0
Friday 29 Dec 2017 15:11

بنوں جیل میں دوران حراست قیدی کا بہیمانہ قتل

بنوں جیل میں دوران حراست قیدی کا بہیمانہ قتل
تحریر: روح اللہ طوری

کرم ایجنسی بالعموم اور اسکا صدر مقام پاراچنار بالخصوص ایک، ڈیڑھ دہائی سے گونا گوں مسائل و مشکلات کا شکار ہے۔ کبھی لشکر کشی، تو کبھی خودکش دھماکے، کبھی کھیتوں میں بارودی سرنگیں بچھا کر اپنی قسمت سے بے خبر کاشتکاروں کو ہلاک یا عمر بھر کے لئے اپاہج کرنا، تو کبھی سرکاری روڈ پر گاڑیوں سے اتار کر خواتین اور بچوں سمیت نہتے مسافروں کو اغوا یا ذبح کرنا، نیز دیگر متعدد طریقوں سے دہشتگردوں نے اس علاقے کو وقتاً فوقتاً اپنے ظلم اور بربریت کا نشانہ بنایا ہے۔ سالوں پر محیط، دہشتگردوں کے مظالم کی اس طولانی فہرست کا احاطہ اس مختصر سی تحریر میں ممکن نہیں اور زیر نظر یہ تحریر بھی دہشتگردوں کے مظالم سے متعلق نہیں، بلکہ یہاں ایک انوکھے ظلم کی کہانی سنائی جا رہی ہے۔ جو بنوں جیل کے (سرکاری) سپرنٹینڈنٹ کی جانب سے پاراچنار کے ایک قیدی پر روا رکھے جانے والے ظلم پر مبنی ہے۔ جس میں بالآخر قیدی شیر افضل ساکن زیڑان کی جان چلی گئی۔ شیر افضل کا بنیادی تعلق تو لوئر کرم کے علاقے جالندھر سے ہے، تاہم تین سال کی عمر میں انکے والد میر افضل کی وفات ہوگئی تو بیوہ ہونے پر والدین نے شیر افضل کی ماں (پہلہ جانہ) کی شادی زیڑان زوڑ کلی میں انعام علی سے کر دی۔ انعام علی گورنمنٹ ڈگری کالج پاراچنار (جو اسوقت اپ گریڈ ہوکر پوسٹ گریجویٹ کالج ہوچکا ہے) میں سرکاری ملازم تھا اور 1980ء میں مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہوگیا۔

شیر افضل کے متعلق تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ چرس پینے کا عادی تھا، تاہم نشے کی وجہ سے وہ کسی کی دلآزاری نہیں کرتا تھا۔ ہوا یوں کہ 19 اکتوبر 2017ء کو بغیر کسی نوٹس یا تنبیہہ کے اسے ہزارہ قبرستان چیک پوسٹ سے گرفتار کر لیا گیا اور صرف تین یا چار دن سب جیل پاراچنار میں رکھنے کے بعد مقامی انتظامیہ نے اسے چالان کرکے بنوں جیل بھیج دیا اور صرف چند ہی دن گزرنے کے بعد بنوں جیل سے اسکا جنازہ آگیا۔ غسل دیتے وقت پتہ چلا کہ مقتول کو بری طرح جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور شدید جسمانی تشدد کے بعد اسکی گردن توڑی جا چکی ہے۔ گذشتہ روز مرحوم شیر افضل کی والدہ محترمہ پہلا جانہ کے ساتھ راقم کی ملاقات اس وقت ہوگئی، جب وہ اپنے بیٹے کی مظلومیت پر مبنی تصاویر لئے مختلف قومی اداروں اور تنظیموں کے در کھٹکھٹا رہی تھی۔ مرکزی انجمن حسینیہ، مجلس علمائے اہلبیت اور پتہ نہیں دیگر کتنے اداروں کے بعد پہلا جانہ نے تحریک حسینی کے دفتر کا رخ کیا۔ اپنے احتجاجی اس سفر کے دوران انہوں نے ہر ذمہ دار کو اپنے بیٹے کی مظلومیت کی کہانی سنائی۔

کہانی سناتے ہوئے محترمہ پہلا جانہ کے رخساروں پر آنسؤوں کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔ انکا کہنا تھا کہ 19 اکتوبر 2017ء کو میرا بیٹا شیر افضل بازار جا رہا تھا کہ ہزارہ قبرستان کے ساتھ واقع چیک پوسٹ پر اسے گرفتار کرکے سب جیل پاراچنار بھیج دیا گیا۔ چند دن بعد معلوم ہوا کہ دو تین دن سب جیل میں رکھنے کے بعد شیر افضل کو چالان کرکے بنوں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ بنوں جیل میں بھی تین یا چار دن گزر کے بعد 27 اکتوبر کو (یعنی گرفتاری کے صرف 8 دن بعد) میرے بیٹے کے انتقال کی اطلاع موصول ہوگئی۔ 28 اکتوبر کو جب اسکا جنازہ پاراچنار پہنچا تو غسل و کفن کے دوران پتہ چلا کہ انکے جگر گوشہ (بیٹے) کو انتہائی ظلم کا نشابہ بناکر قتل کیا گیا ہے، جسکا پورا ثبوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل سے رہائی پانے والے اسکے ایک ساتھی کا کہنا تھا کہ جیل میں موجود شرپسندوں اور دہشتگردوں نے شیر افضل کو بار بار مذہبی حوالے سے چھیڑ کر طیش دلائی، شرپسندوں ساتھ ہاتھا پائی ہوئی تو جیل سپرنٹینڈنٹ نے اس خاتون کے بیٹے کو بری طرح سے تشدد کا نشانہ بنایا۔

محترمہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مرحوم کی کمر پر موجود زنجیر زنی کے نشانات کو جلایا اور بعض کو چھری سے کاٹا گیا تھا۔ اس دوران انہوں نے وہ تصاویر بھی فراہم کیں، جس میں مرحوم لاش پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔ محترمہ کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا چرس پیتا تھا، جو کہ صحت کے لئے مضر ہے، مگر کیا اس عمل سے اس نے پاکستان کی سالمیت کو کوئی نقصان پہنچایا تھا اور کیا پاکستان کا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ چرس پینے پر کسی کو قید کے دوران بری طرح تشدد کا نشانہ بناکر قتل کر دیا جائے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ تشدد کے دوران جب اسکا بیٹا فریاد کرتا تھا تو جیل انچارج نہایت غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے یہاں تک کہتا تھا کہ جاؤ اب اپنے امام علی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو پکارو۔ اس پر شیر افضل بہت سیخ پا ہو جاتا تھا، لیکن کیا کرتا مجبور تھا، جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی تشدد بھی سہنا پڑتا تھا۔ جیل انچارج نے معمولی تشدد پر صبر نہیں کیا بلکہ پیٹھ پر موجود زنجیر زنی کے نشانات میں سے کچھ کو سگریٹ سے جلایا جبکہ کچھ کو چھری سے کاٹا گیا۔ اس سے بھی ایک قدم بڑھ کر بالآخر شیر افضل کے گردن کو مروڑ کر توڑا گیا، جسکی وجہ سے وہ جان ہاتھ سے دھو بیٹھا۔

ذمہ دار قومی اداروں سے پہلہ جانہ بی بی کی یہ گزارش تھی کہ اسکا بیٹا تو اب واپس زندہ نہیں ہوسکتا، تاہم کے پی کے حکومت کو اس بات پر مجبور کرنا چاہئے کہ یا تو بنوں جیل میں اہل تشیع کے لئے علیحدہ بیرک کا انتظام کیا جائے، اگر وہاں ایسا کرنا ممکن نہیں تو شیعہ قیدیوں کو پاراچنار جیل سے کہیں اور نہ لے جایا جائے۔ اپنی پوری گفتگو کے دوران مرحوم کی والدہ کے چہرے پر آنسو جاری تھے، تاہم ان کا جذبہ دیدنی تھا۔ وہ پرجوش لہجے میں مسلسل بول رہی تھیں کہ وہ اپنی آواز کو ہر فورم اور ہر پلیٹ فارم پر اجاگر کرے گی اور اس سلسلے میں کسی دھونس یا دھمکی کی بھی کوئی پروا نہیں کرے گی۔ اس سلسلے میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بنوں میں جیل انچارج کو پاراچنار انتظامیہ کی جانب سے ایسی ہدایات ملی تھیں؟ کہ شیر افضل کو ایک ہفتے کے اندر اندر اپنے انجام تک پہنچایا جائے یا انہوں نے از روئے تعصب یہ سب کچھ کیا۔ پہلی صورت میں پاراچنار انتظامیہ مجرم ٹھہرے گی، تو ایسی صورت میں اہلیان کرم کا بالعموم جبکہ انجمن حسینیہ اور تحریک حسینی کا بالخصوص فرض بنتا ہے کہ وہ کرم انتظامیہ کے خلاف ملکر عدالت میں کیس لڑیں اور اسکا پیچھا اس وقت تک نہ چھوڑیں، جب تک انہیں شرمندہ اور رسوا نہیں کیا جاتا۔ نیز دوسری صورت میں بھی بنوں جیل سپرنٹینڈنٹ کے خلاف کیس دائر کیا جائے، تاکہ آئندہ اہلیان کرم کو بنوں یا کسی بھی دوسری جیل میں ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 
خبر کا کوڈ : 693257
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب