0
Monday 8 Jan 2018 22:27

صحافت کا برقعہ

صحافت کا برقعہ
تحریر: ساجد علی گوندل
Sajidaligondal88@gmail.com

یار تم نے سنا ہے کہ عمران خان نے پھر شادی کر لی۔۔۔۔۔
چھوڑو یار تم بھی پتہ نہیں کہاں کہاں سے باتیں نکال لاتے ہو۔۔۔۔۔ کیا تھوڑی دیر چپ بیٹھ سکتے ہو، تاکہ میں کچھ پڑھ سکوں۔۔۔۔
دوست: تم بھی ہر بات کو مذاق میں لے لیتے ہو، میں سچ بول رہا ہوں۔
حسن: دوست کی طرف رخ موڑتے بولا۔۔۔۔۔ اچھا تو میں کیسے مان لوں۔؟؟
دوست: اس کا مطلب تم خبریں نہیں سنتے، یہ خبر تو شوشل میڈیا پر آگ کی طرح بھڑک اٹھی ہے۔۔۔۔۔ تم بھی کس دنیا میں رہتے ہو۔
حسن: اسی دنیا میں لیکن میں اپنی آنکھیں ہمیشہ کھلی رکھتا ہوں، تاکہ حقیقت کو قریب سے دیکھ سکوں۔
دوست: کیا مطلب میں سمجھا نہیں۔۔۔۔۔۔
حسن: جلد ہی سمجھ جاو گے۔۔۔ ویسے آج تم مجھے صحافی لگ رہے ہو۔۔۔
دوست: صحافی۔۔۔۔ تم کیا بول رہے ہو، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ حسن: یہ سب تو میں نے بھی سنا ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ سنا ہے اور ہر وقت سنتا رہتا ہوں۔ کبھی یہ کہ ایک سکندر نامی شخص اسلام آباد جیسے شہر میں گھنٹوں ڈرامہ کرتا ہے اور اسے مسلسل لائیو دیکھایا جاتا ہے۔۔۔۔ اور کبھی اسی ملک میں لوگ اپنی سینکڑوں لاشیں لے کر سخت سردی میں کئی کئی دن سڑکوں پر اپنی خاموشی سے امن کا پیغام دیتے ہیں۔۔۔ مگر اس پر میڈیا و صحافت کی نگاہ تک نہیں پڑتی۔۔۔۔ تو کہیں یہ حال ہے کہ  ایک نااہل وزیراعظم کی   بیسیوں گاڑیاں دکھانے پہ گھنٹوں  لگ جاتے ہیں۔۔۔۔

مجھے آج کسی کا وہ جملہ یاد آتا ہے کہ "بہترین مترجم وہ ہے کہ جو دوسروں کی خاموشی کا بھی ترجمہ کرے، کیونکہ بعض اوقات خاموشی، بیانات و شیرین (مواعظ) سے زیادہ لذیذ اور شیرین  ہوتی ہے۔" ویسے میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ بشریٰ مانیکا کے سابق شوہر نے اس خبر کی بڑی شدت سے تردید کی ہے۔ اسی طرح عالمی منظر نامے کی بات کی جائے تو کبھی یہ سننے کو ملتا ہے کہ انڈے مہنگے ہونے کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے حکومت کے خلاف اشتعال انگیز اقدام کئے اور ساتھ ہی یہ کہ اب ملکی حالات سخت کشیدہ ہیں۔ جب یہ خبر چلی تو میں اتفاق سے ایران میں ہی تھا، کیونکہ میں ایران کے شہر قم میں ہی تھا، تو فوراً فلکہ جھاد نامی چوک میں آیا تو دیکھا کہ یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔ سوچا تھوڑا آگے چل کے دیکھوں شائد کچھ مل جائے۔۔۔ وہیں سے خیابان  ۱۹ دی سے حرم کی طرف گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کچھ نہ ملا۔ پھر بھی یقین نہ ہوا تو مشہد و اصفہان میں دوستوں سے فون پر بات کرکے حالات دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ حالات معمول پر ہیں، لیکن چند لوگ تھے کہ جنہوں نے مہنگائی کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنے کچھ مطالبات پیش کئے۔

ہاں! ان میں چند مٹھی بھر لوگوں میں کچھ ایسے بھی تھے کہ جنہوں نے ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی اور انہی مٹھی بھر افراد کو پوری قوم بنا کر پیش کیا گیا، بلکہ بعض نے تو اس طرح کے کالم بھی لکھ مارے کہ “ولایت فقیہہ سے فاقوں تک” دوسری طرف جیسے ہی بدامنی پھیلانے والے افراد کے سرغنہ مجید توکلی نامی شخص کو تہران سے گرفتار کیا گیا تو بجائِے کہ یہ خبر سننے کو ملتی، اس کے ساتھ ایک نامعقول خبر کو اس سے زیادہ اٹھایا گیا کہ جس کی خود ایرانی اداروں اور اخبارات نے تردید کی ہے، وہ یہ کہ سابق صدر احمدی نژاد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مگر کیا تم نے اس بات کی طرف غور کیا۔؟
دوست: کونسی بات؟
حسن: یہ کہ ہر ملک میں کچھ برقعہ پوش موجود ہیں، جو دوسروں کو تو جہاد کے فتوے دیتے ہیں اور یہاں تک کہ لوگوں کے معصوم بچوں کو جیکٹیں پہنا کر ان کو موت کی دعوت دیتے ہیں اور کبھی پشاور میں معصوم بچوں کے گھناونے قتل کی مذمت تک نہیں کرتے ہیں، مگر جیسے ہی اپنی باری آتی ہے تو چاہے اسلام باد ہو یا تہران، یہ برقعہ پہن کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوست: چھوڑو یار ایک خبر کیا سنائی تم نے تو مجھے صحافی ہی بنا دیا۔
حسن: صرف صحافی نہیں، بلکہ۔۔۔ایک بڑا صحافی
دوست: بڑا صحافی یعنی کیا مطلب۔؟
حسن: کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ بڑا صحافی بننے کے چند اصول ہیں کہ
1۔ کسی اصول اور ضابطے کی پروا نہ کرو۔
2۔ لوگوں کو ہر وقت پریشان رکھو۔
3۔ ہر خبر کو بریکنگ نیوز بناو۔
4۔ لفافہ چاہے دکان سے ملے یا سیاستدان سے، آنکھیں بند کرکے لے لو۔
5۔ حقائق کو پڑھنے اور بیان کرنے سے اجتناب کرو۔
6۔ اگر آپ بچپن میں کرکٹر بننا چاہتے تھے تو کوئی بات نہیں، خبروں میں چھکے مارو۔
7۔ اپنی سواری پر پریس کا بورڈ ضرور لگاو۔
مگر یاد رکھو، اس سب سے بڑا صحافی تو بنا جا سکتا ہے، مگر اچھا صحافی نہیں، بعض اوقات انسان چند پرانے واقعات کو الفاظ کے پیچ و خم میں ڈھال کر بیان کرنے کو صحافت سمجھ بیٹھتا ہے اور یوں صحافت کا برقعہ پہن کر جھوٹ پھیلا رہا ہوتا ہے۔۔۔۔۔  
خبر کا کوڈ : 695815
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب