0
Monday 13 Nov 2017 21:07

سعد حریری کا استعفی، ریاض پر میزائل حملہ اور ایک اہم سوال

سعد حریری کا استعفی، ریاض پر میزائل حملہ اور ایک اہم سوال
تحریر: جعفر بلوری

لبنان کے وزیراعظم سعد حریری کا مشکوک انداز میں استعفی دینا، انصاراللہ یمن کا ریاض میں واقع ملک خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو میزائل حملے کا نشانہ بنانا اور سعودی عرب کے ولیعہد، وزیر دفاع اور آل ان آل شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے رقیب شہزادوں کا تہس نہس بہت حد تک ایکدوسرے سے مربوط ہونے کے ساتھ ساتھ ایران اور خطے کے انتہائی تیزی سے بدلتے حالات اور تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خاتمے سے بھی تعلق رکھتے ہیں، مگر کیسے؟

لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے انتہائی غیر متوقع انداز میں سعودی عرب سے ایران اور حزب اللہ لبنان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے استعفی کا اعلان کیا۔ سعد حریری کی جانب سے پڑھے جانے والے استعفی کا لب لباب یہ تھا کہ ایران اپنے اتحادی سید حسن نصراللہ کے ذریعے لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ ان کے اس اقدام کا مقصد ایران اور حزب اللہ لبنان پر سیاسی دباو ڈالنا تھا جس کا اسرائیلی حکام نے فوری طور پر استقبال کیا۔ یہ سیاسی دباو امریکہ کی جانب سے ایران اور حزب اللہ لبنان کے خلاف عائد ہونے والی اقتصادی پابندیوں کے کچھ عرصے بعد ڈالا جا رہا ہے اور اس تمام کہانی کا اصلی نکتہ بھی یہی ہے۔

متعدد رپورٹس اور اعترافی بیانات کی روشنی میں واضح ہو چکا ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ اور عراق اور شام میں خانہ جنگی آل سعود، امریکہ، قطر اور چند دیگر مغربی و عرب ممالک کی کارستانی تھی جس کا مقصد ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنا اور اسرائیل کیلئے سیف زون کا قیام تھا۔ اس بارے میں تفصیلات بیان کرنا نہیں چاہتے اور صرف اس حد تک اشارہ کریں گے کہ حمد بن جاسم آل ثانی نے دو بار اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ان سمیت عرب ممالک کے دیگر حکمرانوں نے تکفیری دہشت گرد عناصر کو منظم کیا ہے اور آپس میں ایک ٹیم ورک کے ذریعے شام میں صدر بشار اسد کی حکومت سرنگون کرنے کیلئے انہیں میدان میں اتارا تھا۔ انہوں نے اپنے اعترافی بیان میں "تکفیری دہشت گرد" کی بجائے "مسلح شدت پسند" کا لفظ استعمال کیا۔ ان کے اعترافات انتہائی اہم اور سنسنی خیز ہیں۔

حزب اللہ لبنان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے داعش نامی تکفیری دہشت گرد گروہ ختم کر کے خطے میں سب سے بڑی عبری – عربی – مغربی سازش ناکام بنائی ہے اور اس طرح اسرائیل کو سیف زون قائم نہیں کرنے دیا۔ اس تناظر میں داعش کے قاتلین کے خلاف حامیوں کی عقدہ گشائی قابل فہم ہے۔ ایران اور حزب اللہ لبنان کے خلاف حالیہ پابندیاں بھی اسی عقدہ گشائی کا حصہ ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے خلاف پابندیاں کئی پہلووں سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف لگائی گئی پابندیوں "کاٹسا" سے مشابہت رکھتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل لبنان کے اسٹیٹ بینک کے سربراہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ دیگر ممالک سے تعلقات اور اقتصادی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے حزب اللہ لبنان کے خلاف عائد کی گئی امریکی پابندیوں پر توجہ دینے پر مجبور ہیں لہذا حزب اللہ لبنان سے اقتصادی تعاون انجام نہیں دے سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان امریکی پابندیوں کا مقصد حزب اللہ لبنان کو ملک کے اندر بھی پابندیوں کا شکار کرنا ہے۔

مذکورہ بالا مفروضہ درست ہونے کی صورت میں ابھی سے یہ پیشگوئی کی جا سکتی ہے کہ لبنان میں مغرب نواز سیاسی گروہوں کی جانب سے مستقبل قریب میں حزب اللہ لبنان کے خلاف سیاسی دباو میں اضافہ ہو گا۔ اسی طرح امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے حزب اللہ لبنان کے خلاف زیادہ سخت پابندیاں عائد کی جانے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد لبنانی عوام پر اقتصادی دباو بڑھا کر انہیں حزب اللہ لبنان سے متنفر کرنا اور اس کے خلاف لا کھڑا کرنا ہے جس کا نتیجہ ملک میں اختلاف اور تفرقے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ بعض ماہرین سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے حالیہ اقدامات کا مقصد خطے میں ایک نئی جنگ کے مقدمات فراہم کرنا ہے۔ ایسی جنگ جس کے ایک طرف حزب اللہ لبنان اور دوسری طرف اسرائیل اور سعودی عرب قرار پائیں گے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ واضح ہو جائے گا کہ آل سعود اور اس کے اتحادیوں کی اس فتنہ انگیزی کا مقصد جنگ شروع کرنا ہے یا لبنان میں اختلاف اور تفرقہ ڈالنا ہے یا دونوں مقاصد شامل ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان اس منظرنامے کو عملی شکل دینے کیلئے مختلف محاذوں پر سرگرم عمل ہیں۔ وہ ایک طرف ملک کے اندر ایسے شہزادوں کو دبانے میں مصروف ہیں جنہیں اپنی راہ میں رکاوٹ جانتے ہیں۔ ان کی زد میں آنے والے سعودی شہزادوں کا قصور یہ ہے کہ یا تو وہ انتہائی دولت مند ہیں، یا ان کے سیاسی مخالف ہیں اور یا خاموش ہیں اور آل سعود کی تعریف نہیں کرتے۔ گذشتہ چند دنوں میں شائع ہونے والی رپورٹس جو عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بھی بنیں، اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں "اینٹی کرپشن کمیٹی" تشکیل پانے کے صرف دو گھنٹے کے اندر اندر وسیع پیمانے پر شہزادوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ دوسری طرف بعض ایسے سعودی شہزادے پراسرار طور پر قتل کر دیئے گئے جنہوں نے پہلے ہی مارے جانے کا خوف ظاہر کر دیا تھا۔ انہیں چند روز میں سعودی شہزادوں کا حامل ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہوا جس میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے اور کئی اعلی سطحی فوجی جرنیل بھی اپنے عہدوں سے فارغ کر دیئے گئے۔

اگرچہ ممکن ہے تنقید کرنے والے، دولت مند اور خاموش شہزادوں کا صفایا فرمانروائی تک پہنچنے کے مقصد سے ہی انجام پایا ہو لیکن اب بھی بڑی تعداد میں سعودی عرب کی سیاسی شخصیات اور تاجر حضرات محمد بن سلمان کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کے شدید مخالف ہیں۔ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ان شہزادوں کا صفایا سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے برسراقتدار آنے کیلئے راستہ ہموار کرنے کیلئے انجام پایا ہے جسے واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار نے "انتہائی خطرناک اقدام" قرار دیا ہے۔ درحقیقت محمد بن سلمان کو ایران اور اس کی اتحادی قوتوں کے خلاف جو ٹاسک دیا گیا ہے اسے انجام دینے کیلئے بے پناہ اختیارات اور طاقت کی ضرورت ہے لہذا وہ ہر ایسے شخص کو اپنے راستے سے ہٹانے میں مصروف ہیں جسے اپنے اہداف میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔ دوسری طرف شہزادہ محمد بن سلمان کی ساری امیدیں نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وابستہ ہیں جن کی رضامندی حاصل کرنے کیلئے وہ اب تک 500 ارب ڈالر سے زیادہ اخراجات کر چکے ہیں۔

دوسری طرف انصاراللہ یمن کی جانب سے ریاض کے بین الاقوامی ملک خالد ایئرپورٹ کو میزائل حملے کا نشانہ بنانے سے سعودی حکام کے تمام منصوبوں پر پانی پھرتا نظر آتا ہے۔ آل سعود ایک تجارتی اور فوجی معاہدے کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ کو 500 ارب ڈالر کی رشوت دے کر اور یہ ظاہر کر کے کہ امریکہ بھی ان کے ساتھ ہے یہ تصور کر رہی تھی کہ خطے میں اپنی مہم جوئی کو جاری رکھ سکتی ہے لیکن انصاراللہ یمن کی جانب سے ٹھیک وقت پر ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنا کر آل سعود کو یہ سمجھا دیا گیا کہ آپ کے تمام اندازے غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ محمد بن سلمان سمیت دیگر سعودی حکام کو لوٹنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن وہ خود بے شمار اندرونی اور بیرونی سکیورٹی چیلنجز سے روبرو ہیں۔ لاس ویگاس میں دہشت گردانہ کاروائی اور ٹیکساس کے چرچ میں دہشت گردانہ فائرنگ ان چیلنجز کا چھوٹا سا حصہ ہیں جنہیں ٹرمپ اور اس کے بڑے بھی حل کرنے میں ناکامی کا شکار ہو چکے ہیں۔ بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے امریکی ادارے "سی ڈی سی" نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ میں اسلحہ سے ہونے والی اموات کی شرح میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال 38 ہزار سے زائد امریکی شہری فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

انصاراللہ یمن جس سے سعودی حکام گذشتہ تیس ماہ سے دست و گریباں ہیں، نے ریاض میں واقع بین الاقوامی ملک خالد ایئرپورٹ کو میزائل حملے کا نشانہ بنا کر آل سعود، ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی حکام کے جدید فوجی سازوسامان کی اکٹھی تحقیر کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس میزائل حملے کے ردعمل میں ایران کے خلاف سعد حریری کی باتوں کو انگلش میں دہرا دیا۔ امکان ہے سعودی حکام میڈیا کی توجہ ہٹانے کیلئے ہی سہی یمن کے شہری علاقوں پر ہوائی حملوں کی شدت میں اضافہ کر دیں لیکن یقیناً اس کاری ضرب کے بعد یمن کے خلاف جنگ کے بارے میں نظرثانی ضرور کریں گے اور اس حقیقت تک پہنچ جائیں گے کہ شیشے کے محل میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر نہیں برسانے چاہئیں۔

مشرق وسطی خطے میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیاں اور شیطنت آمیز اقدامات ایک اور حقیقت سے بھی پردہ اٹھاتے نظر آتے ہیں اور وہ یہ کہ آج اسلامی مزاحمت کی برکت سے خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی پوزیشن انتہائی مضبوط ہو چکی ہے جبکہ دوسری طرف ان کی حریف قوتوں کی پوزیشن اسی قدر خراب اور بحرانی ہو چکی ہے۔ آج اسلامی مزاحمتی بلاک کی دشمن حکومتیں خطے کی صورتحال اپنے حق میں تبدیل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ وہ کبھی داعش جیسا تکفیری دہشت گرد گروہ تشکیل دے کر، کبھی اقتصادی پابندیوں کا اعلان کر کے، کبھی جنگ کی دھمکیاں دے کر، کبھی خطے کے ممالک کو تقسیم کرنے کی کوششیں انجام دے کر اور کبھی مذاکرات کا لالچ دے کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ان تمام موارد میں شکست کسے ہوئی اور کامیابی کسے نصیب ہوئی؟
خبر کا کوڈ : 683165
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب