0
Tuesday 28 Nov 2017 22:04

داعش کی فکری شکست بہت ضروری ہے(1)

داعش کی فکری شکست بہت ضروری ہے(1)
تحریر: طاہر یاسین طاہر

وحشتوں کے ہر سفیر کا مقدر شکست ہے، خواہ وہ القاعدہ ہو یا داعش، تحریک طالبان پاکستان ہو یا لشکر جھنگوی العالمی یا مقامی۔ تاریخ انسانیت حسن بن سباح کے فدائین فتنے سے بھی آگاہ ہے۔ ہر انسانیت کش کا انجام بالآخر شکست و ندامت ہے۔ اسلام امن و آشتی کا دین ہے، دین کے نام پر اٹھے والی کوئی بھی آواز صرف اسی صورت زندہ اور بیدار ذہنوں کو اپنی طرف مائل کرسکے گی، جب اس آواز میں انسانیت کے لئے امن کا پیغام ہوگا۔ تاریخ انسانیت ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے، سلیم فطرت انسانوں نے ہمیشہ حق کی آواز پہ لبیک کہا، البتہ درندہ صفت کج فہم انسان ہمیشہ قتل و غارت گری کو ہی اپنا ہنر مانتے رہے اور تاریخ کے چہرے پہ انسانوں کا خون ملتے رہے۔ کالم کا دامن کبھی بھی چار چھ پیرا گراف سے زیادہ نہیں ہوتا۔ نہ ہی کسی بلاگنگ ویب سائٹ یا اخبار کا قاری کالم کے پردے میں مقالہ پڑھنے کا متحمل ہوسکتا ہے۔ اللہ پاک توفیق دے اور ہنر بھی تو ان شاء اللہ، اسلام کے نام پر اٹھنے والی منظم اسلامی تحریکوں، ان کے نتائج، انتہا پسند تنظیموں، ان کی آبیاری، ان کے طرز فکر اور فتوئوں کی تلوار سے انسانوں کے ایمان جانچنے کی ساری کاریگریوں پہ ایک دقیق نظر ضرور ڈالوں گا۔ کیا القاعدہ "باقاعدہ" اسلام کی سربلندی اور "جہاد" کا علم لے کر نہیں اٹھی تھی؟ اس کی طاقت اور تنظیم کا راز اب آشکار ہوچکا ہے۔

مسلمانوں کو پہنچنے والی ہر تکلیف کو صرف استعمار کی سازش کہہ کر جان چھڑا لینا ایک سیاسی ہنر ہے، لیکن اس الم کا تجزیہ کرکے اسباب تلاش کرنا اہلِ دانش کی ذمہ داری ہے۔ مگر افسوس کہ" اخباری اور فیس بکی" دانش نے خود پسند پیدا کئے۔ بالکل اسی طرح جیسے اسلام کی سربلندی کے نام پر انتہا پسندی تنظیمیں ظہور میں آئیں۔ خلافت، عالم اسلام کے درمیان صدر ِ اسلام سے ہی ایک نزاعی مگر قابل توجہ موضوع رہا۔ مسلمانوں نے اپنی موجودہ پسپائی اور تفرقہ بازی کا سبب یہ تلاش کیا کہ چونکہ امت خلافت سے دور ہوگئی یا خلافت امت سے دور ہوگئی، اس لئے مسلمان پسماندہ ہیں۔ اس لئے آپس میں نفرتیں ہیں اور ایک دوسرے کے قتل کے فتوے دیئے جاتے ہیں۔ اس بے چہرہ دلیل کا کوئی بھی ہوشمند کیا جواب دے؟ فتویٰ گری تو کوئی چودہ پندرہ سو سال سے یونہی چلتی آ رہی ہے۔ کیا امام حسین علیہ السلام اور آپ ؑ کے جانثار و باوفا اصحاب کے قتل کا فتویٰ نہیں دیا گیا تھا؟ انسان کا حال جب بے حال ہو اور اسے مستقبل تاریک نظر آرہا ہو تو وہ اپنے ماضی میں پناہ تلاش کرتا ہے۔ ماضی کے سہارے نئی دنیا تراشتا ہے اور اپنی امیدوں کے چراغ جلائے رکھتا ہے۔ یہی حال امت مسلمہ کے اس دھڑے کا بھی ہے، جو دہشت گردی اور تکفیری رویوں کے سبب دوسروں مسلمانوں کو قتل کرکے "جنت کی دوڑ" میں لگے ہوئے ہیں۔

خود غرضی کی انتہا دیکھیے، اپنی گم گشتہ جنت کے لئے یہ ظالم اسلام کے نام پر دنیا کو ہی جہنم بنائے ہوئے ہیں۔ ہاں مگر ہر عہد کے فرعون کے لئے اللہ رب العزت نے ایک موسٰی ضرور پیدا کیا، ہر دور کے یزید کے لئے ایک حسینی موجود ہوتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم خوارج کے نرغے میں ہیں اور مسلسل ان سے برسرِ پیکار۔ آخری فتح بے شک اہل حق کی ہی ہے، یہی اللہ کا پیغام ہے، یہی اہل حق کے لئے نوید ہے۔ جہاد یا اسلام کی سربلندی یا مسلکی برتری کا نعرہ اس قدر کشش رکھتا ہے کہ کج فہم اور ظواہر پرست لمحہ بھر میں اس نعرے کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ جدید تاریخ میں روس کے خلاف امریکی سرد جنگ کو بڑے ہنر کے ساتھ نام نہاد جہادی زاویے سے بیچا گیا۔ آج پاکستان، روس امریکہ سرد جنگ کے نتائج بھگت رہا ہے، بلکہ عالم اسلام کا ایک غالب حصہ بے مہار مسلح لشکریوں کے نرغے میں ہے۔ القاعدہ ایک بڑی دہشت گرد تنظیم کے طور پر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئی۔ کچھ مفکرین کا کہنا ہے کہ القاعدہ کا ہدف امریکہ کا سقوط تھا۔ مگر میرا ماننا ہے کہ القاعدہ کے فکری رویوں اور پالیسیوں نے افغانستان کو دو بار سقوط کرا دیا، عراق کو بھی۔ القاعدہ سے طالبان، پھر النصرہ، الشباب سے ہوتا ہوا یہ "فکری مغالطہ" داعش کی تخلیق تک پہنچا۔ یہ سوال بڑا حیرت افروز ہے کہ القاعدہ کی موجودگی میں داعش کیونکر بنی یا بنائی گئی؟ النصرہ فرنٹ کیوں وجود میں آئی؟ جبکہ ان سب تنظیموں کے فکری رویے تکفیری و انسان کش ہیں۔

کیا القاعدہ کمزور ہوگئی تھی؟ یا ختم ہوگئی تھی؟ یا اس کی مرکزیت کمزور ہوگئی تھی؟ کئی سوالات طالب علم کے ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں۔ ہاں البتہ داعش، القاعدہ، النصرہ، طالبان و الشباب و دیگر تمام دہشت گرد تنظیموں سے زیادہ سفاک اور وحشت ناک ہے۔ اس تنظیم کو عراق و شام میں شکست فاش ہوچکی ہے۔ اس کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور اس کا نظریہ خلافت عراق و شام میں پاش پاش ہوگیا ہے۔ یہ مگر سچ ہے کہ عرب بہار ہائی جیک ہوئی اور سامراج نے اسے اپنے مقاصد کی گرہ لگائی۔ داعش اسی گرہ کا ایک نام ہے۔ اس تنظیم کی نئی منزل مگر کیا ہے؟ یہ کہاں پڑائو کرے گی؟ یا اس کے فراری کہاں پناہ لے رہے ہیں؟ یہ سوال اہم بھی ہے اور فکر انگیز بھی۔ داعش کی نئی پناہ گاہ افغانستان ہے اور اس کا تازہ ہدف افغان جنگ کو پاکستان لانا ہے۔ سی پیک ان اہداف میں سے ایک ہے، جو داعش کے ذریعے اس خطے میں پورا کرنے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے داعش کو "را"، این ڈی ایس اور ملا فضل اللہ کے طالبان کی حمایت حاصل ہے۔ کیا داعش ایسا کر پائے گی؟ میرا یقین ہے کہ پاک فوج داعش کو پاک افغان سرحد کے قریب سر نہیں اٹھانے دے گی۔ داعش کے چند لوگوں کو پاکستان سے گرفتار بھی کیا گیا، لیکن ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ مثلاً صرف داعش کے حق میں وال چاکنگ کرنے والے ہی نہیں بلکہ داعشی دہشت گردوں کو پاکستان آنے کے لئے ویڈیو پیغام جاری کرنے والوں کی فکری شکست بھی ابھی باقی ہے۔
(جاری ہے)
خبر کا کوڈ : 686415
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے