0
Wednesday 13 Dec 2017 22:31

یمن میں امریکی صیہونی سعودی سازش کی ناکامی

یمن میں امریکی صیہونی سعودی سازش کی ناکامی
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

یمن میں سیاسی تبدیلیوں کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز ہو چکی ہے۔ اندرونی سطح پر علی عبداللہ صالح اور کانگریس پارٹی کے بعض اعلی سطحی عہدیداروں کے سعودی اور اماراتی حکام کے ساتھ خفیہ تعلقات اور دارالحکومت صنعا پر قبضے کی سازش فاش ہونے کے بعد انصاراللہ کی اسلامی انقلابی تحریک متحرک ہو گئی اور چند دن کے اندر اندر اس منحوس سازش کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس دوران علی عبداللہ صالح اور غداری کرنے والے چند دیگر اہم افراد مارے گئے۔ دوسری طرف حالیہ چند ہفتوں کے دوران آل سعود رژیم پر اندرونی اور بیروانی سطح پر یمن کے خلاف جاری ظالمانہ جنگ بند کرنے کیلئے دباو بڑھتا جا رہا ہے۔ ان حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ شروع کرنے والی قوتیں اب اس جنگ میں اپنی کامیابی سے مایوس ہوتی جا رہی ہیں۔ اس بارے میں درج ذیل نکات اہمیت کے حامل ہیں:

1)۔ صنعا پر قبضے کی سازش
موصولہ رپورٹس اور خبروں کی روشنی میں ظاہر ہوتا ہے کہ اس سازش میں پانچ قوتیں شامل تھیں: سعودی حکومت، متحدہ عرب امارات، علی عبداللہ صالح، اخوانی – وہابی طرز فکر کی حامل اصلاح پارٹی کے بعض عہدیداران (اس وقت یہ پارٹی صنعا کے مشرق میں واقع صوبہ مارب پر قابض ہے) اور صنعا کے مغرب میں مقیم بعض قبائلی سردار جنہیں بڑی مقدار میں پیسے اور حکومتی عہدوں کے لالچ کے ذریعے خریدا گیا تھا۔ یہ ایک انتہائی گہری سازش تھی جس میں یمن کے دارالحکومت صنعا کے مشرقی اور مغربی حصے شامل ہونے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی ہوائی حملوں کے ذریعے مدد کرنے کا وعدہ شامل تھا۔ تقریباً ایک ماہ قبل جب یمن کے خلاف سعودی ہوائی حملوں کی شدت میں اضافہ ہوا تو یمن کے امور کیلئے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے نمائندے احمد ولد شیخ نے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور ہوائی حملے روک کر مذاکرات کی راہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ محمد بن سلمان نے انہیں جواب دیا کہ تھوڑا صبر کریں پھر دیکھیں حوثی کس مصیبت کا شکار ہوتے ہیں۔

لہذا سعودی حکام کی نظر میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرنے کا یہ منصوبہ بہت عمدہ تھا اور کوئی بھی سیاسی ماہر اسے دیکھ کر اس کی کامیابی کی پیشگوئی کرنے پر قانع ہو سکتا تھا لیکن عمل کے میدان میں جو کچھ پیش آیا وہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ انصاراللہ تحریک کے مرکزی رہنما کچھ عرصہ قبل علی عبداللہ صالح کے انتہائی قریبی افراد اور اماراتی اور سعودی حکام کے درمیان انجام پانے والے مذاکرات کے بارے میں آگاہ ہوئے۔ ان مذاکرات میں علی عبداللہ صالح کے قریبی افراد کو بغاوت کے ذریعے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرنے پر اکسایا گیا تھا اور بدلے میں انہیں حکومتی عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ یہ مشترکہ سازش فاش ہوتے ہی انصاراللہ کے مرکزی رہنماوں نے علی عبداللہ صالح سے رابطہ کیا اور اسے غداری کے تباہ کن نتائج کے بارے میں خبردار کیا۔ انصاراللہ کے رہنماوں کا مقصد اندرونی انتشار کو روکنا تھا اور علی عبداللہ صالح کو بتانا تھا کہ انہیں ملک کے خلاف بنائی گئی سازش کا پورا علم ہے۔ علی عبداللہ صالح نے اماراتی اور سعودی حکام کے ساتھ انجام پانے والے مذاکرات کا انکار کرتے ہوئے انصاراللہ رہنماوں کو یقین دہانی کروائی کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور کبھی بھی انہیں دھوکہ نہیں دیں گے۔

علی عبداللہ صالح گمان کر رہے تھے کہ اگر انصاراللہ کو ان کے پانچ طرفہ خفیہ منصوبے کی اطلاع مل بھی گئی ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا یا ہو سکتا ہے ان کے پاس اپنی سیاسی زندگی محفوظ بنانے کا کوئی اور راستہ بچا ہی نہیں تھا لہذا انہوں نے طے شدہ منصوبے کے تحت عمل جاری رکھا۔ اب جبکہ بات کھل چکی تھی تو علی عبداللہ صالح نے ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی عرب سے انجام پائے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے انصاراللہ یمن کی فورسز کو غیر قانونی مسلح گروہ قرار دے دیا۔ انصاراللہ یمن اس بات سے آگاہ ہو چکی تھی کہ اس ساری سازش کا اصلی مرکز صنعا میں واقع علی عبداللہ صالح کی مرکزی مسجد ہے لہذا انصاراللہ یمن کی جانب سے سکیورٹی فورسز کا ایک گروپ اس مسجد کی تفتیش کیلئے جاتا ہے۔ اگلے روز عید میلاد النبی (ص) کی مناسبت سے بڑا جشن اور ریلی منعقد ہونے والی تھی لہذا یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ اس موقع پر کوئی تخریبی کاروائی انجام نہ پائے۔ انصاراللہ کی سکیورٹی فورسز کو مسجد میں داخلے پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا لیکن آخرکار وہ اندر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب وہ اندر گئے تو انہوں نے دیکھا کہ مسجد کی بیسمنٹ اسلحہ سے بھری پڑی ہے۔

عید میلاد النبی (ص) کی مناسبت سے ملک بھر میں جشن کے پیش نظر یہ محسوس کیا گیا کہ علی عبداللہ صالح کی مرکزی مسجد میں اتنی بڑی مقدار میں اسلحہ کی موجودگی کسی گہری سازش کی نشاندہی کرتی ہے۔ لہذا یمن کی وزارت داخلہ مسجد کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کرتی ہے جس کے نتیجے میں علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز اور ملکی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ جھڑپیں صنعا کے جنوب تک پھیل جاتی ہیں جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے دفاتر واقع ہیں اور اسے "حی السیاسی" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح ملک کے دیگر صوبوں جیسے ذمار، عمران اور حجہ میں بھی جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ان جھڑپوں کا انتہائی تیزی سے دارالحکومت سے چار دیگر صوبوں تک پھیل جانا اور صوبہ عمران میں اصلاح پارٹی کے حامیوں کی طرف سے بھی انصاراللہ اور ملکی سکیورٹی فورسز کے خلاف کاروائیوں کے آغاز سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان تمام اقدامات کی منصوبہ بندی پہلے سے انجام پا چکی تھی۔ منصوبہ بندی کے تحت صنعا میں خانہ جنگی کا آغاز 17 ربیع الاول کو ہونا تھا لیکن انصاراللہ یمن کی ہوشیاری کے باعث علی عبداللہ صالح کے حامی ٹولے کو اپنا منصوبہ 11 ربیع الاول کو ہی اجرا کرنا پڑ گیا جس کے سبب وہ مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا شکار ہو گئے۔

2)۔ یمن کے خلاف سازش کے اہداف
غالب تصور کے برعکس علی عبداللہ صالح سمیت پانچ قوتوں کی اس سازش کا مقصد یمن کے شمالی حصے پر قبضہ کرنا نہیں تھا بلکہ صرف دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرنا تھا۔ جب ہم یمن کے داخلی حالات اور اس میں جاری خانہ جنگی کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ سازش کرنے والے عناصر کے پاس یمن کے تمام شمالی صوبوں جن کی تعداد 12 ہے پر قبضہ کرنے کیلئے کافی حد تک افرادی قوت موجود نہ تھی۔ دوسری طرف ماضی میں علی عبداللہ صالح کی فوج جو تین لاکھ نفوس پر مشتمل تھی متحدہ عرب امارات کی جانب سے ہوائی حملوں کی حمایت ہونے کے باوجود 2003ء سے 2009ء تک کی چھ سالہ جنگ میں انصاراللہ یمن کے مقابلے میں شکست سے دوچار ہوئی تھی جبکہ انصاراللہ یمن کے جنگجووں کی تعداد صرف چند ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ لہذا منطقی طور پر اس وقت جب انصاراللہ یمن کے جنگجووں کی تعداد کئی لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور علی عبداللہ صالح کے زیر کمان سپاہیوں کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے یہ توقع رکھنا درست نہیں کہ وہ یمن کے تمام شمالی صوبوں پر قبضہ کرنے کے درپے تھے۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یمن کے صوبوں عمران، حجہ اور ذمار میں انصاراللہ یمن کے خلاف مسلح کاروائیاں انجام دینے والی فورسز کا مقصد ان صوبوں پر قبضہ کرنا نہیں تھا بلکہ صرف انصاراللہ یمن کی فورسز کو مصروف کرنا تھا۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر ان کا مقصد شہروں پر قبضہ کرنا ہوتا تو وہ ایسے صوبوں میں کاروائی کرتے جہاں اکثریت شافعی فرقے سے تعلق رکھنے والوں کی ہے اور ان پر انصاراللہ یمن کی گرفت کمزور ہے۔ غدار فورسز کی جانب سے ایسے صوبوں کا انتخاب کیا جانا جہاں زیدی فرقے سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت ہے اور انصاراللہ یمن ان صوبوں میں بہت مضبوط ہے ظاہر کرتا ہے کہ ان کا مقصد انصاراللہ یمن کو دارالحکومت سے باہر مصروف کرنا تھا تاکہ دارالحکومت صنعا میں علی عبداللہ صالح اور اس کی حامی فورسز کو قبضے کا موقع میسر آ سکے۔ لیکن یہ سازش انصاراللہ یمن کی ہوشیاری کے باعث مکمل طور پر شکست کا شکار ہو گئی۔

یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، علی عبداللہ صالح اور یمن کے شمال میں مقیم بعض قبائل کی یہ سازش کامیاب ہو جاتی تو صورتحال کیا ہوتی؟ دارالحکومت صنعا پر قبضہ گذشتہ دو برس سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا اصلی ہدف رہا ہے جس کا مقصد انصاراللہ یمن کے اقتدار کا خاتمہ تھا۔ دوسری طرف سعودی اتحاد کی مسلح فورسز یمن کے سرحدی علاقوں میں مسلسل ناکامی کا شکار رہی ہیں جس کے باعث ان میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے۔ سعودی حکام سمجھتے تھے کہ اگر دارالحکومت پر ان کا قبضہ ہو جاتا ہے توہ یمن کے اکثر ایسے قبائل جو اس وقت انصاراللہ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اسے چھوڑ کر سعودی اتحاد میں شامل ہو جائیں گے۔ یاد رہے سعودی جارحیت کے خلاف جاری دفاع کے اکثر اخراجات یہی قبائل برداشت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ہم سب جانتے ہیں کہ حالیہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے اندر سے اور اسی طرح بین الاقوامی سطح پر محمد بن سلمان پر یمن کی جنگ ختم کرنے کیلئے دباو بڑھتا جا رہا ہے۔

سعودی حکام فوجی راستہ چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آنے سے پہلے زمینی حقائق کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دارالحکومت صنعا پر قبضے کی سازش انہیں کوششوں کا ایک حصہ تھی۔ سعودی حکام نے یمن کے خلاف جارحیت کے دوسرے سال کے آغاز پر اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ صنعا سے انصاراللہ کو نکال کر دم لیں گے اور اس کے بعد انصاراللہ کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سعودی منصوبے کے تحت پہلے مرحلے پر دارالحکومت صنعا سے انصاراللہ کا اثرورسوخ ختم کر کے وہاں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا تھی جبکہ دوسرے مرحلے پر یمن کے دیگر صوبوں پر بھی کٹھ پتلی حکومت کی گرفت مضبوط بنانا تھی۔ اس دوران انصاراللہ یمن کو ہتھیار پھینک کر گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کرنا تھا۔ لہذا اس حالیہ سازش کا مقصد سعودی منصوبے کے پہلے مرحلے کو عملی جامہ پہنانا تھا جس کے بعد دیگر مراحل کی باری آنا تھی۔ لیکن انصاراللہ یمن کے انقلابی جنگجووں نے اس سازش کو آغاز میں ہی ناکام بنا دیا اور ملک کو بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 689832
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب