0
Friday 10 Nov 2017 13:36
چہلم سید الشہداء علیہ السلام کی مناسبت سے

کربلا، حقیقی اور جعلی اسلام میں ٹکراو کا اہم موڑ (حصہ دوم)

کربلا، حقیقی اور جعلی اسلام میں ٹکراو کا اہم موڑ (حصہ دوم)
تحریر: اصغر طاہر زادہ

گذشتہ سے پیوستہ
عاشورا کے روز، نماز فجر کے بعد امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں جان قربان کرنے کا جذبہ بہت زیادہ نظر آ رہا تھا۔ امام علیہ السلام نے اپنے سپاہیوں کو فوجی انتظام بخشا۔ حبیب ابن مظاہر کو میسرہ کا کمانڈر جبکہ زہیر کو میمنہ کا کمانڈر بنایا۔ اگرچہ امام حسین علیہ السلام کی فوج بہت کم تھی لیکن ایمان اور شجاعت سے مالا مال تھی۔ حبیب ابن مظاہر امام علیہ السلام کے سب سے زیادہ جلیل القدر صحابی تھے۔ جنگ کے دوران جب بھی کسی سپاہی نے ان سے مدد مانگی وہ فوراً اس کی مدد کو پہنچے۔ جنگ کے دوران ایک بار زیاد کا غلام سالم اور عبیداللہ کا غلام یسار میدان میں آئے اور انہوں نے "ھل من مبارز" کی آواز لگائی۔ یسار نے کہا کہ وہ صرف حبیب یا زہیر یا بریر سے مقابلہ کرے گا۔ حبیب اور بریر تیزی سے جانے لگے لیکن امام حسین علیہ السلام نے انہیں اجازت نہ دی اور عبداللہ بن عمیر کو میدان جنگ بھیجا۔ عبداللہ نے دونوں کو واصل جہنم کر دیا۔

روز عاشورا کی دوپہر امام حسین علیہ السلام نے نماز ظہر کی ادائیگی کیلئے دشمن سے مہلت مانگی۔ یزید کے لشکر میں شامل ایک انتہائی خبیث سپاہی حصین بن تمیم نے آواز لگائی: "حسین (ع)، (نعوذ باللہ) تیری نماز تو قبول نہیں ہو گی۔" حبیب ابن مظاہر نے جب یہ سنا تو شدید غصے میں آ گئے اور جواب دیا: "تم گمان کرتے ہو کہ رسول خدا (ص) کے خاندان کی نماز قبول نہیں ہو گی لیکن تمہاری نماز قبول ہو گی؟ او گدھے۔" اس کے بعد دونوں آپس میں لڑ پڑے۔ حبیب نے تمیم کے گھوڑے کے سر پر تلوار کا وار کیا جس کے نتیجے میں وہ گر گیا اور تمیم بھی زمین پر آ گرا۔ فوراً ہی تمیم کے ساتھی پہنچ گئے اور اسے بچا کر لے گئے۔ حبیب ابن مظاہر نے انہیں مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا: "اے نام اور سپاہیوں کے اعتبار سے بدترین قوم، میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر ہماری تعداد تمہارے جتنی ہوتی تو تم ہماری تلواروں کے خوف سے بھاگ کھڑے ہوتے اور میدان ترک کر دیتے۔"

حبیب ابن مظاہر اگرچہ عمر رسیدہ اور بوڑھے مجاہد تھے لیکن ان کی رگوں میں دوڑتا خون اب بھی جوان تھا۔ انہوں نے ننگی تلوار سے یزیدی سپاہیوں پر حملہ کیا اور اس قدر شجاعت سے جنگ کی کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ حبیب لڑتے لڑتے دشمن کی فوج کے اندر گھس گئے۔ وہ جنگ کی حالت میں یوں رجز خوانی کر رہے تھے:
"میں حبیب، مظاہر کا بیٹا ہوں اور جب جنگ کے شعلے بلند ہو جاتے ہیں میں میدان جنگ میں کود پڑتا ہوں۔ اگرچہ تم لوگوں کی تعداد اور اسلحہ ہم سے زیادہ ہے لیکن ہم تم سے زیادہ استقامت کرنے والے اور وفادار ہیں۔ ہماری حجت اور دلیل برتر ہے اور ہماری منطق زیادہ واضح اور روشن ہے، ہم تم سے زیادہ پرہیزگار اور مجاہد ہیں۔"

حبیب ابن مظاہر زیادہ عمر ہونے کے باوجود تلوار چلا رہے تھے اور دشمنوں کو واصل جہنم کر رہے تھے۔ انہوں نے تقریباً 62 یزیدی سپاہیوں کو ہلاک کیا اور بدستور بہادری سے جنگ کر رہے تھے۔ اچانک ایک تلوار ان کے سر پر آ لگی اور ساتھ ہی ایک دوسرے ملعون نے نیزے سے ان پر حملہ کیا۔ حبیب سنبھل نہ پائے اور زمین بوس ہو گئے۔ حصین بن تمیم جو کچھ ہی دیر پہلے انتہائی خفت سے اپنی جان بچا کر میدان سے بھاگا تھا اب شیر ہو گیا اور حبیب کے سر پر وار کیا۔ حبیب ابن مظاہر کے سفید بال خون سے سرخ ہو گئے۔ انہوں نے آنکھوں سے خون ہٹانے کیلئے ہاتھ اوپر اٹھائے ہی تھے کہ سینے پر نیزہ لگا اور دوبارہ زمین بوس ہو گئے۔
بدیل بن صریم جس نے حبیب ابن مظاہر کے سر پر پہلا وار کیا تھا گھوڑے سے نیچے اترا اور انتہائی تیزی سے ان کا سر بدن سے جدا کر ڈالا۔ حبیب ابن مظاہر کی شہادت نے امام حسین علیہ السلام کو بہت متاثر کیا اور آپ فرمانے لگے: "میں خدا سے اپنی اور اپنے ساتھیوں کے نیک اجر کا متمنی ہوں۔"

معاویہ کی موت کے بعد حبیب ابن مظاہر نے امام حسین علیہ السلام تک پہنچنے کی کوشش کی۔ وہ معاویہ کی موت کے بعد رونما ہونے والے حالات کے پیش نظر یہ امید رکھتے تھے کہ امام حسین علیہ السلام کو حکومت دلوا کر اسلام کو نجات دی جا سکتی ہے اور ماضی میں انجام پانے والے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ لہذا انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی فتح کیلئے بہت کوششیں کیں لیکن آنے والے واقعات سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ امام حسین علیہ السلام کی تحریک کی دوسری سطح بھی ہے اور اب بھی ان کا ساتھ دے کر اسلام کو بند گلی سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو درک کر چکے تھے کہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے نتیجے میں اسلامی تہذیب و تمدن کی تشکیل کیلئے ایک نئی طاقت ابھر کر سامنے آئے گی جو تشیع کہلائے گی۔ لہذا حبیب ابن مظاہر نے اپنے ذمے فرائض کو احسن طریقے سے انجام دینے کی بھرپور کوشش کی۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ کہنا درست ہو گا کہ کربلا کو مسلح عرفاء نے معرض وجود میں لایا۔ ایسے عرفاء جنہوں نے اپنے زمانے میں تمدن ساز اسلام کے ظہور کی سنگین ذمہ داری اٹھائی اور وہ مستقبل میں اس امر کے تحقق پر پورا یقین رکھتے تھے۔ اگر امام حسین علیہ السلام مزاحمتی بلاک کی فتح کو دیکھ نہ رہے ہوتے تو وہ کربلا میں اس قدر کامیابی کا احساس نہ کرتے اور ان کے اصحاب بھی اس عظیم مشن کی جانب متوجہ تھے۔

کربلا کے دو محاذوں میں موجود افراد نے اپنی مختلف شخصیت کا اظہار کیا ہے تاکہ تاریخ میں ان دونوں محاذوں کا معنی و مفہوم واضح ہو جائے۔ لہذا ایک طرف شمر جیسا شخص موجود ہے جو روز عاشور کی صبح امام حسین علیہ السلام کے وعظ و نصیحت کے بعد یہ کہتا نظر آتا ہے کہ "پس ذی الجوشن اگر سمجھ لے کہ تو کیا کہہ رہا ہے تو خدا پرستی سے دور ہے۔" جبکہ دوسری طرف حبیب ابن مظاہر جیسی شخصیت دکھائی دیتی ہے جو مقدس انسانوں کی پہچان اور تاریخی حالات کی سمجھ بوجھ میں اس حد تک آگے جا چکا ہے کہ کہتا ہے: "اگر حسین (ع) شہید ہو جائیں اور ہم ہنوز زندہ ہوں تو کل رسول خدا (ص) کے سامنے ہمارا کوئی عذر نہیں ہو گا۔"

حبیب ابن مظاہر ایسے محاذ میں شامل ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ مزاحمت اور شہادت کو علوی اسلامی تاریخ کے تسلسل کی پرتو میں معنی کرنے کی ضرورت ہے۔ شہادت ایک واضح اور بامقصد موت ہے نہ کہ مبہم اور بے مقصد زندگی کا تسلسل۔ کربلا کے ذریعے تاریخ میں عظیم انسانوں کی شہادت معنی خیز ہوئی ہے۔ امام حسین علیہ السلام کے بقول حبیب ابن مظاہر " تختم القرآن فی لیلة واحد" یعنی ہر رات قرآن کریم کا ختم کرتے تھے ۔ اگر وہ ان راتوں کو روحانی ترقی حاصل نہ کر پاتے تو کربلا میں بھی اس قدر عروج نہ کرتے اور شہادت کو معنی عطا نہ کر پاتے۔ اس میں کیا راز ہے اور حبیب ابن مظاہر نے اپنا تاریخی کردار کس طرح سے ادا کیا ہے کہ دشمن جب انہیں شہید کر دیتے ہیں تو بہت زیادہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے کٹے ہوئے سر کو اپنے لئے کامیابی اور سربلندی کا باعث قرار دیتے ہیں؟ (بدیل ابن صریم تمیمی حبیب ابن مظاہر کا سر تن سے جدا کرتا ہے لیکن حصین ابن تمیم جس نے اس کی مدد کی تھی اس سے درخواست کرتا ہے کہ سر اسے دے دے تاکہ وہ اسے اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکا کر میدان کا ایک چکر کاٹ سکے اور پھر اسے واپس کر دے۔ کافی اصرار کے بعد اور دو قبیلوں کی ثالثی کے بعد اس کی یہ درخواست مان لی جاتی ہے)۔

حبیب ابن مظاہر کی نگاہ سے کربلا کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کربلا کو صرف امام حسین علیہ السلام کی سربراہی میں غیب سے آگاہ فداکار انسان ہی معرض وجود میں لا سکتے تھے۔ صرف مستقبل کے حالات سے آگاہ افراد ہی یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ لوہے، نیزوں اور تلواروں کے پہاڑ سے مرعوب نہ ہوں اور اسلام دشمن عناصر کی ظاہری طاقت میں کفر پر مبنی تہذیب و تمدن کے کھوکھلے پن کو درک کر سکیں۔ اس رات بھر قرآن کریم کی تلاوت اور سچے دل سے غور و فکر کا نتیجہ امام حسین علیہ السلام کی نصرت اور مدد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایسا امام جس نے اسلام کے چہرے سے کفر کا گرد و غبار پاک کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

علی علیہ السلام کی محبت اور اطاعت کے ذیل میں روحانی تربیت حبیب ابن مظاہر کو ایسا سالک الی اللہ بنا دیتی ہے جو اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ خدا کا قرب پانے کیلئے ارادہ الہی سے قرب پانا ضروری ہے، کیونکہ خداوند متعال کی ذات اور صفات میں اتحاد اور وحدت پائی جاتی ہے لہذا خدا کی صفات اس کی ذات سے الگ نہیں۔ یوں حبیب ابن مظاہر خود کو ایسی جگہ قرار دیتے ہیں جہاں ارادہ الہی متجلی ہے اور وہ جگہ درحقیقت امام حسین علیہ السلام کی شروع کردہ تحریک تھی لہذا یہ وہ راستہ تھا جو انسان کو براہ راست خدا تک پہنچاتا تھا۔

جب انسان ایسے امر کا انتخاب کرتا ہے جس کا ارادہ خداوند متعال نے کیا ہے تو آہستہ آہستہ اس کے قلب میں حضور خداوند کا نور متجلی ہونے لگتا ہے۔ اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان خدا کے راستے میں فداکاری اور قربانی دینا شروع کر دے۔ حبیب ابن مظاہر نے نوجوانی میں ہی رسول خدا (ص) کی صحبت میں اس راستے کو پا لیا تھا اور بڑھاپے تک اسی راستے پر قائم رہے۔ وہ جب بھی اپنے سامنے ارادہ الہی کا مشاہدہ کرتے فوراً اس کی پیروی کرتے۔ حبیب ابن مظاہر ایسے انسانوں میں سے نہ تھے جو معاشرے سے کٹ کر گوشہ نشینی کی حالت میں خدا کی تلاش کرتے ہیں بلکہ وہ خدا کو اپنے ارادے کی قربانی دے کر خدا کے ارادے کا انتخاب کرنے میں جستجو کرتے تھے اور ایسی زندگی کا لازمہ خود پرستی سے عبور اور اپنے خود پسندانہ مفادات کو نظرانداز کرنا ہے۔

ایسے افراد جو ڈینگیں مارتے ہیں کہ اگر ہم کربلا میں ہوتے تو ایسا کر دیتے اور ویسا کر دیتے، کو جان لینا چاہئے کہ آج کربلا میں ہونے کا مطلب عالمی سامراج سے مقابلہ ہے اور اس طرح وہ ارادہ الہی سے نزدیک ہو کر قرب الہی کی منزل پر فائز ہو سکتے ہیں۔ اگر انسان فداکاری کے راستے کو پہچان جائے اور خدا کے ارادے کے مقابلے میں اپنے ارادے سے چشم پوشی کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کس زمانے میں زندگی گزار رہا ہے؟ ہر جگہ اس کیلئے خدا کی جانب رجوع کا مقام قرار پا سکتی ہے۔ خدا کے راستے کا راہی وہ ہے جو حبیب ابن مظاہر کی طرح دل میں یہ پکا ارادہ کر چکا ہو کہ ہمیشہ خدا کے ارادے کا احترام کرے گا۔ اس امر کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ اپنے زمانے کے حسین (ع) کا یاور و ناصر قرار پائے گا۔ یہ وہ سبق ہے جو ہم خداوند متعال کی ذات اور صفات میں وحدت کی پرتو میں حبیب ابن مظاہر سے حاصل کر سکتے ہیں۔

اگر ہم کربلا میں امام حسین علیہ السلام سے دشمنی اور مخالفت کے حقیقی محرکات سے آگاہ نہیں ہوں گے تو اہلسنت کے محقق حضرات کی طرح ابہام اور سرگردانی کا شکار رہیں گے۔ شیعہ اس وجہ سے امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے تمام اقدامات کی حقیقی وجوہات درک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ مدمقابل محاذ کی کئی پہلووں پر مشتمل جہالتوں کی وسعتوں سے بھی آگاہ ہے۔ اسی آگاہی کی روشنی میں شیعہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ کس طرح بعض عناصر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے حقیقی ہدف یعنی اسلامی معاشرے اور مذہب کی حاکمیت اور اسلامی تمدن کا قیام سے چشم پوشی اختیار کر لیتے ہیں اور اسلام کو فردی دین کے طور پر متعارف کرواتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امام الموحدین علیہ السلام سیاست کے پیشوا نہیں بلکہ ہدایت کے پیشوا ہیں۔ قرآن کریم ان کے بارے میں فرماتا ہے:
فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنْهُمْ قَوْلاً غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاء بِمَا كَانُواْ يَظْلِمُونَ (سورہ اعراف، آیت 162)۔
ترجمہ: "ان میں سے ظالم افراد نے وہ بات بدل دی جو ان سے کہی گئی تھے لہذا ہم نے ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر آسمان سے عذاب نازل کیا۔"


وہ انسان جو ظالمانہ طرز زندگی اپنائے ہوئے ہیں خدا کی بات کو ایسے راستے پر لگا دیتے ہیں جو خدا کی جانب سے مشخص کردہ راستے سے مختلف ہوتا ہے۔ ان کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ اولیاء الہی کی نظر میں حکومت کی کوئی حیثیت نہیں لہذا نہ تو واقعہ غدیر کا مقصد امام علی علیہ السلام کی سیاسی حاکمیت بیان کرنا تھا اور نہ ہی امام حسین علیہ السلام کا مقصد یزید کے مقابلے میں اسلامی حکومت کا قیام تھا، اور مسلمانوں کو بھی اسلام کے حکومتی اور سیاسی پہلووں کا قائل نہیں ہونا چاہئے۔ یہ افراد چاہتے ہیں کہ ہماری توجہ کا مرکز صرف اور صرف مغربی تہذیب و تمدن بنی رہے اور ہم سیاسی، اقتصادی اور تربیتی امور میں مغرب کی سرپرستی قبول کر لیں۔ یہ افراد اس حقیقت سے غافل ہیں کہ اسلام اور مغرب میں تہذیبی ٹکراو ایک بنیادی ٹکراو ہے۔ جب تک ہم اسلامی تہذیب و تمدن کو اپنی توجہ کا مرکز نہیں بنائیں گے مغربی تہذیب و تمدن سے مقابلے کا راستہ بھی واضح نہیں ہو سکے گااور ہمیشہ مغربی تہذیب کی جانب سے ہماری تحقیر کی جاتی رہے گی۔ ایسی صورت میں ہم ہمیشہ مغربی تہذیب و تمدن کے پیرو رہیں گے اور اپنی مسلمانی سے بھی بہرہ مند نہیں ہو پائیں گے۔

امام حسین علیہ السلام نے ہمیں اس حقیقت سے آشنا کروایا کہ اسلام سے بہرہ مند ہونے کیلئے آل ابوسفیان کی جہالت پر مبنی تہذیب سے عبور کرنا پڑے گا ورنہ ہم ایسے اسلام کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے جو ہمارا مقدر تبدیل کرنے پر قادر نہ ہو گا۔ کربلا کا یہ پیغام ہے کہ:
"آخری راہ حل مغرب کی ہمراہی نہیں بلکہ مغرب کے مقابلے میں نئی تہذیب تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ جس طرح امام حسین علیہ السلام نے اسلام کو ابوسفیان کی اموی تہذیب کے چنگل سے آزاد کروایا، اسی طرح آج کربلا کی مدد سے مغربی تہذیب و تمدن کے چنگل سے آزاد ہوا جا سکتا ہے۔ اس کی بنیادی شرط حبیب ابن مظاہر کی بصیرت اور جذبہ اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔"
خبر کا کوڈ : 682465
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب