0
Thursday 21 Dec 2017 23:45

مصری قرارداد آزادی فلسطین کی سفارتی کوششوں کی آخری ہچکی

مصری قرارداد آزادی فلسطین کی سفارتی کوششوں کی آخری ہچکی
تحریر: سید اسد عباس

جمعرات کے روز مصر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک ہنگامی اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کی حیثیت کے حوالے سے بیان کے خلاف ایک قراداد پیش کی، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکہ اس حکم کو کالعدم کرے۔ اس قرارداد میں سے امریکہ کے نام کو حذف کرکے ووٹنگ کے لئے انتخاب کیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ قرارداد ایک ایسی قرارداد ہے جو قانون کا درجہ نہیں اختیار کرسکتی یعنی فقط عالمی ضمیر کی آواز کہا جاسکتا ہے۔ جنرل اسمبلی کے 128 ممبران نے اس قرارداد کے حق میں جبکہ فقط نو ممبران نے اس قرارداد کی مخالفت کی اور 35 ممبران قراداد کی ووٹنگ کے دوران میں موجود نہ تھے۔ اس قرارداد کے پیش کرنے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیز انداز میں بیان دیا اور کہا کہ جو اس قرارداد کے حق میں ووٹ دے گا، ہم اسے دیکھیں گے اور وہ ممالک جو ہم سے لاکھوں ڈالر کی امداد لیتے ہیں، ان کی امداد بند کی جائے گی۔ اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری امریکہ کر رہا ہے اور اب ہم اپنی سرمایہ کاری کا بدل چاہتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکہ اس دن کو یاد رکھے گا جب اسے اقوام متحدہ میں اپنے آزاد ریاست کی حیثیت سے فیصلہ کرنے کے حق کو استعمال کرنے پر تنہا کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ میں موجود امریکی مندوب نکی ہیلی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ہم سے زیادہ کرنے اور زیادہ دینے کا مطالبہ کیا اور جب امریکہ نے اپنے عوام کی منشاء کے مطابق اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کی بات کی تو وہ لوگ جن کی ہم مدد کرتے رہے تھے، ہمیں تنقید کا نشانہ بنانے لگے۔ ہم یہ برداشت نہیں کریں گے اور ان ممالک کی فہرست حاصل کریں گے۔

یاد رہے کہ اس قرارداد کو پیش کرنے والے ملک مصر کا شمار ان ممالک میں سے ہوتا ہے، جو امریکہ سے دفاعی میدان میں امداد وصول کرتے ہیں اور یہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ بہرحال دنیا کو جمہوریت کا بھاشن دینے والا، انسانی حقوق کا چیمپیئن اقوام متحدہ اور عالمی فورمز پر دوسری اقوام کے خلاف جو زبان استعمال کر رہا ہے اور جس طرح سے دھونس دھاندلی اور دباﺅ کے ذریعے ان کی رائے کو بدلنے کے درپے ہے، وہ اس کی فرعونیت اور رعونت کی بین دلیل ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اجلاس نے تو اگرچہ اس قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا، تاہم یہ قرارداد جب سلامتی کونسل کے ایوان میں پہنچی تھی تو امریکہ نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔ سلامتی کونسل میں اس قرارداد کو 14 ووٹ ملے۔ تمام اقوام، ریاستوں کی برابری پر لکھی گئی ہزاروں دستاویزات، چارٹرز، جمہوریت، اقوام عالم کی مشترکہ آواز جیسے سب نعرے اور باتیں ردی کی ٹوکری کا حصہ بن گئے۔ عملاً یہ قرارداد اقوام متحدہ کے ایوانوں میں دم توڑ گئی، تاہم اخلاقی اور سفارتی دنیا میں اس قرارداد نے بھونچال برپا کر دیا ہے۔ امریکہ نو شرمندہ مشٹنڈوں کے ساتھ اقوام عالم کے سامنے کھڑا ہے اور باقی دنیا دوسری جانب کھڑی ہے۔ امریکہ کی تمام تر دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اقوام عالم نے امریکہ کی کھلی بدمعاشی کے سامنے سر نہیں جھکایا، یہ جرات شاید فی الحال قرارداد کے معاملے تک ہی ہے، تاہم دنیا کی مختلف اقوام ، چھوٹے ممالک بالخصوص وہ ممالک جو امریکہ سے بلواسطہ یا بلاواسطہ مدد لیتے ہیں، کی جانب سے ایک بڑا اقدام ہے اور امریکہ رعونت کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہے۔ ترکی کے سربراہ طیب اردغان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے جواب میں کہا کہ جناب صدر ترک جمہوریت بکاﺅ مال نہیں، جو آپ کے کہنے میں آجائے۔

اقوام متحدہ میں تعینات ایرانی مندوب نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا فلسطین پر غاصبانہ قبضہ مشرق وسطٰی اور اس کے گرد و نواح میں موجود مسائل کا مرکزی نقطہ ہے اور اس حقیقت کو اقوام متحدہ تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کی جانب سے اس یکطرفہ اقدام کی مذمت کرتے ہیں، جس نے تاریخی حقائق کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی یہ حرکات، دنیا کے مختلف ممالک سے دھونس و دھاندلی پر مبنی مطالبے، اقوام عالم کی متفقہ قراردادوں کے خلاف چلن اقوام عالم کے لئے چشم کشا ہونے کے ساتھ ساتھ فیصلے کی گھڑی بھی ہیں۔ اقوام متحدہ کے قیام کے وقت سے لے کر 2017ء کے اس اعلان تک امریکہ کی تمام تر منصوبہ بندی، سفارتی کوششیں، کیمپ ڈیوڈ معاہدہ، اوسلو کا معاہدہ، دو ریاستی حل کی قراردادیں سب ایک ڈھونگ تھا، تاکہ اقوام عالم کی آنکھوں میں اپنی امن پسندی کا سرمہ ڈال کر ان کو اپنے اشاروں پر نچایا جائے اور آج اچانک انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں اس ڈھونگ کی ضرورت نہیں رہی۔ اب ہم وہ بات علی الاعلان کر سکتے ہیں جو کل تک ہم ڈھکے چھپے کہتے رہے۔ یہ غور طلب بات ہے کہ امریکہ نے کیوں اپنا نقاب اتار پھینکا۔ کیا اس کے پیچھے کوئی بے چینی ہے، کیا یہ کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، کیا انہیں حالات ایسے نظر آرہے ہیں کہ اب انہیں یہ بات کرنی چاہیے؟ اس کے لئے یقیناً عالمی حالات کا دقیق جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کے معاشی مسائل، چین اور روس کی خطے میں بڑھتی ہوئی طاقت، مشرق وسطٰی میں موجود ساتھیوں کی کمزور حیثیت، ان کی پسپائی، شام کے منصوبے کی ناکامی، مقاومتی بلاک کی پیش رفت، یہ وہ تمام عوامل ہیں جنھوں نے ہوسکتا ہے امریکہ اور اسرائیل کو اس اقدام پر مجبور کیا ہو۔ اس کے برعکس یہ بھی ممکن ہے کہ وہ منصوبہ ساز جو اسرائیل کے قیام کے لئے کوشاں تھے اور جنھوں نے اس ناجائز ریاست کے قیام کے وقت سے لے کر آج تک اپنے افرادی، فکری اور مالی وسائل کو صرف کیا، ملکوں کی صورتحال اور دنیا میں امریکہ و اسرائیل کی حیثیت کو اس قابل جانتے ہوں کہ اس موقع پر یہ اعلان کرنا ان کی نظر میں درست ہو اور وہ سمجھتے ہوں کہ اس کا کوئی خاطر خواہ ردعمل سامنے نہیں آئے گا۔ چند قراردادوں، تھوڑی سی چیخ و پکار کے بعد سب ممالک اس حقیقت کو تسلیم کر لیں گے کہ یروشلم ہی اسرائیل کا دارلخلافہ ہے۔ یہ فلسطین کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے۔

فلسطین پر سودے بازی کا آغاز جو کہ 1947ء یا اس سے بھی پہلے سے شروع ہوا، جو درجہ بدرجہ آگے بڑھ رہا ہے۔ عرب جو اسرائیل کے وجود کو تسلیم ہی نہ کرتے تھے، گذشہ اسی برسوں میں دو ریاستی حل تک آئے اور جو بات اقوام عالم سے انہوں نے قبول کروائی یہی تھی کہ یروشلم فلسطینیوں کا ہو۔ آج امریکی ایما ءپر ایک نئی تحریک کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں مطالبہ یہ ہے کہ اب یروشلم سمیت فلسطین کے کسی علاقے پر فلسطینیوں کا کوئی حق نہیں۔ فلسطینیوں کے علاقے ایک بلدیہ یا میونسپلٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اصل ریاست اسرائیل ہے، جسے اقوام عالم بہرحال قبول کرتی ہیں، لہذا اقوام متحدہ کے وہ تمام صحیفے جو یروشلم کی حیثیت کے بارے لکھے گئے تھے، آج کے بعد کالعدم ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی یہ بے معنی قراردادیں بہت جلد دم توڑ جائیں گے اور اقوام عالم بہت جلد اپنے کونسلیٹس جو کہ یروشلم میں موجود ہیں، کو ہی اپنے سفارت خانے قرار دینے لگیں گی۔ مسلم دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جو امریکہ یا اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف کوئی عملی یا سفارتی راست اقدام انجام دے سکے۔ نہ مصر کیمپ ڈیوڈ معاہدے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے، نہ ہی ہمسایہ ممالک اپنے سرحدی معاہدوں کو کالعدم کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ نہ ہی ترکی میں موجود اسرائیلی سفارت خانہ بند ہوگا اور نہ ترک سفیر اسرائیل سے واپس جائیں گے، بحرین اور قطر کے اسرائیل سے کاروباری روابط بھی بدستور قائم رہیں گے، نیتن یاہو کے بقول سنی عرب ریاستوں سے بننے والے نئے تعلقات کی پینگیں بھی جھولتی رہیں گی۔ جنھوں نے کچھ عملی کرنا ہے، وہ پہلے سے کر رہے ہیں اور انہی کو آزادی کے اس شعلے کو زندہ و تابندہ رکھنا ہے۔ قدس اور فلسطین کی آزادی مسلم امہ کے دلوں کی آواز ضرور ہے، تاہم اس آواز کو عالمی ایوانوں تک پہنچانے والے آلات امت کے ہاتھوں میں نہیں ہیں، گھر میں ان کی صدا اور ہوتی ہے اور عالمی ایوانوں میں جا کر ان آلات سے اور صدائیں برآمد ہوتی ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، جسے اب امت کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ ایک لبنانی راہنما نے کیا خوب کہا کہ القدس کا تقدس اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ اس کی آزادی میں کسی خائن کا کوئی ہاتھ ہو، وہ چاہتا ہے کہ مجھے امت کے شرفاء ہی آزادی و استقلال سے ہمکنار کریں۔
خبر کا کوڈ : 691642
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب