0
Thursday 30 Nov 2017 14:32

داعش کی فکری شکست بہت ضروری ہے(2)

داعش کی فکری شکست بہت ضروری ہے(2)
تحریر: طاہر یاسین طاہر

جیسا کہ یہ بات طے ہے کہ عام اور سطحی مذہبی رحجان والوں کو جہاد، خلافت یا صحابہ و دیگر قابل تعظیم ہستیوں کے نام پر ورغلانا بہت آسان ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ ایسا ہی ہو رہا ہے اور بالکل ہمارے سامنے ہو رہا ہے۔ مولوی صوفی محمد نے سوات میں نفاذ شریعت محمدی کے نام پر فساد مچایا، طالبان نے الگ سے اسلام کے نام پر مسلمانوں کا خون بہایا اور ابھی تک بہا رہے ہیں۔ کئی دیگر تنظیمیں جو کالعدم قرار دی جا چکی ہیں، ان کا ہدف بھی عام اور بے گناہ مسلمان ہی ہیں۔ اس بات کا تجزیہ کرنا اشد ضروری ہے کہ کوئی نوجوان کیونکر خودکش حملہ آور بنتا ہے یا کیونکر مذہب کے نام پر قتل و غارت گری اور دہشت گردی کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے سماج میں تو اس کی چند ایک معلوم وجوہات ہیں، جن میں سے ایک افغانستان میں القاعدہ کا ظہور اور نام نہاد طالبانی اسلام ہے۔ یہ مگر ایک وجہ قرار دی جا سکتی ہے، مکمل تجزیہ نہیں۔ اس کے لئے وقت اور شدت پسندانہ تنظیموں کا عمیق و دقتِ نظر مطالعہ درکار ہے۔ داعش جس نے چند سال قبل اپنی نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا، اس کو افرادی قوت بہت تیزی سے دستیاب ہوئی، اس کے پاس اسلحہ اور جنگی سازوسامان بھی وافر مقدار میں رہا، جبکہ بالخصوص شام و عراق میں اس دہشت گرد تنظیم نے تباہ کاریوں اور بربریت کی تکلیف دہ مثالیں قائم کیں۔ معصوم بچوں کو زندہ جلا دیا گیا، عورتوں کا جنسی و جانی استحصال کیا گیا، سر بازار عورتوں کو فروخت کیا گیا، حتٰی کہ ایزدی قبیلے جنھیں یزیدی قبیلہ بھی کہا جا رہا ہے، کی عورتوں کو جبری کنیزیں بنایا گیا۔ داعش کے حق میں واعظ ہوئے اور فتوے بھی جاری ہوئے۔ مقبول مگر متنازع اور اسلام کے نام پر بدنما فتویٰ "جہاد النکاح" کا جاری ہوا۔ اس فتوے کا پہلا شکار تیونس کی سینکڑوں لڑکیاں بنیں۔ تیونس کے وزیر داخلہ نے کابینہ کے ایک اجلاس میں اعتراف بھی کیا تھا کہ تیونسی لڑکیاں جہاد النکاح کے لئے داعشی درندوں کے پاس گئی ہیں۔ ان میں سے کچھ لڑکیوں کے میڈیا پر انٹرویو بھی نشر ہوئے۔ جس میں پتہ چلا کہ ایک ایک لڑکی نے ایک ایک ہفتہ میں درجن درجن نام نہاد "مجاہدین" سے جہاد النکاح کئے، اللہ اکبر۔

یہ وہی داعش ہے جس کے جنگجوئوں نے شام و عراق میں انبیاء علیہ السلام، اصحاب الرسولؐ اور بزرگان دین کے مزارات کو بے دردی سے نشانہ بنایا اور لاشوں کو قبروں سے نکال کر ان کا مثلہ کیا۔ جہاد النکاح کے فتوے میں اس قدر کشش تھی کہ یورپ سے بھی مرد و زن کھنچے چلے آئے۔ اپنی تمام تر وحشتوں اور خباثتوں کے باوجود داعش کو شام و عراق میں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ بے شک داعش کی تخلیق میں ترکی، سعودی عرب اور قطر نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا، مگر اس حصہ داری میں امریکہ ہمیشہ کی طرح عربوں کا سرپرست رہا۔ بعد ازاں ترکی کے اپنے شہروں میں جب دھماکے ہوئے تو اس نے داعش کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا۔ شام میں بشار الاسد کی مخالف قوتوں کے مقابل شامی فوج کو روس اور ایران کی کھلی حمایت حاصل رہی۔ داعش کی آشکار شکست کو دیکھتے ہوئے اس کے سرپرستوں اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے کل مہروں نے داعش کے مفروروں کا رخ افغانستان کی طرف کر دیا۔ افغان سرزمین اپنے مزاج اور موجودہ حالات کے باعث داعش کے لئے بہترین انتخاب ہے۔ جہاں کئی دہشت گرد گروہ پہلے سے موجود ہیں، جو اپنے فکری اتحاد کی بنا پر داعش کی کمان میں لڑنے کو تیار رہیں گے۔ امریکہ کو یہی امید ہے۔ اسی لئے وہ افغانستان میں داعش کی سرپرستی بھی کر رہا ہے اور داعش کے خاتمے کے نام پر افغانستان میں مزید قیام کرنے کا جواز بھی تلاش کر لیا ہے۔

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے گذشتہ دنوں کہا کہ "امریکہ افغانستان میں داعش کو اسلحہ فراہم کرکے اس کی مدد کر رہا ہے، جبکہ دہشت گرد تنظیم داعش افغانستان میں امریکی فوجی اڈے بھی استعمال کر رہی ہے اور امریکی اڈوں سے غیر فوجی رنگ کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے داعش کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ سابق افغان صدر نے برطانوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس کی موجودگی میں ہی داعش کا افغانستان میں وجود ہوا۔ ٹرمپ حکومت کو ہمارے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ حامد کرزئی نے کہا پہلے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے ارکان زیادہ تھے، لیکن اب داعش سے تعلق رکھنے والے افراد سب سے زیادہ ہیں۔ اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے کہ انتہا پسندی کو کیسے قابو کیا جا سکتا ہے۔ سابق افغان صدر کا کہنا تھا ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہم امریکہ سے سوال پوچھیں کہ امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی کڑی نگرانی اور موجودگی کے باوجود داعش نے کس طرح افغانستان میں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ حامد کرزئی نے  مزید کہا کہ امریکہ کو اس کا جواب لازمی دینا چاہئے، کیونکہ اس کا جواب افغانستان نہیں بلکہ امریکہ کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا انہیں شک سے بھی زیادہ یقین ہے کہ داعش کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسلحہ پہنچایا جاتا ہے اور یہ صرف ملک کے ایک حصے میں نہیں بلکہ کئی حصوں میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ داعش کو اسلحہ کی فراہمی کی خبریں افغان شہری ہی نہیں بلکہ حکومت میں موجود افراد اور دیہات میں رہنے والے لوگ بھی دے رہے ہیں۔ ملک بھر سے ایسی اطلاعات مل رہی ہیں داعش کو امریکی مدد حاصل ہے۔"

بے شک امریکی کی مدد کے بغیر داعش کا افغانستان میں جڑیں پکڑنا ممکن نہ تھا۔ عراق و شام کے کچھ حصوں پر تو داعش نے کنٹرول حاصل کر لیا تھا، وہاں اسے شکست ہوئی اور اس کے دہشت گرد بھاگ رہے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ افغانستان میں آکر داعش کیا کرے گی؟ جبکہ اسے پاک فوج جیسی ایک مضبوط اور پیشہ ور قوت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی کسی صورت انتہا پسندانہ گروہوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ محدودے چند اسلامی نظام، شریعت اور خلافت کے شائق افراد فکری مغالطے میں ہیں کہ عالمی خلافت کی نام نہاد جدوجہد میں وہ شریک ہونے والے ہیں۔ ہاں البتہ افغانستان میں داعش کا اڈہ بنانے کا مقصد، روس، چین، ایران و پاکستان کو مسلسل مصروف رکھنا ہے۔ یہی استعماری مقاصد ہیں۔ القاعدہ کے بعد داعش کا ظہور ہوا اور دونوں تنظیموں نے عالمی برادری کو اپنی وحشتوں سے متوجہ کیا۔ دونوں کی مرکزیت بکھر چکی ہے۔ البتہ شام و عراق میں داعش کی بربریت کے نشان عشروں موجود رہیں گے اور عراق و شام کے معاشروں کو سنبھلنے میں بہت وقت لگے گا۔ ممکن ہے تب تک داعش کے بجائے کوئی نیا فکری مغالطہ "جنت کی تلاش میں" کلمہ پڑھنے والوں کے گلے کاٹنے کو نکل کھڑا ہو۔ ان مغالطوں کی عسکری شکست کے ساتھ ساتھ ان کی بنیاد، یعنی فکری شکست کا انتظام بہت ضروری ہے۔ عہد حاضر کے عدل پسندوں کی یہ اولین ذمہ داری ہے اور اسی میں انسانیت کی بقا بھی ہے اور اسلامی تعلیمات کا حسن بھی۔
(ختم شد)
خبر کا کوڈ : 686776
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے