0
Tuesday 9 Jan 2018 22:38

باب المندب کی تزویراتی اہمیت اور حیثیت

باب المندب کی تزویراتی اہمیت اور حیثیت
تحریر: سید اسد عباس

باب المندب بحیرہ احمر کی ایک سمندری گزرگاہ ہے، جو بحیرہ احمر کو بحر ہند سے جوڑتی ہے۔ یہ بحری گزرگاہ یمن، اریٹیریا اور جیبوتی کے سمندروں میں موجود ہے۔ جزیرہ پرم کے مقام پر یہ گزرگاہ دو چینلز میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ اس بحری گزرگاہ کی کل چوڑائی چالیس کلومیٹر کے قریب ہے۔ یہ گزرگاہ خطے میں ہونے والی بحری نقل و حمل کے لئے نہایت اہم ہے۔ یورپی یونین، چین، جاپان، ہندوستان اور ایشیا کے دیگر ممالک کے تجارتی سامان کا بڑا حصہ، دنیا کا تیس فیصد تیل، خلیج فارس سے برآمد ہونے والا تقریباً مکمل تیل اور قدرتی گیس اسی آبنائے کے ذریعے سے دنیا تک پہنچتے ہیں۔ باب المندب کا مغربی حصہ تقریبا پچیس کلومیٹر چوڑا ہے۔ اس آبنائے کے ذریعے تجارتی جہاز خلیجِ عدن سے بحر احمر جاتے ہیں اور پھر نہر سوئس اور بحر روم منتقل ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ تقریبا 60 سے زیادہ تجارتی جہاز اس آبی گذرگاہ کو عبور کرتے ہیں، جبکہ اس کے راستے سے یومیہ 33 لاکھ بیرل خام تیل منتقل ہوتا ہے۔ اگر یہ گزرگاہ کسی بھی وجہ سے بند ہو جائے یا ناامنی کا شکار ہو جائے تو دنیا بھر کی معیشت کے متاثر ہونے اور تیل و گیس کی قیمتوں کے بڑھ جانے کے خطرات موجود ہیں۔ یمن پر مارچ 2015ء سے جاری اتحادی افواج کے حملوں، جن کے نتیجے میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے اور لاکھوں خانماں برباد ہیں، کے باجود اس گزرگاہ کو کبھی بھی عالمی تجارتی جہازوں کی آمدو رفت کے لئے بند کرنے کی بات نہیں کی گئی، تاہم حال ہی میں سعودیہ کے نشریاتی ادارے العربیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن میں قائم انقلابی کونسل کے چیئرمین صالح الصماد نے دھمکی دی ہے کہ حوثی بحر احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو کسی بھی وقت روک سکتے ہیں۔ العربیہ کی خبر کے مطابق صالح الصماد نے کہا کہ بحر احمر میں جہازوں کی نقل و حرکت روکنے کو "تزویراتی آپشن" کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

العربیہ کی خبر کے مطابق اقوام متحدہ کے یمن کے لئے تعینات نائب مندوب معین شریم سے ملاقات میں حوثی لیڈر کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کسی بھی وقت بحر احمر میں کشتیوں کی آمد ورفت روک سکتی ہے۔ ان کا اشارہ بحر احمر میں باب المندب سے گذرنے والی بحری ٹریفک کی جانب تھا، جسے بند کرنے کی دھمکیاں پہلے بھی کئی بار آچکی ہیں۔ حوثی لیڈر نے اقوام متحدہ کے امن مندوب اسماعیل ولد الشیخ احمد پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اقوام متحدہ کے ایلچی نے انہیں بہت مایوس کیا ہے۔ انہوں نے یمن کے بحران کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی کوششوں پر شبے کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم ایک ایسے مقام میں داخل ہوگئے ہیں، جہاں سے اب واپسی ناممکن ہے۔ یمن میں جاری تنازع کے سیاسی حل کے لئے اقوام متحدہ پر اعتبار کرنا اب بے معنی ہوگیا ہے۔ خبر کے مطابق صالح الصماد کا کہنا تھا کہ اگر اقوام متحدہ سنجیدگی سے ان کے مطالبات پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائے تو ان کی جماعت مذاکرات کے لئے تیار ہوگی۔ العربیہ کے مطابق اس سے قبل امریکی ادارے آفس آف نیول انٹیلی جنس نے تجارتی بحری جہازوں کو آبنائے باب المندب میں حوثی اور صالح ملیشیاوں کی جانب سے نصب کی گئی بارودی سرنگوں سے خبردار کیا تھا۔ امریکی آفس کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضرورت کے تحت امریکی بحریہ سمندری جہازوں کی آمد و رفت کی آزادی کے تحفظ کے لئے کی جانے والی کسی بھی کوشش میں قائدانہ کردار ادا کرے گی۔ امریکی انتباہ میں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اس طرح کی آبی گذرگاہ کی بندش کا نتیجہ توانائی کے مجموعی اخراجات اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا۔

ویسے تو العربیہ کی خبروں پر من و عن یقین کرنا اہل خبرہ کے لئے اتنا آسان نہیں ہے، یہ خبری سائٹ دنیا کی چند ایسی سائٹس میں سے ہے، جو حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی، تاہم اس سائٹ پر باب المندب کے حوالے سے خبروں کا تسلسل عرب حکومت کے کسی پوشیدہ مسئلے اور بے چینی کی جانب نشاندہی کر رہا ہے۔ یمانیون ڈاٹ کام کے مطابق خبر ایسے نہیں جیسے العربیہ نے پیش کی ہے۔ اس یمنی سائٹ کے مطابق صالح الصماد نے کہا ہے کہ اگر سعودیہ کی سربراہی میں عرب اتحادی افواج کے حملے یمنی شہر حدیدہ پر جاری رہے تو ہم بحیرہ احمر کے تجارتی راستے کو بند کر دیں گے۔ یاد رہے کہ الحدیدہ میں یمن کی اہم بندرگاہ ہے، جو عرب اتحادی افواج کے حملوں کے باعث بند پڑی ہے، جس کے سبب یمن میں کسی بھی طرف سے امدادی سامان کا آنا ممکن نہیں ہے۔ صالح الصماد نے اقوام متحدہ کے ڈپٹی مندوب سے معین شریم سے ملاقات میں مزید کہا کہ یمنی عوام بھوک سے مر رہے ہیں اور یہ لوگ ہمارے پانیوں سے اپنے جہازوں کو لے کر آزادی سے گزر رہے ہیں۔ صالح الصماد نے اس ملاقات میں خون ریزی روکنے اور خطے میں امن کے لئے دوطرفہ گفت و شنید کے لئے انقلابی کونسل کی آمادگی کا اظہار بھی کیا۔ یمانیون کے مطابق صالح الصماد کے اس بیان کے فوراً بعد آج یعنی 9 جنوری 2018ء کو ایک مرتبہ پھر حدیدہ کی بندرگاہ پر عرب اتحادی طیاروں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں فشری ویلتھ آفس کے پانچ ملازمین جاں بحق ہوئے۔

صالح الصماد نے اپنی گفتگو میں اس خبر کی بھی تردید کی تھی کہ اتحادی افواج نے حدیدہ بندرگاہ کو کھول دیا ہے، انھوں نے کہا کہ ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا بلکہ وہاں موجود جہازوں کو بھی ہٹا لیا گیا ہے۔ عرب اتحادی افواج کے مطابق حدیدہ کی بندرگاہ کے محاصرے کی وجہ فوجی ساز و سامان کی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔ اس محاصرے کے سبب یمن جس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرتا ہے اور جہاں اشیائے ضرورت منجملہ خواراک، ادویات کی ایک بڑی مقدار باہر سے منگوائی جاتی ہے، بھی نہیں پہنچ پا رہی۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق یمن کی ایک کثیر آبادی قحط اور وبائی امراض کے دہانے پر ہے اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ صالح الصماد کے اس حالیہ بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی ضمیر کے دروازے پر اپنے بہتے لہو سے دستک دینے والے یمنی اس ضمیر کی بے حسی کو جان چکے ہیں اور اب انہوں نے وہ راستہ اختیار کرنے کا ارادہ کیا ہے، جس سے بڑے بڑے ہاتھیوں کی چیخیں نکل سکتی ہیں۔ صالح الصماد کا اعلان اور اس پر امریکہ، عرب ریاستوں کی بے چینی اس تکلیف کا ایک ہلکا سا اظہار ہے۔ حوثی ملیشیا پہلے ہی سعودی و اماراتی جنگی کشتیوں پر حملے کر چکی ہے۔ اگر وہ واقعاً باب المندب میں تجارتی نقل و حمل کو روک دیتے ہیں، یا یہ راستہ عرب تجارتی جہازوں کے لئے محفوظ نہیں رہتا تو یہ تزویراتی اقدام اقوام عالم کے ہوش و حواس پر دستک دینے اور عرب اتحاد کے طبق روشن کرنے کے لئے کافی ہوگا۔ انقلابی کونسل کے اس اقدام کو روکنے کے لئے ان ممالک کے پاس واحد حربہ یمن پر حملہ ہی تھا، جو کہ 2015ء سے تاحال مسلسل جاری ہے۔
خبر کا کوڈ : 696078
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب