0
Thursday 30 Nov 2017 21:24

ریاض میں فوجی اتحاد کا پہلا اجلاس، چند غور طلب نکات

ریاض میں فوجی اتحاد کا پہلا اجلاس، چند غور طلب نکات
تحریر: عباس سید میر

سعودی عرب کی سربراہی میں تشکیل پانے والے فوجی اتحاد میں شامل ممالک کے وزرائے دفاع کا پہلا اجلاس حال ہی میں ریاض میں منعقد ہوا ہے۔ یہ اتحاد سعودی عرب کی جانب سے 15 دسمبر 2015ء کو تشکیل پایا جس کا اصل مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ بیان کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس اتحاد میں چالیس سے زائد اسلامی ممالک شریک ہیں لیکن عملی طور پر شام اور عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں سعودی عرب سمیت ان میں سے کسی ملک کی فوجی شراکت دیکھنے کو نہیں ملی۔ جبکہ مئی 2017ء میں ریاض میں عرب ممالک کے سربراہان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ سعودی سربراہی میں تشکیل پانے والا اتحاد شام اور عراق میں داعش کے خلاف جنگ کیلئے 34 ہزار فوجی بھیجنے کیلئے تیار ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ اعلان محض دکھاوے کیلئے تھا اور اس کا مقصد سیاسی پروپیگنڈہ تھا کیونکہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ سعودی مسلح افواج اس قدر مہارت نہیں رکھتیں کہ داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر کو کچل سکیں۔

بہرحال ریاض میں منعقدہ اسلامی فوجی اتحاد کے پہلے اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اتحاد کے جنرل سیکرٹری عبداللہ بن عثمان الصالح نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے یوں وضاحت بیان کی: "ریاض میں منعقدہ اجلاس کے شرکاء نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ضمن میں درج ذیل موارد پر اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے۔ شدت پسندانہ طرز تفکر خاص طور پر مذہبی نوعیت کی روک تھام، دہشت گرد عناصر کے ذرائع ابلاغ کا مقابلہ اور شدت پسندانہ طرز فکر کا مقابلہ کرنے کیلئے نئے ذرائع ابلاغ کی تشکیل پر سرمایہ کاری، اتحاد میں شامل ممالک کے درمیان فنی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، دہشت گرد عناصر کے خلاف فوجی کاروائی، تمام فوجی کاروائیوں میں ہم آہنگی کیلئے مشترکہ کمان سنٹر کا قیام اور ریاض کو اسلامی فوجی اتحاد کا مرکز قرار دیا گیا۔

یہاں اس نکتے کی وضاحت ضروری ہے کہ شدت پسندانہ طرز فکر کی ترویج سلفی وہابی مذہب کے تحت انجام پا رہی ہے۔ اس فرقے کے پرورش یافتہ افراد نے القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہ تشکیل دیئے ہیں۔ خلیج عرب ریاستیں خاص طور پر سعودی عرب فلاحی تنظیموں کی آڑ میں ان دہشت گرد گروہوں کی مالی اور فوجی امداد کرتے رہے ہیں۔ عرب ممالک کے شہریوں کو اب بھی اچھی طرح یاد ہے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اعلامئے خطے کے ایک اہم عرب سیٹلائٹ چینل سے نشر کئے جاتے تھے۔ اسی طرح تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے اپنی ویب سائٹ چلا رکھی تھی اور سر کاٹنے کی ویڈیوز سمیت اپنے تمام غیر انسانی اقدامات کی تصاویر اور ویڈیوز اس ویب سائٹ پر شائع کرتے رہتے تھے جبکہ آج تک دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے عرب اور مغربی ممالک میں سے کسی ایک نے بھی اس ویب سائٹ پر اپنے ملک میں پابندی نہیں لگائی۔

ایک اور اہم نکتہ یہ کہ ریاض میں منعقدہ اس اجلاس میں دہشت گرد گروہوں جیسے داعش اور القاعدہ سے مربوط ویڈیو چلائے جانے کی بجائے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے خلاف فلسطینی مجاہدین کی مسلح جھڑپوں کی ویڈیو چلائی گئی۔ یہ امر سوشل میڈیا پر بھی سعودی عرب کے خلاف شدید تنقید کا باعث بنا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اجلاس میں دہشت گردی کے عنوان سے چلایا گیا کلپ درحقیقت 2001ء میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کے مجاہدوں کا تھا جو مقبوضہ فلسطین کے جنوب میں واقع قصبے نشین گیلو میں اسرائیلی فوجیوں کا مقابلہ کرنے میں مصروف تھے۔ دوسری طرف اسرائیل آرمی کے ترجمان نے اسی کلپ کی بنیاد پر فلسطینی گروہوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ اویخای ادرعی نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر لکھا: "خود عربوں نے فلسطینی گروہوں کے دہشت گرد ہونے کو ثابت کر دیا ہے۔"

ریاض میں منعقدہ فوجی اتحاد کے اجلاس سے متعلق ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ قطر اور لبنان نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ اس بارے میں سعودی اخبار عکاظ لکھتا ہے: "دہشت گردی کی حمایت کے سبب قطر کو اس اجلاس میں شرکت کیلئے مدعو نہیں کیا گیا۔" اسی طرح اس اخبار نے لبنان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ لبنانی حکومت حزب اللہ لبنان کے زیر اثر ہے جس کے باعث لبنانی وزیر دفاع نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ اس سعودی اخبار میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں لکھا گیا ہے: "اس اتحاد کا سیکرٹریٹ ریاض میں ہو گا جس کا عنقریب افتتاح کر دیا جائے گا۔" روزنامہ عکاظ نے سعودی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس اتحاد کی سربراہی اپنے ہاتھ میں ہی رکھے۔

اگر اس فوجی اتحاد کی سربراہی سعودی عرب کے ہاتھ میں رہتی ہے، جیسا کہ موجودہ شواہد بھی ایسا ہی ظاہر کر رہے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی حکومت کا پہلا نشانہ حزب اللہ لبنان ہو گا جبکہ اس کے اگلے اہداف اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس اور دیگر فلسطینی مجاہد گروہ ہوں گے۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ نے حزب اللہ لبنان کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں ڈال رکھا ہے اور سعودی حکومت بھی میڈیا کے ذریعے حزب اللہ لبنان کو تنقید کا نشانہ بنا کر اسے ایک دہشت گرد تنظیم ظاہر کرنے کی کوشش کرتی آئی ہے۔ سعودی حکام کیلئے لبنان اور خطے سے حزب اللہ لبنان کے کردار کا خاتمہ اس قدر اہم ہے کہ اس خاطر انہوں نے لبنانی وزیراعظم سعد حریری کو استعفی دینے پر مجبور کر ڈالا۔ اگرچہ سعد حریری بیروت واپس جا چکے ہیں اور اپنا استعفی بھی واپس لے چکے ہیں لیکن حزب اللہ لبنان کے خلاف بیان بازی جاری ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سعودی حکام اسلامی فوجی اتحاد کے ذریعے حزب اللہ لبنان پر سیاسی، سکیورٹی، مالی اور فوجی دباو بڑھانا چاہتے ہیں۔

شاید سعودی حکام اس وہم کا شکار ہیں کہ دیگر ممالک کی عوام اور حکومتیں بھی ان کی طرح حزب اللہ لبنان کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حزب اللہ لبنان کے جنگجووں نے شام اور عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خاتمے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ خطے کی عوام بہت اچھی طرح اس حقیقت سے آگاہ ہے اور وہ بارہا اسلامی مزاحمت کی تنظیموں حماس اور حزب اللہ کی غاصب اسرائیل کے خلاف جدوجہد کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ لہذا حزب اللہ لبنان کے خلاف سعودی اقدامات میں دیگر اسلامی ممالک کے تعاون کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ خاص طور پر یہ کہ لبنانی اور فلسطینی حزب اللہ لبنان اور حماس کو اپنے دفاع کا ضامن قرار دیتے ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کی سازش برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔
خبر کا کوڈ : 686824
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب