمی رائے عامہ کے ذہن میں ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے اور دنیا والوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ملٹری ونگ یعنی سپاہ پاسداران درحقیقت دہشت گرد ہیں، لیکن وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار میں آئے ابھی دو دن ہی ہوئے ہیں اور انہیں علم نہیں کہ آج کے حالات 1979ء کے حالات سے کہیں زیادہ مختلف ہیں جب ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تھا۔ نہیں معلوم وہ کیا سوچ کر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو للکارنے لگا ہے؟ آخر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایسے کیا اقدامات انجام دیئے ہیں جن کی بنیاد پر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارت کے پہلے سال میں ہی سپاہ پاسداران سے مقابلے کو اپنے اصلی اہداف میں سے ایک بیان کرتا ہے؟ ان سوالات کا جواب دینے کیلئے ہمیں میدان عمل پر ایک نظر دوڑانی پڑے گی۔

قدیم ایام سے اب تک امریکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف جدوجہد
بوسنیا ہرزیگوینا اپنی عوام کے دفاع میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے انجام پانے والے اقدامات کے بارے میں گہری یادوں کا حامل ملک ہے۔ بوسنیا کی جنگ میں کئی جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور اگرچہ سپاہ پاسداران آج کی طرح طاقتور نہیں تھی لیکن اس کے باوجود اس نے بوسنیائی عوام کا بھرپور انداز میں دفاع کیا۔ اسی طرح جب عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام نے اپنی ہی عوام کو طاقت کے زور پر کچلنا شروع کیا تو سپاہ پاسداران نے ان کی حفاظت کی۔ اگرچہ آج عراق کے زیر انتظام کردستان کی انتظامیہ بعض ایران مخالف اقدامات انجام دینے میں مصروف ہے لیکن وہ ماضی میں صدام کے مقابلے میں انجام پانے والی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بھرپور حمایت اور مدد کا انکار نہیں کر سکتے۔ ابھی انہیں گذشتہ چند سالوں میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی یلغار کے مقابلے میں سپاہ پاسداران ہی تھی جو عراقی کردوں اور شام کی عوام کی محفوظ پناہگاہ ثابت ہوئی۔

یہ تمام محاذ درحقیقت خطے میں امریکی اثرورسوخ بڑھانے کی فرنٹ لائن تھے جن پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا اور امریکہ کے تمام ناپاک عزائم خاک میں ملا دیئے۔ جنوبی لبنان میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا کردار صرف دفاعی حد تک محدود نہ تھا بلکہ ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ لبنان کی سرزمین امریکہ کے دوست اور بھائی ملک اسرائیل کے قبضے سے آزاد کروا لی گئی اور اصلی مالکین یعنی لبنانی عوام کے سپرد کر دی گئی۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی درحقیقت ہر جگہ امریکی اور اسرائیلی مفادات کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک مضبوط بازو کے طور پر ظاہر ہوئی ہے۔

شام، امریکہ اور سپاہ پاسداران کے درمیان پراکسی وار کا میدان
مذکورہ بالا حقائق کو سمجھنے کیلئے شام ایک واضح اور زندہ مثال ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی کو چھ برس اور عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو گھسے تین سال اور چند ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ شام کا محاذ ایک ایسا محاذ جس کے ایک طرف صدر بشار اسد کی قانونی حکومت ہے جبکہ دوسری طرف حکومت مخالف گروہ موجود ہیں۔ امریکی اور مغربی میڈیا کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ وہ شام کے حکومت مخالف مسلح گروہوں کو شامی عوام کے طور پر ظاہر کرے۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے واقعات انتہائی دلخراش اور اندوہناک ہیں۔ انتہائی مختصر عرصے میں سب اس حقیقت سے آگاہ ہو گئے کہ شام میں حکومت مخالف عناصر کی جانب سے جس بربریت اور وحشیانہ پن کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ محض سیاسی مخالفت کی بنا پر ممکن نہیں اور حقیقت صرف سیاسی مخالفت اور اعتراض سے ہٹ کر کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ دہشت گرد عناصر کی جانب سے غیر انسانی اور وحشیانہ اقدامات کو شامی عوام سے نسبت دینا ایسی قوم کے حق میں بہت بڑی توہین تھی جس نے ہمیشہ خطے میں امن کی خواہش کی ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی شام کی قانونی حکومت کی درخواست پر شامی عوام کے تحفظ کیلئے اس ملک میں داخل ہوئی۔ البتہ سپاہ پاسداران کا یہ اقدام اس وقت امریکہ سے ٹکر میں تبدیل ہو گیا جب امریکی حکومت نے شام میں صدر بشار اسد کی قانونی حکومت کو سرنگون کرنے کا عندیہ دے ڈالا۔ ایران لائی جانے والی شہداء کی لاشیں (اور حتی وہ لاشیں جو واپس نہیں لائی جا سکتیں) اس مزاحمت اور جدوجہد کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ لیکن اس قصے میں امریکہ کا کیا کردار ہے؟ جواب بہت طولانی ہے اور ہم صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کی یاد دہانی کروانے پر ہی اکتفا کریں گے جو انہوں نے امریکی صدارتی مہم کے دوران اپنی حریف ہیلری کلنٹن کو کہے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار اس بات پر زور دیا کہ داعش درحقیقت اوباما، کلنٹن اور ڈیموکریٹس نے تشکیل دی ہے۔ یوں شام میں بھی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی امریکہ کے ناجائز مفادات کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ عراق اور شام میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی طاقتور موجودگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج امریکہ خود کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ہیرو قرار نہیں دے سکتا۔ اگر مشرق وسطی خاص طور پر عراق اور شام میں صرف جنرل قاسم سلیمانی کی محبوبیت پر ہی ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ غضب ناک ہونے کا حق رکھتا ہے یا نہیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، ایک ختم نہ ہونے والا نظریہ
ایک ایسے خطے میں جو امریکہ اپنے باپ کی ملکیت تصور کرتا تھا اور اس کا اسٹریٹجک اتحادی اسرائیل بڑے مزے سے نیل سے فرات تک کے نقشے کھینچ رہا تھا، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے انٹرنیشنل ونگ "قدس بریگیڈ" نے خطے میں قدم رکھے تاکہ اسلحہ کے زور پر ان عوام کا دفاع کیا جا سکے جو عالمی استکبار کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اس تصور کے برخلاف جو اکثر افراد کے ذہن میں موجود ہے محض ایک ملٹری فورس نہیں بلکہ سیاست کی دنیا میں ایک منفرد طرز زندگی کا نام ہے۔ ایسا طرز زندگی جو ہمیں ظالم، استعماری اور استکباری قوتوں کے مقابلے میں حتی خالی ہاتھ ڈٹ جانے کا سبق سکھاتا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سیاسی زندگی کا ایسا رول ماڈل ہے جس نے اپنے پاوں پر کھڑا ہونے اور خود کفالتی اور بڑی طاقتوں سے بے نیاز ہو کر مزاحمت کے ابتدائی قدم اٹھانے کا عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ سیاسی زندگی کے اس ماڈل کی بنیاد امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے رکھی۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے مونوگرام میں موجود آیت "وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّه" (سورہ انفال، آیت 60: جہاں تک ہو سکے دشمنوں کے مقابلے میں طاقت پیدا کرو) درحقیقت وہ ایمان پر مبنی مزاحمت ہے جسے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے عوام کیلئے نظریئے کی شکل دی اور ان کے حکم پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی معرض وجود میں آئی۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی چند میزائلوں، عمارتوں، اسلحہ کے ذخائر اور انسانی قوت کے مجموعے کا نام نہیں بلکہ جائز مقاصد کی راہ میں جدوجہد اور مستکبرین کے مقابلے میں ڈٹ جانے کے تصور کا نام ہے۔ آج یہ نظریہ اور سیاسی زندگی کا یہ ماڈل صرف ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کی مختلف اقوام میں سرایت کر چکا ہے اور اگر بالفرض ایران میں موجود سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا مکمل خاتمہ بھی کر دیا جائے تب بھی اس کا وجود باقی رہے گا۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی آج صرف ایران میں نہیں بلکہ حزب اللہ لبنان بھی اسی تصور کا ایک اور مصداق ہے۔ اسی طرح انصاراللہ یمن، حشد الشعبی عراق، فاطمیون، زینبیون اور حیدریون اسی رول ماڈل کے دیگر مصادیق ہیں۔

یہ تمام گروہ بت شکن زمان امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے نقش قدم پر عمل پیرا ہیں اور ان کے دیئے ہوئے سنہری اصول جو درحقیقت حقیقی محمدی (ص) اسلام کے اصول ہیں، پر کاربند ہیں۔ آج یہ نظریہ ایران کی جغرافیائی سرحدوں سے عبور کر چکا ہے اور امریکہ یا کسی دوسری شیطانی طاقت کی جانب سے ہر قسم کی پابندیوں کا اس پر کوئی اثر نہیں۔ خدا کی راہ میں جہاد اور مزاحمت پر مبنی اس نظریئے کا پھیلاو ہی شیطان بزرگ امریکہ کے غضبناک ہونے کی حقیقی وجہ ہے۔ آج یہ رول ماڈل دنیا بھر کے مستضعفین کی امید کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر دہشت گرد عناصر کے خلاف موثر قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جس کے باعث امریکہ اپنے تمام شیطانی منصوبوں پر پانی پھرتا دیکھ رہا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور دہشت گردی میں رابطہ
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور دہشت گردی میں تعلق ضرور ہے لیکن وہ نہیں جس کی تشہیر گذشتہ کئی برس سے امریکی حکومت کر رہی ہے بلکہ مکمل طور پر اس کے برعکس ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کئی عشروں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جدوجہد میں مصروف ہے۔ اگر ہم سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے ماضی میں دنیا کے مختلف ممالک میں دہشت گرد عناصر کے مقابلے میں عوام کو تحفظ فراہم کرنے پر مبنی اقدامات کا جائزہ لیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے دنیا کی سب سے بڑی اینٹی ٹیروریزم فورس قرار دیں گے۔ لہذا دنیا میں موجود امن و امان درحقیقت سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی کاوشوں اور جدوجہد کا مرہون منت ہے۔ اب ان حقائق کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کیجئے کہ کیا امریکہ جو گلوبل ولیج کا چوہدری ہونے کا دعویدار ہے، کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پر غضبناک نہیں ہونا چاہئے؟
خبر کا کوڈ : 677431
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب