0
Thursday 4 Jan 2018 15:59

عالمی منظر نامہ پر امریکی ناکامی

عالمی منظر نامہ پر امریکی ناکامی
تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان


طول تاریخ میں امریکہ کی سیاسی منظر نامہ پر شکست کی ایک طویل داستان موجود ہے، جو کبھی ویت نام کی صورت میں تو کبھی ناکامیوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہونے کے باعث ہیروشیما پر ایٹم بم کے حملوں سمیت متعدد مرتبہ ہمیں مختلف ممالک میں فوجی چڑھائی کی صورت میں ملتی ہے۔ دراصل امریکی جارحیت ہمیشہ امریکہ کی ناکام سیاست کا پیش خیمہ رہی ہے، کیونکہ جب امریکی سیاست عالمی منظر نامہ سے آؤٹ ہوئی ہے تو پھر اسی طرح کے حالات و واقعات کا دنیا کو سامنا کرنا پڑا ہے۔ بہرحال اس کالم میں ماضی بعید نہیں بلکہ ماضی قریب کی بات کی جائے گی یعنی کہ نائین الیون۔ جی ہاں نائن الیون بھی دراصل امریکی سیاست کے عالمی منظر نامہ پر ناکامی کا ایک سیاہ دھبہ ہے، جس کے بارے میں آج تک متعدد رپورٹس شائع ہو رہی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ خود نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کی ناکامی کا نیا باب 2001ء میں افغانستان سے شروع ہوتا ہوا 2003ء میں عراق پہنچا اور اسی طرح بدستور 2006ء میں اسرائیل کی جانب سے لبنان پر مسلط کردہ جنگ کی صورت میں لبنان پہنچا، اور پھر اسی طرح 2007ء اور 2008ء غزہ کی پٹی جا پہنچا۔ اسی طرح 2011ء میں ایک نئی امریکی ایجاد داعش کی صورت میں منظر نامہ پر ابھری، اگرچہ اس سے قبل بھی القاعدہ اور طالبان جیسی امریکی ایجادات مسلمان ممالک میں سامنے آچکی تھیں، لیکن داعش اپنی نوعیت کی ایک الگ ہی ایجاد تھی۔

بہرحال یکے بعد دیگرے امریکہ کو ہر محاذ پر شکست کا سامنا ہوا اور سب سے بڑی شکست 2017ء میں شام و عراق میں امریکی کٹھ پتلی داعش کی شکست تھی۔ داعش کی شکست کی طویل داستان ہے، جسے کسی اور کالم میں پیش کروں گا، جبکہ ماضی میں شائع ہونے والے کالمز میں کچھ حد تک بیان کی جا چکی ہے۔ دراصل اس ساری منصوبہ بندی میں امریکہ کی کوشش یہی تھی کہ کسی طرح اپنی ناکام سیاست کی پردہ پوشی کی جائے اور اس گھمنڈ کو برقرار رکھنے کے لئے امریکہ نے خود براہ راست اور اپنے اتحادیوں کے ذریعے لاکھوں معصوم انسانوں کا خون بہانے سے بھی دریغ نہ کیا، یہ خون سرزمین فلسطین سے لبنان و شام و عراق اور پاکستان سمیت افغانستان کی سرزمین پر مسلسل بہایا گیا۔ گذشتہ پندرہ سالہ حالات و واقعات یہی بتاتے ہیں کہ امریکہ کی عالمی منظر نامہ میں سیاست کا مرکز و محور مشرق وسطٰی کا خطہ ہی رہا ہے، جہاں امریکہ ہمیشہ سے کوشش میں رہا ہے کہ بالا دستی حاصل کرسکے اور اس خطے میں اسرائیل جیسے جرثومہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، نائن الیون کے بعد سے پورے خطے کو جس طرح کے حالات و واقعات درپیش رہے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان حالات و واقعات کا موجد خود امریکہ ہی تھا کہ جس کے مقاصد میں ایک طرف فلسطین کاز کو دنیا میں نابود کرنا تھا تو ساتھ ساتھ فلسطین کاز کی حمایت کرنے والوں کا خاتمہ بھی تھا۔ فلسطین کاز کی حمایت کرنے والوں کی لسٹ امریکہ کے اتحادیوں جیسی لمبی فہرست نہیں ہے بلکہ چیدہ چیدہ قوتیں یا ممالک ہیں، جن میں پاکستان، ایران، شام، فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس، جہاد اسلامی، لبنان میں موجود اسلامی مزاحمت حزب اللہ اور دیگر ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوا؟ اگر افغانستان ہی سے شروع کریں تو جواب یہ ہے کہ آج بھی امریکہ افغانستان میں اپنی شکست کو چھپانے کے لئے پاکستان پر الزام تراشیاں کر رہا ہے، اسی طرح عراق کے بارے میں بات کی جائے تو عراق آج پہلے سے زیادہ مستحکم ہوچکا ہے اور صلاحیت رکھتا ہے کہ امریکہ کی داعش جیسی ایجادات کو نابود کر دے اور ایسا عملی طور پر کیا گیا ہے، عراق میں بسنے والی تمام اکائیاں امریکی خواہشات کے برعکس متحد اور یکجا ہوچکی ہیں، جو خود امریکہ کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اب گذشتہ دنوں عراقی کردوں کی حمایت کی ہے اور عراق میں سیاسی بھونچال پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اسی طرح لبنان کی بات کریں تو یہاں بھی امریکہ اور اس کے ناجائز بچے اسرائیل کو شکست کا سامنا ہے، 2006ء کی 33 روزہ جنگ میں براہ راست اسرائیلی افواج کو شکست ہوئی تو حقیقت میں یہ شکست امریکہ کی تھی، کیونکہ اس وقت کے امریکی حکمران یہ کہتے تھے کہ بس چند دن میں لبنان ان کے کنٹرول میں ہوگا، لیکن آج گیارہ سال کے بعد بھی ان کی ناپاک سیاست وہاں پر کامیاب نہیں ہو پائی۔ اسی طرح حالیہ دنوں امریکہ اور اسرائیل سمیت ہمارے عرب اسلامی ملک نے لبنان کے وزیراعظم کو ریاض بلا کر استعفٰی دلوایا، جس کا مقصد لبنان کو سیاسی طور پر غیر مستحکم کرنا تھا، لیکن چند دن بعد اسی وزیراعظم کو لبنان واپس جا کر معافی مانگ کر استعفٰی واپس لینا پڑا، یہ ایک اور بڑی شکست تھی، جو دراصل امریکہ کے حصے میں آپہنچی۔

شام کی مثال لے لیجئے، امریکہ نے گذشتہ چند سال تک شام کو تہس نہس کرنے کے لئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، لیکن آج بالآخر شام کے عوام شامی حکومت کے ساتھ ہیں، یہاں بھی امریکہ کی دشمنی شامی حکومت سے اس لئے تھی کہ شامی حکومت فلسطین کاز کی حمایت میں ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے دشمن ایران کے ساتھ ہے اور اسرائیل کو ناجائز و غاصب سمجھتی ہے، جبکہ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کرنے والی مزاحمتی تنظیموں کے لئے مدد فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ بہرحال اب جس حلب پر امریکہ اور اس کی اسلامی دنیا میں اسلام کے لبادے میں چھپی مشینری واویلا کر رہی تھی، حال ہی میں اسی حلب میں دسیوں ہزار لوگ کرسمس کے موقع پر جمع ہوئے اور مسیحی عوام کے مذہبی تہوار کو مل جل کر منایا، جس کی تصاویر دنیا بھر کے آزاد ذرائع ابلاغ نے بھی شائع کیں، جس سے امریکی سیاست کی ایک اور ناکامی ثابت ہوئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ کی گذشتہ پندرہ سالوں میں مشرق وسطٰی میں کی جانے والی تمام تر سیاسی چالیں دراصل اس لئے تھیں کہ ایران اور اسلامی مزاحمتی تحریکوں اور ان تمام ممالک کو تباہ و برباد کر دیا جائے جو فلسطین کے عوام کے مدد گار ہیں اور اسرائیل کے کھلے دشمن ہیں، داعش کا وجود اور خطے میں جاری رہنے والی 6 سالہ جنگ بھی دراصل اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک چال تھی، جو بالآخر ناکام ہوئی۔ امریکہ اپنے تمام تر حربوں میں ناکام ہوتا رہا اور بالآخر اب ناکامی کا اعتراف امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں فلسطین کے ابدی دارالحکومت القدس (یروشلم) کو غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا یکطرفہ اعلان و فیصلہ کرکے کیا، جسے خود اقوام متحدہ میں اکثریت کے ساتھ مسترد کر دیا گیا۔ پوری دنیا فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے اور امریکہ تنہا ہو رہا ہے۔

بہرحال امریکہ تو ایک فرعون ہے، یعنی شکست کھانے کے باوجود بھی سرکشی کرنا امریکی سیاست کا عین شیوہ اور وطیرہ رہا ہے، اب امریکہ نے نئی چال چلتے ہوئے پہلے ایران میں ہونے والے مہنگائی مخالف مظاہروں کی اتنی جلد بازی میں حمایت کی کہ اب تا دم تحریر یہ مظاہرے دم توڑ چکے ہیں، جن کا رخ موڑنے کی امریکہ اور برطانیہ سمیت اسرائیل کی بھرپور کوشش تھی، لیکن چند دنوں میں ہی ایران کی بابصیرت قیادت اور خودار عوام نے فتنہ کو ناکامی سے دوچار کر دیا ہے، جس پر امریکہ کو پھر ایک بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ایران میں امریکی ناکامی کے بعد اب پھر امریکہ نے پاکستان پر الزام تراشیوں کا نیا بازار گرم کیا ہے، لیکن یہاں بھی عوام اور سیاست دانوں سمیت حکمرانوں کی جانب سے امریکہ کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا ہے، امریکی احکامات اور اعلانات کو شدت کے ساتھ مسترد کیا گیا ہے، جو خود امریکہ کی ایک اور بڑی شکست ہے۔ امریکہ کی مسلسل شکست نے شاید امریکی حکمرانوں کو ذہنی دباؤ کا شکار کر دیا ہے کہ جس کے باعث اب وہ دنیا بھر میں انارکی پھیلانے کی ناپاک کوششیں کر رہے ہیں، حالانکہ امریکہ ایران اور پاکستان سمیت شام و دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی پائمالیوں کا دعوے دار ہے، لیکن کیا کبھی کسی نے غور کیا ہے کہ امریکی حکومت کو فلسطین میں امریکی اسلحہ کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی پائمالی نظر نہیں آتی۔
خبر کا کوڈ : 695266
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے