0
Wednesday 8 Nov 2017 22:17
چہلم سید الشہداء علیہ السلام کی مناسبت سے

کربلا، حقیقی اور جعلی اسلام میں ٹکراو کا اہم موڑ (حصہ اول)

کربلا، حقیقی اور جعلی اسلام میں ٹکراو کا اہم موڑ (حصہ اول)
تحریر: اصغر طاہر زادہ

الہی تہذیبوں کی بنیاد اور تسلسل ایسے انسانوں کی جانب سے رکھی جاتی ہے اور انجام پاتا ہے جن کی خصوصیات امام علی علیہ السلام نے یوں بیان کی ہیں:
وَاللَّهِ الْأَقَلُّونَ عَدَداًوَالْأَعْظَمُونَ عِنْدَاللَّهِ قَدْراً يَحْفَظُ اللَّهُ بِهِمْ حُجَجَهُ وَ بَيِّنَاتِهِ حَتَّى يُودِعُوهَا نُظَرَاءَهُمْ وَ يَزْرَعُوهَا فِي قُلُوبِ أَشْبَاهِهِمْ هَجَمَ بِهِمُ الْعِلْمُ عَلَى حَقِيقَةِ الْبَصِيرَةِ وَ بَاشَرُوا رُوحَ الْيَقِينِ وَاسْتَلَانُوا مَااسْتَوْعَرَهُ الْمُتْرَفُونَ وَ أَنِسُوا بِمَا اسْتَوْحَشَ مِنْهُ الْجَاهِلُونَ وَ صَحِبُوا الدُّنْيَا بِأَبْدَانٍ أَرْوَاحُهَا مُعَلَّقَةٌ بِالْمَحَلِّ الْأَعْلَى (نہج البلاغہ، کلام 147)۔
ترجمہ: "خدا کی قسم، ان کی تعداد بہت کم لیکن خدا کے نزدیک ان کا مقام بہت بلند ہے، خدا ان کے ذریعے اپنی حجتوں اور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ انہیں اپنے جیسوں کے سپرد کر دیں اور اپنے جیسوں کے دل میں انہیں بو دیں۔ علم نے انہیں بصیرت کی حقیقت تک پہنچا دیا ہے اور وہ یقین کی روح سے گھل مل گئے ہیں اور وہ چیزیں ان کیلئے سہل و آسان ہیں جو آرام پسند افراد کیلئے دشوار ہیں اور جن چیزوں سے جاہل بھڑک اٹھتے ہیں وہ ان سے دل لگائے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے بدن سے اس دنیا میں حاضر ہیں جبکہ ان کی روحیں ملاء اعلی سے وابستہ ہیں۔"

کربلا دو قسم کے اسلام میں ٹکراو کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ ایک ایسا اسلام جو انسانوں پر جاہلیت کے زمانے کی دینداری پر باقی رہنے پر زور دیتا ہے جبکہ دوسرا وہ اسلام ہے جو اس بات پر تاکید کرتا ہے کہ دینداری صرف اسلامی نظام کے تحت ہی ممکن ہے۔ انہیں حقائق کو آشکار کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اس ٹکراو کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَيْلَكُمْ يا شيعَةَ آلِ ابى سُفْيانَ، ان ْلَمْ يَكُنْ لَكُمْ دينٌ وَ لا تَخافونَ الْمَعادَ فَكونوا احْراراً فى دُنْياكُمْ (لہوف، صفحہ 50)۔
ترجمہ: "اے آل ابوسفیان کے پیروکارو، وائے ہو تم پر، اگر تمہارا کوئی دین نہیں ہے اور تم قیامت سے نہیں ڈرتے تو کم از کم اپنی دنیوی زندگی میں آزاد اندیش رہو۔"

اگرچہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ عمر سعد کے لشکر میں شامل افراد نماز پڑھتے تھے لیکن امام حسین علیہ السلام کے اس کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ افراد اس اسلام کو سمجھنے سے قاصر تھے جو ایک حقیقی اسلامی نظام کی گود میں پھلتا پھولتا ہے اور یزیدی لشکر کے افراد درحقیقت ابوسفیانی جاہلانہ ثقافت کے ماحول میں پھلنے پھولنے والے اسلام پر عمل پیرا تھے۔ لہذا کربلا در حقیقت دو قسم کے اسلام میں ٹکراو کا میدان ہے، ایک ایسا اسلام جسے نظام سازی سے کوئی غرض نہیں اور کافر حکمران کی گود بھی برداشت کر سکتا ہے اور دوسرا ایسا اسلام جو جاہلیت کے زمانے سے عبور کرتے ہوئے اسلامی نظام کے قیام کا خواہاں ہے تاکہ انسان کی سماجی زندگی کے تمام امور اسلامی بنیادوں پر استوار کئے جا سکیں۔

ایسے افراد میں سے ایک جو اس حقیقت کو درک کرتے تھے کہ مسلمان ہونا اور اسلامی طریقے پر زندگی گزارنا صرف اور صرف اس وقت ممکن ہے جب معاشرے پر اسلامی تعلیمات حکمفرما ہوں، حبیب ابن مظاہر ہیں۔ وہ رسول خدا (ص) کی زیارت کر چکے تھے اور ان (ص) کی رکاب میں جہاد کا شرف بھی انہیں حاصل تھا۔ ان کا شمار ایسے مجاہدین میں ہوتا تھا جنہوں نے اسلام دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے اور جہاد کیلئے کوفہ میں سکونت اختیار کی تھی۔ انہوں نے اکثر جنگوں میں امام علی علیہ السلام کی ہمراہی کی۔ ہم چاہتے ہیں حبیب ابن مظاہر کی نگاہ سے کربلا کو دیکھیں۔ ایک بار ہم کربلا کو امام حسین علیہ السلام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں کربلا اس قدر عظیم ہو جاتی ہے کہ جزوی حقائق آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایک بار ہم کربلا کو اصحاب امام حسین علیہ السلام کی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہمیں ایسے ظریف حقائق دکھائی دیتے ہیں جو سب امام حسین علیہ السلام کی جانب اشارہ کرتے ہیں اور امام حسین علیہ السلام کثرت کے ہمراہ وحدت کے مقام پر نظر آتے ہیں۔ یہاں پر بھی امام حسین علیہ السلام نظر آتے ہیں لیکن حبیب بن مظاہر کی آنکھ سے لہذا ہمارے لئے زیادہ قابل محسوس ہیں۔

حبیب ابن مظاہر عرفان کے اعلی درجات پر فائز تھے اور اس قدر روحانی ترقی کر چکے تھے کہ کِشی اپنی کتاب "رجال" میں لکھتا ہے:
"میثم تمار اپنے گھوڑے پر سوار تھے۔ بنی اسد قبیلے کی بیٹھک میں ان کا آمنا سامنا حبیب ابن مظاہر سے ہوا جو خود بھی گھوڑے پر سوار تھے۔ وہ آپس میں گفتگو کرنے لگے۔ حبیب ابن مظاہر میثم تمار کو مستقبل کے حالات سے آگاہ کرنے لگے اور کہا: گویا ایک عظیم انسان کو دیکھ رہا ہوں جس کے سر کے اگلے حصے کے بال گر چکے ہیں۔ وہ دار الرزق کے قریب خربوزے بیچ رہا ہے۔ دیکھ رہا ہوں کہ اہلبیت پیغمبر علیہم السلام کی محبت کے گناہ میں سولی پر چڑھایا جاتا ہے اور اس حالت میں اس کا پیٹ چاک کر دیا جاتا ہے۔

میثم تمار بھی حبیب ابن مظاہر کو مستقبل کے حالات سے آگاہ کرنے لگے اور فرمایا: میں بھی ایک سرخ چہرے والے شخص کو پہچانتا ہوں جس کی دو لٹیں ہیں۔ وہ نواسہ رسول (ص) کی نصرت کیلئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور مارا جاتا ہے۔ اس کا سر کوفہ میں گھمایا جاتا ہے۔
اس کے بعد دونوں ایکدوسرے سے دور ہو گئے۔ حاضرین میں سے بعض کہنے لگے کہ ہم نے آج تک ان دو سے زیادہ جھوٹا شخص نہیں دیکھا۔ ابھی سب بیٹھے ہوئے تھے کہ رُشید ہُجری وہاں پہنچے اور دونوں کے بارے میں پوچھنے لگے۔ لوگوں نے کہا کہ وہ چلے گئے ہیں۔ رُشید نے کہا: خدا میثم تمار پر رحمت نازل فرمائے، وہ یہ کہنا تو بھول ہی گئے کہ: جس کا سر لایا جائے گا (حبیب ابن مظاہر) وہ ایسا شخص ہے جسے سو درھم زیادہ دیئے جاتے ہیں۔ رُشید نے یہ کہا اور چلا گیا۔ بیٹھک میں بیٹھے افراد کہنے لگے: خدا کی قسم یہ ان دو سے بھی زیادہ جھوٹا شخص ہے۔ بعد میں ان افراد نے کہا: کچھ عرصے بعد ہم نے دیکھا کہ میثم تمار کو عمر بن حریث کے گھر میں سولی پر لٹکایا گیا ہے اور حبیب ابن مظاہر کا سر انہیں دو لٹوں کے ہمراہ گھوڑے کی زین سے باندھا ہوا تھا اور کوفہ لایا گیا تھا۔ (رجال کِشی، جلد 1، صفحہ 293)۔

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلبیت اطہار علیہم السلام جو نظام تشکیل دینا چاہتے تھے اس کیلئے کس قسم کے راز دار انسانوں کی ضرورت تھی۔ امام حسین علیہ السلام کے تشکیل یافتہ محاذ کی استقامت اور نتیجہ بخش ہونے کا راز بھی حبیب ابن مظاہر جیسے افراد کی شخصیت میں پوشیدہ ہے۔

حبیب ابن مظاہر ایسی تحریک کا انتظار کر رہے تھے جو اسلام کو اس دلدل سے باہر نکال سکے جس میں بنی امیہ نے اسلام کو پھنسا دیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے آپ آج معاشرے کو مغربی اثرورسوخ سے نجات دینے کے خواہاں ہیں اور اس کا راہ حل تلاش کر رہے ہیں۔ حبیب ابن مظاہر بخوبی اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ اگر اسلام غدیر کے زیر سایہ اموی جاہلیت سے باہر نکل آیا تو معنویت کے آسمان سے آنے والی تجلیات کے ذریعے اس کی تمامتر صلاحیتیں کھل کر سامنے آ جائیں گی اور انسان اسلام کی برکت سے دنیوی زندگی کا معنی و مفہوم درک کر سکیں گے۔ لہذا جب حضرت مسلم ابن عقیل کوفہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے مختار ثقفی کے گھر سکونت اختیار کی اور متعدد افراد نے ان کی حمایت میں تقریر کی۔

ان افراد میں سے ایک عابس ابن ابی شبیب شاکری تھے جو اٹھے اور خداوند متعال کی حمد و ثنا کے بعد کہا:
"میں آپ سے لوگوں کی بات نہیں کرنا چاہتا اور مجھے نہیں معلوم ان کے دل میں کیا ہے، میں لوگوں کے بارے میں آپ کو فریب نہیں دینا چاہتا، خدا کی قسم میں جو کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ ایسی چیز ہے جس کا عہد میں خود سے کر چکا ہوں۔ خدا کی قسم اگر آپ مجھے دعوت دیں گے تو میں آپ کی آواز پر لبیک کہوں گا اور آپ کے شانہ بشانہ دشمن سے جنگ کروں گا، آپ کی رکاب میں تلوار چلاوں گا یہاں تک کہ لقاء اللہ کی منزل پر فائز ہو جاوں اور اس کام میں خدا کے علاوہ مجھے کچھ نہیں چاہئے۔"
حبیب ابن مظاہر بھی کھڑے ہوئے اور فرمایا:
"خدا تم پر رحمت کرے، مختصر انداز میں جو کچھ تمہارے دل میں تھا بیان کر دیا۔ اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے بھی خود سے یہی عہد کر رکھا ہے۔" (ابو مخنف کوفی، لوط بن یحیی، وقعۃ الطف، صفحہ 100)۔

حبیب ابن مظاہر اور مسلم بن عوسجہ دو ایسے فعال ترین افراد تھے جو خفیہ طور پر اور حکومتی جاسوسوں سے چھپ کر لوگوں سے حضرت مسلم بن عقیل کے حق میں بیعت لیتے تھے۔ انہوں نے خود کو مکمل طور پر ایسی تحریک کیلئے وقف کر رکھا تھا جو امام حسین علیہ السلام کی سربراہی میں شروع ہونا تھی۔ جب کوفہ کا نیا حکم، ابن زیاد اس شہر میں آیا اور اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا تو لوگوں سے بیعت لینے کا کام مزید خفیہ کر دیا گیا اور حالات بہت زیادہ مشکل ہو گئے لیکن اس کے باوجود حبیب ابن مظاہر بدستور حضرت مسلم بن عقیل کی تحریک کا حصہ رہے۔ آخرکار حالات نے رخ بدلا اور سب حضرت مسلم بن عقیل کو چھوڑ گئے۔ ایسے حالات میں بھی حبیب ابن مظاہر اور مسلم ابن عوسجہ کے قبیلوں نے ان دونوں کو مخفی کر دیا کیونکہ ابن زیاد حسینی تحریک کے موثر افراد کی جاسوسی کر کے انہیں گرفتار یا پھر شہید کر دیتا تھا۔

حبیب ابن مظاہر اور مسلم ابن عوسجہ کو خبر ملی کہ امام حسین علیہ السلام کا قافلہ کوفہ کے قریب آ چکا ہے لہذا ان دونوں نے خود کو اس قافلے تک پہنچانے کا عزم کر لیا۔ دوسری طرف ابن زیادہ کے ہرکاروں نے کوفہ سے افراد کے خارج ہو کر امام حسین علیہ السلام کے قافلے سے ملنے کو روکنے کیلئے شدید اقدامات انجام دے رکھے تھے۔ انہوں نے کوفہ سے باہر جانے والے تمام راستوں پر سخت پہرہ لگا رکھا تھا۔ لیکن یہ دو بوڑھے افراد رات کے وقت سفر کرتے تھے اور دن کو مخفی ہو جاتے تھے۔ آخرکار وہ سات محرم کے دن امام حسین علیہ السلام سے جا ملے۔

حبیب ابن مظاہر اپنے شعور اور بصیرت کے ناطے اور بخوبی اس حقیقت سے مطلع ہونے کے باعث کہ عالم اسلام کی نئی تاریخ رقم ہونے والی ہے اس بات کے خواہاں تھے کہ جلد از جلد امام حسین علیہ السلام کو تاریخی فتح نصیب ہو۔ جب وہ امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے تو دیکھا کہ ان کے حامیوں کی تعداد بہت کم جبکہ دشمنوں کی تعداد بے شمار ہے۔ لہذا امام علیہ السلام سے عرض کیا: قریب ہی بنی اسد قبیلہ آباد ہے، اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کے پاس جاوں اور انہیں آپ کی مدد اور نصرت کرنے کی ترغیب دلاوں، شاید خداوند متعال انہیں ہدایت دے اور وہ آپ کے دفاع کیلئے تیار ہو جائیں۔

امام حسین علیہ السلام نے انہیں اس کام کی اجازت دے دی۔ حبیب ابن مظاہر تیزی سے بنی اسد قبیلے تک پہنچے اور انہیں اکٹھا کیا۔ ابتدائی نصیحت اور وعظ کے بعد فرمایا: "میں اس لئے یہاں آیا ہوں کہ آپ سے امام حسین علیہ السلام کے دفاع کیلئے مدد طلب کروں۔" ان میں سے ایک شخص جس کا نام عبداللہ بن بشیر تھا کھڑا ہوا اور کہنے لگا: "اے حبیب، خدا آپ کو اس کوشش کا اجر عطا فرمائے۔ آپ نے ہمیں ایسی عزت اور افتخار عطا کیا ہے جو ایک انسان اپنے عزیز ترین افراد کو دیتا ہے۔ میں پہلا شخص ہوں جو آپ کی دعوت پر لبیک کہتا ہوں۔" اسی طرح باقی افراد بھی اٹھے اور امام حسین علیہ السلام کی مدد کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ ان افراد کی تعداد 70 یا 90 تھی اور انہوں نے کربلا جانے کا عزم کر لیا۔

بدقسمتی سے ان میں عمر سعد کا جاسوس بھی موجود تھا جس نے فوری طور پر یہ خبر عمر سعد کو پہنچا دی۔ عمر سعد نے اپنے بے رحم کمانڈر ارزق کو پانچ سو سپاہیوں کے ہمراہ فوراً بنی اسد قبیلے کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ کمانڈر اسی رات وہاں پہنچ گیا اور ان افراد کو کربلا جانے سے روک دیا گیا۔ جب ان افراد نے دیکھا کہ ان کی تعداد دشمن کے مقابلے میں بہت کم ہے تو رات کی تاریکی میں بھاگ کر اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔ حبیب ابن مظاہر امام حسین علیہ السلام کے پاس واپس آ گئے اور تمام واقعہ انہیں بیان کیا۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:
وَ ماتَشاؤُون اِلاّ اَنْ يَشاءَ الله، وَ لاحَول ولا قوَة إلاّ بالله
ترجمہ: "وہ کسی چیز کا ارادہ نہیں کرتے مگر یہ کہ خدا اس کا ارادہ کرے، خدا کے علاوہ کوئی طاقت نہیں۔"

حبیب ابن مظاہر نے تاسوعا (9 محرم) کی سہ پہر امام حسین علیہ السلام سے جنگ شروع کرنے کے ارادے سے آنے والے عمر سعد کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"خدا کی قسم، کتنے برے ہیں وہ افراد جو کل قیامت کے دن خدا سے ایسی حالت میں ملاقات کریں گے کہ ان کے ہاتھ رسول خدا (ص) کی اولاد کے خون سے رنگین ہوں گے اور انہوں نے عبادت گزار، راتوں کو بیدار رہنے والے، نماز شب ادا کرنے والے اور خدا کا ذکر کہنے والے بندگان خدا کو قتل کیا ہو گا۔"
امکان تھا حبیب ابن مظاہر کے یہ الفاظ ان کے ضمیر بیدار ہونے کا باعث بنیں لیکن انہیں یہ باتیں اچھی نہیں لگیں اور حبیب ابن مظاہر کی بات کاٹ کر کہنے لگے: "بس کرو حبیب، تم نے جہاں تک ممکن تھا اپنی تعریف میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔"

شب عاشورا کی رات ہر شخص اپنی زندگی کا آخری معنوی زاد راہ جمع کرنے میں مصروف تھا۔ حسین ابن علی علیہ السلام جو جانتے تھے کل کیا عظیم کارنامہ انجام پانے والا ہے اپنے خیمے سے باہر نکلے تاکہ کھودی گئی خندقوں اور خیموں کے پچھلے حصوں کا جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ "نافع" (امام حسین علیہ السلام کے ایک صحابی) بھی ان کے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا: کون ہے؟ نافع ہے؟ نافع ابن ہلال نے جواب دیا: جی میری جان آپ پر فدا ہو میں ہوں۔ امام علیہ السلام نے پوچھا: اتنی رات گئے کیوں باہر گھوم رہے ہو؟ نافع نے جواب دیا: میرے آقا، اتنی رات گئے آپ کی جانب سے اس مجرم بدمعاش (ابن سعد) کی طرف جانے سے میں پریشان ہو گیا ہوں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: میں اس لئے باہر آیا ہوں تاکہ اردگرد کی اونچی اور نیچی جگہوں کا جائزہ لوں، کہیں دشمن خیموں کے پیچھے سے گھات لگا کر حملہ ور نہ ہو جائے۔ امام حسین علیہ السلام نے نافع کا بایاں ہاتھ تھام رکھا تھا اور خیموں کی جانب واپس آتے ہوئے ایک جگہ پہنچ کر اچانک فرمایا: یہی جگہ ہے، یہی جگہ ہے، خدا کی قسم ایسا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا، (اس جگہ اپنی شہادت کی جانب اشارہ کیا) اور فرمایا: اے نافع، اس پہاڑ کے درمیان سے راستہ ڈھونڈ کر فرار ہو جاو۔ نافع نے عرض کی: میرے آقا، اگر ایسا کروں تو میری ماں میرے غم میں روئے، خدا کی قسم ہر گز آپ سے جدا نہیں ہوں گا حتی میری شہ رگ کاٹ دی جائے۔

امام حسین علیہ السلام اپنی ہمشیرہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خیمے میں گئے۔ نافع باہر کھڑا تھا اور امام علیہ السلام کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ حضرت زینب (س) آگاہ تھیں کہ ہر چیز کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ امام حسین علیہ السلام سے فرمانے لگیں: کیا آپ اپنے ساتھیوں پر پورا یقین اور اطمینان رکھتے ہیں؟ کہیں وہ جنگ کے عروج کے وقت آپ کو تنہا تو نہیں چھوڑ جائیں گے؟ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: جی بہن، میں انہیں پوری طرح آزما چکا ہوں، وہ تمام افراد ایسے شجاع انسان ہیں جو اس طرح شہادت کے عاشق ہیں جس طرح بچہ اپنی ماں کے دودھ کا عاشق ہوتا ہے۔

نافع نے یہ گفتگو سن لی لہذا تیزی سے حبیب ابن مظاہر کے پاس آیا اور ساری گفتگو اسے بیان کی۔ حبیب ابن مظاہر کہنے لگے: خدا کی قسم اگر امام علیہ السلام کی توقع کے خلاف نہ ہوتا تو ابھی دشمن پر حملہ ور ہو کر مرتے دم تک لڑتا رہتا۔ نافع نے کہا: برادر، رسول خدا (ص) کی بیٹیاں پریشان ہیں، آو باقی اصحاب کے ساتھ ان کے پاس جائیں اور انہیں تسلی دیں تاکہ وہ بھی مطمئن ہو جائیں اور خوف سے باہر آ جائیں۔

حبیب ابن مظاہر نے اس مقدس رات تمام مجاہدین کو آواز لگائی اور کہا: خدا اور رسول خدا (ص) کے ناصر کہاں ہیں؟ فاطمہ (س) اور اسلام کے مددگار اور اصحاب حسین (ع) کہاں ہیں؟ تمام اصحاب شیروں کی مانند خیموں سے باہر نکلے۔ ان میں حضرت عباس علمدار بھی شامل تھے۔ حبیب ابن مظاہر کی درخواست پر حضرت عباس اور بنی ہاشم کے دیگر جوان اپنے خیموں میں واپس لوٹ گئے۔ صرف حبیب ابن مظاہر اور باقی اصحاب رہ گئے۔ حبیب ابن مظاہر نے ان شجاع اور غیرت مند اصحاب کو اس گفتگو سے آگاہ کیا جو نافع سن چکا تھا تاکہ دیکھ سکے وہ کس حد تک تیار ہیں۔ اصحاب نے اپنی تلواریں نیام سے باہر نکالیں اور کہنے لگے: حبیب، خدا کی قسم اگر دشمن ہماری طرف حملہ ور ہوا تو ہم ان کی کھوپڑیاں اڑا دیں گے اور انہیں اپنے آباء و اجداد کے پاس بھیج دیں گے اور رسول خدا (ص) کے خاندان کی حفاظت کریں گے۔ حبیب ابن مظاہر نے کہا: پس آئیں سب مل کر حرم اہلبیت (س) کے پاس جاتے ہیں اور ان کا خوف زائل کرتے ہیں۔

سب اہلبیت علیہم السلام کے خیموں کے قریب جا کر اکٹھے ہوئے۔ حبیب ابن مظاہر نے کہا: ہمارے سروران گرامی آپ پر سلام ہو۔ یہ آپ کے جوانوں کی تلواریں ہیں۔ ان جوانوں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک آپ کے دشمنوں کا قلع قمع نہیں ہو جاتا انہیں نیام میں نہیں ڈالیں گے۔ اور یہ آپ کے غلاموں کے نیزے ہیں اور انہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک آپ کے دشمنوں کا تہس نہس نہیں ہو جاتا انہیں زمین پر نہ رکھیں۔ ذرا سوچیں حبیب ابن مظاہر کیسے اس حقیقت سے باخبر ہو گئے تھے کہ امام حسین علیہ السلام یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ عزیزوں، اصحاب اور اپنے خون کے آخری قطرے تک دشمن کا مقابلہ کریں گے اور دشمن کے ہاتھوں اسیر نہیں ہوں گے تاکہ اپنی تحریک کے مطلوبہ اہداف حاصل کر سکیں؟
اس لمحے امام حسین علیہ السلام خیمے سے باہر تشریف لائے اور اس قدر ایثار اور قربانی کے جذبے کی قدردانی کرتے ہوئے فرمایا: "اے میرے اصحاب، انشاء اللہ خداوند متعال اہلبیت رسول خدا (ص) کی جانب سے آپ سب کو بہترین اجر عطا فرمائے۔"

ایک رات اور اس قدر اقدار سے مالا مال، ایک رات اور اس قدر گراں بہا، افسوس ہے اس پر جو اپنی زندگی میں آنے والے شب ہای قدر کی قدروقیمت درک نہیں کرتا۔ امام حسین علیہ السلام کے ساتھی کتنی اچھی طرح شب عاشورا کی قدروقیمت سے واقف تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو حبیب ابن مظاہر کیسے دلوں میں جگہ بنا لیتے؟ ہم اگر کربلا والوں کے اس آسمانی شعور سے غفلت کا مظاہرہ کریں تو ہر گز ہماری روح اور جان کربلا کے راز سے آگاہ نہیں ہو سکے گی۔

سیر و سلوک الی اللہ پر قدم رکھنے والا سالک اپنی راہ اور ہدف پر خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ شہادت سے خوشی محسوس کرنا ایسے انسانوں سے مخصوص ہے جو عین الیقین اور حق الیقین کی منزل پر فائز ہو چکے ہوتے ہیں اور اپنے تمام وجود سے ارادہ الہی کو محسوس کرتے ہیں۔ حبیب ابن مظاہر بھی ایسے ہی انسان تھے۔ جب امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کو معلوم ہوا کہ وہ اپنے عظیم امام اور نواسہ رسول (ص) کے ہمراہ خدا کے راستے میں شہید ہو جائیں گے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور ایکدوسرے سے ہنسی مزاق کرنے لگے۔ حبیب ابن مظاہر انتہائی خوش اور ہنستے ہنستے اصحاب کے پاس گئے۔ ان میں سے ایک جس کا نام یزید بن حصین تمیمی تھا حبیب سے کہنے لگے: "اس سے زیادہ خوشی کا اور موقع کیا ہو گا؟ خدا کی قسم، اب زیادہ دیر نہیں کہ یہ ظالم اپنی تلواروں سے ہم پر ٹوٹ پڑیں اور ہمیں جنت اور حور العین کے پاس پہنچا دیں۔" (رجال کشی، صفحہ 53؛ حیاۃ الامام الحسین علیہ السلام، جلد 3، صفحہ 175)۔

وہ مسلمانی کا مطلب صحیح طور پر جان چکے تھے چونکہ اپنے امام کے زیر سایہ عالم وجود کے مرکز میں قرار پا چکے تھے، اسی جگہ جس سے ماوراء کوئی اور جگہ نہیں۔ ایک اور صحابی جو بہت زیادہ خوشی کا اظہار اور ہنسی مذاق کر رہا تھا جب اس سے تعجب کے انداز میں پوچھا گیا کہ یہ تو بیہودہ کام انجام دینے کا وقت نہیں ہے؟ تو اس نے جواب دیا: "میرے عزیز اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں نہ تو جوانی میں اور نہ ہی بڑھاپے میں بیہودہ کام انجام نہیں دیتا تھا۔ لیکن میں جہاں جانے والا ہوں اس سے بہت خوش ہوں۔ جنت سے ہمارا فاصلہ صرف ان ظالموں کا تلواروں کے ذریعے ہم پر حملہ ور ہونے تک ہی ہے۔" (حیاۃ الامام الحسین علیہ السلام، جلد 3، صفحہ 176)۔ کتنی اچھی بات ہے کہ وہ اپنے مقصد تک پہنچنے کا راستہ پا چکے تھے۔ وہ انسان جو اس دنیا میں امام معصوم علیہ السلام کی جانب متوجہ رہتے ہیں انہیں ایسے اجر دیا جاتا ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 682210
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب