0
Wednesday 3 Jan 2018 22:10

ولیم شکسپئر کے ڈرامے کا ایک کردار اور ڈونلڈ ٹرمپ

ولیم شکسپئر کے ڈرامے کا ایک کردار اور ڈونلڈ ٹرمپ
تحریر: فدا حسین بالہامی
fidahussain007@gmail.com

ولیم شیکسپئرکا شمار انگریزی ادب کے عظیم شعراء اور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ اپنی بلند پایہ شاعری سے انگلستان کے قومی شاعر بن گئے اور انہوں نے ڈرامہ نویس کی حیثیت سے بھی شہرت کے آسمان کو چھو لیا۔ ’’جولیس سیزر‘‘ (Julius Caesar) ان کا لکھا ہوا ایک مشہور ڈراما ہے۔ اس ڈرامے میں جولیس سیزر(Julius Caesar)کے نام سے ایک اہم کردار ہے، جسے روم کے ایک فوجی جنرل کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ اس ڈرامے میں کیسیس(Cassius)، مارک انٹونی(Mark Antony) اور بروٹس (Brutus) نامی کردار بطورِ اشرافِ روم نمودار ہوتے ہیں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ جولیس سیزر(Julius Caesar)جب ایک جنگ میں فتحمندی کے ساتھ اپنے ملک روم واپس لوٹتا ہے تو مذکورہ اشراف روم یعنی کیسیس(Cassius)، انٹونی(Mark Antony) اور بروٹس کو جولیس کے تئیں یہ اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے کہ کہیں وہ یعنی جولیس سیزز Julius Caesar) اپنی اس فتح کے عوض ملنے والی شہرت و مقبولیت کا غلط استعمال نہ کرے اور روم کا مطلق العنان حاکم بن کر روم میں مساوات اور عدلِ اجتماعی کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ دے۔ اس شہرت و مقبولیت کی وجہ سے سیزر (Julius Caesar) کے رویہ میں بھی واقعاً تبدیلی رونما ہو جاتی ہے اور اشرافِ روم علی الخصوص بروٹس اور کیسیس جولیس سیزر ( Julius Caesar) کے رویہ سے یہ بھانپ جاتے ہیں کہ یہ شخص روم کا مطلق العنان حاکم بننے جا رہا ہے۔ بہر صورت کیسیس اور بروٹس اسی اندیشہ کے پیش نظر سیزر (Julius Caesar) کو قتل کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ سیزر کے قتل کا منصوبہ بنانے والے دونوں اشراف اس کے گہرے دوست بھی ہوتے ہیں۔ لیکن اسے (سیزر Julius Caesar) کو قتل کرنے کا سبب ان دونوں کے لئے یکساں نہیں تھا۔ جہاں ایک طرف کیسیس ذاتی عناد کی وجہ جولیس کو موت کی گھاٹ اتار دینا چاہتا ہے، وہیں بروٹس کو یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ سیزر(Julius Caesar) روم کا بادشاہ بننے جا رہا ہے اور اس کی بادشاہت رومی عوام کے مابین برابری اور مساوات کے خاتمے کا سبب بنے گی اور وہ پورے ملک کو غلامی کی زنجیروں میں جھکڑ لے گی۔

کیسیس، بروٹس اور چند دیگر اشراف اسی میٹنگ ہال میں ہی سیزر کو قتل کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں، جس میں اس کی شرکت متوقع تھی۔ چنانچہ سیزر (Julius Caesar) اپنی بیوی کے منع کرنے کے باوجود اشرافِ روم کے ساتھ سینیٹ کی میٹنگ میں شامل ہوتا ہے اور موقع پاتے قتل کی سازش رچانے والوں میں سے ایک شخص جولیس سیزر (Julius Caesar) پر خنجر کے ذریعے قاتلانہ حملہ کرتا ہے۔ وہ اس کے وار کو اپنے ہاتھوں سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی اثناء میں جولیس کا قریبی دوست بروٹس بھی جولیس سیزر پر قاتلانہ وار کرتا ہے۔ چنانچہ بروٹس، سیزر کا سب سے مخلص دوست اور معتمدِ خاص تھا، جس کی سچی دوستی، خلوصِ محبت اور فہم و فراست پر سیزر کو حد درجے کا اعتماد تھا۔ لہٰذا جب سیزر نے یہ دیکھا کہ اس کا معتمدِ خاص اور مخلص دوست بھی اس کے قتل کرنے پر تلا ہوا ہے تو اسے حیرت آمیز صدمہ ہوتا ہے۔ وہ بروٹس سے مخاطب ہو کر بے ساختہ کہتا ہے’’Oh Brutus you too‘‘ "یعنی بروٹس، تم بھی میرے قاتلوں میں شامل ہو؟ اور پھر سیزر اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ جب بروٹس جیسا مخلص ترین دوست بھی تیری مخالفت میں تیرا دشمنِ جاں ہو جائے تو اے سیزر! یقیناً تجھے اپنے کرتوت کی وجہ سے ہی یہ دن دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لہذا جسے بروٹس جیسا بے لوث دوست مارے اسکا مر جانا ہی بہتر ہے۔

اس ڈرامے کی کہانی کا اطلاق اگر ہم موجودہ عالمی حالات پر کریں اور جولیس سیزر کے کردار کی روشنی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی عجیب و غریب شخصیت کو دیکھیں تو یہی نتیجہ سامنے آجائے گا کہ ٹرمپ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کو اپنی تانا شاہی اور من مانی کے آگے سرتسلیم خم دیکھنا چاہتا ہے، لیکن دشمن تو دشمن اس کے اپنے خاص الخاص اور سیاسی دوست بھی اس کی حماقتوں کے سبب آج اس کے حریف نظر آرہے ہیں۔ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے متعلق ٹرمپ کا جو حالیہ بیان سامنے آگیا نیز جس کے ردِعمل میں جو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا، وہ ہو بہو شیکسپئر کے ڈرامے ’’جولیس سیزر‘‘(Julius Caesar) کے اس منظر کی عکاسی کر رہا ہے، جس میں ’’سیزر‘‘ (Julius Caesar) تن تنہاء دکھائی دے رہا تھا کیونکہ اس کے قریب ترین اور مخلص ترین دوست بھی اس کی مخالفت پر اتر آئے تھے۔ یونہی اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ بھی پوری دنیا میں تنِ تنہاء اور الگ تھلگ لگ رہا ہے۔ جن ممالک کی دوستی کا دم بھرتا تھا، انہوں نے بھی اسے جنرل اسمبلی میں رسوائی کے ہاتھوں مار ڈالا۔ یورپی یونین کے بیشتر ممالک، سلامتی کونسل کے مستقل ارکان یعنی روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے علاوہ عرب لیگ کے قریب قریب سبھی ممالک نے ٹرمپ مخالف قرارداد کی تائید میں ووٹ دیا۔ گویا مشرق و مغرب ٹرمپ کی مخالفت پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں متفق نظر آیا۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ تمام عرب ممالک بشمول مصر کی موجودہ امریکہ نواز حکومت اس قرارداد کو کامیاب بنانے میں پیش پیش نظر آئے۔ ایسے میں اگر ٹرمپ کے کاسہ سر میں جولیس سیزر(Julius Caesar) کی طرح دیکھنے والی آنکھ اور اس کے باطن میں ضمیر نام کی کوئی چیز ہوتی نیز دوسری جانب بروٹس(Brutus) جیسا کوئی مخلص دوست بھی ہوتا تو ڈونلڈ ٹرمپ بھی ضرور وہی کہتا جو مرتے وقت جولیس سیزر (Julius Caesar) نے کہا تھا کہ اے میرے فلاں جگری دوست تو بھی اور میری مخالفت میں! لیکن یہاں تو معاملہ بالکل برعکس ہے، مسٹر ٹرمپ کو اپنی غلط پالیسی کا اعتراف تو دور کی بات احساس تک نہیں ہے۔ اس نے پوری دنیا کی رائے کو غلط قرار دے کر اپنی ہی رائے کو اقوام عالم پر تھوپنے کی جی توڑ کوشش کی اور اس سلسلے میں عالمی سیاست کے ضابطۂ اخلاق کو بالائے طاق رکھ کر اپنے نہایت ہی کارگر ہتھکنڈے کو استعمال کیا، جس کا استعمال امریکہ وقتاً فوقتاً کرتا آیا ہے اور وہ ہے معاشی امداد روکنے کا ہتھکنڈہ! امریکہ کے خود غرض حلیف ممالک ’’بروٹس‘‘ کی خلوصِ نیت کہاں سے لائیں اور ٹرمپ کو بھی کیسے’’جولیس سیزر‘‘ جیسی اخلاقی جرات نصیب ہو کہ وہ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ اپنے قریبی دوستوں کو اپنی مخالفت میں دیکھ اپنے ہی گریباں میں جھانکے اور اپنے رویہ کا ہی جائزہ لے کر اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔

دراصل جب سے مسٹر ٹرمپ راہوارِ اقتدار پر سوار ہوئے، اس نے گویا ہوش و حواس ہی کھو دیئے۔ وہ اس رہوارِ اقتدار پر جیسے بے اختیار بیٹھیے ہیں۔ اس کو کہاں جانا ہے نہیں معلوم۔ اس کو کیا کہنا ہے نہیں پتہ۔ کیا فیصلہ لینا ہے، اس کی بلا جانے۔ وہ اپنے منہ سے غیر منطقی بات کے سوا کچھ اگلتا ہی نہیں اور جو بھی اہم قدم اس نے اٹھایا وہ ناانصافی پر مبنی تھا۔ اس کا ہر انوکھا فیصلہ انصاف کش ثابت ہوا۔ پوری عالمی برادری اس کی عجیب و غریب حرکتوں سے نالاں ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے بیان کا ردِعمل جس انداز سے سامنے آیا ہے، اس نے یہ ثابت کر دیا کہ مسٹر ٹرمپ نے نہ صرف اندرونِ امریکہ اپنی تانا شاہی کا سکہ جمانا چاہتا ہے بلکہ پوری دنیا کو اپنی من مانی کے کوڑے سے ہکانا چاہتا ہے۔ اگر صدرِ امریکہ کو جمہوری نظام اور اور عالمی برادری کے مشترکہ اور متفقہ فیصلوں کا پاس و لحاظ ہوتا تو وہ کسی فلمی ویلن کی طرح ان ممالک کا راشن پانی بند کرنے کی دھمکی نہ دیتا، جنہوں نے اس کے حالیہ اعلان کے خلاف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹ دیا۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک سو اٹھائیس ممالک نے امریکی صدر کے اعلامیہ کو سختی سے مسترد کر دیا۔ صرف نو رکن ممالک نے ٹرمپ کے حق میں اپنے رائے ظاہر کی، جن میں اسرائیل اور امریکہ بھی شامل ہیں۔ یعنی پوری عالمی برادری میں سے محض سات ممالک نے ٹرمپ کی اس حماقت کو تسلیم کیا۔ پنتیس ممالک نے اس اجلاس میں شمولیت نہیں کی۔ ہو نہ ہو ان ٹرمپ کے حمایتی ان سات ممالک اور اجلاس میں شامل نہ ہونے والے پنتیس ممالک پر امریکہ کی پیشگی دھونس اور دباو کا اثر رہا ہو۔ اس کے باوجود امریکہ نے تمام تر عالمی سیاست کے ضابطۂ اخلاق کو بالائے طاق رکھ کر اسرائیل نوازی کی انتہاء کر دی۔

بہرکیف ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیل کی تمام تر کوششیں اس حوالے سے کارگر ثابت نہ ہوسکیں۔ اس لحاظ سے اس قرارداد کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہوگی، کیونکہ امریکہ نے اجلاس سے قبل ہی اپنی انتظامی مشینری کو فعال کر دیا تھا کہ وہ اس اجلاس کو روکنے کے لئے اپنے تمام تر ہتھکنڈے بروئے کار لائے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی جانب سے نمائندگی کرنے والے مندوب نیکی ہیلی نے اپنے تانا شاہ ٹرمپ کے فرمان کے عین مطابق جنرل اسمبلی کے بیشتر ارکان کو دھمکی آمیز خطوط بھیجے کہ اس قرارداد کی حمایت نہ کریں، لیکن تمام تر دھمکیوں کے باوجود بیشتر ارکانِ جنرل اسمبلی نے اس قرارداد کو بھاری اکثریت سے پاس کیا۔ یقیناً اقوام عالم کا امریکہ کے خلاف یک زبان ہو کر کسی مسئلے پر رائے ظاہر کرنا بذاتِ خود ایک بڑا اور تاریخ ساز قدم ہے۔ حالانکہ بعض تجزیہ کار اس قرارداد کے مثبت نتائج کے حوالے سے کافی ناامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو ان قراردادوں سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، کیونکہ وہ ان قراردادوں کو کبھی بھی خاطر میں ہی نہیں لائے ہیں، جو اب تک اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف پیش ہوتی آئی ہیں۔ گذشتہ سال اسی دسمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرار داد نمبر2334 اسرائیل کے خلاف پاس ہوئی، جس کے مطابق میں اسرائیل نے 1967ء کے بعد فلسطین کی سرزمین بشمول مشرقی یروشلم میں جتنی بھی یہودی بستیاں بسائی ہیں، وہ سب غیر آئینی ہیں۔ مگر اسرائیل ان قراردادوں کی دھجیاں بکھیرتا آیا ہے اور اقوام متحدہ اس کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے قاصر ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے اس مرتبہ بھی اقوام متحدہ کے متعلق کافی سخت و سست الفاظ استعمال کرکے کہا کہ یہ جھوٹ کا گڑ ھ ہے۔

اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے ’’اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کو کٹھ پتلیوں سے تعبیر کیا کہ جن کی باگ ڈور فلسطین کے حمایتی ممالک کے ہاتھوں میں ہے۔‘‘ اس نے مزید کہا کہ ’’یہ ممالک کور چشم ہیں، جو صداقت کو درک کرنے اور حقائق کو دیکھنے کے لئے بصارت و بصیرت سے عاری ہیں۔‘‘ ان حقائق کو مدنظر رکھ کر یہ سوال یقیناً جواب طلب ہے کہ جب عملی اعتبار سے مذکورہ قرارداد کا کوئی اثر مخالف فریق پر نہیں پڑنے والا ہے تو ایسے میں اس کی اعتباریت اور ساکھ کیونکہ برقرار رہ سکتی ہے؟ دراصل موجودہ دنیا میں ہر شخص ہر عمل کے نتیجہ خیز (result oriented) ہونے پر زور دیتا ہے اور نتیجہ بھی ٹھوس اور ثابت (solid and concrete )ہو، لیکن کچھ نتائج نہایت ہی لطیف اور باریک ہوتے ہیں کہ جنہیں درک کرنے کے لئے ذرا دقتِ نظری سے کام لینا پڑتا ہے۔ ٹرمپ کے فیصلہ کے خلاف اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرارداد کا معاملہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ بظاہر اگر وہ ٹھوس نتائج اس قرارداد سے برآمد نہ بھی ہوں، اس کے باوجود یہ قرارداد تاریخ رقم کرچکی ہے۔ اس قرارداد نے جمہوری لباس میں ملبوس ایک عالمی تاناہ شاہ کو عریاں کرکے رکھ دیا اور تو اور عالمی برادری کے اس فیصلے کو دیکھ کر ٹرمپ انتظامیہ یقیناً بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی۔

جبھی تو مسٹر ٹرمپ تمام تر سفارتی قاعدے اور اصول بالائے طاق رکھ کر اقوام عالم سے تحکمانہ لہجے میں مخاطب ہوا۔ مثال کے طور پر اس نے اپنے ٹویٹ میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ہم ہمارے خلاف ووٹ دینے والے ممالک کو اچھی طرح دیکھیں گے’’ انھیں ووٹ دینے دو۔ اس میں فائدہ ہمارا ہی ہوگا۔ ہمارے اربوں ڈالر بچیں گے۔" اس شاہی فرمان کے پیش نظر امریکی راج پاٹ کے کارندے بھی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار دکھائی دے رہے ہیں۔ چنانچہ اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے ٹرمپ کی ٹویٹ کے فوراً بعد کہا ’’میں نے ٹرمپ انتظامیہ کے لئے ووٹ دینے والے ممالک کی فہرست تیار کر لی ہے۔‘‘ امریکہ کی تمام دھمکیوں کے باوجود چند ایک ممالک نے امریکی امداد بند ہونے کا خطرہ مول لے ووٹ دیا۔ جو ایک قابلِ ستائش امر ہے، کیونکہ فی الوقت بعض غریب ممالک کی ملکی معیشت کے لئے امریکی امداد نہایت ہی اہم ہے۔ اختتامیہ پر ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ کو شیکسپئر کے رو برو کیا جائے تو کہا جائے گا، شیکسپئر جیسے یورپی مفکر نے مثالی حاکم کے متعلق جو تصور سولھویں صدی میں پیش کیا تھا۔ اکیسویں صدی میں بھی یورپ علی الخصوص امریکہ اس تصور کی عملی تصویر پیش کرنے سے قاصر ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں جو حاکم امریکہ کو نصیب ہوا ہے، وہ شیکسپئر کے تصورِ حاکمیت کے بالکل برعکس ہے۔ ایسی صورت میں جہاں بانی کے اعتبار سے امریکہ ترقی کی طرف گامزن ہے یا تنزلی و ابتری کا شکار ہے؟ یہ سوال قارئینِ کرام پر چھوڑ دیتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 695320
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے