0
Wednesday 29 Nov 2017 21:54

ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت اور امریکہ کی سراسیمگی

ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت اور امریکہ کی سراسیمگی
تحریر: علی محقق

تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خاتمے کا سرکاری طور پر اعلان کیا جا چکا ہے۔ یہ اعلان یقیناً مغربی ایشیائی خطے میں جدید سیاسی مساواتوں اور قواعد و ضوابط کے قیام کا باعث بنے گا۔ داعش کے خلاف عظیم فتح دیگر ممالک کو ایران کا موثر کردار قبول کرنے پر مجبور کرے گی اور مغربی ایشیائی خطے کی جیواسٹریٹجک پوزیشن بنیادی تبدیلیوں کا شکار ہو گی۔ اگرچہ داعش کا خاتمہ دو ممالک عراق اور شام میں جنگ کی تباہ کاریوں کے ازالے اور تعمیر نو کے معنی میں ہے جن کے اکثر شہر مکمل طور پر ملیامیٹ ہو چکے ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف 6 سالہ جنگ اہم نتائج اور نئے قواعد و ضوابط کی بھی حامل ہے۔ پوسٹ داعش ایرا خطے سے متعلق امریکی سراسیمگی اور خوف و ہراس کا زمانہ ہے۔ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

1۔ ایران کے فوجی کمانڈرز کی اعلی مہارت اور آپریشنز انجام دینے کی بہترین صلاحیتیں
ایران کے اکثر فوجی کمانڈرز نے عراق کی جانب سے تھونپی گئی 8 سالہ جنگ کے دوران اعلی مہارتیں حاصل کی ہیں جبکہ اب تک کوئی ایسا موقع فراہم نہ ہو سکا تھا کہ نئی نسل اپنے ان فوجی کمانڈرز کی اعلی مہارتوں اور صلاحیتوں کو عمل کے میدان میں مشاہدہ کر سکتے۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ درحقیقت شہری جنگ، کمانڈو وار اور علاقائی اور عالمی طاقتوں کے خلاف جنگ کا ایک بہترین اور کامیاب تجربہ ثابت ہوا ہے جس میں ایرانی فوجی کمانڈرز کی اعلی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ اسی طرح جنرل قاسم سلیمانی جیسی عظیم نعمت سے بھی پردہ گشائی ہوئی ہے۔ جنرل سلیمانی کی انتہائی پرسکون شخصیت جو اعلی جنگی مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ مختلف گروہوں میں اتحاد قائم کرنے کی بھرپور صلاحیت کی بھی مالک ہے اس بات کا باعث بنی ہے کہ عالمی استعماری قوتوں سے بیزار ہر شخص ان پر فخر محسوس کرنے لگے۔

تاریخ کے دوران ہمیشہ ایسے سپاہی، کمانڈرز اور جرنیل موجود رہے ہیں جنہوں نے جنگوں کا نقشہ تبدیل کیا ہے اور اس تبدیلی کی بنیاد پر مستقبل کی تاریخ بنائی ہے۔ جنرل سلیمانی بھی ایسے ہی جرنیلوں میں سے ایک ہیں کہ تاریخ جن کی مرہون منت ہے۔ خطے کو بدامنی اور انارکی سے باہر نکالنے میں جنرل قاسم سلیمانی کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں آج مشرق وسطی کا خطہ سکھ کا سانس لے رہا ہے۔ انہوں نے چھ برس تک امریکہ، اسرائیل، آل سعود رژیم اور تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے دیگر بانیوں کے خلاف فرنٹ لائن پر رہ کر جدوجہد کی اور مشرق وسطی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی ناپاک سازش اور عزائم کو ناکام بنا ڈالا۔ دلچسپ امر تو یہ ہے کہ اس عظیم کامیابی کے بعد بھی وہ خود کو "ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کا ایک ادنی سپاہی" قرار دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جنرل قاسم سلیمانی نے مغربی ایشیا میں طاقت کا توازن تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور خطے میں موجود امریکی آرڈر کو شدید چیلنجز سے روبرو کر دیا ہے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ امریکی حکام نے آخری مورچے (البوکمال) تک داعش کی بھرپور مدد کی تاکہ جہاں تک ہو سکے داعش کے خاتمے کو مزید موخر کر سکیں۔

2۔ امریکہ کیوں شب و روز ایران کو کنٹرول کرنے کیلئے شدید پریشانی کا شکار ہے؟
امریکی حکام مشرق وسطی خطے میں رونما ہونے والی سیاسی اور فوجی تبدیلیوں سے بخوبی آگاہ ہیں لہذا اسی وجہ سے ایران کو کنٹرول کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور ایران کے سیاسی اور فوجی اتحادیوں کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں۔ اگرچہ امریکی حکام اپنے اس مقصد میں (براک اوباما کے زمانے میں بھی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بھی) ناکامی کا شکار رہے ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔ امریکہ ایران کو کنٹرول کر کے خطے میں اس کی آپریشنل صلاحیتوں کو کمزور کر دینا چاہتے ہیں۔

امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک خطے سے متعلق اپنے شیطانی عزائم اور منصوبوں کیلئے ایران کو سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ امریکی حکام دنیا کے مختلف مقامات پر بدامنی اور عدم استحکام ایجاد کر کے اپنے اقتصادی مفادات حاصل کرتے ہیں جس کی واضح مثال حال ہی میں سعودی عرب اور قطر سے امریکہ کی اربوں ڈالر اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدے ہیں۔ لہذا وہ خطے میں امن اور استحکام کو اپنے اقتصادی مفادات کیلئے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ یمن، قطر، عراق، لبنان، فلسطین اور سعودی عرب کے موجودہ اور گذشتہ حالات کا جائزہ لینے سے واضح ہو جاتا ہے کہ امریکی حکام خطے میں پائیدار امن اور استحکام نہیں چاہتے۔

3۔ داعش کا خاتمہ امریکی سازشوں کا خاتمہ نہیں
اگرچہ شام اور عراق میں داعش کا خاتمہ ایک انتہائی اہم مرحلہ ہے لیکن یہ ہر گز آخری مرحلہ نہیں۔ اسرائیلی وزیر جنگ اویگڈور لیبرمین نے حال ہی میں اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہ شام حکومت ملکی سرزمین کے 90 فیصد حصے پر رٹ قائم کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے کہا کہ اسرائیل نے فوجی ٹیمیں اور پلٹونیں بنانا شروع کر دی ہیں اور دفاعی تنصیبات میں بھی اضافہ کر رہا ہے اور ہمیں اپنا دفاعی بجٹ ایک ارب ڈالر تک بڑھا دینا چاہئے۔ امریکی اور اسرائیلی حکام خطے میں ایک نئے بحران کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے وابستہ عناصر کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس وقت جب داعش عام مسلمان شہریوں کے قتل عام میں مصروف تھی اسرائیلی وزیراعظم اس پر خوشی کا اظہار کیا کرتا تھا اور بڑے فخر سے یہ کہتا نظر آتا تھا کہ داعش اسرائیل کے دشمنوں کو نابود کر رہی ہے۔ اب بھی اسرائیلی رژیم نئی سازش تیار کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

حال ہی میں اسرائیلی تھنک ٹینک "انسٹی ٹیوٹ برائے مطالعات قومی سلامتی" (Institute for National Security Studies) سے وابستہ اسکالر فرانس میلبورن نے ایران کے بارے میں 13 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے "بحیرہ روم تک ایران کے زمینی پل: ممکنہ راستے، چیلنجز اور محدودیتیں"۔ رپورٹ کے خلاصے میں ایران سے مقابلے کیلئے 12 حل پیش کئے گئے ہیں۔ ان میں ٹرمپ حکومت کو ایران سے متعلق جامع علاقائی اسٹریٹجی اپنائے جانے کا مشورہ، ایران کے علاقائی اتحادیوں پر حملہ، ایران کے خلاف پابندیاں، ایران کی سکیورٹی کو دھچکہ پہنچانے، کرد ملیشیا کی مدد کرنے اور شیعہ فورسز کے درمیان اختلاف ڈالنے جیسے موارد شامل ہیں۔

حال ہی میں ایران دشمنی میں معروف ریپبلکن امریکی سینیٹر جان مکین نے امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مقالے میں امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد خطے میں ایران کے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے واضح اسٹریٹجی کا اعلان کرے۔ جان مکین نے عراق، شام اور یمن میں ایران کی علاقائی سطح پر کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ "تہران بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کر رہا ہے اور ہمارے عرب اتحادی زیادہ اہم خطرات درپیش ہونے کے باوجود قطر سے سفارتی تناو کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان تمام واقعات کے پیچھے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا ہاتھ ہے جو اپنے ملک کو خطے میں امریکی مفادات کے خلاف ایک طاقت کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

امریکی ریپبلکن سینیٹر جان مکین نے امریکہ کے بارے میں پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے مزید لکھا: "اس وقت اینٹی امریکہ گروہوں کا ایک نیٹ ورک، جو بعض اوقات ایک ساتھ اور بعض اوقات الگ الگ سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، مشرق وسطی سے امریکی اثرورسوخ ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور خطے کی صورتحال اس طرح تبدیل کرنا چاہتا ہے جو ہمارے مفادات اور اقدار کے خلاف ہے۔ اگر ہم موجودہ کمزور اور بے جان پالیسی پر ہی کاربند رہے تو ممکن ہے مستقبل قریب میں ہم سو کر اٹھیں اور دیکھیں کہ دنیا کے اہم ترین خطوں میں سے ایک میں ہمارا اثرورسوخ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ لہذا امریکی حکام کو چاہئے کہ وہ مشرق وسطی کے موجودہ حالات کو اہمیت دیں۔"

4۔ خطے میں طاقت کا نیا توازن
شام کے شہر البوکمال میں جاری داعش کے خلاف آپریشن کے آخری دنوں میں روسی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے قطر کے امیر سے بات چیت کی اور انہیں شام سے متعلق ایران، روس اور ترکی کے سربراہان مملکت کے قریب الوقوع اجلاس سے مطلع کیا۔ یہ اقدام اور روس کے شہر سوچی میں ایران، روس اور ترکی کے سربراہان مملکت کے اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے اور یہ تبدیلی خطے کے آرڈر پر امریکہ کا اثرورسوخ نہ ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ ایسے وقت جب امریکی حکام سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے اور سعودی حکام کے ذریعے ایران فوبیا پھیلانے اور ہمیشہ کی طرح خطے میں ایک نیا بحران ایجاد کرنے کے درپے ہیں، خطے کی مساواتیں تبدیل ہو رہی ہیں اور اب یہ خطے کا نیا آرڈر ہے جو خطے میں بدامنی پھیلانے پر مبنی امریکی آرڈر کا مقابلہ کرے گا۔

مشرق وسطی خطے میں کسی بھی نئے بحران کی پیدائش یا جاری بحران کی شدت میں اضافہ، خطے کی پیچیدہ مساواتوں اور تعلقات کے باعث علاقائی اور عالمی سطح پر نئے سیاسی کھلاڑیوں کے ظہور یا پرانے سیاسی کھلاڑیوں کے زوال پر منتج ہو گی۔ گذشتہ چند برس کے دوران اس خطے میں امریکی حکام کی ہر غلطی کے نتیجے میں ایران کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ تحریر حاضر میں ان اقدامات کی وضاحت سے گریز کریں گے اور صرف ایک نکتے کی جانب اشارہ کریں گے۔ عراق اور شام میں داعش کا بحران، یمن پر سعودی جارحیت، قطر کے خلاف عرب ممالک کی اقتصادی پابندیاں، عراق کے زیر انتظام کردستان میں علیحدگی کیلئے ریفرنڈم کا انعقاد، لبنانی وزیراعظم سعد حریری کا جبری استعفی وغیرہ۔

امریکی سراسیمگی اور خوف و ہراس کبھی بھی ختم نہیں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ریپبلکن سینیٹر جان مکین کہتے ہیں: "مشرق وسطی کا آرڈر، ممالک کی اندرونی سطح پر بھی اور ان کے درمیان تعلقات کی سطح پر بھی زوال پذیر ہو رہا ہے۔ مشرق وسطی میں امریکہ کا اثرورسوخ خاص طور پر گذشتہ آٹھ برس کے دوران اس کی پسماندگی کے باعث ختم ہوتا جا رہا ہے اور امریکہ مخالف قوتیں طاقت کے اس خلا کو پر کرنے میں مصروف ہیں۔"
خبر کا کوڈ : 686618
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب